باغ گُل بیگم
اور سمادھ رنجیت سنگھ
میانی صاحب کےایک گمنام گوشے میں جہاں نیو مزنگ کی گنجان آبادی قبروں کونگلنے کوپھرتی ہےایک خستہ حال مقبرے میں
لاہور کی ایک رانی دفن ہے
بعد از رنجیت سنگھ جب اس کی مڑھی پر مہاراجہ اور ستی ہوجانے والی رانیوں کی استھیاں رکھی گئیں تو استھیوں سے خالی آٹھواں مرتبان ہماری گل بیگم کے اعزاز میں بھی رکھا گیا
بعد از رنجیت سنگھ جب اس کی مڑھی پر مہاراجہ اور ستی ہوجانے والی رانیوں کی استھیاں رکھی گئیں تو استھیوں سے خالی آٹھواں مرتبان ہماری گل بیگم کے اعزاز میں بھی رکھا گیا
تختِ لاہور کی گمشدہ کنیز
قسم بہ جمالِ انارکلی
لوئرمال سے متصل اسلام پورہ کی بھول بھلیوں میں پنجاب سیکریٹیریٹ کےایک مقبرے میں نفیس لوحِ سنگ سے ڈھکی ایک قبر ہے جس کے تعویذ پر ایک دل گرفتہ شعر کندہ ہے
تیرا چہرہ پھراگر میں دیکھ لوں بس ایک بار
شکر کرتے کرتے باقی زندگی کو دوں گزار
تیرا چہرہ پھراگر میں دیکھ لوں بس ایک بار
شکر کرتے کرتے باقی زندگی کو دوں گزار
کوٹری، سندھو، ڈوبتاسورج، اور اڈیلا کوری
ٽڙي پوندا ٽارئين، جڏهن ڳاڙها گُل
کوٹری کی پگھلتی شام کا سرخ سنہری روغن
دریا کے مٹیالے سے پانی میں ڈھل جاتا
تب سندھو کنارے
وہ مجھے ملنے آیا کرتی
دریا کے مٹیالے سے پانی میں ڈھل جاتا
تب سندھو کنارے
وہ مجھے ملنے آیا کرتی
میانی صاحب کی موراں
کنجری کا پُل، طوائف کی مسجد
ھنگامہٴ اشتغافِ عشق بی بی موراں اور ظفرنامہ رنجیت سنگھ
میانی صاحب کے قبرستان کی دھول کی باریک تہہ سے ابھرتی ایک محبت کی کہانی
میانی صاحب کے قبرستان کی دھول کی باریک تہہ سے ابھرتی ایک محبت کی کہانی
باغ گُل بیگم
سمادھ رنجیت سنگھ
تختِ لاہور کی گمشدہ کنیز
قسم بہ جمالِ انارکلی
کوٹری اور اڈیلا کوری
ٽڙي پوندا ٽارئين
میانی صاحب کی موراں
کنجری کا پُل، طوائف کی مسجد
