چاندی دیاں پوڑیاں
ست بھیناں گوریاں
چکوال کے نواحی گاؤں مہرو پیلو کے گورنمنٹ ہائی سکول کے ساتھ پاک مشہدی دربار ہے ۔ وہیں سڑک کے پار ایک بلند ٹبے پر پہلو بہ پہلو ایک جیسی پانچ پختہ قبریں ہیں۔ سیمنٹ کا فرش کیے اس چبوترے پر پانچ پاک مشہدی بیبیاں اپنی اپنی چونا رنگی قبروں میں آرام کرتی ہیں۔ جون کی اس گرم دوپہر نیلا۔دلا روڈ پر سفر کرتے اس مقام کی نشاندہی پرویز نے کروائی تھی۔ہم مہرو پیلو ایک اور قبر کی کھوج میں آئے تھے۔سنا تھا کہ مرزا صاحباں کے خالق پیلو کی قبر اسی گاؤں کے پیچھے ایک پہاڑی پر ہے۔ 2019 کا ذکر ہے جب افسرشاہی کے صاحبانِ قضاوقدر نے پنجاب کے قصہ گو شاعر پیلو کی قبر نورپور تھل کے ایک گاؤں پیلو وینس میں دریافت کی تھی۔ اب تو وہاں چاردیواری کے اندر ایک بلندوبالا تعویذ پر پختہ کتبہ بھی نصب ہے جس پر جگمگاتے حروف میں پیلو دی ڈھیری درج ہے، اور جہاں علاقے کےاسسٹننٹ و ڈپٹی کمشنر تصویر کھنچوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ مگر کچھ روایتوں میں پیلو کی قبر چکوال کے نواحی گاؤں مہرو پیلو میں بھی بتائی جاتی تھی۔ تو ہاڑ کی اس تپتی دوپہر اسلام آباد جاتی موٹروے سے اتر پرویز اور میں یہاں آئے تھے۔
گاؤں والے اپنے پیلو کو نہ صرف یہ کہ قصہ مرزاصاحباں کا خالق بتاتے ہیں بلکہ پیلو کی مہرو بی بی کے پریم میں رنگی کہانی بھی سناتے ہیں، جس کے دونوں کردار سائیں پیلو اور مائی مہرو گاؤں کے پچھواڑے دو ٹیکریوں پر اپنے اپنے مزاروں میں محوِ استراحت ہیں، مگر وہ الگ قصہ ہے۔
گاؤں سے نکل کر جب چکری انٹرچینج کی نیت کرتے ہم نے گاڑی مقامی نیلا دُلا سڑک پر ڈال دی تو گورنمنٹ ہائی سکول مہرو پیلو کے پہلو میں پرویز کو ایک اونچا چبوترہ نظر پڑا جس پر ایک قطار میں ایک جیسی کچھ قبریں کتبے اٹھائے پڑی تھیں اور وہ گاڑی روڈ سائیڈ پر روکتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے کہنے لگا، سر یہ کیا ہے، باہر نکل کے نہ دیکھیں؟ چند دن قبل سکھر کی قربت میں دریائے سندھ کے کنارے ایسے ہی ایک بلند ٹیلے پر ہم نے قطار اندر قطار ایک جیسی قبروں کے تعویذ دیکھے تھے۔ وہاں کوئی سات پردہ دار بیبیوں کا ذکر تھا۔
کچھ دن پہلے کا ذکر ہے علی الصبح کراچی سے چلے، دوپہر ہو چلی تھی جب ہم روہڑی پہنچے۔ پنوں عاقل چھاؤنی میں اس رات کے پڑاؤ تک کوئی گھنٹے بھر کا راستہ رہتا تھا جب میں نے پیچھے بیٹھی سواریوں امی اور ابو سے روہڑی کی قربت میں کچھ زمینی نشان دیکھنے کی اجازت طلب کی جوبخوشی مل گئی۔ روہڑی جنکشن سے ہو کر ہم لینڈزڈون برج کی ہمسائیگی میں اس قدیمی قبرستان تک پہنچے جو ستین جواستھان کے نام سے منسوب ہے۔ جیٹھ ہاڑ کی تپتی دوپہر میں سورج سوا نیزے پر تھا اور وہاں ہمارے اور محکمہ آثارِ قدیمہ کے سٹاف کے علاوہ کوئی ذی روح نہیں تھا۔ سونے پر سہاگہ گاڑی کا راستہ جو سامنے ایک بہت گھنے برگد کے درخت کی چھاؤں تک جاتا تھا آثارِ قدیمہ والوں نے رکاوٹ لگا کر بند کردیا تھا۔ اس کڑی دھوپ میں گاڑی کی پچھلی سیٹوں پر بیٹھے بزرگان کو پرویز وہاں چھوڑ دینے پر راضی نہیں تھا۔ نو وہیکل بیانڈ دس پوائنٹ کے بورڈ کے ساتھ گاڑی روک پرویز سبک خرام چلتا محکمے کے ٹکٹنگ پوائنٹ پر پہنچا اور کچھ بات چیت کے بعد بیریئر بھی ہٹ گیا اور گاڑی بھی درخت کی چھاؤں تلے اس سائن بورڈ تک آگئی جس پر سندھی اور انگریزی بھاشا میں ستین جو استھان کا تعارف درج تھا۔ ہم بہت خوش ہوئے کہ پرویز کے سندھی ڈاکخانے نے آخر کام دکھادیا۔ یہ عقدہ بعد میں کھلا کہ ‘بھلی کری آیا’ سےکوئی خیر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہونے پر پرویز نے گفتگو کو سیدھا فوجی تڑکا لگایا تھا کہ گاڑی میں میجر صاحب اور ان کے والدین بیٹھے ہیں، آگے آپ خود دیکھ لو کہ انہیں دھوپ میں سڑانا ہے یا میں گاڑی آگے چھاؤں میں لے آؤں۔ گاڑی بھی آگے برگد کی چھاؤں تلے آگئی اور سر پر سولا ہیٹ سجائے، گلے میں کیمرہ لٹکائے، ہاتھ میں پانی کی بوتل تھامے، امی ابو کی ہدایات و دعاؤں کے سائے میں گاڑی سے باہر نکلا تو ایک آؤ بھگت میں آثارِ قدیمہ کا ٹور گائیڈ بھی ہمارے ہمراہ ہوگیا۔
لامتناہی سیڑھیوں کی ایک قریباً عمودی قطار چڑھ کر آپ مغل طرزِ تعمیر سے متاثر ایک بارہ دری تک پہنچتے ہیں، جہاں کہ جس روز ہم پہنچے تزئین و آرائش کا کام جاری تھا۔ سانس بحال کرکے ابھی آپ فیروزی نگینوں میں جڑاؤ کاشی کاری کے نمونوں کا ملاحظہ کر ہی رہے ہوتے ہیں تو علم ہوتا ہے کہ بارہ دری نما یہ عمارت دراصل ڈیوڑھی ہے جس سے مزید عمودی سیڑھیاں چڑھ کر آپ ایک پختہ پلیٹ فارم پر آجاتے ہیں۔ اور تب آپ پر منکشف ہوتا ہے کہ ایک قدیمی لینڈزڈون اور نسبتاً نئی تعمیر ایوب برج کے ہمسائے میں سندھو کے پانیوں کی قربت میں آپ ایک بلند قدیمی قبرستان میں کھڑے ہیں۔ مغل دور کے کوس مناروں سے ملتے چار چھوٹے مینار، ایک پختہ پلیٹ فارم اور اس سے جڑے دائیں اور بائیں پھیلے چبوترے پر کچھ پرانے مدفن۔
صاحبو، میر علی شیر قانع ٹھٹھوی کی تحفتہ الکرام میں بالائی سندھ کے پرگنے ‘ بھکر’ کے بزرگوں میں ایک میر قاسم خان ‘نمکین’ کا ذکر ملتا ہے جس نے لاہور میں اکبر بادشاہ کے دربار کی نوکری کے عوض چہار ہزاری منصب پایا اور بھکر میں سکونت اختیار کی۔ ابوالفضل کے اکبرنامے میں ہمارے میرقاسم خان کا نام ابوالقاسم نمکین ملتا ہے اور چند ایک مہم جوئیوں میں اس کی وفاداری و عسکری مہارت کا ذکر بھی جس کی قدر کرتے ہوئے مہابلی کے فرمان کی رو سے مغل دربار کے نمک حلال ابوالقاسم کو بھکر کی جاگیر عطاہونے کا حکم بھی آئینِ اکبری میں درج ہے۔ تزکِ جہانگیری جہاں ہمیں یہ بتاتی ہے کہ شہزادہ سلیم نے اپنے والد کے پرانے نمک خوار ابوالقاسم نمکین کو ڈیڑھ ہزاری منصب پر ترقی عطا کی وہیں ابوالقاسم کے کثیر العیال ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے، جس کے تیس فرزند اور زیادہ نہیں تو کم و بیش پسران کی نصف تعداد میں دخترانِ نیک اختر تھیں۔ تھوڑا آگے چل کر برسبیلِ تذکرہ ہمیں یہ بھی معلوم پڑتا ہے کہ افغانستان کے سفر میں جب شاہی سواری جمرود اور علی مسجد سے ہوتی طورخم کے راستے غریب خانے کے مقام پر پہنچی تو وہاں ابوالقاسم نمکین کہ جس کے پاس تب جلال آباد کی جاگیر تھی، بادشاہ کی قدم بوسی کو موجود تھا اور جہانگیر کی خدمت میں پیش کرنے کو خوبانیاں لایا تھا، سوادِ پادشاہی نے جنہیں کشمیر کی خوبانیوں کے ہم پلہ پایا۔
تحفتہ الکرام کے مطابق میرقاسم خان نمکین قندھار کی جنگ میں شہادت کے مرتبے پر فائر ہوگئےجہاں سے ان کا جسدِ خاکی واپس لایا گیا اور جزیرہ نما بھکر قلعے کے پہلو میں روہڑی کے ایک ٹیلے پر انہیں دفن کیا گیا۔ روہڑی کا یہی بلند ٹیلہ تھا جس پر واقع ایک قدیمی قبرستان میں اس دوپہر مَیں، پرویز اور آثارِ قدیمہ کا ٹور گائیڈ آوارہ گرد تھے۔ جس ٹیلے پر ہم سات بہنوں کی پہلو بہ پہلو قبریں (ستین جو استھان کا سلیس ترجمہ تو یہی نکلتا تھا) دیکھنے آئے تھے وہ اصل میں ابوالقاسم نمکین اور اس کی آل اولاد کی قبریں تھیں۔
سکھر کے لینڈزڈون برج کے پیش منظر میں بارہ دری نما ڈیوڑھی کی بلند چبوترہ نما چھت پر بہت ساری قدیمی قبریں اور وہیں ایک طرف کو چار مناروں کے احاطے میں پکی اینٹوں کے فرش پر سندھ کے پیلے ریگزار پتھر پر کندہ نفیس خطاطی سے مزین قطار اندر قطار کچھ بلند و بانگ کتبوں والے منفرد تعویذ، ان میں درمیان سے ایک طرف کو ہٹ کر ایک قبر میر ابوالقاسم نمکین کی ہے۔ یہ یہاں بننے والی پہلی قبر تھی جس کے قطعۂ تاریخ وفات سے 1018 ہجری کا سال نکلتا ہے۔ قطار میں اگلی قبریں ابوالقاسم کے بیٹوں اور خاندان کے دیگر افراد کی ہیں۔ اب یہاں مزے کی بات یہ ہے کہ اس ٹیلے پر سب سے پرانی تعمیر، وہ چار منارے ہیں جنہوں نے ایک چبوترے کے چار کونوں کی حد بندی کر رکھی ہے۔ اب یہاں روہڑی اور سکھر کے محقق اورتاریخ دان امداد حسین شاہ بتاتے ہیں کہ ابوالقاسم کوجب مغل دربار سے بھکر کی جاگیر عطا ہوئی اور وہ قلعے میں متمکن ہوا تو دریا کنارے یہ ٹیلہ اس کے من کو بھا گیا۔ چار منارے اور ان کا درمیانی چبوترہ اصل میں چاندنی راتوں میں محفل سماع و سرود کی خاطر بنوایا گیا اور یہ مقام ہمارے امیر کو اسقدر پسند آیا کہ اس نے بعد از مرگ یہیں دفن ہونے کی وصیت کی۔ قندھار میں ایک مہم سے واپسی پر جب ابوالقاسم کا انتقال ہوا تو اس کا جسدِ خاکی بھکر لایا گیا اور محفلِ سماع و سرود کے چبوترے پر پہلی قبر اسی کی بنی۔ بعد ازاں یہ خاندانی قبرستان ٹھہرا جہاں آج کی گنتی میں قبروں کی کل تعداد کوئی ایک سو کے لگ بھگ ہے۔




صاحبو،ڈیوڈراس نے جب لینڈآف فائیو رِوَرز لکھی، وہی جسے پڑھ کر ہماری
اڈیلا کوری
سندھ کی محبت میں گرفتار ہوئی تھی، تو ریلوے سٹیشنوں کےساتھ ساتھ چلتی اس یاترا میں جب وہ سکھر پہنچا تو دریائے سندھ کے دو شاخوں میں بٹتے پاٹ میں بھکر کے جزیرے کے حسن پر مبہوت ہوا تو وہیں ایک جانے مانے سیاح کے شبدوں کا سہارا لیتا ہے (اب یہاں راس ہمیں سیاح کا نام نہیں بتاتا مگر الفاظ کی شاعری چغلی کھاتی ہے کہ نفسِ مضمون یقیناً فارسی رہا ہوگا) :
دنیا میں کم ایسی جگہیں ہوں گی جن کا حسن سندھو ندی کا ہم پلہ ہو سکے جب کہ دریا بھکر کے قلعے کو چھو کر گزرتا ہے۔
مشرقی کنارے کی زمینوں نے حسین باغات کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے جن کا سلسلہ میلوں چلتا چلا جاتا ہے۔ ان باغات میں کھجور، ببول اور انار کے درختوں کی کثرت ہے۔ بھکر کا پرانا قلعہ کہ سندھ کا پرشور تلاطم خیز پانی جس کی پگ بوسیاں لیتا گزرتا ہے ایک چٹانی جزیرے کے اوپر واقع ہے جو دریائے سندھ کے دو شاخہ ہو کر اطراف سے گزرنے کی وجہ سے وجود میں آیا ہے۔
سر کیتھ الیگزینڈر جیکسن برطانوی فوج کی فورتھ لائٹ ڈریگوُنز میں کپتان تھے جب انہوں نے پہلی اینگلو افغان جنگ میں حصہ لیا۔ ہمارے کپتان نے اس یاترا کے دوران کچھ دلفریب سکیچز پر مشتمل اپنی کتاب ‘ویوز ان افغانستان’ مرتب کی تو اسمیں سکھر اور روہڑی کی دشاؤں سے بھکر کے قلعے کو دیکھتی کچھ ڈرائنگز بھی شامل کیں۔ سندھو ندی کے پانیوں میں ابھرتے بھکر کے اس جزیرے اور اس کے گھنے باغات کی بابت ڈیوڈ راس کے بے نامی سیاح کے دلفریب منظرنامے کو یہ تصاویر بجا طور پر دو آتشہ کرتی ہیں۔ پس منظر میں کھجوروں کے درخت اور باغات لیے سندھو کے لشکتے پانیوں میں گھرا جزیرہ، جس پر ایک پرشکوہ قلعے کی فصیلیں اور دروازے، اور پیش منظر میں دریا کے پانی پر ڈولتی کشتیاں جن پر ڈولتی پتواریں تھامے اسی قدر ڈولتے مہانے
ہالے نہ بیڑی ٹھِل وے ، ساڈے یار ونجھنا
گیارہویں ہجری بمطابق سترھویں صدی عیسوی میں جب بھکر کی جاگیر اپنے جوبن پر ہوگی تو عین ممکن ہے ہمارے مغلئی منصب دار ابوالقاسم نمکین نے چاندنی راتوں میں روہڑی کی دِشا میں سندھو کے پانیوں پر بلند ہوتے اس ٹیلے کو جہاں اب اس کی اور دیگر اہلِ خانہ کی قبریں ہیں دیکھنے کی غلطی کی ہو اور دِل دے بیٹھا ہو۔ صفحہ صفا کا لقب دیے اس مقام پر جو اب ایک شہرِ خموشاں ہے ایک سو سولہ چاند کی راتوں میں کسی کے کاندھے کے تِل کی توصیف میں کتنی ہی سماع وسرود کی محفلیں ہوں گی جو منعقد ہوئیں اور سندھو کے بہتے پانیوں نے جبکہ وہ بحیرۂ عرب کے ساحل سے میل کرنے کو بہتے تھے ان کی کتھا سمندر کو جا سنائی۔ کراچی کے بادبان کھلتے ساحلوں سے پرے گہرے پانیوں میں کتنی سیپیاں ہوں گی جو ان داستانوں کے موتی اپنے پیٹ میں چھپائے بیٹھی ہیں، کوئی جائے تو خبر لائے۔


آج کے ستین جو استھان کے بلند چبوترے پر مغلئی قبروں کی زیارت کرلینے کے بعد ٹور گائیڈ سے ہمارا اگلا سوال تھا کہ وہ سات بہنوں کا کیا قصہ ہے۔ ہم قبرستانی چبوترے سے سیڑھیوں کی پہلی فصل اتر کر اندر بارہ دری میں آئے تو وہاں بنی کوٹھڑیوں میں سے ایک کے دروازے پر تالا لگا تھا۔ مرد حضرات کا داخلہ یہاں ممنوع تھا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں جب یہاں ہندو راجا کی حکومت تھی جو حرص و ہوس میں یدِ طولیٰ رکھتا تھا تو اس کی دست درازی سے بچتی سات پاک باز بیبیاں اس ٹیلے کے ایک غار میں گوشہ نشین ہوئیں اور اپنی پاکدامنی کی حفاظت کی خاطر رب سے دعا گزاری تو پہاڑ پھٹ گیا اور وہ اس میں دفن ہوگئیں۔ اب یہاں سندھ بھر سے بیبیاں آتی ہیں اور منتوں مرادوں کی جھولی بھرنے کی خاطر نذرانے گزارتی ہیں۔ صاحبو، یہ کہانی سنانے والا ٹور گائیڈ کوئی حال کی گھڑی داستان نہیں سنا رہا تھا۔بھکر قلعے اور اس کے پہلو میں اس ٹیلے کا ایک سکیچ ہم تک گوروں کے دور کے ایک مجلے دی گرافک کے 9نومبر 1878 کے شمارے کی وساطت سے پہنچتا ہے۔ وہاں سکھر اور روہڑی کے کچھ سکیچز میں سے ایک بھکر قلعے کے جزیرے سے دریا کے پار ہمارے اس ٹیلے کو دیکھتا ہے جس پر کچھ اسی نوعیت کی قبریں نظر پڑتی ہیں جو ہم اوپر دیکھ آئے ہیں، نیچے عبارت ہمیں بتاتی ہے کہ یہ سندھ کےدریا پر واقع tomb of seven virgins یعنی سات کنواری بیبیوں کا مزار ہے۔

کئی قرنوں پر محیط کنوارپنے کی حفاظت کی اس کہانی کی ابتدا کب ہوئی ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے۔ سننے میں آیا ہے کہ چچ نامہ کے خالق علی بن کوفی نے کہیں روہڑی کے نواحی ٹیلے پر چھ برگزیدہ درویشوں کے قیام اور کاٹے چلے کا ذکر کیا ہے۔ عربی کی گنتی میں ستہ چھ کو کہتے ہیں۔ علی بن کوفی کے بتلائے درویشوں کے چلے کا ٹیلہ مقام ستہ کے نام سے مشہور ہوا ہوگا۔ عین ممکن ہے کہ روہڑی کے پڑوس میں پھلتی پھولتی ہندو راجاؤں کی راجدھانی الور کے لوگوں نے لفظ ستہ کو چُرا قشقہ لگا اسے ستی کردیا ہو اور ہندو دھرم کی اسی نام کی ایک رسم سے جوڑ دیا ہو۔ایک روایت تویہ بھی کہتی ہے کہ گئے وقتوں میں یہاں راجپوت جانبازوں کی جلتی چتاؤں پر ان کی رانیاں ستی کے روپ میں قربان ہو گئی تھیں۔ کچھ بعید نہیں کہ ہند سندھ پر اسلام کے غلبے کے بعد نو آموز مسلمانوں نے ستی کی رسم کوکلمہ پڑھاتے ہوئے اسے گنتی کے حرف سات سے تعبیر کیا ہو اور اتنی ہی تعدادمیں کچھ پاکباز مسلمان بیبیوں میں بدل دیا ہو،جو ظالم ہندو راجے کی شہوت بھری نظروں اور دست درازیوں سے بچتی اس ٹیلے میں پناہ گزین ہوگئیں اور پھر مشیتِ ایزدی سے پہاڑ پھٹ جانے پر یہی ٹیلہ ان کا مدفن ٹھہرا۔
صاحبو کیا ظلم ہے کہ ابوالقاسم کی والہانہ محبت کا امین یہ ٹیلہ جہاں ہمارا منصب دار اب خود دفن ہے ستین جو استھان کے نام سے معنون ہے اور نمک حلال قاسم کو کوئی نہیں جانتا۔ اس کی وجہ تو ہمیں یہی معلوم مڑتی ہے کہ سندھ کنارے ایک ٹیلے پر دفن مغل منصب دار اور اس کے خاندان والوں سے کس کو دلچسپی ہوگی ہاں مگر ایک لوک داستان کی کرامات میں بندھے ایک پوشیدہ غار نما مقفل کمرے میں بزنس پوٹینشل ضرور ہے کہ دور دراز سے آئے بھولے بھٹکے زائر ان مقفل کواڑوں کا دیدار کرتے ہیں، اور ان کی بیبیاں اپنی منتوں اور مرادوں کے دھاگے لے کر کوٹھڑی کا در پھلانگ جاتی ہیں کہ اندر دفن بیبیوں کی پاکبازی کے صدقے اولادِ نرینہ کی دعا مانگ سکیں۔
ہم تو عذرِشرعی یعنی اپنی مردانگی کے سبب اندر نہیں جا سکے مگر کہنے والے کہتے ہیں کہ مزار کے مجاوروں نے کوٹھڑی کا اندر پالنے، جھولوں اوراس سے ملتے جلتے لوازمات سے سجا رکھا ہے۔ ہو نہ ہو وہیں کہیں چندے کا بکس بھی ہوگا۔ کیا قہر ہے کہ خدا کی سادہ لوح مخلوق کے لیے آس، امید، اور مرادیں چاندی دیاں وہ پوڑیاں ہیں جن پر منتوں کے دھاگے لے کر چڑھ جائیں تو آگے موٹی چادر والا نذرانے کا بکس سونے کے سکوں کا دان وصول کرتا ہے۔ سوہنی دھرتی میں اس منافع بخش کاروبار کو زوال نہیں۔
چکوال کے نواح میں گورنمنٹ ہائی سکول مہرو پیلو کی اس دوپہر پاک مشہدی دربار کے پہلو میں سیمنٹ کا فرش اوڑھے اس چبوترے کی بغل میں جو پانچ قبریں تھیں جن میں کہ ایک آلکس میں سیدانیاں پڑی سوتی تھیں تو یہ کچھ کچھ ستین جو استھان سے ملتی جلتی صورتحال تھی۔ کتبے ان مشہدی بیبیوں کی پاکبازی کی گواہی دیتے تھے مگر ان سے جڑی کہانی سنانے کو وہاں کوئی مقامی باشندہ موجود نہیں تھا۔ مائی عابدہ پروین، مائی آسیہ، مائی مریم، مائی رقیہ اور مائی فاطمہ۔ نہ کوئی اور تعارف نہ ہی قطعہ تاریخ وفات۔ چند کتبوں پر نظر کرنے والے مومن سے فاتحہ پڑھنے کی استدعا اور باقی ماندہ پر ازل کے گلچیں سے کیا گیا گلہ
وائے گل چینِ اجل کیا خوب تھی تیری پسند
پھول وہ توڑا کہ ویراں کر دیا سارا چمن
اب اپناوقت آنے پر ان بیبیوں کو ان کے لواحقین نے گورِغریباں میں اتارا تھا یا پھر اپنی پاکدامنی کی حفاظت کرتے زمین پھٹ جانے پر یہ برضا و رغبت دھرتی میں سما گئی تھیں، یہ ہم نہیں جانتے۔ ہاں یہ ضرور جانتے ہیں کہ مہرو پیلو کی اس دوپہر سے چند دن کی دوری پر میں اور پرویز جب لالہ موسیٰ کے ہمسائے خواص پوراور پھر گجرات کی ذیلی سڑکوں پر بامتہ اور بانٹھ کی مشترکہ زمینوں میں ایک محبوب سرناویں کی چاہ میں آوارہ گرد تھے تو مغرب کاوقت ہو رہا تھا جب مہسم اڈے کو جاتی سڑک کے پاس پیر گوگڑ شاہ کے دربار کی ملحقہ مسجد میں نمازادا کر کے ہم دربار کے چبوترے پر بیٹھے تواندر جڑواں قبریں نظر پڑیں۔
معلوم یہ ہوا کہ گوگڑ شاہ کے دربار میں دفن یہ معصومین جواں سال بھائی بہن تھے جو مہسم کی ان زمینوں میں بھٹک گئے تو لوگوں کی غلیظ نظروں سےاپنی پاکبازی کی حفاظت کرتے زمین پھٹ جانے پر یہیں سما گئے۔ یہاں بھی دربار تھا، چندے کی سبیل تھی اور پاکدامنی کے عرس کا پھلتا پھولتا کاروبار تھا۔

ہماری طرف بعد از مرگ جن بیبیوں کے کتبوں کو زوجہ فلاں یا دختر فلاں کا ڈاکخانہ خاص نصیب نہ ہو تو ان کی پاکدامنی ثابت کرنے کو پاک مشہدی اور اس سے ملتے جلتے سرناویں لکھنے پڑتے ہیں۔ اور تو اور ہماری پریم کتھاؤں میں مہینوال کی سوہنی ہو یا پھر کیچ ملک کے خان پنھل کی سوختہ بخت سسی، محبوب سے ملنے کو کچے گھڑے پر بھروسہ کرلیں تو دریا کی بے رحم آغوش انہیں نگل لیتی ہے یا پھر رات کی رات آنکھ لگ جانے کی پاداش میں تپتی ریت میں سڑ مر جائیں تو بھی ان کی پاکدامنی کی حفاظت کو زمین پھٹ جایا کرتی ہے
ایتھے سسی جیہیاں صورتاں، سڑ مریاں وچ تھلاں
ایتھے ڈُب ڈُب مویاں سوہنیاں پئے اوویں وگن چناں
صاحبو، اس پاک سرزمین میں پاکدامن بی بی وہی ہے جو چھ فٹ زمین کے اندر ہے۔ مہرو پیلو کی پاک مشہدی بیبیوں کی قبروں کی قطار، لاہور کے بی بی پاکدامن کے مزار اور بھکر کے جزیرے کے پاس ستین جو استھان کی بس اتنی ہی کہانی ہے۔

حوالہ جات و حواشی









