پروفیسرزبیرصدیقی کا ٹروجن ہارس، اور کرسٹوفرنولن کی آڈییسی

مجھے جب ہومر کے ٹروجن ہارس سے پہلے پہل ‘نفرت’ ہوئی تو وہ پاکستان سٹیل کیڈٹ کالج میں آٹھویں جماعت کا انگریزی کا لیکچر تھا۔ بانو آپا کے راجہ گدھ کی طرح تیسرا پیریڈ تھا یا کوئی اور یہ یاد نہیں رہا، یہ ضرور یاد ہے کہ پروفیسر سہیل کی سوشیالوجی کی کلاس کے برعکس یہ پروفیسر زبیر صدیقی کی انگریزی کی کلاس تھی۔
اپنے دونوں بازو صلیب کی مانند ہوا میں اٹھائے ان میں آکسفورڈ پروگریسو انگلش بک 8 کا نظر ثانی شدہ ایڈیشن تھامے ، جسکا پہلا سبق دا ٹروجن ہارس تھا، اسوقت جبکہ کھڑکی سے چھن چھن کر آتی روشنی میں اڑنے والے ذرے صاف اور جدا جدا نظر پڑتے تھے، مڈھ قدیم کے یونان کی کتھا کو اسی قدر ڈرامائی انداز میں ادا کرتے پروفیسر زبیر کوئی یونانی دیوتا تو نہیں دکھتے تھے مگر ایک دیومالائی ماحول کا جسے انہوں نے اپنے لہجے کی پراسراریت سے تخلیق کررکھا تھا ایک طلسمی کردار ضرورنظر پڑتے تھے۔ کلاس روم کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک گردش کرتے ایک گونجدار آواز کے اتار چڑھاؤ میں جب پروفیسر موصوف نے لکڑی کی کاٹھی اور کاٹھ کا گھوڑا بناتے شہنشاہ ایگامیمنان کا ذکر کیا

تب پہلے پہل مجھ میں کیڈٹ کالج کے اساتذہ کے خلاف ہوسٹلٹی کی لہر بیدار ہوئی۔

The Building of the Trojan Horse, by Giovanni Domenico Tiepolo, Source: Wikimedia Commons

اسی اور نوے کی دہائیوں کے سنگم پر کراچی اور اس کے مضافات میں رہائش پذیر اکثر اور اندرون سندھ و جنوبی پنجاب بشمول ملتان کے چیدہ چیدہ ہوشیار طلباء پاکستان سٹیل کیڈٹ کالج کی جماعت ہشتم میں داخلے کا امتحان دیا کرتے تھے۔ شاہ لطیف بوائز سیکنڈری سکول سٹیل ٹاؤن سے ساتویں جماعت امتیازی نمبروں سے پاس کرنے والے مانی نے بھی یہ امتحان دیا تھا۔ یہ الگ بات کہ ہماری اپنی قابلیت کی وجہ سے کم اور خاندان میں ایک دور کے جاننے والے ریٹائرڈ کرنل صاحب جو سٹیل مل میں ملازم تھے کی سفارش کی بدولت مابدولت کامیاب قرار پائے تھے۔ یہ ہمارا کسی بھی انگریزی میڈیم سکول سے پہلا ٹاکرا تھا۔ ہمیں علم نہیں تھا کہ انگلش میڈیم میں اردو اور سندھی کے علاوہ تمام مضامین نہ صرف یہ کہ انگریزی میں ہوتے ہیں بلکہ ان کی پڑھائی و سکھلائی اور ان کے نتیجے میں ہونے والے سوال و جواب بھی انگریزی میں انجام پاتے ہیں۔ شاہ لطیف سکول میں اللہ انکا اقبال بلند کرے انگریزی کے بہت قابل استاد جعفر صاحب سے گاہے گاہے rather-than اور moreover کا گیئر لگاتی سلیس اردو میں direct indirect اور active and passive voice سیکھے مانی نے پاکستان سٹیل کیڈٹ کالج کی اس روشن سویر جبکہ سورج کی کرنیں آٹھویں جماعت کی کھڑکیوں سے چھن چھن کر اندر آرہی تھیں، دونوں ہاتھوں کی بلند صلیب میں کتاب اٹھائے، ٹہلتے ٹہلتے کسی ماہر صداکار کی مشاقی سے The Trojan Horse پڑھاتے پروفیسر زبیر صدیقی کو یکلخت مسترد کردیا۔ یہ کیسا استاد ہے جس نے سارا سبق خوش گپیاں کرتے پڑھا دیا ہے اور وہ بھی انگریزی زبان میں! نہ کوئی ڈانٹ ڈپٹ، نہ کوئی سزا اور اس ساری روداد میں کوئی ایک فقرہ یہانتک کہ ایک لفظ بھی اردو کا نہیں۔
دوسری ہوسٹلٹی جو ہم میں بیدار ہوئی وہ دائیں بائیں بیٹھے ان ہم جماعتوں کے خلاف تھی جو کلاس میں پڑھائی کے نام پر ہوتی اس “چہل پہل” میں ایک سہل روی سے پروفیسر موصوف سے انگریزی زبان میں ہی تبادلۂ خیال کررہے تھے۔ وہ اس لیے کہ میں جو اتنا لائق لڑکا ہوں جب مجھے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تو ان لوگوں کو کیوں سب سمجھ میں آرہا ہے۔ ہمارے سرکاری اردو میڈیم سکول کی ٹکر پر وہاں کراچی کے ایک سے ایک اچھے سکول کے لڑکے بیٹھے تھے۔ دور کیوں جائیں اپنے “سٹیل ہی ٹاؤن” کے گرائمر سکول اور بیکن ہاؤس سکول سسٹم کی کریم وہاں موجود تھی۔ مجھے تو تب تک انگریزی ترکیب Beaconhouse کا مطلب بھی نہیں پتا تھا۔
تیسری ہوسٹلٹی مجھ میں انگریزی کی کتاب کے خلاف بیدار ہوئی۔ میں اس دن تک سبق کے آخر میں دی گئی مشق کے سوالوں کے جواب کی فال سبق کے متن میں سے نکال کتاب پر نشان لگا عبارت کو من وعن نقل کرنے کا عادی تھا۔ آکسفورڈ پروگریسو انگلش بک 8 کی پرلے درجے کی کائیاں مشقوں سے اس طرح کسی سوال کا جواب نہ ملا تو میں کتاب سے بھی متنفر ہوگیا۔

کیڈٹ کالج کی یادیں۔ ایک اور ہی زمانے میں لیے گئے یہ نوٹس سیاچن کی ایک پوسٹ پر فارغ البالی کے عالم میں خوشخط ڈائری کی شکل میں دوبارہ لکھے گئے

کالج کے شروع کے دنوں کا ہی واقعہ ہے عمرخیام ہاؤس میں سپیلنگ بی کے مقابلے کے ٹرائل تھے جب امیدواروں کی قطار میں کھڑے اپنے اردو میڈیم تعلیمی کوائف کو ماتھے پر سجائے کٹ نمبر 729 کو ہاؤس ماسٹر پروفیسر ثروت اللہ قادری نے یہ کہہ کر مسترد کردیا،” کیا نام کہ یہ آپ سے نہ ہوپائے گا”۔ لیاقت کے زعم میں آئے اپنے طالبعلم سے پروفیسر نے کرنل کے انگریزی ہجے پوچھے اور حسبٍ توقع غلطی پر گویا ہوئے، دیکھو میاں آپ کو اگر علم ہوتا کہ لفظ کرنل انگریزی میں کولونل ہے تب ہی آپ اس کے سپیلنگ بتا پاتے۔ پروفیسر قادری کی بات دل پر ایک چوٹ بن کر لگی۔ مقابلے کے لیے مہیا کتابچے کےساتھ دو دن کا حفظ کورس مکمل کرکے حافظ عمران سعید ایک تیقن کے عالم میں ٹرائلز میں شریک ہوا اور عمر خیام ہاؤس کی سپیلنگ بی ٹیم کا حصہ بن گیا۔ اس ساری واردات میں ہماری کسی قابلیت کو دخل نہ تھا اگر کوئی کمال تھا تو صرف حافظے کا۔ ایک رائج الوقت روایتی نظام تعلیم نے اسوقت تک مجھے محض چیزوں کا حافظ ہی بنایا تھا۔اور اب ایک رٹو توتا آٹھویں جماعت کے انگلش میڈیم سلیبس پر بھی اپنے کانٹے کے حافظے کا شب خون مارنے کو پر تولتا تھا۔ کیڈٹ کالج کے اساتذہ جن کے خلاف میں نے ایک ہوسٹلٹی پال لی تھی، مردم شناس تھے۔ وہ مجھے اور میرے طریقہ واردات کو پہچان گئے تھے۔ اگر وہ مجھ سے ایک جوابی نفرت کا برتاؤ کرتے توشاید آج صورتحال مختلف ہوتی، مگر وہ بڑے ظرف والے لوگ تھے۔ اور پھر وہاں کالج کے جابر بن حیان ہاؤس میں سلمان تھا۔ سلمان عرف لولیو جواپنے تئیں ایک لائق طالبعلم کے علمی تفاخر پر اپنے پرتجسس سوالوں کے طنز کی چوٹ کرتا E=mc2 کی گتھی سلجھانے مجھے اللہ ان کو غریقِ رحمت کرے پروفیسر عبدالواحد شہید کے پاس لے گیا تھا۔ نویں جماعت کے چتُر رامالنگم کے لیے سلمان ہندی فلم تھری ایڈیٹس کا رنچھوڑداس شیامل داس چھانچھڑ ثابت ہوا، مگر یہ قصہ پھر کبھی کہیں گے۔ فی الوقت تو یہ بتانا مقصود تھا کہ یہ سٹیل کیڈٹ کالج کا احسان تھا کہ ٹروجن ہارس سے جنم لیتی نفرت کب اور کیسے بدیسی کہانیوں اور افسانوں کی محبت میں ڈھلی، خبر بھی نہ ہوئی اور کالج کے اساتذہ جن سے یہ دل اول اول متنفر ہوا تھا رفتہ رفتہ وہی پیارے لوگ بتدریج
پہلے جاں، پھر جانِ جاں، پھر جانِ جاناں ہوگئے
یہ ایک باکمال کالج کے لاجواب اساتذہ کا طریقہ واردات تھا اور کیا خوب تھا۔ آٹھویں جماعت میں پڑھے ٹروجن ہارس کے کرداروں Agamemnon, Odysseus, Achilleus اور سپارٹا کی Helen سے ہوئے رسمی تعارف سے اُدھر ان کے خالق (روایتوں کے انوسار) ایک نابینا شاعر ہومر سے ابھی ہماری شناسائی کچھ سالوں کی دوری پرتھی۔ نویں جماعت میں مس نسرین شہباز کی برکت و عنایت کے سبب ورڈزورتھ، شیلے، رابرٹ فراسٹ، ٹینیسن، جوائس سے شناسا ہوئے ہم کیڈٹس ہومر کو ابھی ویسے نہ جانتے تھے جیسا کہ جاننے کا حق تھا۔

کہانی آگے چلتی ہے تو امجد اسلام امجد کے شبدوں میں جہاں کے ان گنت کاموں کا چکر چلنے لگتا ہے اور ہومر کے ٹروجن ہارس کی یاد ایک دکھتے بدن اور دیر تک بیدار رہنے سے سلگتی آنکھوں کی دھول میں کہیں گم ہوجاتی ہے۔ ہومر کی یاد دوبارہ آئی تو 2004 کا سال تھا۔ وولف گینگ پیٹرسن کی فلم ٹرائے میں ہمارا پسندیدہ بریڈ پٹ یونانی دیومالائی جنگجو اکیلیز کے روپ میں جلوہ گر ہورہا تھا۔ فلم میں بہت کچھ قابلِ ذکر تھا۔ سمندروں کے گہرے پانیوں کی اپسرا تھیٹس جو دیوتاؤں کے جائے اپنے جنگجو فرزند اکیلیز کو یونانیوں کے بحری بیڑے میں وداع کرتے سمے اس کی موت کی پیش بینی کرتی ہے کہ ٹرائے کی دہلیز پر لڑی جانے والی عظیم جنگ کے جوانمردی کے ترانوں میں امر ہوجانے کا راستہ موت کی تنگ گھاٹی سے ہوکر گزرتا ہے


اکیلیز کا زرہ بکتر پہنے اس کے سوتیلے بھائی پیٹروکلس کی اکیلیز کے دھوکے میں ٹرائے کے شہزادے ہیکٹر کے ہاتھوں موت اور انجام کار بدلے کی آگ میں جلتے اکیلیز کی ہیکٹر سے دوبدو لڑائی، اورصاحبو ایک خوبصورتی سے فلمائے تلوار و ڈھال اور نیزوں کے پینترے مگر اسے بھی بڑھ کر لڑائی سے پیشتر وہ جملہ جسمیں ہیکٹر کی طرف سے ایک پیش بینی میں لپٹی بعد از شکست قتل ہوئے فریق کے جسم کے ساتھ انسانی احترام روا رکھنے کی درخواست ہے اور جواب میں اکیلیز کی دھاڑ


اور پھر آٹھویں جماعت میں پڑھا ٹروجن ہارس کا قصہ پردۂ سکرین پر دیکھتے، لکڑی کی کاٹھی اور کاٹھ کے گھوڑے کے پیٹ سے جنمے پوشیدہ یونانی جنگجوؤں کی قتل و غارت اور بلند فصیلوں والے ٹرائے کے آخر دم سرنگوں ہوتے سمے ماتا تھیٹس کی سچ ہوتی پیشین گوئی میں ایڑی میں ترازو ہوئے تیر کی تکلیف میں اپنی جان کو نکلتے دیکھتا اکیلیز اور ان سب پر حاوی آتی پس منظر سے بلند ہوتی Odysseus کی آواز

2004 میں سکرین پر جلوہ گر ہوئی انگریزی فلم ٹرائے

ہماری کتابوں کے ذخیرے میں اگلی شامل ہونے والی کتاب ہومر کی ایلیاڈ (Homer’s Iliad) تھی۔ انگلش میں ہوئے منظوم ترجمے میں، جسقدر کہ ترجمے کا حق ادا ہو پائے ہومر کی اس طویل نظم کو پڑھتے سر دھنتے خود پر افشا ہوا کہ ایلیاڈ میں نہ تو سپارٹا کے شاہ مینالس کی ملکہ ہیلن کا اپنے معشوق ٹرائے کے شہزادۂ خورد کے ہمراہ ‘ نکل جانے’ کا چٹخارے دار قصہ تھا اور نہ ہی پروفیسر زبیر صدیقی کے کسی ٹروجن ہارس کا ذکر۔ وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا،یادش بخیر جماعت ہشتم کے مانی کو وہی ناگوار گزری تھی۔
صاحبو، چوبیس فصلوں پر مشتمل ایلیاڈ ایک طویل منظوم قصہ ہے۔ ٹرائے کی بلند ناقابلِ تسخیر فصیلوں کے باہر ساحل پر لنگر انداز سال ہا سال کی تھکاوٹ میں لنگر انداز یونانی بحری بیڑے کی جنگ کی کہانی، ٹرائے اور یونان کے جنگجوؤں کی بہادری کے قصے، وہ قصے جو اہلِ یونان کے گویوں اور گاؤنتریوں نے گائے اور ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوئے۔ یادداشت کے سریلے دھاگوں میں بندھی ایک قدیم دھاتی زمانے کے قصوں کو چھٹی صدی قبل مسیح کی یونانی تہذیب سے جوڑتی نسل در نسل منتقل ہوئی ایک طویل نظم۔ انگریزی ادب میں اس طرح کی طویل نظم ایپِک (epic) کہلاتی ہے۔ داستان گوئی کی اسی روایت سے جنمی ہماری طرف کے ادب میں بھی اس طرح کی طویل نظمیں، قصے اور واریں ہمارے روایتی قصہ گوؤں، گویوں اور گونتریوں کے سِر صدقے ایک زمانے سے دوسرے زمانے کو منتقل ہوتی ہیں۔

جہاں ایک قدیم یونانی تہذیب قرنوں کی دوری پر ایک عظیم الشان بحری بیڑے، ایک قلعہ بند شہر کی فصیلوں پر لڑی جنگ، کاٹھ کے گھوڑے اور ان واقعات کی آڑ میں خداوندوں کی باہمی چپقلش کے قصے سناتی ہے، مہ وسال و قرن کی لگ بھگ اسی قدر دوری پر پامیر کی چھت کے اُس پار بحیرۂ قزوین کی قربت میں وسطِ ایشیا کی بے شجر چراگاہوں سے ہمارے جد ایک ہجرت در ہجرت کے تسلسل میں جب فصیلِ کشورِ ہندوستاں کے اِس پار ہمالہ کی ترائی کے جنگلوں اور بپھرے ندی نالوں کی سرزمین پر اترے، اس وادی میں جہاں مہا سپتا سندھو ایک ‘منہ زور چتکبری گھوڑی’ کے مانند بہتا ہے، تو اس وادی میں زندگی کرنے کی آشا رکھتے ان پرکھوں نے ایک وحشت اور سرشارگی کے عالم میں رونگٹے کھڑے کردینے والے وہ بیت کہے جنہیں ہم آپ رگ وید کے نام سے جانتے ہیں۔

جسکی چنگھاڑ پرتھوی سے بلند ہوکر آکاش کی پرتوں کو جاتی ہے، جیسے بجلی سی کوند جائے
بادلوں کا سینہ چیرتے موسلادھار سیلاب کی تند روی میں، سندھو کے پانی آتے ہیں ایک بیل کے مانند ڈکراتے ہوئے

جیسے بچھڑوں کو پلٹتی مائیں، جیسے اپنے تھنوں میں دودھ کی دھار پروتے مویشی،بالکل ویسے اے سندھو ندی، دریاؤں کے پانی تیری اور بہتے ہیں
ان سبک رُو نَدیوں کے پانیوں کو اپنے بہاؤ میں سموئے، (اے مہا سپتا سندھو)، تو آتا ہے جیسے اپنی فوج جلو میں لیے کوئی جنگجو سپہ سالار آئے

آکسفورڈ یونیورسٹی میں سنسکرت کے پروفیسر اے اے میکڈانل جب چیدہ اشلوکوں کو انگریزی میں منظوم ترجمہ کرتے ہیں تو دس منڈلوں (ابواب) پر مشتمل رگ وید کو ضخامت کے اعتبار سے ہومر کی نظموں کے ہم پلہ قرار دیتے ہیں۔ صاحبو، سچ تو یہ ہے کہ ہند سندھ کے خداوندوں اور اس پوتر دھرتی کی حمد و ثناء سے عبارت رگ وید کے غنایہ اشلوک اپنی معنویت اور جامعیت ہر اعتبار سے ہومر کی ایلیاڈ اور آڈییسی کی ٹکر کی نظمیں ہیں۔ اور ابھی تو ہم رامائن، مہابھارت اور اردو کے شاہکار داستانِ امیر حمزہ، طلسم ہوشربا کی طرف تو آئے ہی نہیں۔

قصہ مختصر ہماری اس کہانی میں اب کرسٹوفرنولن در آتا ہے۔
چند دن قبل برخوردار احمد سعید نے جو اس سال ہائی سکول کی تدریسی سیڑھی پر قدم رکھنے کی تیاری میں ہے، اپنے casual انداز میں کہا



ہماری دلبستگی کے لیے فلم کی کاسٹ میں میٹ ڈےمن اور این ہیتھَوے کا ساتھ ہی کافی تھا تو ہم نے آنے والے دنوں میں جبکہ فلم سینما گھروں کے پردوں کی زینت بنے گی احمد کے ساتھ تھیڑ میں Odyssey دیکھنے کو حامی بھرلی۔ مگر اب وقت آگیا تھا کہ پروفیسر زبیر صدیقی کی داستان گوئی سے جنمی اور بریڈ پٹ اور ایرک بانا کی ٹرائے سے مہمیز ہوئی رگ وپے میں دوڑتی ہومر کی ایلیاڈ کی محبت کو اگلی نسل کو منتقل کردیا جائے۔برخوردار کو لفظ ‘ایپک’ کا مطلب سمجھانے اپنے بک شیلف کا رخ کیا تو سامنے وارث شاہ کی ہیر اور میاں محمد بخش کی سیف الملوک دھری تھیں۔
صاحبو انگریزی کے لفظ ایپک کی تعریف ہیر وارث شاہ سے بہتر کیا ہوگی، ہماری امی جسے سونہہ کھان والی کتاب کہتی ہیں۔ چند برس قبل پردیس کے سفر پرآتے امی ابو سے ہیر وارث شاہ لانے کی فرمائش کی تھی تو انہیں ادھم سنگھ کی کہانی سنائی تھی۔ جیسے آج کی دنیا کی نئی نسل خود کو Him, Her, They, Them کہہ کر آئڈینٹیفائی کرتی ہے ویسے ہی پچھلی صدی میں محمد سنگھ آزاد کے نام سے خود کو آئیڈینٹفائی کرتا شہید ادھم سنگھ، جس نے جلیانوالہ باغ کا بدلہ لینے کو انگلستان جا کر پنجاب کے سابق لیفٹیننٹ گورنر چارلس او ڈوائر کو قتل کردیا تھا۔ پینٹووِل کی جیل میں سُولی چڑھ جانے سے قبل اپنے نوآبادیاتی آقا کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہوکر سب کچھ سچ کہنے اور سچ کے سوا کچھ نہ کہنے کا حلف اٹھانے کو ادھم سنگھ نے وارث شاہ کی ہیر کا مطالبہ کیا تھا۔ پنجاب کی ہمہ گیریت، لوک رس اور رومان کو اپنے اندر سموئے، بقول امی سونہہ کھان والی کتاب ہیر وارث شاہ سے بڑھ کر اور کیا ایپک کی تعریف ہوگی۔

تو عزیزم احمد سعید، کسی ایک واقعے، قصے کو اپنے اندر سموئے لگ بھگ ایک کتاب کی ضخامت جتنی طویل نظم ایپک کہلاتی ہے جہاں نظم در نظم واقعات کی کڑیاں اور کہانیوں کی بنت چلتی ہے۔ روایت ہے کہ ایسی نظموں کی ابتداء خداوندوں کی تسبیح و تحمید سے ہوتی ہے۔ جیسے کہ ہومر کی ایلیاڈ کی پہلی کتاب کا پہلا بند ٹرائے کی قتل و غارت گری کو یونانی خداوند زووُس کی مشیت ایزدی سے جوڑتا ہے

اور وارث شاہ کاقلم لکھنے بیٹھتاہے تو پہلے حمد ونعت سے آغاز کرتا ہے اور پھر بعد از مدحِ پیرِطریقت بابا فرید شکر گنج ہیر کے قصے کی غرض وغایت کی طرف آتا ہے


اول حمد خدائے دا ورد کیجیے، عشق کیتا سُو جگ دا مُول میاں
پہلے آپ ہی رب نے عشق کیتا، معشوق ہے نبی رسُول میاں
۔۔۔۔
یاراں اساں نوں آن سوال کیتا، عشق ہیر دا نواں بنائیے جی
ایس پریم دی جھوک دا سبھ قصہ جیبھ سوہنی نال سنائیے جی

ہومر کی ہیلن جبکہ وہ شاہزادے پیرس کے سنگ بھاگ نکلنےکے بعد ٹرائے آگئی تھی تو فصیلِ شہر کے باہر اپنے عاشق صادق اورسابقہ شوہر کے مابین ہوئے معرکے میں اول الذکر کے پسپائی اختیار کرنے پر اسے بزدلی کا طعنہ دیتی ہے

ادھر وارث کی ہیر جٹی، مان متی جس نے رانجھے کو گھر سے بے گھر کیا ایک نازِ بے نیاز سے رنجھیٹھڑے سے اس کا دیس اور ذات ٹٹول جواب کا انتظار کیے بغیر اسے اپنے مال ڈنگر کا چاک ٹھہراتی ہے،
منگوں بابلے دا تے توں چاک میرا ایہہ بھی پھند لگے جے توں لاونا ئیں
تو جواباً ہمارا عاشق صادق رُل پُل جانے پر آمادہ ہے اور بدلے میں کچھ اور نہیں بس ہیر کے زبانی قول قرار کا مانگت ہے


نال نڈھیاں گھِن چرکھڑے نوں تساں بیٹھناں وچ بھنڈار ہیرے
اسیں رُلاں گے آن کے وچ ویہڑے ساڈی کوئی نہ لئے گا سار ہیرے
ٹکی گھن کے ویہڑیوں کڈھ چُھٹاں سانوں ٹھگ کے مول نہ مار ہیرے
ساڈے نال جے توڑ نباہنی ہے سچا دیہہ کھاں قول قرار ہیرے


جہاں ہماری ہیر کو کھیڑے بیاہ لے جاتے ہیں “کھیڑے ہیر نوں گِھن کے رواں ہوئے جویں مال نوں لے وگے چور میاں” وہیں ٹرائے کی شکست کے بعد ہیلن اپنے خاوند مینالس کے ساتھ واپس سپارٹا جا بستی ہے مگر یہ الگ قصہ ہے۔

ہیر وارث شاہ

اب اگر ٹرائے کی جنگ سے شاد کام اپنے وطن اِتھَکا کے جزیرے کو پلٹتے اوڈیسیس کے بحری بیڑے کی مہم جوئی پر مشتمل ہومر کی آڈییسی کا مرکزی خیال سجھانا ہو تو اس کی تمثیل کھڑی شریف والے میاں صاحب کی سفرالعشق المعروف سیف الملوک کے علاوہ اور کہاں مِلے گی


آ ساقی بھر دے پیالہ پی ہوواں مستانہ
ماؤ پیو تھیں رخصت ہوواں چھڈاں دولت خانہ
یاراں پچھے وطن بھلاواں ویکھاں دیس بیگانہ
ٹِھلاں وچ سمندر غم دے پکے کیویں یرانہ


جہلم کے گھاٹ سے پربتوں کا رخ کر لیں اور کھڑی ملک میں نکلیں، وہی جو میر پورے دی دکھن میں واقع ہے، تو جن کی تاہنگ طلب سچی ہو وہ میاں محمد بخش کی خبر لاتے ہیں۔ میاں محمد بخش جنہوں نے لفظ “ایپک” کی ہر تعریف پر پورا اترتی نظم سفرالعشق میں آدم زاد کی پری سے محبت کو پنجابی سخن کا پہناوا پہنایا، جسے ہم آپ سیف الملوک کے نام سے جانتے ہیں


سیف ملوک بدیع جمالے کامل عشق کمایا
کیتا جوش طبیعت میں بھی قصہ جوڑ سنایا
ناز نیاز تے سفر عاشق دا ایس قصے وچ آیا
سفرالعشق محمد بخشا نام دلیلوں پایا

ہومر کی آڈییسی ٹرائے کی جنگ کے بعد اِتَھکا جزیرے کے بادشاہ اوڈیسیس کے اپنی سلطنت کو لوٹنے کی کتھا ہے۔ دیوتاؤں کے قہر کا شکار اور پسِ پردہ دیویوں کے التفات سے بہرہ ور اوڈیسیس جب سالوں پر محیط بحری سفر پر نکلتا ہے تو اس راہ پر کئی مافوق الفطرت واقعات اور عجیب الخلقت مخلوقات اس کا راستہ روکتی ہیں

اور کھڑی شریف کے ہمارے میاں جی جب پریوں سے آدم زاد کے عشق کا ذکر کرتے ہیں تو دودھ میں کھنڈ (شکر) گھولتی، مٹھاس کو دگنا کرتی اپنی رس بھری نظم میں بدیع الجمال کے شبدوں کی مالا پروتے ہیں

میں پری توں آدم زادہ کد ایہہ نسبت ہوئی
اگلی مدت وچ انہاندے ساک نہ ہویا کوئی
بے وفائی کم تساڈا پریاں لوک وفائی
بے قدراں دی الفت مندی نیچاں دی اشنائی
نیچاں دی اشنائی وچوں کسے نہیں پھل پایا
کِکّر تے انگور چڑھایا ہر گُچھا زخمایا
آدم بے وفا ہمیشہ اوّل نیؤں لگاون
زور کماون دلبر پاون جھبدے ہی رج جاون
اک چکّھن دل نال نہ رکھن پھیر اُس نوں سُٹ پاندے
دوجا ہور پسندے کرکے مگر اوہدے اُٹھ دہاندے

میاں محمد بخش کی سفرالعشق المعروف سیف الملوک

ہومر تو آڈییسی کے آخر آخر میں جبکہ پیا گھر لوٹ آتا ہے تو اوڈیسیس اور ملکہ پنیلَپی کو سہاگ کی سیج پر لٹا دیتا ہے اور وصل کی گھڑیوں سے شاد کام شاہ و ملکہ پھر داستان گوئی کے سرور میں کھو جاتے ہیں

مگر ہمارے میاں محمد بخش جہاں بدیع الجمال اور سیف ملوک کے سہاگ کی رین در آتی ہے لاج کا گھونگھٹ اوڑھ لیتے ہیں


سیف ملوک مہراج بنانا کم آہا مرداواں
شاہ پری دا ووہٹی بننا ناں میں کھول سناواں
کیہہ مجال اساڈی اوتھے ستر گھنے سلطانی
پردے دی اوہ بات محمد دسّے کون زبانی

ہومر کے ایلیاڈ سے شروع ہوا ہمارا سفرالعشق آڈییسی کے پنوں پر ختم ہوا۔ ایپک کی تعریف سمجھتے احمد نے بابا کے بک شیلف سے وارث شاہ کی ہیر اور میاں محمد بخش کی سیف الملوک کی جھلکیاں دیکھیں تو برخوردار لپک کر Chapters سے پرانی جیکٹ بائنڈنگ میں ہومر کی آڈییسی اٹھا لیا۔

This binding has a vintage feel baba! I believe I am ready to read an epic.

باپ بیٹا آج کل ہومر کی ایلیاڈ اور آڈییسی پڑھ رہے ہیں، جولائی آئے گا تو دونوں کرسٹوفر نولن کی آڈییسی دیکھنے تھیڑ جائیں گے۔۔۔

If you like this story, create a buzz, share!
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted