اور ڈپو ہل کا سٹیشن ماسٹر

ایک زمانے میں جب آتش کے والد جوان تھے اور آتش ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا تو ابا آداب عرض اور اسی قبیل کے دوسرے ڈائجسٹوں میں رومانوی کہانیاں لکھا کرتے تھے۔ یوسفی کے دوست بشارت کی طرح جن کے یہاں بی اے کا امتحان دے لینے کے بعد پاس ہونے کے ففٹی ففٹی امکان کی فراغت کے دنوں میں افسانہ نویسی کی ’مشق و مشقت‘ جاری تھی۔ یوسفی کا قلم ہی ہمیں جنابِ بشارت علی فاروقی کانپوری ثم لکھنوی کے افسانے کے کلائمکس کی جھلک دکھلاتا ہے۔ اور صاحبو نقلِ بشارت بقلمِ یوسفی یقیناً بشارت باشد
’انجم آرا کی حسن آفرینیوں، سحر انگیزیوں اور حشر سامانیوں سے مشامِ جان معطّر تھا۔ وہ لغزیدہ لغزیدہ قدموں سے آگے بڑھی اور فرطِ حیا سے اپنی اطلسی بانہوں کو اپنی ہی دُزدیدہ دُزدیدہ آنکھوں پر رکھا۔ سلیم نے انجم آرا کے دستِ حنائی کو اپنے آہنی ہاتھ میں لے کر پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اس کی ہیرا تراش کلائی اور ساقِ بلوریں کو دیکھا اور گلنار سے لبوں پر ۔۔۔۔ (چار نقطے) ثبت کردیے‘۔
اس زمانے میں کہ جس زمانے کا یہ قصہ ہے لفظ بوسہ فحش سمجھا جاتا تھا سو اس کی جگہ نقطے لگا دیے جاتے تھے۔ یوسفی سے ہی روایت ہے کہ بشارت گن کر اتنے ہی نقطے لگاتے جن کی اجازت اس وقت کے حالات، حیا یا ہیروئن نے دی ہوتی۔
کچھ یہی احوال گورنمنٹ کالج جڑانوالہ سے ایف اے کے فارغ التحصیل کراچی سرکلر ریلوے کے فارغ البال اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر سعید صاحب کا تھا کہ ایک بے بہا فراغت میں جن کا مشغلہ افسانہ نگاری تھا۔ صاحبو ہماری کیا مجال کہ ہم افسانہ نویس محمد سعید اختر کے آداب و جواب عرض میں چھپے کسی افسانے کے کلائمکس کی نقل آپ سے سانجھی کریں۔ یوں سمجھ لیجیے کہ نفسِ مضمون و سچویشن دونوں بعینہٖ اپنے بشارت کی انجم آرا اور سلیم والے ہیں۔ اب عین رومانس میں وقتِ ’حجاب‘ آجانے پر اللہ ان کی عمر دراز کرے ہمارے والد بزرگوار گن کر کتنے نقطے لگاتے تھے، یہ پوچھنے کی تادمِ تحریر ہمیں ہمت نہیں پڑی اور نہ ہی پڑے گی۔ واللہ و محمد سعید اختر اعلم
تو صاحبو ستر کی دہائی کے شروع کے کراچی کا قصہ ہے کہ لگ بھگ آدھی رات اِدھر آدھی اُدھر ڈرگ روڈ کی ہمسائیگی میں ڈپوہلِ جنکشن پر نائٹ شفٹ کا اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر آخری لوکل گاڑی کو ہری جھنڈی دِکھا اپنے دفتر کو پلٹ رہا تھا کہ پٹڑیوں کے سر کے اوپر سے گزرتے مسافروں کی آمدورفت والے پُل پر اسے سرگوشیاں سنائی دیں۔ سیڑھیاں چڑھ کے جو دیکھا تو کراچی کی ساحلی ہوا سے معطر اس جوبن پر آئی رات میں دو ہنسوں کا جوڑا عین اس حالت میں جو نقلِ مجید امجدمیونخ کے قریہٗ شراب میں وقوع پذیر ہوتی ہے اور اکثر ہوتی ہے
بانہیں بانہوں میں ہونٹ ہونٹوں پر
صاحبو مجید امجد کے میونخ میں ایسا ہو تو ہو، الکمونیا میں اور وہ بھی ستر کی دہائی کے الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا۔ ہمارا سٹیشن ماسٹر ایک لحظے کو تو سناٹے میں آگیا۔
اب آپ ہم سے پوچھیں گے اور پوچھنے میں حق بجانب بھی ہوں گے کہ ہمیں یہ سب کیسے پتا۔

بہت سال نہیں بیتے کہ جنوب مغربی انٹاریو کی ایک سرد شام دہکتے الاوٗ کی قربت میں گرم کافی کے مگ کے گرد لپٹی انگلیوں کی پوروں میں اترتی حدت کا کمال تھا اور کچھ کچھ اسی دن کی گلینکو (Glencoe) اور کوموکا (Komoka) کے پرانے ریلوے سٹیشنوں کی یاترا کا اثر کہ حیدرآباد ۔ کراچی سیکشن کا ہمارا ریٹائرڈ سٹیشن ماسٹر کھُلا اور کھُلتا ہی چلا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ ماضی کی پرتوں میں جھانکتی ابا کی آنکھوں میں ایک چمک تھی، جیسے کسی چھوٹے فلیگ سٹاپ کے پلیٹ فارم پر دورانجن کی سیٹی کےساتھ نمودارہوتی ٹمٹماتی روشنی۔ جیسے اندھیری رات میں کسی بے نامی سٹیشن سے بصدنازگزرتی روشن بوگیوں والی سبک رفتار نائٹ ایکسپریس۔ کراچی ۔ حیدرآباد سیکشن پر ایک بے فکری میں گزری سٹیشن ماسٹری اور اس کے جلو میں پروان چڑھتے لڑکپن کی کہانی تو ہم پہلے کہیں کہہ آئے ہیں ۔ اس سیکشن پر اپنے دوستوں کی ملی بھگت سے ہوئی ٹرانسفر سے پہلے والٹن کے ریلوے ٹریننگ سکول سے پلٹے نویں نکور اسسٹننٹ سٹیشن ماسٹر کی پہلے پہل کی پوسٹنگ کراچی سرکلر ریلوے میں ہوئی تھی۔ انٹاریو کی اس سرد شام بقول ابا ریلوے سے جڑی انکی پہلے پہل کی یاد ڈپو ہل جنکشن کی ہے۔ فوج کے آرڈیننس ڈپو کے پہلو میں کھڑے اس سٹیشن پر پوسٹننگ کے دنوں میں کراچی کی معتدل گرمیوں کی وہ رات انہیں اب بھی یاد تھی جب آخری لوکل گاڑی کو الوداع کہہ کر وہ سٹیشن ماسٹر آفس کو پلٹ رہے تھے تو وہیں سر کے اوپر سے گزرتے پٹڑیوں کے پار جاتے مسافر پُل کی قربت میں کچھ سرگوشیاں سنائی دیں۔ پُل کے اوپر ایک مشکوک جوڑا سر جوڑے کھڑا تھا اور ابا نے قریب ہو کے دیکھا تو
بانہیں بانہوں میں ہونٹ ہونٹوں پر

صاحبو ہمارے بچپن سے جڑی شروع کی یادوں میں سے ایک یاد پپری ریلوے سٹیشن کی ہے۔ سٹیشن ماسٹر دفتر سے تھوڑا اِدھر پلیٹ فارم سے قریب قریب جڑے تین گھروں میں پہلا گھر ہمارا تھا۔ آگے والا برآمدہ اور پیچھے کا دالان ابھی تک یادداشت میں بستے ہیں۔ دالان کے پچھلی طرف گھر کا بغلی دروازہ تھا جو کچھ نیچا تھا اور مجھے یاد ہے ہمارے دراز قد ماموں اکرام جب اس دروازے سے اندر داخل ہوتے تو گزرنے کے لیے انہیں تھوڑا جھُکنا پڑتا۔ ماموں کے اونچے قد سے شدید متاثر میں بھی ان کی نقل میں پچھلے دروازے سے مجھے آج تک یاد ہے سر کو جُھکا کر گزرتا تھا۔ پھر سٹیشن ماسٹر بھٹی صاحب کے پوتے تھے جو ہمارے ہم عمر تھے۔ فیشی اور دلی اکثر ریڈی میڈ کپڑے پہنتے اور ان سے میچنگ کرنے کی ہماری ضد پر امی ایک اہتمام سے بازار سے کپڑا اور بقیہ ساز وسامان خرید کر ہمیں ہو بہو ویسے ہی کپڑے گھر پر سی دیتیں۔ امی کی کپڑوں کی کٹائی اور سلائی کے سگھڑاپے کی بدولت اس بچپن اور لڑکپن میں میری یادداشت میں تو نہیں کہ ہم نے کبھی ریڈی میڈ شلوار قمیص یا پینٹ شرٹ پہنی ہو۔ پپری سٹیشن کی ایک یادگار تصویر عید کے دن کی ہے۔ فیشی اور دُلی نے ریڈی میڈ کپڑے پہنے ہیں اور دائیں طرف امی کے ہاتھ کے سِلے میچنگ کے کپڑے پہنے مانی اور جانی کھڑے ہیں۔ عید کی یہ تصویر اس لیے بھی منفرد ہے کہ یہ پپری ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر دو کی ہے جو پٹڑیوں کے اُس پار ہونے کے سبب ہم بچوں کے لیے آوٗٹ آف باوٗنڈ تھا۔ وہاں تب تب جانا ہوتا جب کراچی شہر جانے کو لوکل میں سفر کرنا ہوتا۔ پپری سے چلنے والی کم کم سیٹوں اور زیادہ کھڑے ہوکر سفر کرنے والی کراچی سرکلر ریلوے کی لوکل ٹرین بھی کچھ کچھ یاد ہے۔ کراچی سرکلر ریلوے کا اب تو کباڑہ ہوگیا اور سیاست کرنے والوں نے اس پر خوب سیاست کی ۔ آج تک کررہے ہیں ، مگر وہ الگ قصہ ہے۔ سو لوکل ٹرین کی ایک ہمارے بچپن کی یاد تو پپری ریلوے سٹیشن سے متعلق ہے۔ دوسرا کراچی سے فیصل آباد جاتے سُپر ایکسپریس کی اکانومی کلاس کے مسافر جبکہ شام ڈھلے ٹرین کینٹ سٹیشن کے پلیٹ فارم سے نکل جاتی تو کراچی کو الوداع کہتے ڈرگ روڈ اور ڈرگ کالونی کے سٹیشنوں کو بھی دیکھتے اور ابا بتاتے کہ یہاں سے نکلنے والی ایک ریلوے لائن لوکل کی ہے جو کراچی شہر کا چکر لگاتی ہے۔ ریلوے اور کراچی سرکلر ریلوے سے بچپن سے تعارف کے باوجود ڈپو ہل جنکشن نام کا سٹیشن میری یادداشت میں نہیں تھا۔

اور پھر یوں ہوا کہ میں نے ایوان سگال کا کراچی سرکلر ریلوے پر تصویری پراجیکٹ دیکھ لیا۔ امریکی فوٹوگرافر ایوان سگال 2017 میں کراچی آیا تھا اور کراچی سرکلر ریلوے کے بھوت کی باقیات، گم گشتہ ریلوے لائنوں، ٹرین سگنلوں اور کھنڈر بنے سٹیشنوں کی تصاویر اتار کر لے گیا تھا۔ یہ تصویری پراجیکٹ بین الاقوامی جریدوں کے صفحوں کی زینت بنا اور ہماری نظر سے بھی گزرا۔ تجاوزات سے اٹی ریلوے لائنوں، آبادی سے گھرے ٹوٹے پھوٹے ریلوے سٹیشنوں اور انکے اسی قدر شکستہ پلیٹ فارموں، کھڑی دیواروں میں اچانک گم ہوتی پٹڑیوں اور ان کے اوپر بن جانے والی سڑکوں سے گزرتے فیڈ آوٗٹ ہوتے گاڑیوں ، ریڑھیوں اور راہگیروں کے ہجوم میں کراچی سرکلر ریلوے کا نوحہ ہے اور کچھ نہیں۔ اس پراجیکٹ کی تصویروں کو کھنگالتے جو کام کی چیز ہاتھ لگی وہ ڈپو ہلِ جنکشن کی تصویر تھی۔ اوان سگال کی تصاویر کو کھنگالتے انٹاریو کی ایک سرد شام بیٹے نے باپ سے عہد کیا کہ جب کبھی کراچی کو لوٹے تو سرکلر ریلوے کی کھنڈر کی سیر کو نکلیں گے اور ڈپو ہِل بھی جائیں گے۔
ہمارے کراچی والے گھر میں ایک کمرہ ہے جسے میں یادوں کا کمرہ کہتا ہوں۔ چھت کے اوپر برآمدے کی عیاشی سے آراستہ دوکمروں میں دائیں ہاتھ والا کمرہ جس کے سامنے برآمدے کی چھت میں لگے آہنی کڑے سے بندھے کراچی کی سوغات نم ساحلی ہوا میں جھولتے جھولے میں چائے میں کیک رس ڈبو کر کھاتے سسپنس ڈائجسٹ کے آخری صفحوں کی زینت علیم الحق حقی، طاہرجاویدمغل، احمد اقبال اور محی الدین نواب کی طبع زاد کہانیاں پڑھتے یہ لڑکپن جوانی کی دہلیز تک پہنچا۔ پہلے یونیورسٹی ہوسٹل اور بعد ازاں کاکول ملٹری اکیڈمی کے لیے یہ گھر چھوڑ دینے پر وہ کمرہ پرانی فوٹو البمز، گذشتہ کلاسوں کے کورس کی کتابوں اور دیگر ماضی گزیدہ دستاویزات کا مسکن ٹھہرا۔ ماضی گزیدہ دستاویزات کچھ اس لیے بھی کہ ایک قاعدے میں سادہ زندگی بسر کرنے والے ابا نے ہر چیز کا ریکارڈ رکھا، وہ ان کے بچوں کے پرائمری تا یونیورسٹی رپورٹ کارڈ ہوں، ابا کی اپنی پے سلپیں ہوں، گھریلو خرچے کا ماہوار گوشوارہ ہو یا پھر ذاتی روزنامچہ، سب کچھ پکے کاغذ کی لکھت پڑھت پریادوں کے کمرے کے اس خزینے میں موجود ہے۔
پاک فوج کو اپنا مسکن بنا لینے اور کراچی والے گھر کو تیاگ دینے کے بعد کارِ معاش میں الجھے مانی کا شام آنے پر جب جب گھر کے لیے دِل مچل اٹھا اور وہ عیش کی چند گھڑیاں گزارنے جب جب یادوں کے اس کمرے کو لوٹا تو گئے وقتوں کے اس دفینے سے ہمیشہ کوئی نہ کوئی فروزاں یاد برآمد ہوئی۔ پچھلے سال کی گرمیوں میں کینیڈا سے کراچی آنے پر جب کچھ ہفتوں کے لیے یہ کمرا میرا مسکن ٹھہرا تو میں ابا کے ریلوے کے ماضی کی کھوج میں اس دفینےکو کھنگالتا تھا۔ وہیں کہیں ایک گوشوارے نما مجلد ڈائری ہاتھ لگی۔ اندر کے صفحوں میں ابو کی نفیس اور قاعدے کی پابند لکھائی میں یہ کراچی سرکلر ریلوے کے دنوں کا ٹریولنگ الاوٗنس کا ریکارڈ تھا۔ پاکستان ریلوے کے رائج الوقت مخفف میں کچھ بھولے بسرے سٹیشنوں کے نام نظر پڑے ۔
KMR کیماڑی،
KRSZ کارساز،
MDCL ماڈل کالونی،
DCL ڈرگ کالونی اور دوسرے۔
وہیں ان سٹیشنوں کے جھرمٹ میں وہ نام جگمگا رہا تھا جس کی مجھے تلاش تھی،
DPHL ڈپو ہِل۔
1972 کے اپریل کا ذکر ہے کہ دس سے بائیس تاریخ کے درمیانی عرصے میں ابا نے ڈپوہل جنکشن پر ٹریولنگ الاوٗنس کلیم کیا تھا۔ وہاں یادوں کے کمرے سے برآمد ہوئے ایک ماضی گزیدہ گوشوارے کی پرتوں سے ڈپوہِل کا محبوب نام جھانکتا اس بات کی دعوت دیتا تھا کہ اس سٹیشن کو حال کے نقشے پر دریافت کرنے کی کوئی تدبیر کی جائے۔

اگر آپ شارع فیصل سے گزرتے ہوئے ناتھا خان کے پُل کے اوپر سفر کرتے ہوں کچھ اس طرح کہ تارڑ کی راکھ کے لفظوں میں آپ کے دائیں بائیں ایک بھگدڑ کے عالم میں اہلِ وطن بھی سفر کرتےہوں تو بہت ممکن ہے کہ ڈرگ روڈ اور ڈرگ کالونی کے جنکشنوں سے مین لائن سے جدا ہوتی تھوڑا آگے جاکر آپس میں ملتی کیکرکی خودرو جھاڑیوں میں ڈھکی چُھپی اس مسکین ریلوے لائن سے آپ صرفِ نظر کرجائیں جو گلستانِ جوہر کے کنکریٹ کے جنگل کی سمت چلتی چلی جاتی ہے۔ کراچی سرکلر ریلوے لائن کو جو اب سروس روڈ کے تارکول میں دفن ہے تھم کر دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ناتھا خان پُل کی عیاشی چھوڑ کر نیچے سے گزرنے والی اس چومکھی روڈ سے گزریں جیسا کہ اس شام قیوم کی کلٹس کچھ جھجھکتے کچھ چھچھلتے گزرتی تھی کہ وہیں کہیں لوگوں اور گاڑیوں کے اژدھام میں ہم ڈپوہل جنکشن کو کھوجتے تھے۔
قیوم اور اس کی سوزوکی کلٹس سے ہمارے پڑھنے والوں کا تعارف مناباوٗ کے گمشدہ شہیدوں کی کہانی میں ہوا تھا۔ تھر کے ریگزار میں کھوکھروپار سے نگر پارکر کی ریت پھانکتے اور خاک چھانتے گاڑی ڈباوٗ ٹیلوں سے نبرد آزما قیوم کا بڑا جگرا تھا کہ ہم کتنی ہی پرمشقت گھاٹیوں اور صبرآزما ٹیلوں سے بے خطر گزرگئے تھے
سڑک تو سڑک، ریت کے ٹیلے بھی نہ چھوڑے ہم نے
اور ہرظرف آزما مرحلے میں اس کا ایک ہی جواب ’بھائی آپ دل بڑا کریں، گاڑی کی اور میری فکر چھوڑیں‘۔ توکراچی میں بھی وہی قیوم تھا، اسکی سوزوکی کلٹس تھی جب ہم نے ڈپوہِل کے نقشے سیدھے کیے اور اولڈ مین محمد سعید ریٹائرڈ سٹیشن ماسٹر کو ساتھ لیا، اس رسان کے ساتھ کہ انہیں گمان بھی نہ ہو کہ ہم کیا کرنے جارہے ہیں، ’ابو آوٗ ذرا شہر دا چکرلا کے آنے آں‘۔
اب یہاں مشکل یہ درپیش تھی کہ گوگل میپ پر ڈپو ہِل کے کھنڈرکوجاتا راستہ ناتھا خان کے پُل کی طرف سے بند تھا۔ تو ہم نے گلستانِ جوہر کی طرف سے قسمت آزمائی کی۔ کراچی ایئرپورٹ کے رن وے اور سینڑل آرڈننس ڈپو کی زمین کے درمیانی ویرانے کو ایک نالہ دو حصوں میں کاٹتا ہے جہاں کنکریٹ کی ایک قدِ آدم دیوار کے ساتھ ایک کچا راستہ چلتا چلا جاتا ہے۔ جوہر چورنگی سے جب ہم اس کچے راستے پر اترے تو ایک تو چارسُو کیکر کا گھنا جنگل تھا جس کے ایک طرف کنکریٹ کی دیوار سے لگ کر کیِل کانٹوں اور پتھروں سے لیس ایک تنگ راستہ تھا جس پر ایک وقت میں صرف ایک گاڑی جا سکتی تھی، مگر وہاں آدم نہ آدم زاد، کوئی اور گاڑی کہاں سے آنی تھی۔ ایک دفعہ تو میں نے ٹھٹھک کر قیوم کو دیکھا اور وہ ظالم مسکراتے ہوئے بولا، بھائی آپ دل بڑا کریں، گاڑی کی اور میری فکر چھوڑیں۔ پچھلی سیٹ پر بیٹھے ابو کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ہم کرنا کیا چاہ رہے ہیں اور اگلی سیٹوں پر بیٹھے قیوم اورمیں سمجھ نہیں پارہے تھے کہ عقل بتدریج زائل ہورہی ہے یا اس ویرانے میں کوئی واردات ہونے والی ہے۔ لگ بھگ ڈیڑھ دو کلومیٹر چل کر ہمیں کیکر کی جھاڑیوں سے پرے ایک مسافر ریلوے پُل کی جھلک نظر آئی اور وہاں اس ویرانے میں پرانے سٹیشن ماسٹر کی آنکھوں میں جیسے شناسائی کی ایک جھلک جاگی۔
اب وہاں دوچار ہاتھ جبکہ لبِ بام رہ گیا تھا دو نئے مقدمے کھڑے ہوئے۔ ایک تو جس راستے پر ہم کھڑے تھے وہاں سے ڈپوہِل سٹیشن تک جانے کا راستہ کیکر کے جنگل سے اٹا پڑا تھا۔ ہم لاکھ متقی ہونے کا دعوٰی کریں مگر اس کانٹوں سے اٹے جنگل سے قدم قدم پر زلیخائی کرواتے ہوئے ثابت وسالم کپڑوں کےساتھ سٹیشن پر پہنچنا مشکل تھا۔ دوسرا وہاں ’ایریے کی زمینی قراولی‘ کرتے ہوئے مجھ پر منکشف ہوا کہ وہ پاک فوج کے سینڑل آرڈیننس ڈپو کی ذمہ داری کا علاقہ تھا اور ان کے واچ ٹاورز کی زد پرتھا۔ سٹیشن پر اگر ہم پہنچ بھی جاتے تو کسی سنتری کے رائفل فائر کی زد پر ہوتے۔ سو ڈپوہِل جنکشن کے پلیٹ فارم تک رسائی کے لیے آرڈننس ڈپوسے اجازت کا حصول ضروری تھا۔
اس ایمان سے بھی زیادہ کمزور اور نیت سے بھی زیادہ ڈانواں ڈول کچے راستے پر ہم واپس ہوئے اور جوہر چورنگی سے ایک لمبا چکر کاٹ کر آرڈیننس ڈپو کے مین گیٹ پر اجلاس فرمایا۔ یہاں ہمارے پاک فوج سے ریٹائرڈ افسر کے کوائف کام آئے اور بہت جلد ہم فون پر ڈپو سیکیورٹی افسر ڈیوٹی جے سی او سے بات کررہے تھے۔ صوبیدار صاحب ’السلام علیکم سر!‘کے فوراً بعد یہ جان کر گاڑی میں 1972 کے دنوں کا ڈپوہِل کا سٹیشن ماسٹر بھی موجود ہے فوراً کھڑے ہوگئےاورایک عجلت سے عبارت بھاگ دوڑکے بعد نہ صرف یہ کہ ڈپوکا اجازت نامہ بلکہ ریٹائرڈ سٹیشن ماسٹر کی ذاتی اردل میں ایک گائیڈ بھی ہمارے ساتھ کیا۔ عنصر ڈپو کے بیرونی حصار پر مامور ڈیوٹی افسر تھا جو ہمارے ساتھ ہوا اور ناتھا خان پُل کے نیچے بہتی بے ہنگم ٹریفک میں جب ہم سفر کرتے تھے کچھ اس طرح کہ ہمارے دائیں بائیں ایک بھگدڑ کے عالم میں اہلِ وطن بھی سفرکرتے تھے،عنصر ہمیں اس جگہ لے آیا جہاں کچھ کچھ ظاہر اور کچھ کچھ زمین میں پوشیدہ گئے وقتوں کے سرکلر ریلوے کی پٹڑی چلتی تھی۔ ڈپوہِل کاجنکشن یہاں سے بھی کچھ فاصلے پر تھا اور قیوم نے آوٗ دیکھا نہ تاوٗ گاڑی اس نیم خوابیدہ ریل کی پٹڑی پر چڑھادی اور وہاں تک چلا کر لے گیا جہاں سے سامنے پلیٹ فارم نظر پڑتا تھا۔ پچھلی سیٹ پر بیٹھے عنصر نے اتر کر ایک احترام میں ابو کی طرف کا دروازہ کھولا اور گئے وقتوں کے سٹیشن ماسٹر کو ساتھ لے کر ڈپوہل جنکشن کے پلیٹ فارم کی طرف چل پڑا۔ میں نے کیمرہ سنبھالا اور اس احتیاط کے ساتھ کہ ڈپو کے گائیڈ اوراپنے سٹیشن ماسٹرکی باہمی مشاورت و یاترا میں مخل نہ ہوں ان کے پیچھے چل پڑا۔




صاحبو گئے وقتوں کے ڈپوہِل جنکشن سے اب کوئی ٹرین نہیں گزرتی۔ پٹڑیوں کو باہم ملاتے جدا کرتے کانٹے زنگ آلود ہوچکے ہیں، اِنر اور آوٗٹر سگنلوں کے ڈھانچوں میں اب ابابیلوں اور دوسرے پرندوں کے آلھنے جھولتے ہیں، خودور کیکر کی جھاڑیوں نے پلیٹ فارم اور اس کے ساتھ چلتی ریلنگ کو ڈھانپ لیا ہے۔ عمارت پر کیا تازہ رنگ وروغن چغلی کھاتا ہے کہ یہ حال ہی میں سرکلر ریلوے کی بحالی کے کھوکھلے نعروں کے دنوں کی لیپا پوتی ہے، مگر ہر ایک مکان کو بھی تو مکین سے شرف ہوتا ہے۔ سٹیشنوں سے ریل گاڑیاں اور ان کے مسافر روٹھ جائیں تو بکنگ کلرک کی کھڑکی اور سٹیشن ماسٹر کا دفتر بھوت بنگلہ بن جاتا ہے۔ ایسے ہی بھوت بنگلے کے سامنے میں نے گئے وقتوں کے ڈپوہِل کے سٹیشن ماسٹر کا کلوز اپ لیا تو اس ضعیف جُثے میں توانائی کی لہریں کروٹیں لیتی تھیں۔ ابو اپنے گئے وقت کی کچھار میں ایک وقارمیں ایک پراعتماد انداز میں کھڑے تھے اور ان کے چہرے پر وہی ملکوتی مسکراہٹ تھی جو گزرے وقت کو نبھادینے کی طمانیت سے جنم لیتی ہے۔ انٹاریومیں کیا ہوا وعدہ میں نے پورا کردیا تھا اور اولڈ مین ڈپوہِل جنکشن کی مانوسیت میں پل بھرکو سہی پھرسے جوانی جی رہا تھا۔




پلیٹ فارم پر چلتے پھرتے جب کچھ تنہائی میسر آئی تو میں ابو کے ساتھ پٹڑیوں کے سر کے اوپر سے گزرتے مسافروں کے پُل پر چڑھا اور دھیرے سے پوچھا،’ہنسوں کے اس جوڑے کا کیا ہوا جو اس رات آخری لوکل کو وداع کرکے دفتر کو لوٹتے آپ نے اس پُل پر دیکھا تھا‘۔
’چل شتونگڑا کسے تھاں دا!‘۔
مگراس پل ان بوڑھی آنکھوں سے جھلکتی نوجوانی کی وہ شرارتی چمک میں نے صاف دیکھ لی تھی۔
تو صاحبو، بہتر کے اپریل کی کراچی کی فرحت بخش نم ساحلی ہوا کی ٹھنڈک سے دُھل کے نکلتی جوبن پر آئی اس رات ہمارا سٹیشن ماسٹر ڈپوہِل کی ایک چالیس کی لاسٹ لوکل کو ہری جھنڈی دکھا دفتر کو پلٹ رہا تھا، جب اس نے سرگوشیوں کی کھوج میں پُل کے اوپر ہنسوں کا ایک جوڑا کچھ اس عالم میں دیکھا کہ بانہیں بانہوں میں، ہونٹ ہونٹوں پر
تو عین ممکن ہے کہ وہ ٹائم شائم پوچھ لینے کو آگے بڑھ کر کھانس دیا ہو۔
یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ایک احتیاط میں دبے پاوٗں ان کی تنہائی میں مخل ہوئے بغیر آگے بڑھ گیا ہو۔ اور بعد میں اپنے دفتر میں ڈیسک پر بیٹھے بیٹھے ان کے بارے میں سوچتا ہو، کچھ کچھ کام کرتے ہوئے اور کچھ کچھ دل ہی دل میں اپنے نئے افسانے کا تانا بانا بنتے ہوئے۔
اور صاحبو یہ بھی تو ممکن ہے کہ ریلوے پُل پر اپنے آپ میں بے خود ہنسوں کے اس جوڑے میں ایک فریق بذاتِ خود ہمارا سٹیشن ماسٹر ہو ۔ آخر کو ایک خوبرو، نوجوان، ہنوز کنوارے، عروس البلاد کی سرکاری نوکری اور اپنے افسانوی مشاغل میں مسرور ہمارے سٹیشن ماسٹر کے اپنی محبوبہ کو بانہوں میں بھر لینے کے سارے کوائف پورے تھے۔
گلشنِ یاد میں گر آج دمِ بادِ صبا
پھر سے چاہے کہ گل افشاں ہو تو ہوجانے دو
عمرِرفتہ کے کسی طاق پہ بسرا ہوا درد
پھر سے چاہے کہ فروزاں ہو تو ہوجانے دو


صاحب آپ سوچیے، ہمیں تو اپنے بزرگوار سے اللہ ان کی عمر دراز کرے یہ پوچھنے کی کبھی ہمت نہ ہوگی، ، بعینہٖ جیسے ہم آج تک ان سے یہ نہیں پوچھ پائے کہ ان کے لکھے افسانوں میں عین محبت میں جب وقتِ حجاب آجاتا تھا تو وہ گن کر کتنے نقطے لگاتے تھے ۔۔۔۔

