اگر ایک ہزار مرد تمہاری محبت میں مبتلا ہوں ۔۔۔
ٹورنٹو پیئرسن کے ٹارمیک پر اڑان بھرنے سے پہلے جہاز کے انجن زور کرتے تھے اور ہیڈ فونز کانوں میں لگائے گولڑہ کی درگاہ میں چوکی بھرنے والے حاجی محبوب کی قوالوں کی ٹولی کے اسی قدر محبوب کلام کو سنتے،
دلا کس کی لگن میں پھرتا ہے وحشی تُو بن بن میں
مانی کے رُوئیں رُوئیں میں ایک مسرت کروٹیں لیتی تھی کہ وہ اپنے دیس کو لوٹتا تھا،
پٹن میں، منٹگمری میں، علی حیدر کے موطن میں
دلا کس کی لگن میں ۔۔۔
اور تب مجھے لگا کہ ایک عمر کے بن باس کے بعد میں جس وطن کو لوٹتا ہوں وہ میرا پاکستان ہے، بالکل ایسے جیسے کہ رسول حمزا توف کے لیے میرا داغستان تھا۔
سدا گاؤں کے حمزہ کے بیٹے رسول کی نظموں اور گیتوں سے جنما پہاڑوں کا دیس داغستان، اس کا دارلحکومت مخاچ قلعہ جہاں اب رسول حمزا توف دفن ہے۔ وہی رسول حمزا توف جس نے اپنی نظم کہیں بلند پہاڑوں میں اپنی عورت سے محبت کے اظہار کا آغاز یہ کہہ کر کیا تھا کہ” اگر ایک ہزار مرد تمہاری محبت میں مبتلا ہوں تو یقیناً رسول حمزا توف اُن میں سے ایک ہوگا”۔ اور پھر رواں دواں اپنی نغمگی میں بہتی یہ خوبصورت نظم اپنے اختتامی بند تک آتے آتے پڑھنے والے کے رونگٹے کھڑے کردیتی ہے :
اگر ایک ہزار مرد تمہاری محبت میں مبتلا ہوں تو ۔۔۔
یقیناً رسول حمزا توف ان میں سے ایک ہوگا
اگر ایک سو مرد تمہاری محبت میں مبتلا ہوں تو ۔۔۔
رسول حمزا توف۔۔۔ ان میں ۔۔۔ ظاہر ہے ضرور شامل ہوگا
اور اگر دس مرد تمہاری محبت میں مبتلا ہوں تو ۔۔۔
رسول حمزا توف ان میں سے ایک ہوگا
اور اگر ۔۔۔
صرف ایک مرد تمہاری محبت میں مبتلا ہو تو ۔۔۔
تو وہ رسول حمزا توف کے سوا اور کون ہوسکتا ہے!
اور اگر تم تنہا ہو ۔۔۔ اکیلی ہو
اور کوئی بھی تمہاری محبت میں مبتلا نہیں ہے ۔۔۔
تو یقین کرلینا
کہیں بلند پہاڑوں میں ۔۔۔ رسول حمزا توف ۔۔۔ مر گیا ہے
مستنصر حسین تارڑ کہتے ہیں کہ میرا داغستان میں مٹی کی محبت میں قید رسول حمزا توف انہیں اپنے پنجاب کے قریب لے آیا۔ “پنجاب کے ہر درخت، ہر موسم، ہر جوہڑ اور ہر داستان کے قریب۔ سوہنی کے حسن، ہیر کے رانگلے پلنگ اور صاحباں کے جنس بھرے عشق کے قریب”۔ بالکل ویسے ہی پہلے پہل یہ کتاب مجھے میری سوہنی دھرتی کے قریب لے آئی تھی۔ کینجھر کی نوری جام تماچی کے قریب، ملیر گوٹھ کے ماروؤں کی محبت کا دم بھرتی کنویں سے پانی کے ڈول نکالتی ماروی کے قریب، میرے دابھیجی، پپری، سٹیل ٹاؤن اور گلشنِ حدید کے قریب۔
میں نے کہیں لکھا ہے کہ شمالی سفید برعظیم کو ہجرت کرتے وقت اپنی جنم بھومی، ایک عمر کے یارانوں اور دوستیوں اور جس دھرتی کے شہروں اور قصبوں سے عشق کیا تھا، ان سب کو ایک ہجرت کے روپ میں تیاگ دینے کے سمے ہم نے جانتے بوجھتے آب و ہوا تبدیل کرلی تھی۔ وطن سے دوری کو بہت دیر ہوچلی تھی اور کتنے ہی برس بیت گئے تھے کہ میں لاہور سے پشاور کی جرنیلی سڑک پر سفر کرتے اطراف کے کسی پرانے مقام کسی قدیم نشان کی کھوج پر نہیں اترا تھا۔ دینہ سے آگے شمال کی سمت جہاں پوٹھوہار کی پتھریلی ہموار پہاڑیاں طلوع ہوتی ہیں، اپنے یارِغار رحمان ارشد کے ہمراہ جبکہ گربانی کے شبد دل کی زمین پر اترتے تھے، “ہر جی ماتا، ہر جی پتا، ہر جی او پرت پالک ۔۔۔ ہر جی میری سار کرے، ہم ہر کے بالک” سوہاوہ کے وے سائیڈ ہوٹل پر تھم کر کڑک مارکہ دودھ پتی پیے کتنے ہی جگ بیت گئے تھے۔ ایمن آباد کے اطراف قدیمی شاہی گزرگاہ پر ڈاکٹر سیف الرحمٰن ڈار کی پیڑ پکڑتی کھوج اب پرانی فائلوں کے نوٹس کی گرد میں دھندلا چلی تھی۔ اور میں ایک برفاب کہر بار انٹاریو کی اداس راتوں میں سونے کو لیٹتا تھا تو خوابوں میں خود کو انہی گلیوں، چوباروں اور راہوں میں گھومتے دیکھتاتھا کہ جس دھرتی کے شہروں اور قصبوں سے عشق کیا تھا، تو کسی لمحہٴ وجدان میں مجھے علم ہوجاتا تھا کہ یہ سب ایک خواب ہے، مگر میں ڈر کے مارے آنکھ نہیں کھولتا تھا کہ کہیں جرنیلی سڑک کی دلربا بھول بھلیوں سے اتر انٹاریو کی 401 کی کٹھور ٹریفک میں بچھڑ نہ جاؤں
سفنے دے وچ ملیا ماہی تے میں گل وچ پالیاں بانہواں
ڈردی ماری اکھ نہ کھولاں کتے فیر وچھڑ نہ جاواں
میرا داغستان کے دیباچے میں رسول حمزا توف نے بھی تو یہی لکھا ہے،
“آنکھ کھلتے ہی بستر سے اس طرح اٹھ کر نہ بھاگو جیسے کسی چیز نےتمہیں ڈنک ماردیا ہو۔ سب سے پہلے اس خواب کے بارے میں سوچو جو تم نے دیکھا ہے”
تو صاحبو ایک مدت سپنے دیکھنے کے بعد، ٹورنٹو پیئرسن کے ٹارمیک پر جب جہاز اڑان بھرنے کو پر تولتا تھا تو مانی مسرور تھا کہ وہ اپنے پاکستان کو پلٹتا تھا۔ کافی برس بیت جانے پر ایک عرصے کے بعد میں وطن کو لوٹا تو ایک اشتیاق کا عالم تھا کہ پہلے تو ایک مہینے پر محیط چھٹی تھی اور دوسرے بیاضِ دل و ایکسل شیٹ پر نقش ان گنت جگہوں اور ان سے جڑے لوگوں سے ملنے کی چاہ اور منصوبہ بندی۔
جی ہاں ایکسل شیٹ آپ نے بالکل ٹھیک پڑھا کہ ایک عرق ریزی کے بعد تیس دنوں پر محیط اس یاترا کے مقاماتِ آہ و فغاں کی پڑے رخ کی سطروں اور کھڑے رخ کے کالموں پر درجہ بندی کی گئی تھی۔وقت کم تھا اور مقابلہ سخت۔ جہاز کے اڑان بھرتے ہی جب نشست کی بندشوں کا نشان گل ہوگیا تو وطن کو لوٹتے مشتاق مسافر نے ایک بے تابی میں فوراً سے پیشتر لیپ ٹاپ نکال اسی سپریڈ شیٹ کے مندرجات کی بصد شوق سطر گردانی شروع کردی۔
ساتھ بیٹھے انگریز مسافر نے پوچھا “سٹل ورکنگ؟”
ہمارے جواب” نو، وکیشن پلاننگ” پر اس کی شکل دیکھنے والی تھی، منہ سے تو اس نے صرف اتنا کہا “یو پلان یور وکیشن آن اے سپریڈ شیٹ !”، مگر اسکے چہرے کا اتار چڑھاؤ بتا رہا تھا
کچھ بھی نہ کہا کچھ کہہ بھی گئے
کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے
دوسرا سوال اس ظالم نے یہ پوچھا کہ اچھا جا کہاں رہے ہو جو اسقدر پلاننگ کی ضرورت پڑگئی۔ ہم نے کہا پہلا پڑاؤ تو کراچی ہوگا۔ لفظ کراچی پر اسے دوسرا جھٹکا لگا۔ کاف کی کھچڑی اور رے کی کروڑی لگاتے لہجے نے ایک عالم حیرت میں دوہرایا “کھررریچی!” اور کچھ بے قرار ہوکر کہنے لگا۔
“ہیونگ بین تھرو رینڈم شوٹنگز آن دوز گاڈ فارسیکن سٹریٹس آف ڈاون ٹاؤن شکاگو آئی تھاٹ آئی ہیو بن تھرو سمتھنگ۔ یو بیٹ می ٹو اٹ مین! بگ ٹائم”۔
آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک خدا ترس گورے نے اپنے بازو کا خیالی امام ضامن ہمیں بخش ٹورنٹو سے دبئی انٹرنیشنل کی تیرہ گھنٹے کی فلائٹ میں اس بندہ خدا نے ہم سے ایک محتاط فاصلہ رکھنے میں ہی عافیت جانی۔

دبئی کے ٹرانزٹ کے بعد اگلی فلائٹ جب جناح ٹرمینل پر لینڈ کی تو صبح صادق کا عالم تھا۔ امیگریشن اور سامان چھڑانے کی مسافری رکاوٹوں سے پرے ایئرپورٹ کے باہر امی ابو مجھے لینے آئے تھے اور ان کے ساتھ بک کی گئی گاڑی سوزوکی کلٹس میں آیا ڈرایئور قیوم۔ سامان ڈکی میں ڈھو جب اماں ابا پچھلی سیٹوں پر بیٹھ گئے اور میں اگلی نشست پر قیوم کے برابر تو نصف گھنٹے پر محیط گھر کے سفرمیں ہوئی گپ شپ کے دوران میں نے چھان پھٹک کر ایک ہنس مکھ اور سادہ دل قیوم کو اپنی کراچی اور سندھ کی یاتراؤں کی ہمراہی کے لیے بک مارک کر لیا۔ قیوم کے ساتھ بیتی کچھ دلفریب کتھائیں تو ہم پہلے کہہ آئے ہیں، کچھ اور بھی ہیں جو پھر کبھی کہیں گے۔
گلشنِ حدید کے گلی کوچوں میں اپنے آلھنے میں اترے تو صبح کی سفیدی نمودار ہونے کو تھی۔ فجر کی نماز پڑھی تو نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ سفری تکان اپنی جگہ مگر دماغ ابھی تک ایسٹرن ٹائم زون میں تھا۔ اماں ابا کو نیند پوری کرلینے کی ہدایت کرکے میں باہر نکل آیا کہ ساتھ والی گلی کی نکڑ پر جہانگیر ہوٹل کے تندوری پراٹھے اور چائے سے کراچی میں اپنے پہلے دن کا آغاز کیا جائے۔ فیز ٹو کی ٹیلیفون ایکسچینج کے سامنے کمرشل پلازے کی نکڑ پر جہاں جہانگیر ہوٹل تھا وہاں میزان بنک کی نئی نکور برانچ کے بند شٹڑ پر جھولنے والا تالا منہ چڑا رہا تھا۔لوگوں سے ہوٹل کا دریافت کیا تو وہ الٹا مجھ سے پوچھنے لگے کہ بھائی کہاں سے آئے ہو۔ ہوٹل والا تو عرصہ ہوا دکان بڑھا گیا۔
بجھے دل کے ساتھ اس سڑک پر چلا جو کے ای ایس سی کالونی کے پہلو سے گزرتی فیز ون کی طرف جاتی ہے اور جہاں بھلے وقتوں میں گھر سے نظر بچا کر چوری سگریٹ پینے کے لیے اس دل نے کتنی ہی چہل قدمیاں کی تھیں۔ وہیں فیز ون کی نکڑ پر ٹی سٹال والے کو ایک دودھ پتی کا کہہ کر ساتھ کھڑے پان کے کھوکھے سے ایک گولڈ لیف کے سگریٹ کا مطالبہ کیا۔ساتھ لٹکتی اپنی ہی دھیمی آنچ میں جلتی رسی کے سوختہ سرے سے سگریٹ سلگا کر پوچھا کہ کتنے پیسے۔
ظالم نے چھوٹتے ہی پینتیس روپے مانگ لیے۔ایک سگریٹ کے پینتیس روپے! یار پچیس میں تو پوری گولڈ لیف کی ڈبی آجاتی ہے۔ ایک گمشدہ جہانگیر ہوٹل کے باہر کھڑے کٹھور لوگوں کی طرح کھوکھے والے نے بھی یہی کہا، بھائی کہاں سے آئے ہو؟
صاحبو یہاں سے واپس اپنی وکیشن پلاننگ والی ایکسل شیٹ کی طرف پلٹتے ہیں۔ پہلا پڑاؤ کراچی ہونے کی وجہ امی ابو تھے جو اس دلربا شہر میں رہائش پذیر تھے۔ پھر اس چھٹی کے عین درمیان میں بقرعید بھی آرہی تھی تو ایک ہفتہ تو انتظام و انصرام
اور احباب و اقارب کے تواضع و اہتمام میں نکل جانا تھا۔ پنجابی میں جسے شریکا کہتے ہیں۔دو ہفتے کراچی میں نکال سوہنی دھرتی میں ہماری آوارہ گردی کی فہرست پر کراچی سے ہٹ کر مقامات آہ و فغاں اور بھی تھے جن کی مار کا علاقہ شمالی سندھ اور جنوبی پنجاب کی کچھ دلنشین کھوجوں سے ہوتا ہوا سیدھا دارالخلافے تک جاتا تھا۔
ہر رہ جو ادھر کو جاتی ہے روہڑی سے گزر کر جاتی ہے
ایکسل کے فارمولا سیلز سے جنمی ایک سڑک چھاپ یاترا کی منصوبہ بندی کی تو اماں ابا کے اس ٹریڈ مارک طعنے کہ وے توں سانوں ملن آیاں ایں کہ اپنے شوق پورے کرن، سے دامن بچانے کی خاطر اس شاطر دل نے ایک مہارت سے دونوں بزرگوں کو اپنے ساتھ اس روڈ ٹرپ پر آنے کی دعوت دی۔
” تہانوں اپنے بھین بھراواں نوں ملیا چِر ای ہوگیا اے۔ چلو کھاں تے پنجاب اک ڈیڑھ ہفتہ رہ کے آنے آں۔ عید بھانویں کراچی آکے کرلیو”۔
اور وہ دونوں سادہ لوح بزرگ راضی ہوگئے۔ اب پیچھے مڑ کر دیکھوں تو یہ خوش قسمتی تھی کہ میں امی ابو کو تایا سے ملانے لے گیا۔ میرے پردیس لوٹنے کے چند مہینوں بعد امی ابا بھی کینیڈا چلے آئے اور پھر یوں ہوا کہ “او پردیس جانے والے بے وفا مسافر رب دے حوالے” کہنے والے تایا نے یہ دنیا ہی چھوڑ دی۔
کراچی سے براستہ پنوں عاقل چھاؤنی فیصل آباد کے اس سفر کے لیے قیوم کی سفارش پر پرویز بمعہ اپنی کرولا جی ایل آئی ہمارا انتخاب ٹھہرا اور صاحب کیا ہی خوب ٹھہرا۔ گاڑی کی پچھلی سیٹ کو دونوں بزرگوں کی نشست و برخاست کے لیے آرام دہ بنا پرویز نے اپنے اوپر فرض کرلیا کہ آنے والے دنوں میں اپنے ہم سفر کے روپ میں ایک آوارہ گرد و اسی قدر آوارہ مزاج مانی کی سیوا ہی اس کا دھرم ہوگا۔ رانی پور کے مضافات میں سچل سرمست کا مزار ہو، یا پھر روہڑی جنکشن کا پارکنگ لاٹ، سکھر کے لینڈزڈون برج کے پہلو میں ستین جو استھان ہو یا پھر رک کا ریلوے سٹیشن، ان مقامات تک پہنچنے کی چاہ میں مانی سے کہیں زیادہ تو پرویز پیش پیش تھا۔
سفر کے پہلے دن کا پڑاؤ پنوں عاقل چھاؤنی تھی۔ راستے میں روہڑی اور سکھر رکے تو ستین جو استھان کے بعد الور کی پہاڑیوں میں سہاگن اور دہاگن کے مقبرے دیکھنے جانے کی تمنا تھی۔ ستین والے استھان پر مامور آثارِ قدیمہ والوں کو سہاگن دہاگن کی تو سمجھ نہیں آئی الٹا انہوں نے ہمیں انہیں پہاڑیوں میں کالکا دیوی کے مندرکی راہ پر لگا دیا۔ روہڑی کے پہلو سے لگی الور کی پہاڑیوں میں راستہ بھولتے جب کوئی گھنٹے سے اوپر ہونے کو آیا تو پچھلی نشستوں پر بیٹھے بزرگوں پر سفر کی تکان حاوی آنے لگی۔ ابو نے دبے لفظوں اور امی نے کھلے عام ان مقبروں پر دو حرف بھیج پنوں عاقل کی راہ پکڑنے کی ہدایت کی۔ اور تب یوں ہوا کہ ان پہاڑیوں کے بیچ تھوڑا دور ان آنکھوں نے سہاگن کے مقبرے کو دیکھا اور پرویز نے ان آنکھوں کی چمک پڑھ لی۔ صاف نظر پڑتا تھا کہ راستہ کچا اور مشکل تھا اور لگ بھگ گھنٹے ڈیڑھ کا سفر تھا، پرویز نے سرگوشی کی کہ صاحب اتنی دور سے اس کی چاہ میں آئے ہیں، تو مقبرہ تو آپ دیکھ کر ہی جائیں گے۔ گاڑی گیئر میں ڈال پیچھے بیٹھے امی ابو کو اپنی چکنی چپڑی باتوں میں لگا کہ بزرگوں کو وقت کے گزرنے اور سفری صعوبتوں کی کچھ خبر نہ ہوئی پون گھنٹے بعد جب پرویز نے بریک لگائی ہے تو سامنے دو ٹیکریوں پر دو مقبرے اپنی بہار دکھا رہے تھے۔ داہنے ہاتھ سہاگن کا مقبرہ اور بائیں ہاتھ دہاگن کا مزار۔
تو کچھ یوں تھا کہ دور دیس بستی سوہنی دھرتی کے سنگ لاگے نیونہہ کا شینہہ جاگ اٹھا تھا، مانی کے من میں پاک سرزمین کی تاہنگ تھی اور دکھی دلڑی کے ہاتھ لگی ٹاہنگ کی پہنچ بہت دور تک ہونے والی تھی۔ پاکستان یاترا۔2024 ہند سندھ، پنجاب اور ماڑ کے علاقوں کی دھوڑ دھکڑ اڑانے والی تھی اور مانی ایک محبوب دھرتی کی سونی باروں اور پررونق بازاروں میں آوارہ گرد ہونے کو تھا۔
تتی تھی جوگن چودھار پھراں
ہند سندھ پنجاب تے ماڑ پھراں
سُنج بار تے شہر بازار پھراں
متاں یار مِلم کہیں سانگ سبب








