تایا ابو کی یاد میں ۔ ان کے ’بے وفا‘ بھتیجے کی طرف سے

’وے نیانیو چھیتی چھیتی اندر آجاوٗ، نھیری آن والی اے۔ سندے نئیں تسیں!‘
چک نمبر اٹھاٹ گ۔ب کے کھلے ویہڑے والے ابا جی کے گھر میں گونجتی یہ رنگ والی امی کی آواز ہوتی جو پر پھیلائے آنگن میں کھیلتے ہم چوزوں ایسے بچوں کو اپنی آغوش میں سمیٹتی بڑے اندر والے کھڈے میں واپس بلاتی۔ کراچی سے چھٹیوں پر گاوٗں لوٹے ہم بچوں کو وسطی پنجاب کی مخصوص جیٹھ ہاڑ کی دوپہر کی لُو کے بعد شام کو اٹھنے والی گرد و غبار کی آندھی فیسینیٹ کرتی تھی۔ ایک کھلے دالان کی قدِآدم دیواروں سے پرے کھیتوں میں چلتے ایک جھکڑ میں جھولتی ٹاہلیاں اور ایک لہر دار لہرئیوں میں جھومتی کھڑی فصلیں اور گردو غبار کا طوفان ہمیں سو بہانوں سے باہر بلاتا مگر ہم رنگ والی امی کی پکار پر ٹھٹک کر اندر کمروں کو پلٹ جاتے۔ مجھے یاد ہے کہ اکثر ایسی آندھیوں میں نِم والے اندر سے باہر جھانکتے ’ڈھارے‘ کے پہلو میں لگے نیم کے درخت کو ہوا میں جھولتا دیکھتے ہماری امی اور رنگ والی امی کی آنکھوں میں کسی گہرے کرب کی پرچھائیں ہوتی اور منہ پر دوپٹہ ڈالے دونوں بہنیں سسکیوں میں رویا کرتیں۔ سب بچوں میں بڑا ہونے کے ناطے میرے لیڈرانہ احتجاج پر کہ ہم نھیری میں باہر کیوں نہیں جاسکتے رنگ والی امی کہا کرتیں کہ ’ نھیری وچ باہر لیا شیاں ہوندیاں نیں۔ میرا پت باہر نئیں جانا‘۔
اللہ بخشے رنگ والی امی ہماری تائی امی تھیں اور امی کی بڑی بہن ہونے کے ناطے ہماری خالہ بھی لگتی تھیں۔ مگر ہم انہیں رنگ والی امی کہتے تھے۔ کیوں یہ وجہ مجھے بھی معلو م نہیں۔ شاید اس لقب کی وجہ وہ ست رنگے میٹھے چاول تھے جو وہ بہت اچھے بناتی تھیں یا شاید کچھ اور۔ ہم بچوں کے لیے وہ ہمیشہ رنگ والی امی ہی رہیں۔ ان کے ہاتھ کی بنی ماہواں چھولیاں دی دال کا سواد آج تک اس تالو میں بستا ہے کہ ایک لاڈ اور چاوٗ میں مَیں ہمیشہ اس کی فرمائش کرتا اور وہ کبھی نہ ٹالتیں۔ بچپن کی اٹھاٹ گ۔ب میں اٹھی نھیریوں میں گھر کے اندر دبک جانے اور دونوں امیوں کے چپکے چپکے رونے کی وجہ بہت بعد میں معلوم پڑی کہ ایک شام اٹھی ایسی ہی ایک آندھی تھی جب فوزیہ فوت ہوئی۔
فوزیہ ہمارے تایا ابو اور رنگ والی امی کی پہلونٹی کی اولاد تھی جو بچپن کی چند بہاریں دیکھ کر چڑھتے تاپ میں جان سے گزر گئی تھی۔ بٹوارے کے بعد جالندھر سے چلے لائلپور میں جڑانوالہ کے نواحی پنڈ میں بسے مہر محمد شفیع کے کنبے میں فوزیہ پہلا بچہ تھا اور اسی نسبت سے بہت عزیز بھی۔ امی بتاتی ہیں کہ تایا کی شادی کے کئی سالوں بعد کتنی منتوں اور مرادوں سے انکی گود فوزیہ سے آباد ہوئی تھی، جو چند ہی سالوں کی دوری پر اجڑ گئی۔ یہ مرگ ہمارے امی ابو کی شادی کے آس پاس کا قصہ ہے۔ فوزیہ کے بعد میں پہلا جی تھا جو اٹھاٹ کے شفیع آرائیں کے آنگن میں اترا اور اپنے امی ابو سے زیادہ اپنے تایا اور رنگ والی امی کا لاڈلا ٹھہرا۔ امی ابا سے روایت ہے کہ فوزیہ کے بعد جب تایا کے یہاں حفیظ آیا تب بھی میرے حصےکا پیار کم نہ ہوا۔ دینے والا رب بے نیاز ہے کہ فوزیہ کے بعد اس نے شفیع آرائیں کے دونوں بیٹوں کو خوب نوزا اور اٹھاٹ گ۔ب کے کھلے آنگن میں بچوں کی قلقاریاں گونجیں اور خوب گونجیں۔امی بتاتیں ہیں کہ جب تم اور رضوان چھوٹے چھوٹے تھے اور تہاڈے ہانڑ دے کزن حفیظ اور ظہیر بھی ، تو تایا ایک چاوٗ میں ان چاروں بچوں کونلکے کے نیچے نہلا دھلا کر، تولیوں میں لپیٹ خشک کرکے، پِت والا پاوٗڈر چھڑک کر اپنے ساتھ لپٹائے لپٹائے پھرتے تھے۔ بقول امی ’اصل میں تم چاروں کی ماں تمہارے تایا ابو تھے‘ ۔
2014 کا سال تھا جب میں لاہور سے اٹھاٹ آیا تو ابو اور تایا بھی گاوٗں میں تھے۔ میں دو گھاگ بزرگوں کو ساتھ لے گنگاپور کی گھوڑا ٹرین دیکھنے کو نکلا۔ جڑانوالہ سے کچھ آگے بچیانہ منڈی کے ریلوے سٹیشن سے ایک مختصر اور نادرِ روزگار پٹڑی چک نمبر 591 گ۔ب کو جاتی ہے۔ ایک زمانے میں یہاں سر گنگا رام کے ذہن کی اختراع گھوڑا ٹرین چلا کرتی تھی۔ سر گنگا رام کے اس گاوٗں کو اپنا مسکن بنانے کے اعزاز میں گاوٗں کا نام اب گنگاپور ہے۔ گنگاپور کی گھوڑا ٹرین کی کہانی ہم پہلے کہہ آئے ہیں۔اس یاترا پر ابو اور تایا اس لیے ساتھ تھے کہ سردوگرم چشیدہ دونوں بزرگ پاکستان ریلوے کے ملازم رہے ہیں۔ ابا جب بھی اپنی شہری زندگی کی کہانی سناتے ہیں تو اس کی شروعات ہمیشہ ایک ہی قصے سے ہوتی ہے۔
جڑانوالہ کے گورنمنٹ کالج سے ایف اے کرلینے کے بعد کا واقعہ ہے کہ ابا کھیتوں میں دادا کا ہاتھ بٹا رہے تھے۔ ساتھ تایا بھی تھے۔ اباجی اور ان کے دونوں بیٹے مونجی کی پنیری کی لاب کو اکھاڑ انہیں دانہ دانہ کدو کی ہوئی پیلی کے ٹخنے ڈباوٗ پانی میں گاڑ رہے تھے۔ سخت گرمی اور حبس تھا اور پاس ہی کہیں کتے کے بھونکنے کی آواز آئی تو ابو بولے، ’اباجی دیکھو کس طراں کتے وانگوں بھونکن ڈہیا وا‘۔ دادا فٹا فٹ پاس آئے اور ابو کے ہاتھ میں پکڑی لاب تھام کر انہیں سائے میں لے جا کر بٹھاتے ہوئے بولے، ’ایتھے چھاویں بہہ میرا پُت۔ لعل کتے نے کتے وانگوں ای بھونکنا وا‘۔ ابو کہتے ہیں کہ ان کی یادداشت میں بہت کم کبھی انہوں نے دادا کا ہاتھ بٹایا ہو کہ پڑھائی لکھائی کے سبب اباجی نے انہیں کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔ ہاتھ بٹانے کا کام بھاجی (تایا ابو) کرتے تھے جو میٹرک کے بعد پڑھائی چھوڑ کر الیکٹریشن کا کام سیکھ رہے تھے۔ بقول ابو اس دن انہیں علم ہوگیا کہ واہی بیجی ان کے بس کا روگ نہیں اور یہ کہ گاوٗں میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ابا کے پاکستان ریلوے میں سٹیشن ماسٹر بننے میں فیصل آباد سے کراچی کا سفر، لاہور میں والٹن سکول کی ٹریننگ اور چند ایک زندگی کے مدوجزر آتے ہیں۔ تایا ابو بھی الیکٹریشن کا کام سیکھ کر لاہور چلے آئے اور ریلوے ورکشاپ مغلپورہ میں ملازمت کرلی۔ وہ ہفتے کے ہفتے اور فصل کی بیائی و کٹائی کے مواقع پر گاوٗں آتے کہ ان کا بال بچہ گاوٗں میں ہی رہا۔ ابو تو ریلوے کو جلدی خیرباد کہہ کر پاکستان سٹیل ریلوے میں آگئے مگر تایا نے ساری عمر مغلپورہ ورکشاپ کو دان کردی۔


تایا سے متعلق میرے بچپن کی پہلے پہل کی یادکراچی کی ہے جب میں پرائمری سکول میں تھا۔ اسی کی دہائی تھی اور تایا پاکستان ریلوے کی ایک سفری نمائش کا حصہ بن کر لاہور سے سفر کرتے کراچی آئے تھے۔ وہ مجھے اپنے ساتھ نمائش دکھانے کینٹ سٹیشن لے گئے۔ اس سفری نمائش میں جس سٹال پر سب سے زیادہ بھیڑ تھی وہ ایک ریلوے ٹریک کا منی ایچر ماڈل تھا جہاں پٹڑی پر ایک چھوٹی ریل چلتی تھی، سگنل اپ اور ڈاوٗن پر رکتی چلتی، ٹریک بدلتی یہ ٹرین اپنے آپ میں ایک عجوبہ تھی۔ تایا اس چھوٹے ماڈل پر رکتی چلتی، پٹڑیاں بدلتی ٹرین کو ممکن بنانے والے الیکٹریشن تھے۔ تایا نے ایک احساسِ تفاخر میں اپنی کاریگری کا شاہکار دکھایا مگر ان کے بھتیجے کی توجہ کہیں اور تھی۔ ہمارے پڑھنے والوں میں سے جو اسی کی دہائی میں بچے تھے انہیں یاد ہوگا کہ اکثر پیپسی، مرنڈا اور ٹیم کی بوتلوں میں انعامی سکیمیں نکلا کرتی تھیں۔ چابی سے بوتل کھول کر ڈھکن کو پھینکنے کے بجائے اس کے اندر کی مشروب کو سیل بند کرتی سفید واشل نکال کر دیکھیں تو اندر کچھ آدھی شبیہیں ہوتی تھیں۔ آدھا ٹی وی، کبھی کچھ اور، اور سب سے مشہور سائیکل کا اگلا اور پچھلا پہیہ۔ آپ جوڑی پوری کرلیں اور انعام جیت لیں۔ سائیکل کا فقط اگلا ہی اگلا پہیہ بمعہ ہینڈل نکلا کرتا تھا، پچھلا حصہ کم از کم اس لڑکپن نے کبھی نکلتے نہ دیکھا مگر اس دل کو پیپسی کی انعامی سکیم میں سائیکل جیت لینے کی بڑی خواہش تھی۔ نمائش میں لوگوں کے رش میں جا بجا کھلی بوتلوں کے ڈھکن زمین پر گرے پڑے تھے۔ میں تایا کی انگلی چھوڑ راستے میں پڑے ہر ڈھکن کو اٹھاتا، سفید پرت کو ہٹا اندر کی شبیہہ دیکھتا اور مایوس ہوکر ڈھکن کو دوبارہ زمین پر پھینک دیتا۔ پہلی دفعہ یہ حرکت کرنے پر ہلکی سی جھجھک رہی ہوگی کہ اب ڈانٹ پڑی یا پھر تھپڑ آیا لیکن تایا مجھے دیکھ کر ہنستے اور یہی کہتے رہے، او بیٹا کیا کرتے ہو، بری بات ہے، چھوڑو یار، نہ کرو۔ اور میں نے باز نہ آنا تھا نہ آیا۔ ریلوے کی نمائش میں گرے پڑے ہر دوسرے بوتل کے ڈھکن کو اٹھا کر کھرچ کر دیکھتے سائیکل تو نہ نکلی مگر اس دن ابو کے رعب و دبدبے اور ان کے دِل میں بیٹھے ڈر کا ان کے بڑے بھائی سے تقابلی موازنہ کرکے میں تایا ابو کا پکا دوست بن گیا۔
تایا ہمیشہ ایسے ہی رہے، محبت کرنے والے، بے پرواہ۔ نہ کبھی انہیں کسی بات پر جھنجھلاتے دیکھا، نہ غصہ کرتے۔ ساری عمر لگی بندھی نوکری کرنے والے نے نہ کبھی مال جمع کیا اور نہ ہی اس کی حرص جاگی، بدلے میں شریکوں کے طعنے اور باتیں بھی سنیں مگر وہ درویش بندہ ایک بے پرواہ دِل کی بڑے سوراخوں والی چھلنی میں سے دشنام میں لپٹے ان کچوکوں کو گزار کبھی ماتھے پر شکن اور لب پر حرفِ شکایت نہ لایا۔ کراچی کی ریلوے نمائش میں تایا اپنی کاریگری کے احساسِ تفاخر میں لپٹے جس ماڈل کو بصد ناز مجھے دکھاتے تھے اس سے ملتا جلتا ماڈل میں نے بہت بعد کے برسوں میں والٹن کے ریلوے سکول میں دیکھا جہاں سٹیشن ماسٹرز کی ٹریننگ ہوتی ہے۔ تایا کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت کراچی کی نمائش والا ماڈل بھی ریلوے نے سینچ سینچ کر رکھا اور پھر اسے میں نے مغلپورہ کی ریلوے ورکشاپ کے مین گیٹ کے ماتھے کا جھومر بنے دیکھا۔
میں لاہور میں ایکسل لیب کی نوکری میں ابھی نیا نیا تھا اور DESOM لاہور میں ٹھہرا ہوا تھا جب تایا کا اپنی پینشن کے سلسلے میں ایک بکھیڑے کو نپٹانے لاہور آنا ہوا۔ وہ اندرون لاہور اپنے ایک یار بیلی کے پاس رُکے اور مجھے بھی بلاوا بھیجا کہ آکر مِل جاوٗ۔ یادش بخیر لاہور کو پہلے پہل ہم نے تایا ابو کی نظر سے دیکھا تھا۔ غالباً شاہ لطیف بوائز سیکنڈری سکول کے ابتدائی دن تھے، پرائمری ےسے ترقی پائے جماعت ششم کے نئے نکور طالبعلم نے گرمیوں کی چھٹیوں کے ریلوے کنسیشن واوٗچرز کی عرضی ڈالی تو وہ کراچی سے لاہور کی تھی۔ پاکستان ریلوے کا ریٹائرڈ سیٹشن ماسٹر اس دفعہ فیصل آباد میں گاوٗں جانے سے پہلے بمعہ فیملی ریلوے ورکشاپ مغلپورہ کے الیکٹریشن اپنے بڑے بھائی سے ملنے لاہور جا رہا تھا۔ وہ پہلی دفعہ تھا کہ ہم سپر ایکسپریس سے نظریں چُرا تیز گام کی اکانومی کلاس کی سیٹوں پر پسر گئے اور ریل گاڑی کو خانیوال جنکشن سے لاہور جانے والی لائن پر کانٹا بدلتے دیکھا۔ کراچی اور فیصل آباد اور ان کے درمیانی سٹیشنوں سے ہٹ کر ان آنکھوں نے پہلے پہل میاں چنوں، چیچہ وطنی، ساہیوال، اوکاڑہ، پتوکی اور پہلے پہل زندہ دلوں کا شہر لاہور دیکھا۔ کراچی سے آئے ٹورسٹوں کی ’سَیر حاصل‘ لسٹ پر مینارِ پاکستان، شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد، شالامار باغ تو تھے ہی، تایا کے ساتھ لاہور گھومتے جو دو زمینی نشان مجھے آج تک یاد ہیں وہ دو ریلوے پُل ہیں۔ ایک موریہ پُل اور دو موریہ پُل۔ دو یا پھر تین دنوں پر مشتمل اس یاترا میں کراچی سے آئے ’سیاحوں‘ کا یہ ٹولہ جب جب تایا کے ساتھ سیر کو نکلا گھر سے نکلتے ہی یا پھر واپس پلٹتے یہ دو پُل ضرور آئے اور تایا کے اندر چھپے ریلوے مین نے ہم بچوں کو انہیں ذہن نشین کرانا مناسب سمجھا۔ بہت بعد کے برسوں میں کارِ معاش میں الجھے مانی کے قدموں کی گردش کی قسمت میں جب پاکستان ریلوے کی سواری لکھ دی گئی تھی، تو لاہور سے راولپنڈی کی نیت کرتی ٹرین جب جب لاہور جنکشن کے پلیٹ فارم نمبر دو سے باہر نکلی دو موریہ اور ایک موریہ پُل سے گزرتے مانی نے ہمیشہ تایا ابو کو یاد کیا۔ ’سوہنیا ایہہ ایک موریہ پُل ہے۔ لائناں تھلے اک ہی راستہ دونویں پاسے دی ٹریفک دے آن جان واسطے۔ تے ایہہ دو موریہ پُل ہے، دو رویہ ٹریفک واسطے‘۔
تو ایکسل لیب کے لاہور ریجن کی نوکری کے دنوں میں پنشن کا قضیہ نپٹانے آئے تایا ا بو سے ملنے میں ان کے دوست کے ہاں اندرون لاہور جاتا تھا تو میرے دل میں تھا کہ انہیں ساتھ لے کر ایک موریہ اور دو موریہ پُل ضرور دیکھنے ہیں۔ اس صورتحال میں تبدیلی تب آئی جب پتہ چلا اسی دن میں انہیں پنشن کے سلسلے میں ریلوے آفس جانا ہے تو میں ایک اور منصوبے کے تانے بانے ذہن میں بُننے لگا۔ لاہور رہتے مَیں کچھ دن پہلے ریلوے سکول والٹن سے ہوکر آیا تھا، کہ وہاں سے ستر کی دہائی کے شروع کے برسوں میں ایک اسسٹننٹ سٹیشن ماسٹر کراچی سرکلر ریلوے کے لیے دم پخت ہوکر نکلا تھا۔ اب جبکہ گئے وقتوں کے اسٹیشن ماسٹر کا بڑا بھائی میری دسترس میں تھا تو کیسے ممکن تھا کہ میں اسے ساتھ لے کر تایا ابو کی اپنی کچھار مغلپورہ ریلوے ورکشا پ نہ جاتا۔ لاہور کے اس روشن دن باقی ماندہ وقت تایا میرے ساتھ تھے۔ پنشن آفس سے نکلتے ہم نے تایا کے ایک جونیئر ساتھی جو اب خود ریٹائرڈ تھے اور تایا کو اپنا استاد گردانتے تھے ساتھ لیا اور ریلوے ورکشاپ مغلپورہ کے میں گیٹ پر دستک دی۔ صاحبو بہت اچھا لگتا ہے جب ادارے اپنے سابقہ ملازموں کا مان رکھتے ہیں،ویسے کچھ کچھ اس میں دخل میرے فوج سے ریٹائرڈ میجر ہونے کےتعارف کا بھی تھا کہ ہمیں بیرونی گیٹ پر موجود ایک کارندہ ریلوے ورکشاپ مغلپورہ کے کنڈکٹڈ ٹوور پر لے کر نکلا۔ مین گیٹ کے ماتھے کا جھومر پاکستان ریلوے کا ایک ماڈل جس پر الیکٹریکل مہارت سے چلائی ایک منی ایچر ٹرین جو ان آنکھوں نے پہلے پہل کراچی کی ریلوے نمائش میں دیکھی تھی، جب ورکشاپ کے ملازم نے ایک احساسِ تفاخر سے ہمیں دکھائی تو یہ جان کر کہ گئے دنوں کے اس نادرِ روزگار نمونے کی کاریگری کے خوگر ہاتھوں میں ایک ہاتھ ساتھ چلتے چوہدری منیر احمد، ریٹائرڈ الیکٹریشن ریلوے ورکشاپ کا تھا تو وہ وہیں تایا ابو کا مرید ہوگیا۔ صاحبو ورکشاپ کا باقی کا سفر تو ایک الف لیلوی افسانے کی روداد ہے۔ تایا جو کافی عرصے بعد ورکشاپ کے گیٹ سے اندر داخل ہوئے تھے، ہر دوسرا شخص جو انہیں بڑھ کر سلام کرتا تھا ان کا واقف کار اور انکی پیشہ ورانہ مہارت کا معترف نِکلا اور تایا کے چہیتے بھتیجے کو سر آنکھوں پر بٹھایا۔ اصل جھٹکا ہمیں کیرج اینڈ ویگن شاپ کے پہلو میں کھڑی الیکٹریکل ورکشاپ میں لگا۔ ایک عرصے بعد ’اپنے بندے‘ کو اپنے درمیان دیکھ کر انہوں نے تایا ابو کے گرد گھیراڈال لیا۔ الیکٹریکل شاپ میں اس دن چوہدری منیر احمد راجا اندربنا ایک سٹال سے دوسرے سٹال تک گھوم رہا تھا جس کی اردل میں ہونے کی نسبت سے ہم ہر جگہ ایک غیر معمولی قدرو منزلت کے حقدار تھے۔ جس جگہ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ عمر بتائی اس کے ہر کونے کھدرے، حصے پرزے کی اپنے بھتیجے کو آگاہی دیتے تایا کی آنکھوں میں بیتے دنوں کی رومانویت اور وہیں کہیں سے جنمے ایک تفاخر کی جھلک تھی کہ وہ گئے وقتوں کے یگانہٗ روزگار ’کاریگر‘ تھے جن کی ہنر مندی کی گواہی ہر اس فرد کی آنکھوں سے ہویدا تھی جس سے ہم اس دن ملے۔
لوکوموٹِو، باڈی اینڈ کیرج شاپس سے ہوتے راستے میں کسی زمانے میں ورکشاپ سے مرمت ہوئے ایک زنگ آلود عسکری پُل AVLB (آرمرڈ وہیکل لانچڈ برج) کو عقیدت مندانہ سلام کرتے ہم پینٹ (paint) شاپ میں آئے۔ مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے والے وہ کٹ آوٗٹ سٹینسل تھے جن سے بوگیوں کے اندر پرانے دور کی جناتی زبان میں عوام الناس کو خبردار کرنے والی عبارتیں پینٹ کی جاتی تھیں۔
خبردار، بغیر ٹکٹ سفر کرنا قابلِ دست اندازئِ پولیس جرم ہے اور ایسا کرنے والا مستوجب سزا ہوگا ۔اور ایک دوسرا جس پر لاہور خانیوال کے برقی سکیشن پر چلنے والی ٹرینوں کی چھت یا پائیدان پر سفر کرنے کی مناہی ہوتی۔ یا پھر وہ انتباہی عبارت جس میں بلا ضرورت زنجیر کھینچنے پر بھرے جانے والے جرمانے کا تاوان درج تھا۔ ایک دفعہ تو بچپن میں ٹرین میں کیے گئے سفر کی بے تابی یادداشت میں گھوم گئی اور وہ پہلے پہل کی حیرت کہ اچھا! بوگی کی دیوار پر ایستادہ یہ جو گہرے جمے ہوئے خون کے رنگ میں رنگا باکس ہے جس میں سے کھلے بندوں دعوت دیتا، اٹیچی کیس کی ہتھی کے مانند ایک ہینڈل لٹک رہا ہے اس کو کھینچنے سے ٹرین رک جاتی ہے! ہمارا بچپن گواہ ہے کہ اس بے تاب دِل اور ہاتھوں میں ہوتی ایک کھجلی سے مغلوب ہوکر ہم نے اگر آج تک زنجیر نہیں کھینچی تو اس کی وجہ جرمانے سے خبردار کرتی وہ عبارت تھی جو اسی کٹ آوٗٹ سٹینسل یا اس کے کسی بھائی بند سے پینٹ ہوئی تھی جو اس دن مغلپورہ کی پینٹ شاپ میں ہم نے دیکھا۔
پاکستان ریلوے کے ویٹرن کو ورکشاپ کے اعزازی وزٹ کے بعد پاک فوج کا ویٹرن چھاوٗنی میں لے آیا۔ مغلپورہ ورکشاپ کے ایک پرباش ٹور کے بعد استاد اور شاگرد کی جوڑی ڈیفنس سروسز آفیسرز میس میں لنچ ٹیبل پر ہماری مہمان بنی۔ تایا اسی دن شام کو واپس فیصل آباد چلے گئے مگر ایک عرصے تک مغلپورہ ورکشاپ میں گزری وہ پرلطف دوپہر ہم دونوں کو یاد رہی، بلکہ ایک عرصے تک ہم فون پر اپنی گفتگو کو اسی دن کے ذکر سے کک سٹارٹ کرتے رہے۔ میں نے تایا سے وعدہ کیا تھا کہ ہم لاہور میں دوبارہ ملاقات کا حیلہ کریں گے اور میں ان کو ان کے چھوٹے بھائی محمد سعید ریٹائرڈ سٹیشن ماسٹر پاکستان ریلوے کے والٹن سکول لے کر جاوٗں گا۔ مگر یہ وعدہ وفا نہ ہوا اور میں لاہور میں کچھ وقت گزار بیرونِ ملک ایک دور دیس کا مسافر ہوگیا۔ کچھ یہی سبب تھا کہ میں نے تایا ابو سے ’بے وفا‘ کا لقب پایا۔ میں کینیڈا آتے سمے لگ بھگ ایک دہائی قبل اپنے گاوٗں اور اس میں آباد اپنوں کوخدا کے حوالے کرکے نکلا تو پھر پلٹ کر نہ جاسکا۔ تایا ’عمران دے آوٗن دا کجھ تھوہ پتہ‘ پوچھتے تو امی جھٹ کہتیں اوہ کھوتے دی بوتھی والا نافرمان اولاد آ۔ تایا ہنس کر کہتے تیری اولاد نافرمان نئیں ہوسکدی، ہاں پر اوہ بےوفا ضرور آ۔ مجھ سے جب کبھی فون پر بات ہوئی تایا نے یہی کہا، او بے وفا! ملنے کب آوٗ گے۔
پچھلے سال جون 2024 میں پاکستان کا چکر لگا تو میں پرا نی یادیں تازہ کرنے کو امی ابو کو ساتھ لے کر جیٹھ ہاڑ کی گرمی میں اٹھاٹ گ۔ب بھی پہنچا۔ دونوں بھائیوں کو ساتھ مِلا کر دل کو جو سکون مِلا وہ ایک طرف، تایا کے ساتھ گھُٹ کے جپھی ڈال لینے کا سواد ایک طرف۔ عمر کی لگ بھگ اسی سے اوپر بہاریں دیکھ لینے والے کے اندر کا الیکٹریشن ابھی بھی جوان تھا جب آئے مہمانوں کے سواگت کو گھر میں پڑے اضافی واٹر کولر کی مرمت و بحالگی کے بعد تایا نے اپنے ہاتھوں سے اسے چالو کردیا۔ رخصت ہوتے سمے انہوں نے اپنا دستخطی جملہ کہا، چنگا سوہنیا جگ جیوندیاں دے میلے۔اور ساتھ ہی ’او دُور دیس جانے والے بے وفا مسافر رب دے حوالے‘۔

چند دن قبل ایک منحوس صبح ان کی سناوٗنی آئی تو بے اختیار دل بھر آیا۔ پل بھر کو یقین نہیں آیا کہ مجھے بے وفا کہنے والا خود کیسے بے وفائی کرگیا۔ تایا نے خود ایک عمر بے وفائی کے درد سہے تھے۔ ایک منتوں مرادوں سے حاصل کی گئی پہلونٹی کی اولاد کو شیر خوارگی میں مٹی کے حوالے کردینے کا دُکھ۔ ادھیڑ عمری میں اپنی شریکِ حیات ہماری رنگ والی امی کی اچانک بے وقت موت کا دُکھ۔ اور چند سالوں کی دوری پر اپنے سب سے چھوٹے جواں سال بیٹے کی اچانک موت کا صدمہ۔ اٹھاٹ گ۔ب کے منیر احمد کا خمیر سخت مٹی سے اُٹھا تھا۔ اپنے بے پرواہ تایا کو ان کی زندگی میں میں نے کبھی رنجیدہ و دل گرفتہ نہیں دیکھا۔ مجھے کبھی لگا ہی نہیں اس زندگی کے دکھوں کا اس بے نیاز دِل پر بھی اثر ہوتا ہوگا۔ پتہ نہیں تائی امی کا بھی میں نے پرسا دیا ہو یا نہیں، یا پھر توقیر کی موت پر تایا سے رسمی افسوس کیا ہو، مجھے یاد نہیں۔ تایا کے چھوٹے بیٹے توقیر کے جانے کے بعد میں جب گاوٗں آیا تھا تو ہم قبرستان گئے تھے تو وہاں ایک قطعے میں بنی پانچ ڈھیریوں کی طرف حفیظ یاد دہانی کو نشاندہی کرواتا تھا۔ سب سے دائیں اور سب سے پہلے بننے والی سب سے چھوٹی ڈھیری ہماری فوزیہ باجی کی ہے۔ ایہہ ابا جی تے نال بی بی جی نیں تے نال امی دی قبر ہے۔ ماں کے جدا ہونے کے کئی سال بعد بھی نشاندہی کروانے والے حفیظ کی آواز یہاں پر آکر لڑکھڑا گئی، اور پھر توقیر کی قبر پر آتے آتے کہ اپنے جواں سال چھوٹے بھائی کی موت کا زخم ابھی ہرا تھا حفیظ پھوٹ پھوٹ کر روپڑا۔ میرے ساتھ کھڑے تایا نے اور میں نے مِل کر اسے سنبھالا۔ اب سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ مجھے بے وفا کہنے والے نے اپنی زندگی میں اپنے بہت ہی پیاروں کی بے وفائی کے کتنے زخم سہے مگر اس فراخ اور کشادہ پیشانی پر شکن تک نہ آئی اور نہ ہی ان کھلتے ہونٹوں کی مسکان کبھی مدھم پڑی۔
چند دن پہلے جس دن تایا کی بے وفائی کی سناوٗنی آئی تو اس سے اگلے دن حفیظ مغلپورہ ریلوے ورکشاپ کے ریٹائرڈ الیکٹریشن منیر احمد کو اٹھاٹ گ۔ب کے قبرستان میں ان کے سب سے چھوٹے بیٹے توقیر کے پہلو میں سلا آیا۔ اپنے باپ سے وراثت میں اپنے پیاروں کی بے وفائی کے ان گنت زخم لینے والے حفیظ کا غم ابھی ہرا ہے۔ شاید وقت اسے بھر دے، یا شاید اس کا مداوا نہ ہوپائے۔ مگر اٹھاٹ گ۔ب پلٹنے تک اگر میں زندہ رہا اور اگلی سویر مجھے ساتھ لے کر حفیظ قبرستان گیا تو وہاں بننے والے نئی قبر کی نشاندہی کرتے کرتے اگر وہ ڈھے گیا تو ساتھ مل کر اسے سنبھالنے کو میں منیر احمد کہاں سے لاوٗں گا ۔ ۔ ۔

