مجھے جب ہومر کے ٹروجن ہارس سے پہلے پہل 'نفرت' ہوئی تو وہ پاکستان سٹیل کیڈٹ کالج میں آٹھویں جماعت کا انگریزی کا لیکچر تھا ۔۔۔
ایک عمر کے بن باس کے بعد سوہنی دھرتی کو لوٹنے والے بیقرار مسافر کی کتھا
سکھر اور روہڑی کے سنگم سندھو کے پاٹ پر کھڑے لینڈزڈون برج کی قربت میں ایک مغلیہ ٹیلے پر قدیمی قبرستان کی کتھا
نیو مزنگ کے پاس میانی صاحب کے خستہ حال باغ گل بیگم میں دفن لاہور کی رانی کی کتھا
تیرا چہرہ پھر اگر میں دیکھ لوں بس ایک بار . شکر کرتے کرتے باقی زندگی کو دوں گزار
ممتاز نعت اور غزل گو شاعر مظفر وارثی کی یاد میں
کوٹری میں سندھو کنارے سمے کے بندھن سے باہر پیر دھرتے اڈیلا کوری اور مانی کی کہانی
Kotri, River Indus and a firangee poetess with a love song ...
