Sufis, Sants and Folklore
back to Chapters
Currently showing posts in Urdu
مجھے جب ہومر کے ٹروجن ہارس سے پہلے پہل 'نفرت' ہوئی تو وہ پاکستان سٹیل کیڈٹ کالج میں آٹھویں جماعت کا انگریزی کا لیکچر تھا ۔۔۔
سکھر اور روہڑی کے سنگم سندھو کے پاٹ پر کھڑے لینڈزڈون برج کی قربت میں ایک مغلیہ ٹیلے پر قدیمی قبرستان کی کتھا
ممتاز نعت اور غزل گو شاعر مظفر وارثی کی یاد میں
'پروین شاکر کی برسی' یہ لفظ لکھتے اور پڑھتے ہوئے آج بھی دل کو ایک دھچکا سا لگتا ہے۔
آدمی کی یاد کا لنگر بھی کیا عجب منظر ہے
دسوہہ کے مولوی غلام رسول عالمپوری کا قصہ یوسف زلیخا اور لائلپورکے اٹھاٹ گ ب کا قصہ گو مہر محمد شفیع
میونخ سے منٹگمری آمدہ ایک پوسٹ کارڈ اور ٹل سے مونٹریال بھیجے گئے ایک مکتوب کی کہانی
جس استاد کے کلام کی نغمگی اور شعری رومانویت تلے اس نوخیز جیون کی مسیں بھیگیں اسی قمر ؔ جلالوی کی یاد میں
عشق لوہارا تازہ رہندا داڑھی ہوجائے چٹی
سانوں تیریاں دکھاں نے ماریا ۔ سانوں آ مِل یار پیاریا
حسن ابدال میں ہوئے بابا ولی قندھاری اور گرونانک کے ٹاکرے کا احوال
اُس کا نام لوحِ جہاں پہ حرفِ مکرّر نہیں تھا
اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانہ ۔ اک نار پہ جان کو ہار گیا مشہور ہے اس کا افسانہ
ਢਾਹਵਾਂ ਦਿੱਲੀ ਦੇ ਕਿੰਗਰੇ
ڈھاواں دلّی دے کِنگرے
بابا بلھے شاہ کے قصور سے شاہ جمال کے شادمان تک ۔ ایک انقلاب کی روداد ایک خون آشام چکر کا ماجرا
ابن انشؔاء اور ڈاکٹر ظہیرفتح پوری نے موجودہ دور کو مزاح کا عہد یوسفؔی کہا ہے۔ یوسفؔی صاحب محفلوں میں اکثرکہا کرتے تھے کہ عہدِ یوسفیؔ کا مطلب میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ ایسا عہد جس میں ہرایک کی قمیض کا دامن آگے سے پھٹا ہواہے اورہرایک کی حسرت ہے کاش پیچھے سے پھٹا ہوتا ۔
بانوآپاسے ایک حاصلِ زندگی ملاقات کا احوال
صوفی کبیر ۔ بھگت کبیر
کچھ حقیقت کچھ افسانہ
روہـی کی اُس دِلـربا شام میں وہ سـب الاؤ کو گھیـرا ڈالتے تھے اور ایک جوش میں اُن کے ماتھے دمکتے تھے
چہرے پر ایک مسافت کی تھکن سمیٹے مُسکراتی آنکھوں کے ساتـھ سائیں چِمٹا بجاتا تھا اورہم ایک مستی میں بے خود ہوتے تھے
