اور پروفیسرثروت اللہ قادری کا تسامح / التباس

پروین شاکر کی تصویر نوے کی دہائی میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں انکی طالبعلمی کے دنوں کی ہے اور Flickr ویب سائٹ پر ڈاکٹر غلام نبی قاضی نے بشکریہ ونٹیج پاکستان اسے اپنی کولیکشن میں شامل کیا ہے۔

پاکستان سٹیل کیڈٹ کالج میں اردو کا لیکچر تھا۔ پروفیسر ثروت اللہ قادری ’زون‘ میں تھے۔ بھئی کیا نام کہ کسی لکھاری کے قبولِ عام وعوام ہونے کی اس سے بڑھ کر کیا سند ہوگی کہ اس کا کہا کوئی شعر، کوئی مصرعہ، کوئی فقرہ ضرب المثل بن جائے۔ ہم آپ اکثرسنتے ہیں کہ بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے، یہ خوبصورت ترکیب پروین شاکر کا مصرعہ ہے اور کیا نام کہ پوراشعر ذرا ملاحظہ کیجیے
جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے


اب ذری اسی غزل کا ایک اور شعر دیکھیے
بستی میں سگ گزیدہ جتنے تھے سب کےسب *
دریا کے رُخ بدلتے ہی تیراک ہوگئے


آپ کو معلوم ہے کہ ہائیڈروفوبیا، پانی کا خوف کتے کے کاٹنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کیفییت ہے۔ سگ گزیدہ کیا نام کہ وہ شخص جسے کتے نے کاٹ کھایا ہو اور دیکھیے غالب نے اسی ترکیب کے ساتھ کیا عمدہ مضمون باندھا ہے
پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسدؔ
ڈرتا ہوں آئینے سے کہ مردم گزیدہ ہوں


اور بات پانی کی آ ہی نکلی ہے تو پروین کا ایک اور خوبصورت شعر دیکھیے، ان کی ایک غزل کا مطلع ہے
بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا
میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا

صاحبو، دسمبر1994 کی وہ شام آج بھی یاد ہے جب پاکستان ٹیلیوژن کے خبرنامے میں پروین شاکر کی سناؤنی آئی۔ انٹرمیڈیٹ کے فارغ التحصیل طالبعلم نے اسوقت تک لاہور سے آگے کا پاکستان نہیں دیکھا تھا۔ اسلام آباد کے سفر کا ستارہ طلوع ہونے اور پروین شاکر کی آرام گاہ پر فاتحہ پڑھنے کے وعدے کو وفا ہونے میں کئ سال لگ گئے۔ اسلام آباد کے H-8 قبرستان میں جنازہ گاہ والے گیٹ سے داخل ہوں تو تھوڑا آگے پروین شاکر ابدی نیند سورہی ہیں۔ کتبے کی پشت پر انکا ہی شعر کندہ ہے
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے

حواشی

* یہ غزل پروین شاکر کے مجموعے خوشبو میں شائع ہوئی اور اصل مصرعے میں لفظ سگ گزیدہ نہیں آب گزیدہ ہے
بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب
دریا کے رخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے


صاحب ایک تو ہمیں اسوقت علم نہیں تھا اور ہوتا بھی تو استاد کو ٹوکنے کی ہمت بھلا کس میں تھی۔ اور ایمان سے بتلائیے کہ اگر ٹوک دیتے تو غالب کے باندھے دلکش مضمون اور پروین کی ایک اور دلفریب غزل کے تعارف سے محروم نہ رہ جاتے! مرشدی نے بھی تو آب گم کے شہرِ دوقصہ میں جہاں اپنے استاد ماسٹر فاخر حسین کا ذکر آیا یہ کہہ کر سٹارٹ لیا ہے کہ ’صاحب! اگلے وقتوں کےاستادوں کی شان ہی کچھ اور تھی!‘ اور پھر مطلب کی بات پر آتے ہوئے بشارت کے منہ سے کہلواتے ہیں کہ اپنی فاش غلطی میں بھی عالمانہ شان پیدا کرنے کے لیے غلطی کو تسامح اور التباس کہنا انہوں نے ماسٹر فاخر حسین سے ہی سیکھا۔ نامعلوم کا لفظ استادوں کو شوبھا نہیں دیتا کہ ماسٹر فاخرحسین ہی کے الفاظ میں ہمارے یہاں نامعلوم و ناتحقیق تو صرف ولدیت ہوا کرتی ہے۔
اب ’آب گزیدہ‘ کی جگہ ’سگ گزیدہ‘ اور مصرعے کے الفاظ کا معمولی سا ہیر پھیر پروفیسر ثروت اللہ قادری کا تسامح تھا یا التباس، اس کا فیصلہ ہم اپنے قارئین پر چھوڑتے ہیں۔

If you like this story, create a buzz, share!
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted