مہرو کی ڈھائی چال اور سمادھ رنجیت سنگھ

اندازاً 1870 میں کھنچی یہ تصویر، بادشاہی مسجد کے پہلو سے لگی رنجیت سنگھ کی سمادھی کی ہے۔ 27 جون 1839 کو مہاراجہ کا دیہانت ہوا تو اسی مقام پر چتا کو آگ دکھائی گئی تھی۔ اس دن آگ کے شعلوں کی لپٹوں میں بھسم ہونے والوں میں مہاراجہ کے علاوہ اور لوگ بھی تھے۔

صاحبو، چند سال اُدھر کا ذکر ہے، بادشاہی مسجد سے پلٹتے، شاہی قلعے سے پہلو بچاتے ہم واپسی کے راستے پر تھے کہ عین رنجیت سنگھ کی مڑھی کے گیٹ کے سامنے ڈاکٹر صاحب کی لاڈلی مہرو نے سمادھی دیکھنے کی فرمائش کردی۔ اس سے پہلے کہ ہم صورتحال کو سمجھتے ہمیں سنبھلنے کا موقع دیئے بغیر اپنی سیماب صفت طبیعت کے زیرِاثر مہرو بی بی خاردار تار اور VLC Player سے ملتی جلتی رکاوٹوں کی بساط کو ڈھائی چال میں ٹاپ سیدھا مین گیٹ کے پہریدار پولیس کے سنتری سے جا ٹکرائیں۔ ان دونوں کے درمیان کیا مکالمہ ہوا، یہ ہم نہیں جانتے لیکن کچھ دور سے ہم نے یہ ضرور بھانپ لیا تھا کہ پولیس والا اس دلیرانہ مڈبھیڑ پر کچھ گڑبڑا سا گیا تھا اور اپنے اوسان بحال کرنے کی تگ و دو میں تھا۔ ادھر ہماری مشکل یہ تھی کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی میں داخلے کے لیے پہلے سے اجازت نامہ لینا پڑتا ہے جو اسوقت ہمارے پاس نہیں تھا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اس دن ہمارے ساتھ ڈاکٹر صاحب و صاحبہ اور مہرو کےعلاوہ غیرملکی مہمان بھی تھے، تو اجازت نامے کے بغیر داخلہ ناممکن تھا۔
چند دن قبل ہی میں سمادھی دیکھنے کی نیت سے یہاں آیا تھا۔ ایک ریٹائرڈ فوجی کے کوائف دکھانے پر رنجیت سنگھ سمادھ کی سیکیورٹی پر متعین ایک اہلکار سے سلام دعا ہوگئی۔ اس دن سمادھی کے اندر لوگ خال خال ہی تھے، زیادہ تر پولیس کی نفری اور انتظام و انصرام سے متعلق سٹاف تھا۔ اپنے تازہ بنے دوست اہلکار کے ساتھ رنجیت سنگھ، اوردوسری مڑھیاں دیکھ ہم گردوارہ ڈیرہ صاحب آگئے۔ اس دن دوپہر کا کھانا میں نے سکھ سیواداروں کی سنگت میں گپ شپ لگاتے گردوارے کے لنگر سے کھایا اور اپنے راستے کا مسافر ہوا۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ اس دن جب مہرو پولیس سنتری سے نبرد آزما تھیں، سمادھی کے اندر سے صورتحال کا جائزہ لینے وہی ہمارا دوست اہلکار باہر آیا اور دور سے ہمیں پہچان لیا۔ ایک چند دن پرانی دوستی کا بھرم رکھتے ہوئے ہمارے اہلکار نے معزز مہمانان بشمول غیرملکی دوستوں کے لیے نہ صرف یہ کہ پروانۂ راہداری کا انتظام کروایا بلکہ اندر سیواداروں کو خبر بھی کروا دی۔ تابڑ توڑ سوالات کی زد میں آئے سنتری نے جب اشارہ ملنے پر گیٹ کھولا تو مہرو نے پلٹ کر ڈاکٹر صاحب و دیگر یاتریوں پر ایک فاتحانہ نظر ڈالی۔ ان آنکھوں کی چمک دیکھ کر ہمارا ایک پل کو بھی دل نہیں کیا کہ ہم آنسہ مہرو کی خوش فہمی کا کریڈٹ اپنی واقفیت کے کھاتے میں ڈال لیں۔

ڈاکٹر صاحب اور ان کے مہمانوں کے ہمراہ کوکوز ڈین ۔ یہ تصویر سمادھ رنجیت سنگھ کی یاترا والے ون کی یادگار ہے

سمادھی کے اندر ایک اور حیرت ہماری منتظر تھی۔ وہ لوگ جن کے ساتھ بیٹھ کر چند دن قبل میں نے گرو کا لنگر کھایا تھا، وہ اسقدر اپنائیت سے ملے کہ میں خود شرمندہ سا ہوگیا۔ میرے مہمان ان کے مہمانِ خصوصی ٹھہرے جنہیں اب وہ کشاں کشاں گردوارے اور سمادھی کے کنڈکٹڈ ٹور پر لے چلے۔ سمادھی اور گردوارہ گھوم لینے کے بعد جب ہم لنگر میں بیٹھے بھوجن کرتے تھے اور سیوادار ایک بے تکلفی میں جو کہ ایک بے لوث انسانی تعلق سے جنم لیتی ہے مجھ سے گپ شپ لگاتے باقی مہمانوں کے سامنے کھانا پروستے تھے تو ڈاکٹر صاحب ایک حیرت کے ساتھ دیکھتے تھے کہ رنجیت سنگھ کی سمادھی کے سیوادار اور سیکیورٹی اہلکاروں سے میری کیا واقفیت ہے، اور کیوں ہے۔ اس دن لاہور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی پر مجھے کھڑی شریف والے میاں محمد بخش کی یاد آئی
دنیا اتے کم نہ آیا اوکھے سوکھے ویلے
اوس بے فیضے سنگی کولوں بہتر یار اکیلے


دیکھیے بات رنجیت سنگھ کے دیہانت اورچتا کو آگ دکھانے کی ہورہی تھی اورہم ایک اور ہی قصے کی لذت میں بہہ کر کہیں کے کہیں نکل گئے۔ ایکسل لیب کے CEO ڈاکٹر نصیر اور ان کے مہمانوں کے ساتھ لاہور ریجن کے مینیجر آؤٹ ریچ کا ایک غیر رسمی دن واقعی یادگار تھا۔ یہاں سے ہم واپس رنجیت سنگھ کی چتا کی اور پلٹتے ہیں۔

رانی مہتاب دیوی اور آٹھواں مرتبان


1870 کا قصہ ہے کہ J. Duguid نام کا ایک انگریز سیلانی بمبئی کے ساحل سے لے کر تا بہ وادئ کشمیر جنت نظیر پھِرا اور ہند کے برِعظیم میں گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے کے ساتھ ساتھ ہم پر احسان یہ کیا کہ ایک تواتر میں اس سفر کی روداد اپنے والد کے نام خطوط میں برطانیہ بھجواتا رہا۔ یہ خطوط چند سالوں کی دوری پر Letters from India and Kashmir کے نام سے شائع ہوئے۔ اب ڈگوئڈ کے نام میں حرف J سے مراد جان ہے یا جیمز ہم نہیں جانتے کہ مصنف نے اپنی اور کتاب ان کے نام معنون کرتے وقت اپنے والد کی شناخت کو صیغۂ راز میں رکھا۔ جو ہم جانتے ہیں وہ یہ کہ ہمارا ڈگوئڈ 15اپریل1870 کو لاہور میں تھا۔ لاہور جو ایک فصیل اور ان گنت دروازوں کے حصار میں تھا اور جس کے اندر ایک قلعہ تھا جس میں موتی مسجد تھی، جس کے پار سنگ سرخ سے کھڑے میناروں اور سنگِ مرمر سے سجی چھتریوں، گنبدوں اور گلاب کی پنکھڑیوں اور سوسن کے پھولوں والی عالیشان مسجد، اور اس کے پہلو میں رنجیت سنگھ کی سمادھ ۔ پندرہ اپریل کی صبح آٹھ بجے کا عالم تھا اور شہر کے دروازے بند تھے جب ڈگوئڈ پالکی میں اپنے کہاروں کے ہمراہ یہاں پہنچا اور ہماری مہرو کی طرح اس کی مڈبھیڑ بھی گیٹ پر تعینات پولیس کے سنتریوں سے ہوئی۔ گورا صاحب کے لیے دروازے بغیر کسی اجازت نامے کے خود بخود کھٗل گئے اور قصہ مختصرحضوری باغ سے ہوتا ہوا ہمارا سیاح جب شیرِلاہور کے مزار میں داخل ہوا تو اس نے وہ مڑھی دیکھی جہاں مہاراجہ کی عالیشان چتا کو آگ دکھائی گئی تھی اور اس کی چار بیویوں اور سات ‘لونڈیوں’ کو بھی۔ 1870 کے اپریل میں جو ڈگوئڈ نے دیکھا اور ہمیں دکھایا وہ چھ مربع فٹ کا سنگِ مرمر کا چبوترہ ہے جو چار ستونوں کے اوپر ایک گنبد نما کینوپی سے ڈھکا ہے۔


سنگ مرمر کی چھتری کے نیچے مرکز میں ایک سوپ کے پیالے سے مشابہ مرتبان میں مہاراجہ کی استھیاں، اس کے گرد پہلی قطارمیں نفاست سے تراشے ہوئے چار برج ستی ہوئی مہارانیوں کی باقیات لیے، اور باہر کی طرف سات سادہ کمتر درجے کے برتنوں میں وہ کچھ جو سات درباری کنیزوں کے جل کر راکھ ہو جانے کے بعد بچ پایا۔

J.Duguid کے Letters from India and Kashmir مولف 1870

یہاں Duguid ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اسی مڑھی پر ایک طرف کو الگ تھلگ رکھی ایک اور شناخت بھی تھی۔ علامتی طور پر رکھا یہ آٹھواں مرتبان خالی تھا کہ اس میں کسی کی استھیاں نہیں تھی۔ یہ یادگار تھا اس مہارانی کی جو چتا کو اگ لگتے سمے پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی مگر مہاراجہ کے ساتھ ستی نہیں ہوئی۔

جے ڈگوئڈ کے لیٹرز فرام انڈیا اینڈ کشمیر 1870 کے صفحوں سے

عزیزقارئین، تحریر کے آغاز میں جب ہم نے کہا تھا کہ مہاراجہ کی جلتی چتا میں کچھ اور لوگ بھی تھے تو اس میں کچھ نہ کچھ صداقت تو تھی۔ 28 جون 1839 کی اس شام روشنائی دروازے کے پار راوی کے پانیوں کوچھوتی چتا سے جب آگ کے شعلے لپکتے تھے تو وہیں شیرِ لاہور کے بے جان جسم کی قربت میں کچھ سانس لیتے وجود بھی تھے آگ کی لپٹیں جنہیں نگلنے کو بلند ہوتی تھیں۔ لاہور کی اس دلگیر شام مہاراجہ کی چار رانیاں رنجیت سنگھ کے ساتھ ستی ہوگئیں۔ کشمیری شالوں اور کمخواب کے تھانوں سے ڈھکی ایک عالیشان ناؤ سےمشابہ اس چتا میں چارمہارانیوں کے پہلو میں دربارکی سات کنیزیں بھی لقمۂ اجل بنیں۔ اس واقعے کی یورپین روایتوں کے مطابق یہ سات کشمیر سے لائی زرخرید لونڈیاں تھیں جن کی عمریں کم وبیش چودہ پندرہ برس رہی ہوں گی۔
گئے وقتوں کے ہندو مت میں رواج تھا کہ مرتیو کے بعد دلہن کی مانند سجائی ودوا اپنے پتی کی چتا کی اور آخری سفر پر روانہ ہوتے سمے سیندور کے مانند سرخ سیال میں ہاتھ ڈبو ایک نشان گھر کی چوکھٹ کے ساتھ کی دیوار پر ثبت کرجاتی۔ ایک بے نشان، بے پتوار زندگی کو وداع کرتی ہتھیلی کا آخری نشان گھر کی دہلیز پر بین کرنے کو باقی رہ جاتا۔ رنجیت سنگھ کی مہارانی مہتاب دیوی، کانگڑہ کے راجہ سنسار چند کی سپتری نے ایسا کوئی نشان پیچھے چھوڑا یا نہیں یہ ہم نہیں جانتے مگر Dr Martin Honigberger، رنجیت سنگھ کے دربار کے ’مارٹن صاحب‘ ہمیں مہارانی کے چتا کی طرف قدموں سے ناپے ’موت کے سفر‘ کی روداد بتاتے ہیں۔ رانی مہتاب دیوی دنیا و مافیہا سے بیگانہ نپے تلے قدموں سے چلتی ہوئی، سامنے ایک کہار الٹے قدموں رانی کو آئینہ دکھاتے ہوئے چلتا ہوا کہ ستی ہونے جاتی ودوا دیکھ لے کہ آخری سفر کو جاتے اس کے چہرے پر خوف کا کوئی نشان، جھجھک کی کوئی پرچھائیں تو نہیں۔ کچھ ہی دیر میں مہتاب دیوی پالکیوں میں آئی باقی تین رانیوں کے ساتھ سامنے لگی سیڑھی کے پار چتا میں اتر رنجیت سنگھ کے بے جان جسم کے سر کی سمت بیٹھ گئی۔ قدموں کے طرف کی جگہ کچھ دیر میں لونڈیوں نے لے لینی تھی۔ ان سب کو ایک بڑی چادر سےڈھک بہت سا گھی اور تیل ڈال چتا کو آگ دکھا دی گئی۔ ایک بے جان اورگیارہ جاندار جسموں کو نگلنے والی اس چتا کی آگ دو دن تک سلگتی رہی۔ مہاراجہ اور ستی ہو جانے والوں کی استھیاں بعد ازاں جاہ وحشم سے مزین ایک قافلے میں گنگا میں بہانے کو روانہ کردی گئی تھیں۔ Duguid نے سنگ مرمر کی چھتری کے سائے تلے جو مرتبان ہمیں دکھائے تھے ان میں ان استھیوں کا باقی ماندہ حصہ رکھا گیا تھا جو گنگا اشنان سے بچ گیا تھا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ استھیاں ایک عرصے تک رنجیت سنگھ کی مڑھی کی زینت بنی رہیں یہانتک کہ نوے کے عشرے کے شروع میں انہیں یہاں سے ہٹا دیا گیا۔
اگر آپ آج کی تاریخ میں رنجیت سنگھ کی سمادھی کے مسافر ہوتے ہیں جیسا کہ اس دن ڈاکٹر صاحب اور ان کے مہمانوں کے ساتھ ہم تھے اور ہم سب سے آگے اک نازِ بے نیاز میں ٹہلتی مہرو۔ تو صاحبو آج کی تاریخ میں سمادھ رنجیت سنگھ میں سنگِ مرمر کی یہ چھتری اب پالکی صاحب بن گئی ہے، اور استھیوں سے مرصع مرتبانوں کی اب کوئی خبر نہیں۔ ان کی بابت پوچھے جانے والے سوال بھی گرو گرنتھ کے پاٹھ کی آوازوں میں دب جاتے ہیں۔

کانگڑہ سٹائل کی اس پینٹنگ میں رنجیت سنگھ کی چتا کو آگ دکھانے کا منظر پینٹ کیا گیا ہے
مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی کے گردوارے میں پالکی صاحب ۔ یہیں ڈگوئڈ نے استھیاں رکھی دیکھی تھیں ۔ گوگل فوٹوز

صاحب یہاں سے ہم اپنی اس رانی کی اور پلٹتے ہیں جس کے نام کا آٹھواں علامتی مرتبان رنجیت سنگھ کی مڑھی پر رکھا تھا۔ جی ہاں وہی جو چتا پر تو پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی مگر مہاراجہ کے ساتھ ستی ہونے سے دامن بچا گئی۔ مہاراجہ کے سورگباش ہونے کا جو قصہ دھیان سنگھ کی زبانی ہم تک پہنچتا ہے وہیں ہمیں ایک نام نظر پڑتا ہے، گُل بیگم۔

گل (بہار) بیگم


تارڑ صاحب اپنے ناول راکھ میں لاہور کے گلبرگ کرسچین گریویارڈ میں تین زبانوں میں لکھے ایک کتبے کا ذکر کرتے ہیں۔
Here lies in eternal peace
THE PRINCESS BAMBA SUTHERLAND
کی عبارت سے آغاز ہوتا یہ کتبہ اردو کے درمیانی پڑاؤ، دختر کلاں مہاراجہ دلیپ سنگھ و پوتی مہاراجہ رنجیت سنگھ شیرِ لاہور سے ہوتا پاؤں کے رخ کچھ فارسی اشعار پر ختم ہوتا ہے
یارب تو مرا توبہ دہ و عذر پذیر ۔ اے توبہ دہ و عذر پذیرِ ہمہ کس
فارسی، جو لاہور میں سکھ دربار کی سرکاری زبان تھی۔ کچھ شک نہیں کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور کا احوال جن بنیادی دستاویزات کے ذریعے ہم تک پہنچتا ہے وہ فارسی میں ہیں۔

لاہور کے گلبرگ کرسچین گریویارڈ میں رنجیت سنگھ کی پوتی شہزادی بمبا سدر لینڈ کا کتبہ اور فارسی اشعار

سوہن لال سُوری سکھرچکیہ مِسل کا مُنشی، رنجیت سنگھ کےعہد میں لاہور دربار سے وکیل کی حیثیت میں منسلک تھا۔ رنجیت سنگھ کے دربارکی سرکاری تزک سوہن لال کے قلم سے پانچ ضخیم جلدوں (دفتروں) میں ہم تک پہنچتی ہے۔ “عمدۃ التواریخ” لاہور کے درباری روزنامچے اور مہاراجہ کی مصروفیات کی ایک مفصل دستاویز ہے۔ اوپر بیان کیا گیا مہاراجہ کے سورگباش ہونے کا دھیان سنگھ کی زبانی قصہ ہم تک عمدۃ التواریخ کے پنوں کی وساطت سے ہی پہنچتا ہے۔ جب مہاراجہ کا بے جان جسم چتا کی اور لے جانے کو اٹھایا گیا تو وہاں کھڑی تمام رانیاں اور گُل بیگم پھوُٹ پھُوٹ کر رونے لگیں یہانتک کہ ہوش وحواس سے بیگانہ ہو کے زمین پر گر پڑیں۔ اب یہاں تاریخ کو کچھ قصہ گوئی کا تڑکا لگائیں تو پرانے لاہور کی کہانیاں کہنے والے مجید شیخ بتاتے ہیں کہ گلُ بیگم مہاراجہ کے ساتھ ستی ہوجانے کے ارادے سے خود چل کر چتا تک گئی مگر اسے اجازت نہیں ملی کہ اسلام میں اس رسم کی ممانعت تھی۔
صاحبو گُل بیگم، مائی موراں کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ کی دوسری مسلمان رانی تھی۔ امرتسر کی رقاصہ جس کی زلفِ گرہ گیر، معاف کیجیے گا پیروں میں بندھی پائل کا مہاراجہ تب اسیر ہوا جبکہ روپڑ میں لاہور دربار کے انگریز مہمانوں کے اعزاز میں دی گئی تقریب میں گل بیگم محوِ رقص تھی۔ اگلے ہی سال 1832 کے ستمبر میں ایک پروقار شاہی تقریب میں گُل بیگم رنجیت سنگھ کے عقد میں آگئی۔ اکیاون سال کی عمر میں یہ رنجیت سنگھ کی آخری شادی تھی۔

ہم ایک اور جگہ مائی موراں کی کہانی کہتے ظفرنامہ رنجیت سنگھ کا ذکر کر آئے ہیں۔ دیوان امرناتھ کے ہاتھ کا لکھا فارسی تلمیحات و استعاروں سے آراستہ یہ ظفرنامہ 37-1830 کے درمیان سکھ دربار کی فتوحات و دیگر احوال کا چشم دید بیان ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم موضوع سے بہک جائیں فارسی زبان کی نزاکتوں سے مرصع ظفرنامہ رنجیت سنگھ کے باب سی او ششم (چھتیسویں فصل) میں وقائع سال یکہزار و ھشتصد و ھشتادونہ (1832 عیسوی کے واقعات) کی طرف پلٹتے ہیں جہاں کچھ کچھ ذکر ‘وصل گل بہار بیگم’ کا بھی ہے۔ اب کوئی اور مورخ کتنا بھی سر مارے، امرناتھ کے گل بیگم کے حسن کی مدح میں باندھے ان استعاروں کے ہم پلہ کیسے ہوسکتا ہے!


نازنین شاھد عالم خیال ۔ گل بہار نامے از طائفۂ شریفہ ۔ اللہ اللہ! لب لعلش آتش افروز سوختگان نایرۂ عشق و جنونی ۔ نگاھش آھوئے در صحرائے دلہا گرم خیز ۔ و از یک توجہہ ھنگامہ آرائی رستخیز ۔ دھنش غنچہ از چمن خوبی بتازگی رسیدہ ۔ نافش چشم عاشق بیماری ۔ کہ از صفائے سینہ بہ ھنگام وصل لغزیدہ ۔ الخ

ظفرنامہ رنجیت سنگھ از دیوان امرناتھ
ظفرنامہ رنجیت سنگھ کے باب سی او ششم (چھتیسویں فصل) میں گل بیگم کی مدح میں اشعار کا عکس

گُل بیگم کی مہاراجہ سے شادی بذاتِ خود ایک عالیشان شاہی تقریب تھی جس کی روداد سوہن لال سوری کی عمدۃ التواریخ ایک تفصیل میں ہمیں بتاتی ہے۔ یہاں کچھ گُل بیگم سے بیاہ کی چاہ میں دستِ پادشاہی حنائی رنگ میں رنگنے کا ذکر ہے تو کچھ تذکرہ محفلِ عیش ونشاط کا بھی ہے، اور جب ہردو سے فرصت پائی تو رنجیت سنگھ ہرمندر صاحب کا یاتری ہوا کہ وہاں کے بھائی صاحبان کو نذر و نیاز گزارنے کے ساتھ کچھ حیلہ گناہوں سے نجات کا بھی کیا جائے۔ اور اس سب کے بعد جب شاہی بارات چلی ہے تو کچھ اس دھج سے کہ مہاراجہ خود زعفرانی ملبوس میں سجا، زروجواہر سے لدا اک سُرور کے عالم میں چلا۔ فرمانِ شاہی کی رو سے خدمت گاروں کو حکم ہوا کہ نقرئی محلات میں فرش کی جگہ خود بچھ جائیں۔ امرتسر اور لاہور کی تمام طوائفوں کو روزمرہ کا کام دھندا چھوڑ انہی سِلوَر بنگلوز میں حاضر ہونے کا حکم تھا۔ اور پھر مہاراجہ اور گُل بیگم نے اپنی اپنی نشستیں سنبھالیں تو مہاراجہ کے سہرے کی لڑیوں میں گلاب کے پھول اور موتی جڑے تھے تو اُدھر گل بیگم کی ناک کی آرائش ایک نقرئی نتھنی تھی جس میں ایک موتی جھلملاتا تھا۔ اوراس ساعتِ پرمسرت میں رنجیت سنگھ کے عقد میں آئی بیگم صاحبہ کو گُل بہار بیگم کا خطاب عطا ہوا۔ شادی انجام پائی توشاہی جوڑا حجلۂ عروسی سمیت لاہور کی نواحی شکارگاہ میں خیمہ زن ہوا۔ 1832 کا دسمبرتھا جب مہاراجہ اورگُل بیگم لاہور کو واپس ہوئے تو مستی گیٹ سے شہر میں داخل ہوتے ہاتھی کے ہودے پرشاہی جوڑآ کچھ اس ناز سے بیٹھا تھا کہ حضوری باغ تک کے راستے میں استقبال کوجمع ہوئی رعایا پر اشرفیوں کی بارش ہوتی رہی۔ یہاں سوہن لال سوری کی عمدۃ التواریخ اور دیوان امرناتھ کے ظفرنامہ رنجیت سنگھ کی زبانی یہ رنگین بیان ختم ہوتا ہے۔

لاہور کی گلیوں کے پرانے آوارہ گرد، راوئِ رنگین بیاں مجید شیخ ہمیں بتاتے ہیں کہ مہاراجہ سے شادی کے لیے گُل بیگم نے ایک شرط رکھی تھی اوروہ یہ کہ رنجیت سنگھ لاہور سےامرتسر آتی بارات کے ہمراہ ننگے پاؤں پیدل چل کر آئے گا تو بات بنے گی۔ گُل بیگم کے لیے یہ بادشاہ کی محبت کی سچائی کی کڑی آزمائش تھی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ لاہور سے امرتسر کے اس راستے کو ہموار کرنے کے لیے کہ کہیں مہاراجہ کے پائے نازک میں موچ نہ آجائے شاہی دربار سے مزدوروں کی ایک پوری فوج مامور کی گئی۔ اور یہ کہ بارات والے دن مہاراجہ پنگھٹ کی اس کٹھن ڈگر پر ننگے پیر چلا بھی۔ اب پاپوش سے بے نیاز قدمِ پادشاہی نے لاہور سے امرتسر کی اور کتنا فاصلہ طے کیا، اس پر تاریخ دان اور کہانی کار دونوں خاموش ہیں۔
صاحبو گُل بیگم سے مہاراجہ کی کوئی اولاد نہیں تھی اوررنجیت سنگھ کی چتا پرآنسو بہاتی گُل بہار بیگم بعد کے دنوں میں اندرون لاہور کے کوچہ گل بیگم میں گوشہ نشین ہوگئی۔ پنجاب پرانگریزوں کا قبضہ ہونے کے بعد رنجیت سنگھ کے وارث کی حیثیت سے بیگم صاحبہ برٹش دربارسے سالانہ پنشن پاتی رہیں۔

سوہن لال سوری کی عمدۃ التواریخ ۔ دفتر سوم میں گل بیگم کی مہاراجہ سے شادی کی تقریب کا قصہ

بعد از رنجیت سنگھ


اندرون لاہور کے رنگ محل چوک میں جہاں شاہ عالمی مارکیٹ ہے اور مخالف سمت بازار صداکاراں کی راہگزر نکلتی ہے، وہیں کوچہ چابک سواراں کی قربت میں کوچہ گل بیگم ہے۔ مجید شیخ سے روایت ہے کہ رنجیت سنگھ کی مسلمان مہارانی سے موسوم اس کوچے کی وجہ تسمیہ یہی ہے کہ مہاراجہ کے دیہانت کے بعد گل بہار بیگم اس علاقے میں متنقل ہو گئی تھی۔ پچھلے سال لاہور کو پلٹا تو کچھ کہانیوں کی تلاش میں قدیم لاہور کی بھول بھلیوں کی سی گلیوں کا بھی چکر لگا۔ اس دن مسجد موراں طوائف کے درشن کرلینے کے بعد گوگل نقشے اور اندرون لاہور کے چاچا کمپس کی مدد سے رنگ محل کی قربت میں ان قدموں نے کوچہ گل بیگم کو بہت تلاش کیا مگر بے سود۔ پاپڑ منڈی بازار کے چوک چکلے (جو اب تائب ہوکر بخاری چوک بن گیا ہے، آنکھوں میں نورانی سرمہ بھی لگاتا ہے) سے لے کر رنگ محل کے کسیرا بازار تک ان ناتواں ٹانگوں نے بہت جوتے چٹخائے، بازار حکیماں کے کوچہ پہلواناں اور کوچہ کاغذیاں سے ہوتے کوچہ دھوبیاں اور کوچہ اچاریاں تک کی خبر لائے مگر کوچہ گل بیگم کی گرد کو بھی نہ پہنچے۔ ویسے کچھ کچھ اس میں قصور لاہوریوں کا بھی ہے، مجال ہے جو کسی کو صحیح راستہ بتادیں۔ خیر یہ تو ایک جملۂ معترضہ تھا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ رنگ محل چوک کی قربت میں جو حویلی ہے جہاں ایک زمانے میں مشن ہائی سکول اور اب رنگ محل گرلز ہائی سکول ہے اس کی قربت میں وہ علاقہ جہاں اب کچھ تنگ گلیاں اور اونچے کئی منزلہ مکان ہیں گل بیگم کی ملکیت ہوا کرتا تھا اور اسی نسبت سے کوچہ گل بیگم کہلاتا ہے۔
مہاراجہ کے گزرجانے کے بعد، دربار کے روزنامچے مہاراجہ اور امورِ سلطنت دونوں پر اثر رکھنے والی ایک طاقتور رانی گل بیگم کے ذکر سے خالی ہیں۔ 1952 میں سکھ اتہاسک سوسائٹی امرتسر پٹیالہ نے The Punjab in 1839-40 کے نام سے ایک کتاب شائع کی جو نیشنل آرکائیوز آف انڈیا کے ریکارڈ میں محفوظ اخباری تراشوں اور رپورتاژ پر مشتمل ہے۔ پنجابی مہینے اسوج کی پندرہ تاریخ 1896 بکرمی بمطابق 29 ستمبر 1839 عیسوی پنجابی اخبار کے ریکارڈ میں ایک چھوٹی سی خبر کا تراشہ مہاراجہ کھڑک سنگھ کی بابت ایک حکم کا ذکر کرتا ہے کہ میسرز کشن سنگھ کو گل بیگم کوسالانہ پندرہ ہزار روپے کی ادائیگی کا پابند کیا گیا اس درباری جائیداد کے عوض جو گل بیگم نے چھوڑ دی تھی۔ اب وہ جائیداد رنگ محل والی حویلی کے پاس تھی یا کہیں اور اس کا ذکر ہمیں نہیں ملتا۔

اندرون لاہور میں رنگ محل کی قربت میں کوچہ گل بیگم
پنجابی اخبار ستمبر 1839 کے شمارے کا عکس جہاں گل بیگم کو جائیداد چھوڑ دینے کے عوض سکھ دربار سے رقم کی ادائیگی کا ذکر ہے

سر لیپل ہنری گریفن نے 1865 میں اپنی کتاب پنجاب چیفس مرتب کی تو گل بیگم کو گزرے دو برس ہوئے تھے۔ رنجیت سنگھ کی ‘معجل’ اور ‘غیر معجل’ ہر دو قسم کی بیویوں (بیواؤں کہنا زیادہ مناسب ہوگا) کا ذکر کرتے ہوئے سر گریفین، گل بیگم کو اہلِ نشاط بمعنی طوائف کہہ کر بلاتے ہیں جسکا 1863 میں لاہور میں انتقال ہوا تو وہ انگریز دربار سے مبلغ 12,380 روپے سالانہ پنشن لے رہی تھی۔ رنجیت سنگھ کی کسی بھی مہارانی کو ملنے والی پنشن کی مد میں یہ سب سے زیادہ رقم تھی۔ دوسرے نمبر پر رانی لچھمی تھی جسے سالانہ 11,200 روپے کیش پنشن کی مد میں ادا کیے جاتے۔ رانی لچھمی جو 1820 میں رنجیت سنگھ کے عقد میں آئی 1865 میں سرگریفین کے مطابق جبکہ ان کی کتاب چھپنے جارہی تھی ہنوز حیات تھی اور انگریز سرکار سے پنشن پا رہی تھی۔ گل بیگم کی اگلی خبر جو ہمیں ملتی ہے وہ مولوی نور احمد چشتی کی تحقیقاتِ چشتی سے آتی ہے۔

باغ گل بیگم


صاحبو، ہمارے نوآبادیاتی آقا کے اپنے ملک انگلستان میں رائل ایشیاٹک سوسائٹی کے آرکائیوز یعنی قدیمی کاغذی قبرستان میں چمڑے کی جیکٹ میں مجلد اردو زبان میں ہاتھ سے لکھا ایک مخطوطہ ہے۔ یادگارِ چشتی سے معنون اس مخطوطے پر مصنف مولوی نور احمد چشتی کی دستخطی عبارت یہ بتاتی ہے کہ یہ نسخہ سن 1858 میں اسوقت کے ڈپٹی کمشنر لاہور سر رابرٹ آئلز ایگرٹن کو تحفتہً پیش کیا گیا۔ انیسویں صدی کے قریباً وسط کے لاہور کے محلہ چابک سواراں میں مقیم مولوی نور احمد چشتی اردو، فارسی اور عربی کے استاد تھے۔ کمپنی کی حکومت نے مولوی صاحب کو گورے صاحب کو اردو اور فارسی کی تعلیم دینے پر مامور کیا۔ آپ سے اردو سیکھنے والوں میں سے ایک کوچہ گل بیگم کے پڑوس میں رنگ محل حویلی والے مشن ہائی سکول کے بانی ڈاکٹر چارلس ولیم فورمن بھی تھے۔ وہی چارلس فورمن جن کے نام پر لاہور کا ایف سی کالج ہے۔
اردو و فارسی کی تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ 1860 کی دہائی میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے مولوی صاحب کو لاہور کے گلی کوچوں کی ایک معلوماتی گائیڈ لکھنے کا کام بھی سونپا جو1867 میں آپ کی وفات تک جاری رہا۔ بعد از وفات مرتب ہونے والی مولوی نور احمد چشتی کی کتاب تحقیقاتِ چشتی لاہور کا ایک ضخیم انسائیکلوپیڈیا ہے۔ دیکھیے بات گل بیگم کی ہورہی تھی اور تحقیقاتِ چشتی کی بھول بھلیوں میں گم ہوگئی۔ تو صاحبو، تحقیقاتِ چشتی جو بجا طور پر انیسیویں صدی کے لاہور کی نبض پر ہاتھ رکھتی گلی محلوں، کوچوں، چوباروں، قبرستانوں اور ان میں بسنے والے زندہ اور مردہ باشندوں کی روداد ہے، ہمیں ٹہلاتے ٹہلاتے باغ گل بیگم تک لے آتی ہے۔
مولوی نور احمد چشتی لاہور کے خطہ میانی کی قبور کی زیارت کو نکلتے ہیں تو تحقیقاتِ چشتی کے پنوں پر کچھ حال باغیچہ رانی گل بیگم صاحبہ کا بھی بیان کرتے ہیں۔ اب یہاں دقت یہ آپڑی ہے کہ یہ روداد ہے تو اردو میں مگر پیرایۂ اظہار اس دور میں رائج جناتی اور گج گامنی نثر میں ہے۔


لب راہ جنگلہ چوبی مع اشجار شمال رویہ اور دیوار خام جنوب رویہ راستہ باغیچہ رانی گل بیگم صاحبہ مرحوم کا ہے۔ جنگلہ کے گوشہ غربی و شمالی میں ایک کوٹھا پختہ خشتی، جس کا دروازہ شرق رویہ مع طاق تختہ اور اس کے ساتھ شمال رویہ برانڈہ طویل شرق رویہ سے غرب رویہ تک متصلہ اس کوٹھا کے اور اس کے اندر طویلہ و بگھی خانہ و دو کوٹھا۔ ۔ ۔ ۔

مولوی نور احمد چشتی کی تحقیاتِ چشتی

ہم اپنے پڑھنے والوں کی مشکل آسان کرتے ہیں اور اس مفصل روداد کا خلاصہ عام فہم نثر میں بیان کرنے کی کوشش بھی۔ مولوی صاحب 1864 میں باغ گل بیگم کی یاترا پر آئے تھے جب گل بہار بیگم کو گزرے لگ بھگ ایک سال ہوا تھا۔

اگر آپ آج کی تاریخ میں میانی صاحب کی بے کراں وسعتوں کو کھنگال لینے کا ارادہ کر کے نکلیں اور قسمت بھی کچھ کچھ مہربان ہو تو بہاولپور روڈ سے اِس طرف جہاں قبرستان کا جنوب مشرقی کنارہ ہے اور ایک طرف میجر شبیر شریف شہید نشانِ حیدر کا مقبرہ ہے اور مخالف سمت دلا بھٹی کا مدفن، اس سے تھوڑا آگے آپ باغ گُل بیگم پہنچ جاتے ہیں۔ جیسے جون 2025 کی چلچلاتی سہ پہر میں اور پرویز پہنچ گئے تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں بعد کے دنوں میں گُل بیگم اندرون لاہور سے نکل مزنگ کے پڑوس میں آبسی تھی اور یہیں مہاراجہ کے گزرنے کے لگ بھگ سترہ برس بعد گُل بہار بیگم نے ایک شاندار باغ تعمیر کروایا تھا۔ اس باغ کی شہرت کی وجہ سے یہ علاقہ باغ گُل بیگم کہلاتا ہے۔ مولوی صاحب چشتی نے جب پہلے پہل اسے دیکھا تھا تو باغ کی ڈیوڑھی تک جاتا راستہ دو رویہ درختوں کی قطار سے ڈھکا ہوا تھا جس کی لکڑی کے جنگلے سے چوحدی کی گئی تھی۔ مرکزی عمارت پختہ اینٹ سے بنی تھی جسکے آگے ایک برآمدہ تھا اور ساتھ ہی مویشیوں اور رانی کی بگھی کے لیے احاطے بنے ہوئے تھے، آگے ایک تالاب، غسل خانہ اور چاہ (کنواں) موجود تھا۔ یہیں کہیں سنگِ مرمر کی ایک تختی فارسی شبدوں میں اعلان کرتی تھی کہ اس کنویں کی مالکن شیخ محمد اکبر کی دختر، زوجہ مہاراجہ رنجیت سنگھ بہادر سورگباشی رانی گل بیگم صاحبہ ہیں۔ مولوی صاحب جنہوں نے اونچے ٹیلے پر واقع اس کنویں پر یہ تختی بچشم خود ملاحظہ کی تھی بتاتے ہیں کہ سردار خان (رانی صاحبہ کا لے پالک بیٹا) کا اصرار ہے کہ اسی تختی پر اس کا بھی نام درج ہے مگر پڑھا نہیں جاتا۔ جہاں سردارخان کا نام اور کچھ اور نادرٍروزگار لوگوں کا تعارف پڑھا جاتا ہے وہ باغ کے دو منزلہ منقش مغربی دروازے کا درمیانی محرابی کتبہ ہے جس پر نیلی روشنائی میں فارسی کے کچھ اشعار درج ہیں۔ اور صاحبو نقلِ چشتی، چشتی باشد:

عیسوی سن 1856, بکرمی سال 1913 اور ہجری سن 1273 میں باغ کی تاریخِ تکمیل کی خبر دیتے یہ اشعار بتاتے ہیں کہ اس جنت نظیر باغیچے کا سنگِ بنیاد کسی علی بخش صاحبِ جود و سخا کے زیرِ اہتمام رکھا گیا، مزید برآں یہ کہ گل بیگم کے خوش خلف فرزند کے نصیب جاگے کہ زمانے میں سردارخان کے نام سے مشتہر ہوا اور اپنی سخاوت کے سبب حاتم لقب پایا۔ اگلے اشعار میں اطلاعاً عرض ہے کہ یہ خلد نظیر باغیچہ رانی گل بیگم صاحبہ نے اپنی چہل قدمی و بطور گوشۂ فراغت تعمیر کروایا۔ بقول سعدی شیرازی
فراغتے و کتابے و گوشۂ چمنے
آخر میں جہاں سائیں جواہر شاہ اس باغ کے مزدوروں کا داروغہ بتایا جاتا ہے وہیں ہمیں معمار غلام علی کا نام بھی نظر پڑتا ہے۔ صاحبو جادو دست غلام علی کی فنکاری کا ذکر ابھی کرتے ہیں، پہلے یہ جان لیں کہ مہاراجہ سے رانی گل بیگم کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ کہتے ہیں کہ گل بیگم نے اپنے بھانجے سردار خان کو گود لے لیا تھا۔
خوشا نصیب کہ فرزند خوش خلف دارد
کہ مشتہر شدہ سردار خان چون حاتم

2025 کی جون کی چلچلاتی سہ پہر جب میں اور پرویز وہاں کھڑے تھے تو میانی صاحب کی دیواروں سے لگتے ایک گنجان آباد محلے میں نہ تو باغ کی ڈیوڑھی تھی نہ ہی درختوں کی قطار، اور نہ ہی کسی دالان، طویلے یا بگھی خانے کا نشان۔ نیو مزنگ کی گنجان آباد تنگ نظر گلیوں میں سے ایک اچانک آپکو باغ کے مغربی دروازے پر لا کھڑا کرتی ہے۔ وہی دو منزلہ مغربی دروازہ، جس کے پہلو سے کچھ سیڑھیاں اوپر کی منزل کو جاتی نظرآتی ہیں۔ اوپری منزل کی محرابیں خستہ حال تھیں اور ان میں کہیں بھی اس نیلی روشنائی والے کتبے کی خبر نہیں تھی جس پر درج فارسی کے شعر آپ اوپر پڑھ آئے ہیں۔ سامنے دروازے کو لگا تالہ ہمارا منہ چڑا رہا تھا۔ باغ گل بیگم کا علاقہ گل بیگم کے وارثوں کی ملکیت ہے جو خود کو تیسری پیڑھی میں سردار خان کی اولاد بتاتے ہیں۔ کسی سبب سے گلی محلے کے لونڈوں کو دوڑا کر کنجیوں کی سبیل کروائی گئی اور ہم اندر داخل ہوئے۔ اندر چاردیواری میں جو وسیع گوشہ بچا ہے باغ تو کہیں سے نہیں ہے۔ گھاس اور سبزے سے عاری ایک رڑا میدان ہے جس کے مرکز میں ایک مستطیل قطعے میں کچھ بے نامی قبریں ہیں۔ باغ یعنی رڑے میدان کی جنوبی دیوار کے ساتھ ایک مستطیل مقبرہ وہ مزار ہے جہاں رانی گل بیگم دفن ہے۔

میانی صاحب کے جنوب مشرقی گوشے میں جہاں نیو مزنگ کی گنجان آبادی قبرستان کو نگلنے کو پھرتی ہے باغ گل بیگم کا بچا کھچا احاطہ
باغ گل بیگم کے احاطے کی جنوبی حد کے ساتھ گل بیگم کا مقبرہ جو ان کی حیات کے دور میں بارہ دری رہا ہوگا

میں گل بیگم کے مزار کی اندرونی گل کاری کی فنکارانہ مہارت کا شہرہ سن کر کچھ بیل بوٹے اپنی آنکھوں سے دیکھنے آیا تھا مگر رانی کے مقبرے پر ایک اور تالا ہماری راہ روکے کھڑا تھا۔ باوجود ہمارے درخواست مندانہ و عاجزانہ اصرار گھر والے ہمارے لیے مزار کا در کھولنے پر رضامند نہ ہوئے اور ہمیں ناکام و نامراد لوٹنا پڑا۔ مگر صاحب بھلا ہو ذیشان احمد کا اور ڈاکٹر نادرہ شہباز خان کا کہ ہم سے پہلے وہ باغ گل بیگم کا چکر لگا گئے۔ اول الذکر تو ہمارے دوست ہیں جن کی چند سال پہلے کھینچی مقبرے کی اندرونی تصویروں نے ہمیں مبہوت کردیا تھا اور ثانی الذکر لاہور انسٹی ٹیوٹ آف مینیجمنٹ سائنسز (LUMS) میں آرٹ اور آرکیٹیکچرل ہسٹری کی پروفیسر ہیں۔ آپ نے گل بہار بیگم کے مقبرے واقع باغ گل بیگم کے فن تعمیر اور گل کاری کے بارے میں ایک تفصیلی مقالہ لکھ رکھا ہے۔

ایک چوگوشیہ گنبد سے آراستہ گل بیگم کا مقبرہ ایک مستطیل, پانچ محراب نما دروازوں سے آراستہ پنج دری ہے جس کے درمیانی تین دروازے مستقل اور کونے کے دو دروازے لکڑی کے مقفل کواڑوں سے بند کردیے گئے ہیں اور کنجی وارثانِ سردار خان وغیرہ نے اپنے قبضے میں رکھ لی ہے۔ مقبرہ اندرونی طور پر تین حصوں میں بٹا ہوا ہے جسکے درمیانی حصے میں گنبد تلے رانی گل بیگم کی قبر ہے۔ سنگِ سیاہ کے چبوترے پر ایستادہ سنگِ مرمر کا سفید تعویذ ایک کونے سے لی گئی تصویر میں جگمگاتا ہے اور اس کے پس منظر میں کچھ گل کاری سے مزین جھروکے نظر پڑتے ہیں۔ قبر کے اوپر گنبد کی چھت پر کاشی کاری کا انتہائی نفیس کام ہوا ہے۔ قبر کے مقابل جنوبی رخ پر درمیانی محراب میں کچھ بنفشی کچھ سرخ رنگ کِھلے کِھلے نظر پڑتے ہیں۔ ذیشان نے ایک سرشاری کے عالم میں مبہوت ہوکر یہ تصاویر ہم سے سانجھی کی تھیں جن کی تحریک پر ہم کشاں کشاں مقبرہ دیکھنے چلے آئے تھے مگر نامراد لوٹ گئے۔

مقبرے کا اندرونی منظر۔ مرکزی ہال میں گل بیگم کی قبر دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ تصویر ہمارے دوست ذیشان احمد کی عنایت ہے
مقبرے کے مرکزی ہال کی جنوبی دیوار پر طاق نما جھروکے اور گل کاری ۔ تصویر ذیشان احمد

اب یہاں ڈاکٹر نادرہ بتاتی ہیں کہ گل بیگم کے مقبرے کی کاشی کاری اور گل کاری سکھ دور کی بچ جانے والی نقاشی کی ایک عمدہ مثال ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کے مطابق یہ فنکارانہ کام گل بیگم کی زیرِ نگرانی تکمیل پایا ہوگا کیونکہ عام مقبروں سے ہٹ کر یہ عمارت گل بیگم کی زندگی میں باغیچے کی بارہ دری کے طور پر تعمیر کی گئی ہوگی جو بعد ازاں رانی کی آخری آرام گاہ ٹھہری۔ اب یہ محض غلام علی معمار کی دست کاری اور فنکارانہ معراج ہے یا پھر ان بیل بوٹوں کی آرائش میں اور کاریگر بھی شامل تھے ہم نہیں جانتے، مگر ایک تقابلی جائزے کے انوسار یہ ضرور جانتے ہیں کہ پرندوں، پھولوں، درختوں اور انکی شاخوں سے آراستہ یہ بیل بوٹے اور ان میں جڑے آئینے اپنی نفاست اور معیار میں حویلی نونہال سنگھ اور سمادھ رنجیت سنگھ کے ہم پلہ ہیں۔

مقبرے کے مرکزی ہال میں گل بیگم کی قبر۔ سنگِ سیاہ کے چبوترے پر سنگِ مرمر کا تعویذ ۔ یہ تصویر ڈاکٹر نادرہ شہباز کے مقالے سے لی گئی
مقبرے کی چھت پر نفیس گلکاری کا نمونہ ۔ تصویر ڈاکٹر نادرہ شہباز خان

باغ گل بیگم کے مقبرے کے مرکزی ہال میں جہاں لاہور کی رانی اب ابدی نیند سوتی ہے، اس سے متصل بغلی کمرے میں ایک دیوار ہے، جہاں بیل بوٹے ڈالتے مصور نے روایت سے ہٹ کر آم کا درخت اور اس کی شاخوں میں جھولتے آم کے گچھے بنائے ہیں۔ جب رنجیت سنگھ قلعۂ لاہور میں منتقل ہوا تو شیش محل کے اوپر اپنی رہائش کے لیے خوابگاہ تعمیر کروائی۔ اس خوابگاہ میں داخلی دروازے کے عین سامنے والی دیوار میں ایک بند محراب ہے جس پر کی گئی نفیس نقاشی میں ایک آم کا درخت ہے، جسکی جھولتی شاخوں میں آم کے گچھے ہیں، اور ان پر لگے پھل پر چونچیں مارتے توتے ہیں اور تنے پر اٹھکیلیاں کرتی لگ بھگ چار گلہریاں۔ ایسا ہمیں ڈاکٹر نادرہ شہباز خان بتاتی ہیں۔ تو صاحبو شیرِ لاہور کے دیہانت کے سترہ برس بعد گل بہار بیگم نے اپنا باغ اور اس کی بارہ دری بنوائی تو اندر کی دیوار پر معمار و نقش گر غلام علی سے وہی نقش الیکنے کا کہا جو جب رنجیت سنگھ حیات تھا تو قلعے کے شیش محل کی خوابگاہ میں اپنے مہاراجہ کے سنگ بتائی نیم خوابیدہ راتوں میں مہارانی سامنے کی دیوار پر دیکھا کرتی تھی۔

مقبرہ گل بیگم کا بغلی کمرہ ۔ سامنے کی دیوار پر آم کا درخت اور جھولتے خوشوں میں آم کا پھل۔ ڈاکٹر نادرہ کہتی ہیں کی یہ تصویر اس نقش کا عکس ہے جو لاہور قلعے کے شیش محل کی اوپری منزل پر واقع رنجیت سنگھ کی خوابگاہ میں نظر پڑتا ہے۔ شیرِ لاہور کی رانی نے گزری راتوں کے خمار کو زندہ رکھنے کو اپنے باغ کے گل پوش معمار کو یہ نقش الیکنے کا کہا ہوگا

صاحبو، میانی صاحب کے ایک گمنام گوشے میں جہاں آج کے نیو مزنگ کی گنجان گلیاں قبرستان کو نگلنے کو پھرتی ہیں اور جہاں کبھی گئے دنوں کا باغ گل بیگم ہوا کرتا تھا، لاہور کی رانی ابدی نیند سوتی ہے۔ جب مہاراجہ حیات تھا تو سکھ دربار میں اس کا ایک دبدبہ ہوا کرتا تھا کہ یہ رنجیت سنگھ سے ایک عہد کے عشق کا قصہ ہے۔ مہاراجہ کے جرمن طبیب ’مارٹن صاحب‘ ہمیں بتاتے ہیں کہ مہاراجہ کے آخری دنوں میں گُل بیگم نے رنجیت سنگھ کی بہت دیکھ بھال کی۔ کوئی بعید نہیں کہ 28 جون 1839 کی اس شام جب مہاراجہ کی چتا کو آگ دکھائی جارہی تھی تو فرطِ جذبات میں آکر گُل بہار بیگم ستی ہونے کو آگے بڑھی ہو اور جب کسی برٹش افسر نے وجہ پوچھی ہو تو مجید شیخ کےالفاظ میں لاہور کی اس رانی نے بہ بانگِ دہل کہہ دیا ہو


اگر رنجیت سنگھ میرے لیے لاہور سے پیدل امرتسر آسکتا ہے تو کم سے کم اتنا تو میں بھی کرسکتی ہوں کہ مہاراجہ کی جلتی چتا پر نثار ہوجاؤں۔

If you like this story, create a buzz, share!
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted