اور مولوی غلام رسول کا یوسف زلیخا

مستنصر حسین تارڑ نے کہیں لکھا ہے کہ ان کے بچپن کی بھولی بسری یادوں میں سے ایک سبز چولے میں ملبوس ملنگ فقیر ہے۔ اس کی داہنی کلائی میں کچھ کڑے ہیں اور اسی ہاتھ میں تیل پلایا لکڑی کا ایک گول ڈنڈا ہے۔ گاوٗں کی گلیوں میں گھومتا یہ فقیر آہنی کڑوں پر لکڑی کے بانس کی کھنک سے ایک مجذوب سی لے تخلیق کرتا گاتا پھرتا ہے

جس ویلے یعقوب نبی تھیں یوسف ہوگیا راہی

اپنے باپ یعقوب علیہ السلام سے ان کے پیغمبر بیٹے یوسف کے بچھڑ جانے کے یہ بول جو بقول تارڑ سامعین کی آنکھوں میں آنسو لے آتے تھے ہمارے مصنف کو قصہ یوسف زلیخا کے خالق مولوی غلام رسول عالمپوری تک لے جاتے ہیں۔
بالکل ایسے ہی ایک بھولی بسری یاد ہماری یادوں کی پوٹلی میں سے بھی جھانکتی ہے۔ گرمیوں کی چھٹیاں ہیں، اٹھاٹ گ۔ب میں جمعے کا ایک گرم دن ہے، اباجی اور ان کے دوست چھوٹے اٹھاٹ والے اباجی ابراہیم نماز پڑھ کے گھر واپس آئے ہیں۔ ان کے ساتھ کچھ اور مہمان بھی ہیں ۔ ’بڑے اندر‘ والے ٹھنڈے کمرے میں ٹمٹماتا اندھیرا ہے اور اباجی سرخ دھاریوں والا رومال کاندھے پر اوڑھے بستر پر دوزانو بیٹھے ہیں، سامنے گول سرہانے پر ایک کتاب دھری ہے۔ سامعین ہمہ تن گوش ہیں اور ابا جی کی ایک گہری گونج دار آواز بلند ہوتی ہے

یوسف وِیر وچھُنے والا زخم دلے وچ کاری

میں آج بھی اس مصرعے کو اباجی کی گونج دار آواز تخیل میں لائے بغیر نہیں پڑھ سکتا۔ مگر جب پہلے پہل قصہ یوسف زلیخا کا یہ بیت کان پڑا تب پنجابی ادب میں ان کا مقام و مرتبہ تو ایک طرف میں عالم پور کے مولوی غلام رسول کا نام تک نہیں جانتا تھا۔

پرانی بات ہے، جب پہلے پہل حافظ برخوردار کے مرزا صاحباں سے تعارف ہوا تھا۔ یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب شروع شروع میں عالم لوہار کی ترچھی نوکیلی ہیک دار آواز نے اِس دل کو کِیل لیا تھا۔ مرزے کی بکی کے سموں سے ابھرتی ڈھائی چال سے ہم آہنگ ایک بہت قدیم دُھن کے سُر کان کے پردے پر گرتے تھے اور ہمارا لوہار سر کے اوپر سے ڈھلکتے منڈاسے کو کاندھوں پر سنبھالے ایک بے نیازانہ مسکراہٹ کی اوٹ سے بول اُٹھاتا تھا

میں طالب نوشہ پیر دا، نی میری کنڈیں آ دستگیر
میرے دل نوں اُڈیک چروہکڑی، نی میں ویکھاں تیرے وِیر
تاہنگاں تیرے دم دیاں جٹا ای اوئے ےےےے
آہ ۔ آہ ۔ آہ


پھر وہ دن بھی آئے کہ دانہ آباد کی گم گشتہ راہوں میں بھٹکتی اس کھوج کو جہلم گھاٹوں پربت پاسے میر پور سے دکھن کی دِشا میں کھڑی شریف کی کھینچ پڑی تو الغوزے کی جان توڑ کُوک اور محمد عالم کے چمٹے میں لپٹی میاں محمد بخش کی سیف الملوک نے اس دِل کو جکڑلیا

گھنڈ اتار دیدار وکھاویں ، عشق نہ پچھدا ذاتاں
روبرو سجن دے ہوکے کرلیے دو باتاں
اوہ فرماندی کیوں منہ دساں توں راہی راہ جاوٗندا
میں شہزادی ستراں والی تقدیرے پھڑ آوٗندا

سیف ملوک مہراج بنانا کم آہا مرداواں
شاہ پری دا ووہٹی بننا میں نئیں کھول سناوٗناں
کی مجال اے ساڈی اوتھے ستر گھنڑے سلطانی
اوہ پردے دی بات محمد دسے کون زبانی

مرزا صاحباں اور سیف الملوک کی گھاٹیوں سے یہ دِل اترا تو آگے کنعان کے بازار میں خدا کے پیغمبر کی بولی لگتی تھی اور یوسف زلیخا کا قصہ راہ روکے کھڑا تھا۔ عالم لوہار کی معروف آواز میں نسبتاً ایک غیر معروف قصے میں کچھ تو تھا کہ یہ دِل زلیخا کی التجا کے رنگ میں رنگے مکالمے میں اٹک سا گیا۔ زنانِ مصر کی انگلیاں کٹوادینے والے غرور کا بانکپن ایک ڈھلتی جوانی میں ڈوب گیا تھا اور گئے دنوں کا پھٹے دامن والا خوب رو نوجوان مصر کا شاہ بن گھوڑے پر سفر کرتا تھا توایک بڑھیا آگے بڑھ کر اس کی سواری کی لگامیں تھام سراپا فریاد تھی۔ ’اٹک کھڑا ہو چلا نہ جائیں یوسف‘ کی التجا کے جواب میں حسن کے پیکر نے ایک بے کس بڑھیا سے پوچھا ’کون کوئی توں کتھوں آئی‘ تو ہماری زلیخا ڈھے سی گئی، اور عالم لوہار کی تان بلند ہوئی

نیناں والیا دکھیں پالیا میریا بے پرواہا
اکھیں کھول نظر کر میں وَل دیس مصر دیا شاہا
توں بے خبرا خبر نہ کائی میں سِر کی وہائی
عشق تیرے نے حضرت یوسف میری جان جلائی


عالم لوہار کے جگر کو چھیدتے سُروں سے پرے ان بولوں میں کچھ تو تھا کہ ان کی کھینچ سیدھا دِل پر پڑتی تھی جیسے کہ اس کلام سے کوئی بہت قدیمی رشتہ ہو، اتنا پائیدار اور سچل جیسے کہ بچپن کی کوئی بھولی بسری بہت پاکیزہ بہت محبوب یاد، اتنی پاکیزہ جیسے کہ عشقِ زلیخا بذاتِ خود۔ دل کملا عالم لوہار کے سروں میں پروئے ان شبدوں پر اٹک سا گیا تھا۔ ایک سحر اور عجز میں ڈوبے اِس دل نے زلیخا کے ساتھ ساتھ نیناں والے بے پرواہ حضرت یوسف کے آگے ہاتھ جوڑ دیے تھے

عشق تیرے نے حضرت یوسف میری جان جلائی

یہ میرے قصہ یوسف زلیخا سے عشق کی ابتدا تھی اور یہاں لانے والا اپنا عالم لوہار جو قصے کے آغاز میں وہی بول دہراتا تھا جو ہمارے تارڑ نے پہلے پہل اپنے بچپن کے مجذوب ملنگ سے سنے تھے

جس ویلے یعقوب نبی تھیں یوسف ہوگیا راہی

مولوی غلام رسول کے قصہ یوسف زلیخا سے تعارف ہوجانے کے بعد جس چیز نے مستنصر حسین تارڑ کو جکڑ لیا وہ ہمارے شاعر کا حضرت یوسف علیہ السلام کے حسُن کا بیان تھا۔ تارڑ صاحب لکھتے ہیں کہ جب جب حضرت یوسف کے جمال کا ذکر آیا مولوی غلام رسول کی تشبیہوں اور استعاروں نے انہیں مبہوت کردیا۔ یہانتک کہ جہاں انہیں لگا کہ اب تو الفاظ کا ذخیرہ ختم ہوا، ’مولوی صاحب اب کیا کروگے، لفظ تو اب تما م ہوئے اور ان کے ساتھ لفاظی بھی‘ تب یوں لگا کہ مولوی صاحب نے لغت میں نئے لفظ تراشے، نئی ترکیبیں ایجاد کیں اور مستنصر حسین تارڑ کو ایک سحر میں جکڑے رکھا۔ بالکل ایسے جیسا کہ اس قصے میں مجھے مولوی غلام رسول کی تکرار ’یوسف پُچھے دس زلیخا ۔ ۔ ۔ ‘ نے بے بس کردیا۔

یوسف پُچھے دس زلیخا، کتھے چمک جمالوں ۔ کہے زلیخا غماں بجھائی تیریوں دور وصالوں
یوسف پُچھے دس زلیخا،کتھے گئی بینائی ۔ کہے زلیخادوہری ہو ہو لبھدی پھراں گوائی


قصہ یوسف کی اس تکرار سے جو نصرت فتح علی نے انصاف کیا اس کا مقام و مرتبہ اپنی جگہ مگر مجھے مولوی غلام رسول کے استعاروں نے زیر کرلیا۔ اپنے تارڑ کے تتبع میں جب جب اس دِل نے کہا کہ مولوی صاحب لفظ تو ختم ہوئے اب کیا کرو گے، تو مولوی غلام رسول نے نئی لغت نیا اسلوب ایجاد کیا اور مجھے اپنا گرویدہ کرگئے ۔ آپ خود دیکھ لیجئے اس ایک سادہ مکالمے ’یوسف پُچھے دس زلیخا ۔ ۔ ۔‘ پر کس کا دم ہے کہ صفحوں پر صفحے دان کرجائے

یوسف پُچھے دس زلیخا، صحن کتھے دالاناں ۔ کہے زلیخا الّوُ کوکن میریاں وچ مکاناں
یوسف پُچھے دس زلیخا،کتھے نرم سرہانے ۔ کہے زلیخا ہجر ترے نے لُٹے زور دھگانے

عالم لوہار کا کہنا ہے کہ وہ پہلے گائیک ہیں جنہوں نے مولوی غلام رسول عالمپوری کے یوسف زلیخا کی طرز بنائی۔ جانکی داس کی فرمائش پر بھرائے ان تووں میں ان کی سنگت پر ایک کلارنٹ، ایک گھڑا اور ان کا اپنا چمٹا تھا۔ ان سے پہلے مولوی نور محمد نے جو تفسیر یوسف کو کتابی طرز پر پڑھا کرتے تھے بہت شہرت پائی۔ صاحبو یوسف زلیخا کی کتابی طرز سے تو میری بھی واقفیت ہے، بچپن کی آشنائی ہے ۔۔۔
تو جیسا کہ خس و خاشاک زمانے میں دنیا پور کے جاٹوں کا دارا تھا، جہاں جوہڑ تھا اور اس کے پار قبرستان تھا، اور جب دارے میں شیشم کے گھنے شجر پر جھولتے جھولے میں ہُوٹے لیتی ماہلو کو پتہ نہ تھا کہ جوہڑ کے پار جس قبرستان میں اس کے پرُکھوں کی قبریں تھیں تو ان کے پہلو میں اگلی بننے والی قبر اس کی ہوگی، ویسے ہی اٹھاٹ گ ب رام گڑھ میں بھی چوہدریوں کا دارا تھا۔ پر یہاں جوہڑ تھا نہ اس کے پار قبرستان۔ گاوٗں کے مرکز سے گزرتے چار راستوں کی اس چوپال میں عین درمیان میں ایک کھُوہ تھا ۔ اور جب سخت گرمی میں کہیں سے تربوز یا خربوزے بکنے آتے تو وہ ریڑھی بھی کھُوہ پر ہی آکر رکتی، یا پھرگاوٗں کے قصائی ہفتے کے ہفتے کٹا گراتے یا یا چک چھپنجا کا شریف بکرے کے گوشت کا ٹوکرا سر پر رکھے اٹھاٹ کی پھیری لگاتا تو اس کا گوشت بھی اسی کھوُہ پر آتا اور گاوٗں کی مسجد پر اعلان ہوتا، ٹھنڈے مٹھے لال سوہے ہدوانے کھُوہ تے آگئے نیں۔ یا پھر دلی والیاں نے کٹا حلال کیتا اے، سوہنا تے تگڑا، جیہنوں گوشت چاہیدا اے شاوا کھوُہ تے آجاوٰ، چھیتی کرو میرا وِیر۔
اٹھاٹ گ۔ب کے اس چوپال والے کھُوہ کے ایک طرف جان جولاہے کی ہٹی تھی، دوسری طرف شیرے (مولوی شیر محمد) کی دکان تھی، سامنے شانو دلی والا اپنا منیاری کا تھڑا سجاتا جس کے مخالف لوہاروں کا احاطہ تھا۔ بہت بعد کے برسوں میں جب کھُوہ اپنی عمر پوری ہونے پر پوُر دیا گیا تھا اور بچا کھچا دارا بس ایک چوک رہ گیا تھا اور میں اور حفیظ جان کی ہٹی سے گاڑھے کھوئے والی برفی کھا کر مولوی شیر محمد مرحوم عرف شیرے کے بھائی سے خریدی دودھ کی بوتلیں پیتے تھے اور وہیں ساتھ ہی شیرے دی ہٹی کے پہلو میں طفیل چہیر کی مائی چہیری ، چمبے دی ڈالی، بھٹی میں پیڑاں دا پراگا بھونتی تھی تو ہمیں علم نہیں تھا کہ ایک زمانے میں جب کھوُہ جوان تھا اور اسقدر شیہنہ جوان تھا کہ طفیل چہیر ایک سرعت کے عالم میں مشکیں بھر بھر سارے گاوٗں کو سیراب کرتا تھاتب بھی اس کے پانی ختم نہ ہوتے تھے۔ تو جب کھوُہ جوان تھا تو ڈھلتی شاموں میں اٹھاٹ گ۔ب کے اس دارے میں ایک محفل سجا کرتی تھی جہاں ہر دوسرے روز اہلِ چوپال کی پرزور فرمائش پر ہمارے اباجی مہر محمد شفیع ایک نازِ بے نیاز سے مولوی غلام رسول عالمپوری کی یوسف زلیخا سنایا کرتے۔ ابو بتاتے ہیں کہ دادا کے پاس یوسف زلیخا کا ایک چھپا ہوا نسخہ تھا جسے وہ ساتھ تو لے جاتے مگر قصہ یوسف زلیخا بیشتر انہیں زبانی یاد تھا۔ اباجی اپنی بہن کو ملنے ہمارے ننھیالی گاوٗں جاتے تو امی بتاتی ہیں کہ خاندان والوں میں ذوالفقار کی دادی بی بی برکتے نے ایک اہتمام میں یوسف زلیخا کا ایک نسخہ اپنے پاس سنبھالا ہوا تھا کہ چورانوے اٹی میں بھی یوسف زلیخا کے مشتاق سامعین کی ٹولی تیار ہوتی۔
مجھے کبھی کبھی دکھ ہوتا ہے کہ ان محفلوں میں میں نہیں تھا۔ میری یادداشت کے پردے پر بس جمعے کی گرم دوپہر میں لال دھاریوں والا رومال کاندھے پر اوڑھے ، بڑے اندر بیٹھے ابا جی کی ایک ٹمٹماتی شبیہ ہے اور ایک گونج دار آواز میں ایک مصرعہ

یوسف وِیر وچھُنے والا زخم دلے وچ کاری

گاوٗں کے دارے کا کھُوہ پورے جانے کے بہت بعد یوسف زلیخا کا قصہ گو بھی اٹھاٹ گ ب کے قبرستان میں جا سویا اور ہوتے ہوتے اس کے مشتاق سامعین بھی اپنا وقت آنے پر پورے ہوگئے۔ مولوی غلام رسول کے یوسف زلیخا کے نسخوں کو بھی وقت کی دیمک چاٹ گئی۔ پار سال میں کراچی گیا تو ابو کی زنبیل میں گم گشتہ خزانے کھنگالتے کچھ آڈیو ٹیپس ہاتھ لگے۔ یہ ایک زمانے میں بڑے چاوٗ میں دبئی سے منگوائے گئے نیشنل کے ٹیپ (آڈیو کیسٹ پلیئر اور ریکارڈر) اور ایک اہتمام سے گھر میں انسٹال کیے گئے لوکل پرچیز سٹیریو سپیکر کی باقیات تھیں۔ اس زنبیل سے TDK کی ریکارڈڈ کیسٹ پر وہ گوہرِ گراں مایہ برآمد ہوا جس پر ابو کی لکھائی میں قصہ یوسف ابا جی لکھا ہوا تھا۔
دادا اکثر کراچی ہمارے پاس آکر ٹھہرا کرتے۔ چند ایک بار تو بی بی بھی اباجی کے ساتھ آئیں مگر ان کا دِل نہیں لگا۔ پُت مینوں تہاڈے بند گھروں امبر تے تارے نہیں دکھدے میں اٹھاٹ ای ٹھیک آں۔ ایسے ہی ایک دفعہ جب دادا کراچی آئے ہوئے تھے تو موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ابو نے ایک اہتمام میں قصہ یوسف کے وہ ٹکڑے جو اباجی کو زبانی یاد تھے ریکارڈ کر لیے تھے۔ میں ایک اشتیاق میں اس کیسٹ کو جب پرکھتا تھا تو میرے کانوں میں ایک گم گشتہ گونج دار بہت محبوب آواز گونجتی تھی

یوسف وِیر وِچھُنے والا زخم دلے وچ کاری

صاحبو، اپنے عالم پور کے مولوی غلام رسول کا شعر ہے
نظم لڑی وچ لغت پنجابی موتی عشق پروواں
دن کئی وچ بحر برہوں دے داغ دلے دا دھوواں


ساڑھے چھ ہزار ابیات سے زیادہ پر مشتمل قصہ یوسف زلیخا میں مولوی صاحب نے پنجابی نظم کی اس حسین لڑی میں ان گنت موتی عشق کے پروئے ہیں۔ جس طرح وارث کی ہیر ہے، حافظ برخوردار کا مرزا صاحباں ہے، میاں محمد بخش کی سیف الملوک ہے بالکل ویسے ہی یوسف زلیخا مولوی غلام رسول کا ہے۔ پیشِ خدمت ہے اپنے پڑھنے والوں کی سماعت کی نظر ہوشیار پور کے مولوی غلام رسول عالمپوری کے قصہ یوسف کا انتخاب ٹکڑا اٹھاٹ گ۔ب رام گڑھ کے مہر محمد شفیع کی آواز میں

صاحبو، یوسف اور زلیخا اور یعقوب نبی کی آہ و زاری میں ڈوبی مہرمحمد شفیع قصہ گو کی یہ گمک دار آواز جب اٹھاٹ گ۔ب کے کھُوہ والے دارے میں گونجتی ہو گی تو کیا سماں باندھتی ہوگی!

If you like this story, create a buzz, share!
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted