موت کے گھر میں پڑی ہے زندگی کی ایک بھول
یا تجوری میں زمیں کی، خاکِ دہلیزِ رسول ﷺ
30 جنوری 2011، میں گریسی لائن چکلالہ میں تھا۔ رات کے پچھلے پہر آنکھ لگی ہی تھی کہ فجر کے آس پاس پھر سے کھُل گئی۔ گزشتہ شب کے خبرنامے میں دیکھا اور سنا کہ اہالیانِ لاہور اپنے محبوب نعت خواں کو جوہر ٹاؤن کے قبرستان میں لحد میں اتار آئے۔ یکبارگی خیال آیا کہ ہمارے پیارے مظفروارثیؔ پر قبر کی پہلی رات کی سویر ہو رہی ہوگی۔ اپنی زندگی کو محبوبِ خدا کی نعت کہنے میں گزارنے والے کی حضور سے ملاقات رہی ہوگی اورکیا خبر اللہ کے رسول صلعم نے بارگاہِ ایزدی میں سفارش بھی کردی ہو
سیاہیاں داغ صاف کردے
اسے بھی مولا معاف کردے
یہ میرا عاشق ہے وارثیؔ ہے
اشفاق احمد نے اپنی مختصر آپ بیتی کھیل تماشہ میں اپنے بچپن کے دنوں میں ایک جوش وخروش سے عید میلاد النبی صلعم منانے کے واقعے کا ذکر کیا ہے جس روز نذر حسین نے انجن چلانے کی چھٹی کردی تھی اور سٹیج پر آ کر جس خوش الحانی سے نعت پڑھی اس کے سامنے”ضلع سے منگوائے گئے دونوں نعت خواں مٹی ہوگئے”۔ سڑک کوٹنے کے انجن کا ڈرائیور ہونے کی حیثیت سے ہیرو تو وہ پہلے ہی تھا اب سب کی آنکھوں کا تارا ہو گیا۔ ایک چھوٹے سے قصبے مکتسر نے پہلی دفعہ ایک آرٹسٹ دریافت کیا تھا اوراس کے دروبام تفاخر سے لبریز ہو گئے تھے۔
کیڈٹ کالچ سے ملحقہ رشین مارکیٹ کی جماعت اہلحدیث کی مسجد اور گھر کے پاس اپنے مسلک کی جامع مسجد گلزارِ مدینہ میں نمازِ باجماعت پڑھتے، محافلِ ذکرونعت میں اٹھتے بیٹھتے، صلوۃ و سلام کے کورس میں آواز ملاتے، شبینہ جگ راتوں میں گھر سے مسجد اور مسجد سے گھر کی آوارہ گردی کرتے، محرم پر ٹھنڈے میٹھے روح افزا کی سبیلیں لگاتے ہم بچوں کے اولین آرٹسٹ گلی محلے کی مسجدوں کے خوش لحن ذاکر و نعت خواں ہی تو تھے۔
لودھی فرنیچرز والے لودھی انکل ایک ترنم میں پڑھا کرتے
محبوب کی محفل کو محبوب سجاتے ہیں
جمعہ کی نماز میں نوافل پڑھ لیے جانے پر اختتامی دعا کے بعد صلوۃ وسلام کے لیے کھڑے ہوتے
ابو کے دوست شاکر انکل ایک بے خودی میں جھومتے ہوئے صدا لگاتے
مجھ سے خدمت کے قدسی کہیں ہاں رضاؔ
مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
تو ہم بچوں کو لگتا کہ اسٹیل ٹاؤن میں پڑھا جانے والا یہ کلام گنبدِ خضرا کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھے یہ اپنے نبی جی سُن رہے ہیں۔
صاحبو وہ دور بھی تو فنِ نعت گوئی کا سنہرا دور تھا۔ قاری وحید ظفر قاسمی ایک بے نیازی سے فاصلوں کے تکلف کو خاطر میں نہ لاتے تو ہم سب بھی اپنی بے بسی اور بے سہارگی کو پسِ پُشت ڈال اُنﷺ کو پکارنے پر کمربستہ ہوجاتے۔ اور پھر جب ایک پرسوز عالم میں ’حضورِحق سے سلام آیا پیام آیا‘ کی صدا دیتے تو ان کی آواز جیسے جسم سے روح کھینچ لیتی۔ چاردانگ عالم میں خورشیداحمد کی ’یہ سب تمہاراکرم ہے آقا‘ کی دھوم تھی اور صدیق اسمٰعیل کی ’یارسول اللہ تیرے درکی ہواؤں کو سلام‘ کا شہرہ تھا۔ ام حبیبہ ایک سرشاری میں جھوم جھوم کر ’نازک بدنی را، بدنی را، بدنی را‘ پڑھا کرتیں اور منیبہ شیخ جب لوح بھی توُ قلم بھی توُ کا ورد کرتیں تو ایک عالم بے خود ہوتا۔
پھراس افق پرمظفروارثی طلوع ہوئے۔
بے نظیرکلام، وہ نکتہ آفرینیاں، وہ استعارے اور سونےپر سہاگہ کلام شاعر کو بزبان شاعر ادا کرتا وہ منفرد انداز، وہ دلنشیں لحن وہ لہجے کا بانکپن، وہ آواز کی گمک۔ مظفر وارثیؔ نے نعت گوئی کو ایک نیا رنگ دیا اور صاحب کہہ لینے دیجئے کہ مجھے تو وہ عمر بھر کا اسیر کر گئے۔
مظفر وارثی نعت کے سخنور تھے۔ آپ نے نعتیہ اشعار کو نیرنگیٔ معانی کی نئی جہتوں کی سیر کروائی۔ آپ کی کہی نعت کا ایک اک شعر، ایک ایک بند توجہ سے سنے جانے کا مستحق ہوتا
اس پر مستزاد آپ کا منفرد، اپنی مثال آپ قائم کرتا مترنم لہجہ۔
اپنے پسندیدہ نعت خوانوں کی فہرست میں بعد میں فصیح الدین سہروردی بھی آئے اور ان کے ساتھ کچھ اور مگر میری محفل نعت کے سرخیل اور سردار مظفر وارثیؔ ہی رہے۔ یہ مقام کوئی دوسرا ان سے نہیں لے سکا۔
اگر شہر سخن میں نعت کی صنف کے وہ بے تاج بادشاہ ہیں تو اپنے زور کلام میں کسی سے کم نہیں، جو ندرت فن نعت گوئی میں ان کے حصے میں آئی اسی کا رنگ کہیں اور بھی جھلکتا ہے۔
عشق کرتے ہو تو آلودۂ شکوہ کیوں ہو
شہد کے لہجے میں تلخی نہیں آیا کرتی
موت نے یاد کیا ہے کہ مظفرؔ اس نے
اپنی مرضی سے توہچکی نہیں آیا کرتی
چکلالہ کی گریسی لائن میں 30 جنوری 2011 کی صبح فجر سے ذرا پہلے آنکھ کھُلنے پر مظفر وارثیؔ یاد آئے تھے۔ ایک دن پہلے جب اہالیانِ لاہور نے ان کا جنازہ پڑھا تو میں وہاں نہیں تھا۔
چند سالوں بعد جب لاہورکو عارضی مسکن بنایا تو جوہر ٹاؤن قبرستان بھی جانا ہوا. وہاں ایک خاموش گوشے میں جو کمسن ادھ کھلی کلیوں کے لیے مخصوص ہے، ان چھوٹی قبروں کے بیچ ایک بڑی قبر مظفر وارثیؔ کی ہے۔ کتبے کی زینت ہمارے شاعر کا اپنا کہا خوبصورت قطعہ ہے۔
موت کے گھر میں پڑی ہے زندگی کی ایک بھول
یا تجوری میں زمیں کی، خاک دہلیز رسولؐ
بارگاہ حق سے چن کرلاتی رہتی ہے ہوا
کرتی رہتی ہے نچھاورقبرپررحمت کے پھول
صاحبو جوہرٹاؤن کے قبرستان میں زمین کی تجوری کی حفاظت میں رکھی خاک دہلیز رسول صلعم کسقدر خوش قسمت ہے کہ اسے نعت کہنے کا ہنر اور لحن عطا ہوا۔ جس زبردست دن مالک یوم الدّین کے روبرو ہم سب کو پیش ہونے کا اذن ہو گا اللہ کرے ہمارے مظفرؔوارثی یہ پڑھتے ہوئے اپنے رب کے حضور حاظر ہوں
جو کہے گا تو روزِ محشر
خدا سے میرا نبیؐ کہے گا
سیاہیاں داغ صاف کر دے
اسے بھی مولا معاف کر دے
یہ میراعاشق ہے وارثیؔ ہے
مِرا تو سب کچھ مِرا نبیؐ ہے
اللہ کرے ان کی یہ دعا اس بابرکت بارگاہ میں سنُ لی جائے۔
آمین ۔ ثم آمین ۔ ۔ ۔


