وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آئے
back to Chapters
مجھے جب ہومر کے ٹروجن ہارس سے پہلے پہل 'نفرت' ہوئی تو وہ پاکستان سٹیل کیڈٹ کالج میں آٹھویں جماعت کا انگریزی کا لیکچر تھا ۔۔۔
ایک عمر کے بن باس کے بعد سوہنی دھرتی کو لوٹنے والے بیقرار مسافر کی کتھا
سکھر اور روہڑی کے سنگم سندھو کے پاٹ پر کھڑے لینڈزڈون برج کی قربت میں ایک مغلیہ ٹیلے پر قدیمی قبرستان کی کتھا
نیو مزنگ کے پاس میانی صاحب کے خستہ حال باغ گل بیگم میں دفن لاہور کی رانی کی کتھا
تیرا چہرہ پھر اگر میں دیکھ لوں بس ایک بار . شکر کرتے کرتے باقی زندگی کو دوں گزار
ممتاز نعت اور غزل گو شاعر مظفر وارثی کی یاد میں
کوٹری میں سندھو کنارے سمے کے بندھن سے باہر پیر دھرتے اڈیلا کوری اور مانی کی کہانی
'پروین شاکر کی برسی' یہ لفظ لکھتے اور پڑھتے ہوئے آج بھی دل کو ایک دھچکا سا لگتا ہے۔
آدمی کی یاد کا لنگر بھی کیا عجب منظر ہے
دسوہہ کے مولوی غلام رسول عالمپوری کا قصہ یوسف زلیخا اور لائلپورکے اٹھاٹ گ ب کا قصہ گو مہر محمد شفیع
باٹا پور کا میدانِ جنگ بہت مقدس ہے کہ اس میں بہت سی پلٹنوں اور ان کے ان گنت سپاہیوں لہو شامل ہے۔
ریلوے ورکشاپ مغلپورہ کو اپنی حیاتی دان کردینے والے ایک بڑے دِل والے بے پرواہ حال مست مزدور کی کتھا
ستر کی دہائی کا خوبرو سٹیشن ماسٹر، اور ڈپو ہِل جنکشن کے پُل پر بوس وکنار میں مشغول ایک نوجوان جوڑے کی کتھا۔
شہادت کی تمنا دِل میں لیے واہ کینٹ سے چلے پرشنگ رامکھا کے شیر دلیر سپوت کی کتھا، سرحد کے پار ٹائیگرہِل کی برفاب بلندیاں اب جس کا ابدی مسکن ہیں۔
روہتاس کے خواص خانی گیٹ پر دفن ایک سر اور خواص پور کے مزار میں لیٹے دھڑ کو ملاتی تاریخ کی بھول بھلیوں سے گزرتی ایک کتھا۔
دھرم پورہ کے پُل سے انفنٹری روڈ لاہور پر واقع ایک ڈیرے پر دنیا کے لذیذ ترین ٹھپر گوشت اور دال روٹی کی کتھا۔
میونخ سے منٹگمری آمدہ ایک پوسٹ کارڈ اور ٹل سے مونٹریال بھیجے گئے ایک مکتوب کی کہانی
جس استاد کے کلام کی نغمگی اور شعری رومانویت تلے اس نوخیز جیون کی مسیں بھیگیں اسی قمر ؔ جلالوی کی یاد میں
عشق لوہارا تازہ رہندا داڑھی ہوجائے چٹی
سانوں تیریاں دکھاں نے ماریا ۔ سانوں آ مِل یار پیاریا
کوہانوں والے تین ٹیڑھے تیروں کی کتھا
فرنٹیئر سکاؤٹس، پختون ولی اور سروِکئی کا کیپٹن بورنگ
پھر برق فروزاں ہے سرِ وادیِٗ سینا ۔ پھر رنگ پہ ہے شعلہٗ رخسارِ حقیقت
مودی کے احمد بشیر، الکھ نگری کے مانی کی کہانی
حسن ابدال میں ہوئے بابا ولی قندھاری اور گرونانک کے ٹاکرے کا احوال
جنگِ آزادی 1857 کے گمنام شہید، 26 نیٹِو بنگال انفنٹری کے وہ سپاہی جو لاہور کی میاں میر چھاؤنی سے فرار کے بعد اجنالہ میں ڈپٹی کمشنر کوُپر کی بربریت کا شکار ہوگئے۔
احمد خان شہید ہویا، خلقت نوں تَلِیوں لگی چوٹیوں نکلی اے مار بھڑکارے
فقیر آہندا اے: میں اوہنوں انکھی نہیں سمجھدا، جیہڑا احمد خان دا دُکھ وسارے
لاہور کی ایک ڈھلتی دوپہر میں میانی صاحب کے ایک محبوب تھڑے پر تین درویشوں کی ملاقات کا احوال
اگوکی کی کہانی ۔ چوتھی فصل
اگوکی کی کہانی ۔ دوسری فصل
اگوکی کی کہانی ۔ تیسری فصل
گجرات دے بس سٹینڈ توں، کوٹلہ روڈ اتے مہسم ول، بانٹھی دے بامتے دی اک مٹی دی ڈھیری دی کہانی
اُس کا نام لوحِ جہاں پہ حرفِ مکرّر نہیں تھا
اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانہ ۔ اک نار پہ جان کو ہار گیا مشہور ہے اس کا افسانہ
آنجہانی پریانتھا کمارا کے المناک واقعے کی پہلی برسی پر۔ ایک مسیحی کتبے کا احوال
ایبٹ آباد کے چنار روڈ سے لاہور کی فردوس مارکیٹ کے گورستان تک۔ وحید مراد کی یاد میں۔
اگوکی کی کہانی ۔ پہلی فصل
کلی جوٹا کھیلنے میں لدھیانے کے وِرک ہوں یا فیصل آباد کے آرائیں، یا پھر شومئیِ قسمت سے میانوالی کے نیازی، مقابلے پر اگر باجوے آجائیں تو میدان باجووں کے ہاتھ رہتا ہے۔
اختر شیرانی کا رومان اور میانی صاحب میں ایک شاعرِ نوجواں کی تربت اور اک سودائی نوجواں کی مورت کا احوال
اظہر اب ہم میں نہیں ہے، خدا معلوم ہم پلاٹون میٹس کا کیا حشر ہو
پنجابی اسٹیج دے ہاسیاں دے بے تاج بادشاہ ایک انمول نگینے دی یاد وچ
بابا بلھے شاہ کے قصور سے شاہ جمال کے شادمان تک ۔ ایک انقلاب کی روداد ایک خون آشام چکر کا ماجرا
ناصرؔ کاظمی کا کلام اور اُس سے جُڑی کچھ بھُولی بسری یادیں، ہمارے بے نوا شاعر کی برسی پر
ਗੁਰਮੁਖੀ ਵਿੱਚ ਪੜ੍ਹੋ تے اواگت بنگلے دی ڈِنگی پکّی یار او جوہلاں دے اڈے تے جتھوں اٹی دے ٹانگے چلدے سی، پکی دے پرلے پاسے اک چوبارہ ہندا سی۔ تھلے چاء داہوٹل اتے الیکشن آفس۔ او ہالے وی اوتھے ای اے؟ تینوں او چوبارہ کتھوں چیتے آگیا اپنے تایازاد بھرا حفیظ نال فون تے گل …
ہمالیہ کے پہاڑوں سے ایک پوسٹ کمانڈراوراس کے شیردل جوانوں کے فوجی شب وروز کی کتھا۔
ابن انشؔاء اور ڈاکٹر ظہیرفتح پوری نے موجودہ دور کو مزاح کا عہد یوسفؔی کہا ہے۔ یوسفؔی صاحب محفلوں میں اکثرکہا کرتے تھے کہ عہدِ یوسفیؔ کا مطلب میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ ایسا عہد جس میں ہرایک کی قمیض کا دامن آگے سے پھٹا ہواہے اورہرایک کی حسرت ہے کاش پیچھے سے پھٹا ہوتا ۔
کوٹری سے لانڈھی کی ریلوے پگڈنڈی پر ایک یادوں بھرا سفر۔ اپنی چھوٹی سی دنیا کو لوٹنے اور پرانے منظروں کو کھوجنے کی کتھا۔
چناب اور جہلم کے دو آب سے راوی کے اس پار، بادشاہی مسجد کی قربت میں کچھ ذکر ٹکسالی کااور کچھ باتیں شاہی محلے کی
کوٹ لکھپت کا ویٹنگ روم
اور ایک بھولی بسری آرام کرسی
ریلوے رومان
بانوآپاسے ایک حاصلِ زندگی ملاقات کا احوال
a childhood taste from Punjab
penned in Shahmukhi and Gurmukhi
Revisting memories on Faiz Ahmed Faiz
خالد ندیم، اللّہ رکھّی اورآتـشی
A love story from the mountains of Khyber Pukhtunkhwa
penned in Urdu
روہـی کی اُس دِلـربا شام میں وہ سـب الاؤ کو گھیـرا ڈالتے تھے اور ایک جوش میں اُن کے ماتھے دمکتے تھے
چہرے پر ایک مسافت کی تھکن سمیٹے مُسکراتی آنکھوں کے ساتـھ سائیں چِمٹا بجاتا تھا اورہم ایک مستی میں بے خود ہوتے تھے
