ڈاکخانہ خاص
آدمی کی یاد کا لنگر بھی کیا عجب منظر ہے۔
کچھ تو ہے کہ چک نمبر اٹھاٹ گ۔ب رام گڑھ کا مغربی رُخ اس دِل کے آئینے پر نقش ہے۔
شاید اس سبب سے کہ گاوٗں کے اسی مغربی رُخ کی جانب شفیع آرائیں کے کھیت شروع ہوتے تھے۔ بالکل ایسے جیسے کہ نادار لوگ کے ’یکوب اوان‘ کے کبیر سنگھ والا کے جنوبی رُخ پر شروع ہوتے تھے، اور پلٹتے سمے کبیرے کے جنوبی رُخ کا عکس اس کی پتھر ہوتی پتلیوں پر ٹھہر گیا تھا۔
پرانی بات ہے، ٹل چھاوٗنی سے نوشہرہ کی آرٹلری رینجز پر چاند ماری کی غرض سے آئے مانی نے ایک سو اسی پاوٗنڈر کی آغوش میں ایک اترتی شام کابلی پلاوٗ اور پشاوری قہوے کی آسودگی میں عبداللہ حسین کی نادار لوگ پہلے پہل شروع کی تو اسکے ابتدائی صفحوں پر ’یکوب اوان‘ کا بٹوارے کے وقت کی ہجرت کے کئی برسوں بعد اپنے گاوٗں کو پلٹنے کا منظر ذہن و دِل پر نقش ہوگیا تھا۔ کبیر سنگھ والا کا یعقوب اعوان ، جگت سنگھ کا یار، وہی جگت سنگھ جو کلونتی پہ عاشق تھا، وہی کلونتی جو درشن کو بے تاب اپنے عاشق کی آنکھوں پر بقول اس کے موتتی بھی نہ تھی۔ تو ایک رات وہی جگت سنگھ شرط بد کر’ بھینس کی طرح موتنے والی‘ کلونتی کی ران کا امرت اسی کی پھینکی گئی جوتی میں اکٹھا کرکے دارو کی طرح پی گیا تھا۔ پھر جگت سنگھ کا یار یعقوب اعوان خود، جو لام پر گیا تو عالمی جنگ کے محاذوں میں سے ایک محاذ پر جرمنوں کے حملے میں زہریلی گیس سے سینہ’نکارہ‘ کروا کے واپس آگیا تھا۔ مگر جب ایک منہ زور عشق پیش پڑا تو نکارہ سینے والا ’یکوب اوان‘ ران کے زور پر مرزے کی بکی کی طرح اپنی گھوڑی پر ڈھڈی والے کے راجپوتوں کی دھی زینب کو بھگا لایا تھا۔ مگر آخر آخر میں جب ’حیاتی دا ڈیگر ویلا تھی گیا‘ تو جاتے سمے یعقوب اعوان کی آنکھوں کی پتلیوں پر کوئی منظر اگر ٹھہر گیا تھا تو نہ تو وہ جگت سنگھ اور کلونتی تھے نہ ہی زینب، فقط اپنے گاوٗں کبیر سنگھ والا کے جنوبی رُخ کا منظر کہ اس رُخ سے اس کے کھیت شروع ہوتے تھے۔
تو صاحبو اگر اٹھاٹ گ۔ب کے پچھمی رُخ کا منظر اِس دل کے آئینے پر نقش ہے تو شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ اللہ بخشے ہمارے دادا شفیع ارائیں کے کھیت اس رُخ سے شروع ہوتے تھے، جہاں گاوٗں کی سِخر دوپہر بڑوں کی نظریں بچاکر جانے کا اپنا مزہ تھا۔ یا پھر اس سبب سے کہ ڈیگر ویلے گاوٗں کو پلٹتے ڈھور ڈنگروں کے گلے کی گھنٹیاں اہلسنت والجماعت کی مسجد کی قربت میں چلتی، بقول یوسفی آدم و حوا کو جنت سے نکلوانے والی شے پیستی، آٹا چکی کی کوُ کوُ کے ساتھ مدغم ہوتی تھیں تو ’عین وہی وقت ہوتا‘ جب گاوٗں کے مغربی رُخ پر پڑتی پہلونٹی کی گلی میں ڈھلتے سورج کی کرنیں آرائیں برادری کے کوٹھوں اور ان کی ممٹیوں پر پڑتی انہیں اجالتی اس مٹیالے سونے میں پل بھر کو ٹھہر جاتیں۔ بالکل ایسے جیسے خس و خاشاک زمانے کے امیر بخش اور سوہن سنگھ ایک شہری جنگل کے کٹھور پن سے سے اپنے گاوٗں کی آسودگی کو پلٹتے تھے تو بقول تارڑ ’عین وہی وقت ہوتا جب کوٹ ستارہ کے گوردوارے کے صحن میں بلند ہوتے بیری کے جھاڑ دار درخت کی سب سے اونچی شاخوں پر چناب کے بہاوٗ میں غرق ہوتے سورج کے تھال کی جانب سے آخری کرنیں آتیں اور ان کی ہریاول میں پل بھر کے لیے ٹھہر جاتیں‘۔ اور صاحبو عین وہی وقت ہوتا جب کراچی تا فیصل آباد ریل کے سفر کی تھکاوٹ سے مسمار بدنوں والا ’سعید احمد‘ کا کنبہ سفر کی دھول کو آنکھوں سے جھٹک تانگے پر سوار گدڑ پنڈی سے آگے کے اس موڑ پر پہنچتا جہاں بیسک ہیلتھ یونٹ کی سرخ رنگی اینٹوں کی ویران عمارت تھی تو موڑ مڑ کر پہلے ڈھاریاں آتیں ۔ کسی زمانے میں یہ پناہ گیر نما ٹپری واسوں کی جھونپڑیاں رہی ہوں گی، اب یہاں پکے مکان تھے۔ ڈھاریوں سے گزر کر اٹھاٹ گ۔ب کی شمالی حد کو پیچھے چھوڑ جب تانگہ گاوٗں کی پچھمی دِشا کی آخری گلی کے کنارے پر رُکتا وہیں جہاں آرائیں برادری کے کوٹھے اور ممٹیاں تھیں تو ان منتظر آنکھوں پر وہ منظر طلوع ہوتا جو ہم اوپر دیکھ آئے ہیں۔
اٹھاٹ گ۔ب کے پچھم کا رُخ شاید ان آنکھوں کو اس لیے بھی یاد ہے کہ جب میری اور میرے کزن حفیظ کی ٹانگیں قینچی سائیکل چلانے پر رواں ہوگئی تھیں تو اسی رُخ سے ہم گاوٗں سے نکل کر گوگیرہ برانچ کی نہر کے پار جسوآنہ بنگلہ کے اڈے پر مینگو بینز کی بوتلیں پی کر سائیکلیں چلاتے اسی رُخ سے گاوٗں کو پلٹ آتے۔ گاوٗں سے کچھ پہلے سڑک کے عین اوپر حاجی شاہ کا مزار آتا تھا۔ یہ اصل میں چھوٹے اٹھاٹ کا قبرستان تھا اور ہم بچوں کو حاجی شاہ کی شناخت اور ان کی کرامتوں سے زیادہ دربار پر سالانہ عرس کے موقعے پر ہونے والے میلے اور اس پر بٹنے والی پڈھارے کی دال میں دلچسپی ہوتی۔ حاجی شاہ کے دربار کے ساتھ تھوڑا اگے اینٹوں کا بھٹہ تھا جس کے پہلو سے لگ کر رڑی شروع ہوتی تھی۔ کلر زدہ زمین کے اس روڈے ٹکڑے پر لڑکے بالے شام کو کرکٹ اور والی بال کھیلتے اور سال میں دو دفعہ عید کی نماز کا اجتماع گاوٗں کے اسی سانجھے گراوٗنڈ میں ہوتا۔ رڑی کے ساتھ ہی اگر منہ ول اٹھاٹ شریف ہے تو بائیں ہاتھ ہمارے کھیت شروع ہوتے تھے، اٹھاٹ گ۔ب کے مغربی رُخ پر پڑتے شفیع آرائیں کے کھیت۔



میں کینیڈا آتے سمے لگ بھگ ایک دہائی قبل اپنے گاوٗں اور اس میں آباد اپنوں کو خدا کے حوالے کرکے نکلا تو پھر پلٹ کر نہ جا سکا۔ تایا ’عمران دے آوٗن دا کجھ تھوہ پتہ‘ پوچھتے تو امی جھٹ کہہ دیتیں اوہ کھوتے دی بوتھی والا نافرمان اولاد آ۔ تایا ہنس کرکہتے نئیں تیری اولاد نافرمان نئیں ہوسکدی، ہاں پر اوہ بے وفا ضرور آ۔ مجھ سے جب کبھی فون پر بات ہوئی تایا نے یہی کہا، او بے وفا! ملنے کب آوٗ گے۔ تو صاحبو ایک ہجرت، سات سمندر پار کی مسافت اور ایک بے وفائی کے بیچ اٹھاٹ گ۔ب کے مغربی رُخ کا ایک منظر ہے اور مانی کے دل میں ایک اندیشے کی وحشت ہے۔منٹگمری کے جانے پہچانے راستوں سے روز گزرتا جھنگ مگھیانے کا ہمارا درویش شاعر جب ایک دن وہاں سے نہ گزرے گا تو کون دیکھے گا۔ اور کسے فرصت ہو گی کہ دیکھے۔ تو صاحبو جن راستوں پر سے ایک مدت سے کوئی آیا نہ گیا، ان کا انجام کیا ہوتا ہوگا ۔۔۔
میں روز ادھر سے گزرتا ہوں، کون دیکھتا ہے
میں جب ادھر سے نہ گزروں گا، کون دیکھے گا
سینتالیس میں پڑے بٹوارے میں نادار لوگ کے یکوب اوان کو بھی تو ایک ہجرت میں کبیرے کو چھوڑنا پڑگیا تھا۔ کبیر سنگھ والا کا جنوبی رُخ ہی تھا جہاں سے یعقوب اعوان اور اس کا کنبہ گاوٗں چھوڑ کر گیا تھا۔ اور یہی گاوٗں کا وہ رُخ تھا جس کی جانب اس کے کھیت تھے اور جس راستے کو پچاس برس کی عمر تک اُس نے ہر روز اپنے قدموں سے ماپا تھا۔ ایک مدت کے بعد جبکہ حیاتی کی ڈیگر ہوچلی تھی اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر کبیر سنگھ والا کا یعقوب اعوان سرحد ٹاپ کرکبیرے کے جنوبی رُخ کو دیکھنے پلٹا تو دھک سے رہ گیا۔ اب یہ ایک اجنبی راستہ تھا۔
وہ ایک بار گھوڑے پر سوار اور دوسری بار پیدل چل کر گاوٗں کی حد تک گیا اور واپس آیا تھا، مگر اسے پتا نہ چل سکا کہ یہ اس کی بھول تھی یا محض وہم، یا کہ حقیقت میں راستہ اپنے رُخ بدل چکا تھا۔ اس کے کھیت البتہ اپنی جگہ پر موجود تھے۔ ایک کھیت میں گنے کی فصل کھڑی تھی ، ایک میں مکی تھی۔ ایک علاقہ گیہوں کی بیائی کے لیے خالی پڑا تھا۔ یعقوب اعوان نے ایک گنے کے پودے پر نرمی سے ہاتھ پھیرا۔ گنے کے خشک پتے کی دھار سے اُس کی انگلی پر ہلکا سا چیر آگیا۔ وہ انگلی منہ میں ڈال کر چوسنے لگا۔ اُسے اپنی زمین کی خصلت یاد آئی ۔ اس کا گنا گاوٗں بھر میں سب سے رس دار ہوا کرتا تھا۔ ’تیری چھلی پر انگور لگتے ہیں، یکوب اوان‘، لوگ کہا کرتے تھے، ’تیری زمین میں شکر ہے‘۔ وہ ہاتھ بڑھا کر ایک بھٹے کے ریشم جیسے پتوں کو سہلانے لگا۔ اس کا جی چاہا کہ وہ ایک بھٹے کو چھیل کر دیکھے کہ اس کی خاصیت ویسی کی ویسی تھی یا کہ کھیت میں پڑنے والے رستے کی مانند بدل چکی تھی۔ اس نے زبان پہ اپنی مکی کے دودھ کے مزے کو محسوس کیا جس میں تالو کو بھانے والی ہلکی سی مٹھاس اور کنووٗں کے گہرے پانیوں کی حلاوت تھی۔ اشتہاء کے غدودوں سے لعاب بہہ کر اس کے دانتوں میں بھرنے لگا۔ مگر بھٹہ توڑنے سے پہلے اس کے دل کو ایک انجانے وسوسے نے گھیر لیا اور وہ مڑ کر وہاں سے لوٹ آیا‘۔
اٹھاٹ گ۔ب کے پچھمی رُخ پر پڑتی شفیع آرائیں کی زمین میں شکر کی تاثیر تھی یا نہیں اس سے قطعِ نظر مہرمحمدشفیع کے مربے کی جامن کا رس الگ ہی تھا، پاس کی زمینوں میں کھڑے غلام نبی کے گھنیرے جامن کے دو درختوں سے بھی الگ،ان کو مات دیتا ہوا۔ اور جامن کے ساتھ ہی پہلو بہ پہلو لگے امرودوں کے درختوں پر سال میں دو دفعہ لگتے گدرائے پھلوں کی تاثیر بھی منفرد تھی۔ کم از کم ہم بچوں کو یہی لگتا تھا۔ غالباً وہ حفیظ کا دوست تھا۔ دوپہر کی گرمی میں ہم بچے کالی لشکتی جامنیں نیچے گرا اکٹھی کرنے میں مگن تھے جب سڑک پر سے گزرتا وہ لڑکا بھی ’جموں را کالے‘ کے اشتہا انگیز جلوے سے بے خود ہوکر بنّے پر اتر پیلیو پیلی جامن کے سائے دار درخت تلے آگیا۔ کسی بات پر، اور گمان غالب ہے کہ وہ بات جامنوں کی غیر منصفانہ تقسیم سے متعلق تھی، یا پھر جامن کے درخت پر جتائی گئی اجارہ داری پر، ہم بچے لڑ پڑے اور وہ لڑکا ایک بے چارگی میں لپٹے غصے میں بولا۔ ایہہ جامن ایتھے ہی رہ جانی اے تے تہاڈے دادے شفیع نے قبراں وچ جا سونا اے۔ مجھے یاد ہے میں روتا ہوا گھر آیا تھا اور ابو سے کہا تھا کہ حفیظ کا دوست کہتا ہے کہ ابا جی مرجائیں گے اور یہ جامنیں ادھر ہی رہ جائیں گی۔ خدا معلوم ابو نے کیا کہہ کر دلاسہ دیا ہوگا۔ اب پیچھے مڑ کر دیکھوں تو وہ ہمارا دوست وہ لڑکا سچا تھا۔ مہر محمد شفیع بھی قبروں میں جا سویا اور چند سال قبل جامن کا وہ درخت بھی اکھاڑ دیا گیا۔
میں گُروواں دا داس کہاواں لوک کہن مرجاناں
دوویں گلاں سچیاں مترا، سچ توں کی گھبرانا

رام گڑھ کے مغربی رُخ کا منظر شاید اس لیے بھی آنکھوں میں ٹھہر گیا ہے کہ ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں لوٹتے مانی نے امرود کے درختوں پر چڑھے اس رُخ کو ان گنت دفعہ دیکھ لینے کی رعایت سے یادداشت میں حفظ کر رکھا تھا۔ اونچی گھنیری جامن کے ساتھ قطار اندر قطار لگے امرود کے چار بڑے درختوں اور ایک پودے کے حصار میں ہم بچے باندر کلہ کھیلاکرتے۔ امرودوں کے وہ درخت ہماری مچان تھے کہ وہاں سے چھپڑ کنارے گاوٗں کی پہلونٹی کی گلی سے تھوڑا اندر ہوکے ہمارا گھر نظر پڑتا تھا اور وہاں سے نکل کر آنے والے دادا، تایا یا پھر ابوبھی دور سے نظر آجاتے۔ دن ڈھلے جب ڈوگراں دی عصر دی بانگ ہو جاتی تو کھیل کھیل میں امرودوں کی اس مچان سے ایک نظر گھر کے دروازے پر بھی رکھی جاتی کہ کوئی بڑا تو کھیتوں کے رُخ پر چلا نہیں آرہا۔ بہت برسوں تک ان آنکھوں نے امرود کی مچان سے جس راستے کے نشیب و فراز کو حفظ کیا، میں کینیڈا کی ہجرت سے پلٹ کر آیا تو احساس ہوا کہ اب اس کا مہاندرہ بدل گیا ہے۔ چھپڑ پورُ دیا گیا، اور گاوٗں کی مغربی حد پر ہماری گلی سے اِدھر کچھ اور گلیاں نمودار ہوگئیں۔کبیر سنگھ والا کو جاتا گھوڑے پر سوار قدم قدم چلاتا یعقوب اعوان جس طرح ایک اندیشے کی بھول بھلیوں میں قدم قدم پر ٹھوکر کھاتا تھا، امرود کے ایک نسبتاً مضبوط ٹہنے پر بیٹھے مانی کی نظر پر طلوع ہوتے اٹھاٹ گ۔ب کے راستے پر بھی قدم قدم پر ٹھوکر کے سامان تھے۔
سال کے سال گرمیوں کی چھٹیوں پر آنے والے کراچی کے پروہنے جامن، آم، خربوزے، پھٹاں اور ہدوانے (تربوز) کی فصل سے لطف اندوز ہوتے۔ چند ایک دفعہ سردیوں میں آنا ہوا تو پتہ لگا کہ اصل راکھی تو مکئی کی فصل مانگتی ہے۔ سہہ اور اس کے علاوہ دوسرے حیوان اور انسانوں سے بھی۔ ۔ ۔
چھڑے سون گے مکی دی راکھی
رناں والے گھر سون گے
سردیوں کی چھٹیوں میں ہی حفیظ نے پہلے پہل بتایا تھا کہ سوہنیا یہ جو سرخی مائل سخت چھلڑ والے گنوں پرمشتمل کماد کی فصل ہے یہ بی ایل فور ہے۔ ساتھ میں نرم رو نرم خو میٹھی رسیلی پوری والا دیسی کماد کھڑا ہے۔ اس کے علاوہ ایک انڈیا نسل بھی ہوتی ہے۔ بی ایل فور اور انڈین کماد کے گنے چُوپنے والے نہیں ہوتے، ان سے گڑ اور شکر اچھا سواد والا بنتا ہے ۔ اور پھر اسی شام اور چند کھیتوں کی دوری پر جہاں کہ ویلنا چلتا تھا، اور آس پاس کے زمیندار الاوٗ کی قربت میں بیٹھ سنگت کرتے تھے ہم نے’پہلے توڑ‘ کی رَو کے کجے پر کجے چڑھائے تھے اور بعدازاں ہمارے مثانے بے قابو ہوکر ہماری جان کو آگئے تھے۔
پھس گئی جان شکنجے اندر جیوں ویلن وچ گنا
رَو نوں کہٗو ہن رہو محمد ہن جے رہوے تے مننا
اور پھر پھوک کے الاوٗ پر گرم ہوتے کڑاہ میں سے جھاگ اتاری گوڑھی پت اس سمے جبکہ وہ لکڑی کے سانچے میں انڈیلی جاتی ہے کچھ اس طرح کہ یہ لیس دار شیریں سیال ابھی اپنی شفافیت میں ہوتا ہے اور اس میں پیلی شکر رنگی دھاریوں کا نفوذ شروع نہیں ہوا ہوتا ، تو شیشے کے مانند شفاف اس انتہائی گوڑھے شیریں سیال میں گنے کو گول گھما کر اس پر لپیٹ لیا جائے تو اسے چانٹ کہتے ہیں۔ دنیا کی تمام ٹافیاں، میٹھی گولیاں، مچھیاں، اس کیریمل نما گیلی چانٹ کے آگے ہیچ ہیں۔ آج بھی چانٹ کا صرف نام لینے پر ہمارے ہونٹ اس شہد میں دھلے لعاب کی شیرینی سے چپک چپک جاتے ہیں۔ کچھ ذائقے تالو میں پھوٹتے ہیں، کچھ زبان کے مخصوص گوشوں، نامزد قطعوں پر زندہ رہتے ہیں، چانٹ کا مزہ آپس میں جڑتی انگلیوں اور چپکتے ہونٹوں پر جنم لیتا ہے اور وہیں کہیں ایک ذائقے سے رجی پُجی، پرباش پر مسرت آہ پر دم توڑ دیتا ہے۔
بعد کی رتوں میں اٹھاٹ گ۔ب کو لوٹا مانی جب انگلی کی پور پر کماد کی فصل کے پتے کا چیر لگا کسی گمشد خون کے سواد میں انگلی کو چوستا تھا اور اپنے خون میں جوانی کے گمشد اس سواد کو وہاں نہ پا کر انجانے وسوسے اسے گھیرتے تھے تو وہیں پاس کے ایک ویلنے میں کڑاہ میں ابلتے ایک گاڑھے ہوتے شفاف شیریں سیال کو دیکھ کر اس کے ہونٹ خود بخود چپکنا شروع ہوگئے۔ اس کا بڑا دِل کیا کہ لکڑی کے سانچے میں اترتے سمے اس رعاب کو پیشتر اس کے کہ اس کی شیشے جیسی شفافیت میں شکر کے رنگ کی دھاریاں اتر آئیں ایک گنے پر لپیٹ لے۔ مگر عین وقت پر اس نے دِل چھوڑ دیا کہ اس چانٹ میں دانت گڑو دینے والی سنسنی کو وہ گئے وقتوں کا بچہ کہاں سے لائے گا ۔۔۔
اب یہاں سے منظر بدلتا ہے ۔ صاحبو جس طرح ان آنکھوں پر اٹھاٹ کا مغربی رُخ نقش ہوگیا ہے ویسے ہی اِس دل کو چورانوے ر۔ب اٹی کی نہر اپنی اور کھینچتی ہے۔ قدرتی بات ہے کہ دل کو زیادہ چاہ ماں کی طرف کے نانکے پنڈ کی ہوتی ہے یہ اور بات وہاں آپ بہت زیادہ دن رہے نہیں ہوتے۔ تو بات ہورہی تھی اٹی والی نہر کی، ہمارے ننھیالی گاوٗں کے پہلو سے لگ کر گزرتی شاہکوٹ مائنر۔ جس کے پشتوں کے ساتھ بور ہوئے نلکے پر سے ماشکی چمڑے کی مشک کو بھر کر پلٹتا تو دن کی بوہنی چوہدری عبدالعزیز نہال گڑھیے کی حویلی سے کرتا، کہ نانا سے ایک عالم دبتا تھا۔ گلی کے پار احاطہ اور اِس طرف حویلی تھی جس کا داخلی دروازہ ایک ڈیوڑھی میں کھلتا تھا۔ دن بھر احاطے اور پھر ڈیوڑھی میں لگی اس چوپال کو ادھ رڑھکے، دیسی گھی کے پراٹھے اور اچار کی نان سٹاپ سپلائی کی ذمہ داری گھر کے اندر بی بی پھاتاں کی تھی۔ ہماری نانی غلام فاطمہ ہماری ہوش میں وہ پہلا جی تھا جو فوت ہوا۔بہت بعد کے سالوں میں احاطے کے اِس پار اسی ڈیوڑھی میں ایک نرم دھوپ والے سرد دِن مَیں ناخن تراش سے چوہدری عبدالعزیز کے ہاتھوں کے ناخن کاٹتا تھا توعمر کے اُس ضعف میں پہنچے نانا کے پہلو میں ایک ’کڑی یاہوا‘ مور می آوٗں کرتا صدا دیتا تھا۔ گالیوں کے معاملے میں ہمارے نانا چوہدری عبدالعزیز آف نہال گڑھ ہوبہو دنیا پور کے بخت جہان تھے۔ تکیہ کلام بھی وہی بخت جہان والا۔ امی بتاتی ہیں کہ ایک دفعہ اور ایسا بہت کم ہوا کہ کہیں آنے جانے کو نانا نے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کیا ہو، تو ایک دفعہ شاہکوٹ کو جاتے جوہل کے سٹاپ سے عبدالعزیز نہال گڑھیے کا ٹبر جب مسافروں کے گھڑمس سے ٹھنسی بس پر سوار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور بس کا پہیہ گھومتے ہی دروازے پر لٹکتے کنڈکٹر نے آواز لگائی، شاباش اگے اگے ہوجاوٗ میرا ویر تو نانا فٹ سے بولے، آہو اگے اگے ہوجاوٗ اگے اس ’بھین دے کھسم‘ دا ویہڑا اے۔ ’چوہری جیج‘ کے باقی عیب اپنی جگہ لیکن ہمارے نانا اپنی والدہ کے مرید تھے اور تاحیات رہے
ماں منّی تے رب منایا، پہلا مرشد مائی
جب تک زندہ رہے اٹی کے قبرستان میں دفن ماں کی قبر کا دیا نہ بجھنے دیا اور ان کے جانے کے بعد یہ ریت ان کے بڑے بیٹے ہمارے ماموں رمضان نے خوب نبھائی۔ نانا کے جانے کے بہت بعد کی رتوں میں ایک عید پر میں بڑے ماموں کے ساتھ فیصل آبادسے ننھیالی گاوٗں کے قبرستان آیا تھا تو ماموں رمضان نے نانا ابو کی والدہ سمیت خاندان کی پرانی قبریں دکھائیں تھیں جو قبرستان کے مشرقی حصے میں تھیں۔ کتبوں سے بے نیاز ان ڈھیریوں میں کون کہاں دفن تھا ماموں رمضان کو زبانی یاد تھا۔
ننھیالی گاوٗں اٹی کی پوربی حد ہماری خالہ کا گھر تھا۔ ابا جی حوالدار کا بنایا پکا گھر۔ یہاں جب ان کی کراچی پلٹ چھوٹی بہن براجتی تو خالہ ایک اہتمام سے ویہڑھے میں رانگلے پلنگ نکالتی۔ ہم صرف ان رنگ والی چارپائیوں پر سونے کے چاوٗ میں خالہ کے گھر میں ڈیرے ڈالتے تھے
عشقے دا اک پلنگ نواڑی
وے اساں چاننیاں وچ ڈاہیا
اس ویہڑے سے جو کہ گاوٗں کی مشرقی حد تھا کچھ دور نہر کے بند کے ساتھ اٹی کا قبرستان دکھائی پڑتا تھا۔ عشقے دے ڈاہے رانگلے پلنگوں والے اس ویہڑے کے اپنے دکھ تھے۔ اپنے نافرمان بیٹے کو گھر سے نکال کر اباجی حوالدار نے ساری عمر اپنی بہو اور پوتے پوتیوں کی نظر کردی۔ جیتے جی انہوں نے اپنے بیٹے کی شکل نہ دیکھی اور اس بدبخت کو ان کا جنازہ بھی نصیب نہ ہوا۔
پار سال کینیڈا سے لوٹ کر میں کراچی گیا اور وہاں سے فیصل آباد آنا ہوا تو میں امی کو لے کر اٹی کے قبرستان پہنچا۔ ننھیالی گاؤں میں اب کوئی نہیں رہتا۔ جن کسانوں کو زمین نے باندھ رکھا تھا، زمین کا سینہ چیر کر اناج اگاتے جب ان کی حیاتی تمام ہوئی تو اگلی پیڑھی نے زمینیں اور حویلیاں بیچ شہرکے جنگل کی راہ لی۔2015 کے سال چھوٹی عید پر میں اپنے بڑے ماموں کے ساتھ گاؤں آیا تھا۔ وہ قبرستان میں پڑے موئے شریکوں اور شہر کی بھول بھلیوں میں گم نئی نسل کو جوڑنے والی آخری کڑی تھے۔ 2024 میں جو میں امی کے ساتھ اٹی کو لوٹا تھا تو ماموں رمضان بھی اب اسی قبرستان میں نانی اور نانا کے پہلو میں اپنے لیے رکھوائی ’جگہ‘ میں ابدی نیند سوتے تھے ۔ ننھیالی گاؤں میں اب کوئی نہیں تھا اور اپنی ماں، باپ اور بڑے بھائی کی قبروں کو کھوجتی امی کی بوڑھی آنکھوں میں برہوں کی رڑک تھی

