رومالاں والیاں قبراں
چونڈہ سیکٹر میں پھلورہ کے قریب ایک کھیت میں پہلو بہ پہلو گیارہ پکی قبریں ہیں۔ ایک شہید کی بیوہ فائر بندی کے بعد اپنے خاوند کی قبر پر آئی۔ وہ اپنے ساتھ ایک ریشمی رومال لائی تھی۔ اس نے ایک کانا کہیں سے لا کر قبر کے سرہانے زمین پر گاڑا اور اس پر جھنڈے کی طرح رومال باندھ دیا۔ ہمارے شہید کی بیوہ چلی گئی تو پلٹن کے جوانوں نے اپنے باقی شہید ساتھیوں کی تربت پر بھی سیالکوٹ سے ایسے ہی ریشمی رومال منگوا کر باندھ دیئے اور پھلورہ کی قربت میں یہ قبریں رومالاں والیاں قبروں کے نام سے مشہور ہوگئیں۔
غازیانِ ڈوگرئی
بی آر بی کے محفوظ مورچوں سے پرے ڈوگرئی کی خون آشام زمینوں میں لاہور کے آخری محاذ کی کہانی۔
’شہیدوں کے لہو کی قسم، وہ اللہ اور اس کے رسول صلعم کو بہت ہی عزیز تھے جن کی لاشوں کو ہم نے اُن ہی کے مورچوں میں رکھ کر اوپر مٹی ڈال دی اور جن کی لاشیں ٹینکوں تلے کُچلی گئیں اور وہ پاک وطن کی مٹی میں مل کر مٹی ہوگئے۔‘
