اور بی آر بی کے مورچے
نہر کے کنارے پر
اگر آپکا تعلق مطالعۂ پاکستان کے خانوادے سے ہے اور آپ یہ سمجھتے ہیں کہ 6ستمبر 1965 کی صبح عیار دشمن نے بغیر اعلان ہم پرجنگ مسلط کی تھی کہ وہ اسی شام لاہور جمخانہ میں جام پر جام لنڈھائے تو مناسب ہے آپ ابھی سواری بدل لیجیے۔ مزیدبرآں اگر آپ کو یہ مغالطہ بھی لاحق ہے کہ ستمبر کی جنگ میں ہماری شیردل سپاہ کی راست امداد میں کچھ سبزپوش بزرگ بھی تھے جو ہندوستانی گولوں کی تاک میں بیٹھے تھے اور پلوں پر گرنے سے پہلے اچک کر انہیں کیچ کرلیتے تھے تو بھی آپکو مایوسی ہوگی۔ ہماری اس کہانی کا پل گستاخانہ حد تک گمراہ تھا کہ کسی سبز جریب والے بزرگ کا معتقد تو بہت دور کی بات ہماری اپنی سپاہ کے گولہ بارود سے بھی تباہ ہونے سےیکسر انکاری۔ رہ گئی بات لاہور جمخانہ میں جام لنڈھانےکی تو اس سلسلے میں (یعنی جام لنڈھانے کے سلسلےمیں ) ہم کافی حد تک خود کفیل تھے۔ اس شغل کے لیے ہمیں کسی عدو کی ضرورت نہ تھی۔
تو صاحبو، فوج سے ریٹائرمنٹ لے لینےکے بعد والے ایک ستمبر کا ذکر ہےکہ میں ایک نجی میڈیکل لیب کے تازہ تازہ نمو پاتے لاہور ریجن کے آپریشنز کی کمان سنبھالنےاسلام آباد سےاس شہر دلپذیر میں وارد ہواتھا اور ابھی ہوٹلوں اور گیسٹ رومز کا مہمان تھا۔ لاہور کی محبت سے بوجھل ایک شام دل جو بہکا تووائی بلاک سےکشاں کشاں نہر پر لے آیا۔ لاہوربرانچ نہر جو بمبانوالہ ۔راوی ۔ بیدیاں لنک کینال سے نکلتی ہمارے دلدار شہر کو دو حصوں میں کاٹتی ٹھوکرنیاز بیگ سے ہوتی ملتان روڈ کی ہمراہی میں رائے ونڈ کی زمینوں کو جانکلتی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ باغبان پورہ سے تھوڑا اِدھر جی ٹی روڈ کی سنگت میں گھوڑے شاہ سے گِرے اور کاپر سٹور میں اٹکےہم یو ای ٹی کے باسی لاہور کی نہر سے حسد کرتے تھے کہ اس پر پنجاب یونیورسٹی کا نیو کیمپس آتا تھا جہاں بقول فرحت عباس شاہ
نہر کے کنارے پر
شام سے ذرا پہلے
تتلیاں اترتی ہیں
آتے جاتے پھولوں کو
چھیڑ کر گزرتی ہیں
ہمارے حسد کی وجہ آخری دو لائنوں میں صاف ظاہر ہے۔ الیکٹریکل اور مکینیکل کی خشک سالی کے ترسے ہوؤں کا کانسولیشن پرائز آرکیٹیکچر ڈیپارٹمنٹ تھا جس میں ہمارا یار دلدار کیڈٹ کالج پٹارو کا ’ناصی‘ راجہ اندر بنا پھرتا تھا۔وہ بھی کیا دن تھے! اب پلوں کے نیچے سے اتنا پانی گزر جانے کے بعد ہمیں تو یہ بھی یاد نہیں کہ یہ نظم فرحت عباس شاہ نے کہی تھی کہ کسی اور نے۔ آپس کی بات ہے فرحت عباس شاہ بھی کچھ اس سبب سے یاد آئے کہ کچھ عرصے بعد جب دھڑادھڑ ان کی کتابوں کا تانتا سا بندھ گیا توایک دوست نے ان کی تخلیقات کے نوماہی اشاعتی وقفے کوایک اور بھلے سے فطری عمل سے تشبیہہ دی تو سچ کہیں ہمارا دل زچہ اور بچہ دونوں سے کھٹا ہو گیا۔ دیکھیے قلم بہکنے کو پھرتا ہے تو ایسا کرتے ہیں واپس لاہور کینال کی اور پلٹتے ہیں۔
لاہور کینال کا منبع و مخرج بمبانوالہ راوی بیدیاں لنک نہر ہےجو ڈسکہ کی قربت میں بمبانوالہ گاؤں کے پاس اپرچناب کینال سے نکلتی راوی کے نیچے سے گزرتی، بیدیاں کی قدم بوسی اور قصور شہر کا طواف کرتی لگ بھگ سو میل کا فاصلہ طے کرکے چونیاں کے جنوب میں کنگن پور گاؤں کے پاس دریائے ستلج میں جا گرتی ہے۔ ہمارے لاہورکے کھوجی مجید شیخ بتائیں گے کہ یہ نہر اور اسکی لاہور سے گزرتی شاخ انگریز سرکار نے 1861 میں لاہور اور فیروزپور کے بیچ کی بنجر زمینوں کی آبادکاری کے لیے نکالی تھیں۔ بی آربی نہر 1965 کی پاک بھارت جنگ میں لاہور کی دفاعی لائن بن کر سامنے آئی۔ ہمسایہ ممالک کے عسکری روزنامچے اسے اچھوگلِ کینال کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ستمبر 2014 کی اس لاہور کی محبت سے بوجھل شام میں لاہور برانچ کینال سے سیدھا بی آربی نہرکی طرف آنکلا تھا۔
باٹا پور کی یادگار
جہاں لاہورکینال اور بی آربی آپس میں گلے ملتی ہیں وہیں اگر ہم منہ اور نیت شمال کی سمت کرلیں اور ’نہرونہر ‘ ہوجائیں تو لگ بھگ چارپانچ فرلانگ پر جہاں جی ٹی روڈ ہماری نہر سے گزرتاہے باٹا پور کا پل ہے۔ 6ستمبر کی صبح ایک کمال چابکدستی سے انڈین 3جاٹ کی پلٹن اس پل کی طرف رواں دواں تھی جب پاکستانی 3بلوچ رجمنٹ کے سپاہی رات کے چھاوٗنی سے مارچ کے بعد ابھی دفاعی لائن پر پہنچے تھے اور مورچے تازہ کرنا شروع ہی ہوئے تھے۔ اب یہاں باٹا پور کی یادگار کھڑی ہے جس کی عبارت جنگِ ستمبرکے شہیدوں اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ہمیں بتاتی ہے کہ اس میدانِ جنگ میں بہت سی پلٹنوں اور ان کے سپاہیوں کا لہو شامل ہے۔اس جنگ کا کھُرا پکڑنے کے لیے ہمیں باٹاپور کے پل سے مشرقی سمت واہگہ کی سمت چلنا ہوگا، جہاں ڈوگرئی ہے، گوسل دیال کے گاؤں ہیں، ایک سرحدی چوکی ہے اور پاکستان انڈیا کو کاٹتا انٹرنیشنل بارڈر ہے۔ 6ستمبر 1965 کی صبح ہندوستانی وقت کے مطابق چار بجے اور پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق ساڑھے تین بجے کا وقت تھا جب ہندوستانی فوج کی دو ڈویژن پر مشتمل فوج نے پاکستانی سرحد پار کی۔
دیال کے سرحدی گاوٗں میں لیفٹیننٹ عبدالمالک نے واہگہ کی سمت سرحد سے فائرنگ کی آوازیں سُنیں تو خبر لینے کے لیے جیپ لے کر سرحد کی سمت نکلے۔ لیفٹیننٹ مالک دیال گاوٗں میں 23فیلڈ رجمنٹ آرٹلری کے دیدبان یعنی آبزرور تھے۔صبح صادق کی مدھم روشنی میں انہوں نے سڑک کے دونوں طرف اجنبی فوجی دستے مارچ کرتے ہوئے دیکھے تو ان کا ماتھا ٹھنکا۔ وہ ایک روانی میں ہندوستانی حملہ آور فوج سے آٹکرائے تھے جنہیں انہیں جنگی قیدی بنانے میں دیر نہیں لگی۔
پاکستانی 114بریگیڈ کے بریگیڈ میجر کو واہگہ اور اچھوگِل کی سرحدی چوکیوں سے فائرنگ کی اطلاع لگ بھگ 3:50 پر ملی۔ اس پہلے پیغام کے قریباً پندرہ منٹ بعد ہی 4:05 پر ہمارا رابطہ میجر عارف جان سے منقطع ہوگیا۔ میجر عارف جان 11فرنٹیئر فورس کی ڈیلٹا کمپنی کی کمان کررہے تھے۔ گوسل ۔ دیال گاؤں میں تاخیری حربے کے طورپر ہندوستانی سپاہ سے ہلکی جھڑپ کے لیے ڈیلٹا کمپنی ریکائل لیس رائفل بردار جیپوں کے ساتھ موجود تھی مگر یہ 3جاٹ کے اچانک حملے کا وزن نہ سہارسکی۔
3جاٹ کی Bکمپنی نے طلوع ہوتی صبح کی روشنی میں دشمن کی سکرین پوزیشن دیکھی۔ صوبیدار خازن سنگھ کی قیادت میں کمپنی نے ’جاٹ بلوان، جے بھگوان‘ کی للکار سے حملے میں پہل کردی۔ دشمن کی ایک گولی صوبیدار کے ہیلمٹ پر لگی اور کمانڈر کے گرتے ہی کمپنی کچھ دیر کے لیے شانت ہوگئی۔ لانس نائیک فتح سنگھ اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکا اور ایک گرینیڈ لے کر دشمن کی مشین گن پوزیشن پر لپکا۔ مشین گن تباہ کرتے سمے وہ خود بھی دشمن کی گولیوں کی زد میں آکر مارا گیا۔
صوبیدار خازن سنگھ کہ معجزانہ طور پر گولی بغیر کوئی نقصان کرتے ہوئے اس کے ہیلمٹ سے پار ہوگئی تھی، اب سنبھل چکا تھا۔ اس کی قیادت میں جاٹوں کا 11ایف ایف کی ڈیلٹا کمپنی پر حملہ فیصلہ کن تھا۔ آگے والی پلاٹون جس میں میجرعارف جان موجودتھے اسے پس قدمی کی مہلت نہ ملی اور ان میں سے اکثر شہید ہوگئے اور بقیہ جنگی قیدی بنالیے گئے۔ جب جنگ ختم ہوگی تو جنگ بندی کے بھی کافی عرصے بعد 2مارچ 1966 کو انڈیا سے ملنےوالے شہداکےجسدِ خاکی میں سے ایک کی شناخت میجر عارف جان کے نام سے ہوگی۔ 11ایف ایف کے ڈیلٹا کمپنی کمانڈر میجر عارف جان، 6ستمبر کو اپنی فاروڈ پلاٹون کےساتھ 3جاٹ سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے تھے۔ وہ رائل آرٹلری بازار کے پاس لاہور کینٹونمنٹ بورڈ کے شہداء قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں جہاں انکی تدفین جسدِ خاکی ملنے کے بعد 4مارچ 1966 کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ کی گئی۔
6ستمبرکی صبح چار بجے کا وقت تھا جب لیفٹیننٹ کرنل ڈیسمنڈ ہیڈ کی قیادت میں انڈین 3جاٹ کے جوان پاکستان کی سرحد میں داخل ہوگئے۔ کوئی سوا گھنٹے کے اندر یہ پلٹن سرحد سے پندرہ سو گز اندر لاہور سے پندرہ میل دور گوسل اور دیال کے گاؤں پر قابض ہوچکی تھی۔
اللہ، آرٹلری، اور ایئر فورس
بہت دن نہیں گزرے کہ بھارت اور پاکستان، دونوں ہمسایہ ملکوں کے مابین بیتی جنگی جنون کی ایک حالیہ قسط کے دوران ہماری میجر ریٹائرڈ قیصر محمود حال مقیم مسی ساگا سے گفتگو رہی۔ آپ ہمارے سینیئرہیں اور فوج سے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لینے سے قبل لگ بھگ چھ سات سال نوشہرہ، کھاریاں اور کاکول میں ہمارا ساتھ رہا۔ ہم حالات حاضرہ کے تناظر میں فوج کی ریزروسٹ لسٹ کی میدانِ جنگ پر طلبی کی صورت میں اپنے آپشنز پر غورکررہے تھے۔ اورتب ہم پر منکشف ہوا کہ توپخانے کے ریٹائرڈ میجر ہونے کے ناطے ہم دونوں ٹھہرے فوج کے ہما شما (آپس کی بات ہے ’توپوں کاچارہ‘ بمثل cannon fodder کہنے کی ہماری ہمت نہیں پڑی)۔ بہت ہوا تو میدانِ جنگ میں ہماری کھپت کی معراج کالاخطائی کےریزرو فارسٹ میں کسی درخت کی مچان ہوگی۔ جہاں کسی انفنٹری پلٹن کی راست امداد میں گولوں کی بارش پر ہمارا دیا گیا فائری حکم عین وقت پر رد کردیا جائے گا بالکل ایسے کہ جیسا 6ستمبر کی صبح لاہور کی سرحد پر بیٹھے کیپٹن ریٹائرڈ خوشی محمد کے ساتھ ہوا تھا۔ صاحبو اب یہ بات لگتی تو غیریقینی سی ہےمگر ہوا کچھ ایسے ہی تھا جیسا کہ جنرل محمود احمد کا لاہور کے محاذ پر ستمبر کی جنگ کا روزنامچہ ہمیں بتاتا ہے۔
کیپٹن خوشی محمد ایک ریزروسٹ افسر تھے جو گیارہ بلوچ کی براوو کمپنی کے ساتھ آرٹلری آبزرور تعینات تھے۔ اوائلِ ستمبر کی طلوع ہوتی ایک لاہوری سویر کی ملگجی روشنی میں انہوں نے اچھوگل کے سرحدی گاؤں کی قربت میں نمودار ہوتے ہندوستانی فوجی دستوں پر توپخانے کا فائر منگوایا۔ آرٹلری آبزور کا دیا گیا فائری حکم رد کردیا گیا کہ آرٹلری کا فائر ڈویژن ہیڈکوارٹرکی اجازت کےبغیر نہیں کھولا جاسکتا۔ خوش قسمتی سے گیارہ بلوچ کے ساتھ میجر سعادت علی چوہدری بیٹری کمانڈر کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ آپ کمانڈر کورآرٹلری کے بھائی تھے۔ فوراً سے پیشتر فائری نیٹ پر آئے اور اپنی ذمہ داری پر توپخانے کو فائر کرنے کا حکم دیا۔ یہ 23فیلڈ آرٹلری کی توپیں تھیں جنہوں نے پہلے پہل فائر کھولاتو ہندوستانی سپاہ کو اچھوگل اُتر کےسرحدی گاؤں سے آگے آنے کا حوصلہ نہیں ہوا۔
صاحبو ہماری سپاہ کی لڑی پینسٹھ کی جنگ میں انگریزی حرف A جو کہ اردو کے الف کے مترادف ہے کا بڑا رتبہ ہے۔ الف تو ویسے بھی بڑا بابرکت حرف ہے جس کے آگے بقول بابا بلھے شاہ بات ختم ہوجاتی ہے
علموں بس کریں اویار
اکو الف تیرے درکار
ہماری جنگِ ستمبر میں تو بابا بلھے شاہ کا کوئی حصہ نہیں لیکن ایک زبان زدِ عام فوجی کہاوت کے مطابق تین چیزیں تھیں جن کے نام انگریزی حرف A سے شروع ہوتے ہیں جنہوں نے جنگِ ستمبر میں ہماری لاج رکھی۔ اللہ، آرٹلری اور ایئرفورس۔ اور یہ بات کچھ ایسی غلط بھی نہیں۔ تو صاحبو پہلا نام خدا کا۔ دوسرے آرٹلری کی ایک جھلک تو آپ نے اوپر دیکھ لی، فضائیہ کا احوال کچھ یوں ہے کہ پاک فضائیہ کے ایئر کموڈور ریٹائرڈ سجاد حیدر، نوزی حیدر کے نام سےایک دیومالائی شہرت رکھتے ہیں۔ 6ستمبر کی صبح وہ نمبر 19 شیردل سکواڈرن کو سونپے گئے مشن کی قیادت کررہے تھے۔
طیاروں کا رخ سیالکوٹ ۔ شکرگڑھ سیکٹر کی طرف تھا جہاں جسڑ چوکی سے پار ایک انڈین آرٹلری رجمنٹ ہمارا ہدف تھی۔ ہدف سے پانچ منٹ کی دوری پر اچانک وائرلیس سیٹ نے کھنگار کر گلا صاف کیااور ریڈیائی لہروں پر ائیرڈیفنس کمانڈر کی آواز گونجی۔ طیاروں کی فارمیشن کو جسڑ مشن منسوخ کرکے فوری طور پر اٹاری کے سرحدی گاؤں پر دشمن پر گولے برسانے کا حکم ملا۔ دشمن کی سپاہ جو لاہور کی طرف پیش قدمی کررہی تھی۔ لاہور پر حملے کی خبر مجھےکسی دس لاکھ واٹ کے برقی کرنٹ کی طرح لگی۔
6ستمبر کی صبح نوزی حیدر کے فضائی دستے نے جی ٹی روڈ پر نیچی پرواز کرتے ہوئے گوسل ۔ دیال سے اٹاری تک تباہی مچادی۔ نہ صرف یہ کہ ہندوستانی سپاہ کے انتظامی دستے جانی اور رسدی نقصان اٹھاتے ہوئے تتر بتر ہوگئے بلکہ ہراول دستوں کے بھاری ہتھیار اور گاڑیاں بشمول ٹرک بھی تباہی کی زد میں آئے۔پاک فضائیہ کے ان نشان برہدف حملوں نے مارچ کرتے انڈین دستوں کا مواصلاتی نظام درہم برہم کردیا۔ ہندوستانی سپاہ کو حملے کے پہلے دن یہ فضائی ضرب بہت مہنگی پڑنے والی تھی۔ اس تباہی و بربادی سے جو یونٹ محفوظ رہی وہ تھی ہندوستانی حملے کی ہراول پلٹن 3جاٹ رجمنٹ۔
لکھنکے کا دیدبان
ایک شتابی میں چلے تین جاٹ کے سپاہی بہت پہلے ہی گوسل۔دیال کے گاوٗں سے آگے بی آربی نہر کی طرف پیش قدمی شروع کرچکے تھی اور نہر کے کنارے ڈوگرئی گاؤں کے پاس پہنچا ہی چاہتے تھے۔ یہ فوج ڈوگرئی سے پہلے لکھنکے گاؤں میں پہنچی تو ان پر توپخانے کا کارگر فائر آیا اور لکھنکے گاوٗں کے کسی اونچے مقام پر دشمن کے آرٹلری آبزرور کی کھوج شروع ہوئی۔ ایک بوکھلاہٹ کے عالم میں جاٹوں کی پلٹن کے ہمراہ 41 ہارس کے ٹینکوں نے لگ بھگ ایک سو گولے ہر مشتبہ جگہ پر پھونک ڈالےجہاں آرٹلری آبزرورکے موجود ہونے کا امکان تھا۔ لکھنکے کی مسجد کے مینار کے ساتھ ساتھ کئی اونچے برج زمیں بوس ہوئے مگر پاکستانی دید بان کا کوئی سراغ نہ مِلا اور نہ ہی آرٹلری کے کارگر فائر میں کوئی کمی آئی۔
اس دوران توپخانے کا کارگر فائر بدستور جاٹوں پر آتا رہا، یہانتک کہ سپاہیوں کو چلتے رہنے پر اکسانے کے لیے پلٹن کے جے سی اوز کو ہریانوی بھاشا میں غیر پارلیمانی الفاظ کا سہارا لینا پڑا۔ پھر کچھ یوں ہوا کہ میجر ایس آر یادَو جو سب سے آگے چلتی چارلی کمپنی کی کمان کررہے تھے نے ایک درخت کی مچان پر پاکستانی اوپی کو تاڑ لیا۔ وہ دو آدمیوں کو ساتھ لے کر آگے چلے اور بہت جلد ہی ایک بہت بہادر سیکنڈ لیفٹیننٹ الطاف حسین گِل کی لاش زمین پر پڑی تھی۔
اب یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نام کا کوئی افسر باٹاپور کے دستوں میں نہیں تھا اور نہ ہی لکھنکے کے درختوں پر کوئی فوجی شہادت لاہور کے 10ڈویژن کے ریکارڈ پرہے۔ لاہور کے گنجِ شہیداں میں پینسٹھ کی جنگ میں واہگہ کے محاذ پر توپخانے کے صرف ایک شہید کا مرقد ہے اور وہ ہے 91مارٹر بیٹری کا سپاہی محمد حنیف جس کی تاریخِ شہادت بھی بہت بعد یعنی 16ستمبر کی ہے۔ جنگِ ستمبر کے بعد جنگ بندی سے بھی پہلے محاذ در محاذ ایک جوش کے عالم میں گھوم پھر کر کہانیاں اکھٹی کرنے والے عنایت اللہ التمش بھی یہاں خاموشی سادھ لیتے ہیں یہ کہہ کر وہ لکھنکے کی مچان کے شہید صوبیدار کا نام معلوم نہیں کرسکے۔
ڈوگرئی گاؤں میں ہندوستانی سپاہ کے حملے پر تاخیری حربے کے لیے پاکستانی تین بلوچ رجمنٹ نے ایک پلاٹون بھیجی ہوئی تھی جو بعد ازاں بحفاظت بی آر بی نہر پر پس قدمی کرآئی تھی۔ ڈوگرئی میں 3جاٹ کے اس ’واک اوور‘ کا ذکر ہندوستانی ایک بڑی فتح کے طورپر کرتے ہیں بلکہ جوشِ خطابت میں 3جاٹ کے سپاہیوں کو 6ستمبر کے دن لگ بھگ ساڑھے گیارہ بجے باٹا پور کا پل بھی پار کراجاتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل ہربخش سنگھ کے مطابق تو یہ سپاہی باٹا شو فیکٹری تک چہل قدمی اور چمڑے کی مرمت کروا آئے تھے۔ بھوپندر سنگھ کہتے ہیں کہ لیفٹیننٹ کرنل ڈیسمنڈ ہیڈ کی قیادت میں 3جاٹ کی کمپنیاں باٹا پور کا پل عبور کرکے اتوکے اعوان اور دوسری باٹا پور تک جا پہنچی تھی۔ 6ستمبر کی صبح ساڑھے گیارہ بجے باٹا پور کے پل کے اطراف نہ صرف پاکستانی 3بلوچ کی اگلی دفاعی کمپنیاں تھیں بلکہ ان کی مدد کو 23کیولری کا ایک سکواڈرن اور ریکی اینڈ سپورٹ کی دو مزید پلاٹونیں بھی آچکی تھیں۔ 3جاٹ کی دو کمپنیوں کا اسقدر طاقتور رکاوٹ کو عبور کرجانا قرینِ قیاس نہیں۔
نہر والا پُل، گھڑ مَس، اور نائیک شریف شہید
جی ٹی روڈ کے اطراف باٹا پور کے پل سے جلو پل تک کے بی آربی کے دفاع کی ذمہ داری پاکستانی 3بلوچ رجمنٹ کی تھی۔ 6ستمبر کو طلوع ہوتے دن کے ساتھ جب ہندوستانی 3جاٹ اور 13پنجاب کے ہراول دستے بی آربی نہر پر پہنچے تو دفاعی مورچے مکمل تیارنہیں تھے۔ بلوچیوں نے دفاعی جنگ مورچوں سے باہر کھلی فضا اور اسی قدرفراخ دلی سے فائر کیے گئے پاکستانی اور ہندوستانی توپخانے کے گولوں کی چھاؤں میں لڑی اور بے جگری سے لڑی۔ سب سے اہم زمینی نشان بی آر بی نہر کے اوپر واہگہ سے لاہور کی طرف بلاروک ٹوک آمدورفت کو یقینی بناتے باٹاپور کے پل کو ابھی تک ممکنہ طورپر تباہ کرنے کے لیے تیار ہی نہیں کیاگیاتھا۔ بلوچیوں کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل(بعدازاں میجر جنرل ریٹائرڈ )تجمل ملک جب پل پر پہنچے تو جنگی مہاجرین کا ایک جم غفیر بسوں ٹرکوں اور بیل گاڑیوں پر سوار پل پر سے اٹکتا گزرتا لاہور کی سمت رواں دواں تھا۔
ہمارے پنجابی کے رنگ میں رنگی اردو کے ہر دلعزیز شاعر خالد مسعود اگر وہاں ہوتے تو کرنل تجمل کو لفظ ’گھڑمس‘ کا مطلب دکھا اور سمجھا دیتے۔ اپنی ایک مشہور عالم غزل کے مطلع کی تشریح میں کہ
ہیر کے بوہے اگے ویکھ کے عاشقوں کا گھڑمس
رانجھا تخت ہزارے ٹر گیا پھڑ کے پہلی بس
وہ اکثر کہا کرتے ہیں کہ گھڑمس دکھایا جاسکتا ہے سمجھایا نہیں جاسکتا۔
بقول میڈم نور جہاں ہمارے کرنل تجمل سوچتے ہوں گے کہ سانوں نہر والے پُل تے بُلا کے خورے انجینیئر کمانڈر کتھے رہ گیا۔ تو صاحبو چھ ستمبر کے اس نازک دِن نہر والے پل پر 3بلوچ کے کمانڈنگ افسر کو ایک بے تابی میں انجینیئر کمانڈر کا انتظار تھا کہ دشمن کے پہنچنے سے پہلے پہلے پل کو تباہ کرنے کے لیے بارود لگایا جاسکے۔ فوری بندوبست کے طورپر انہوں نے اپنی کمپنیوں سے دو عدد 106ملی میٹرٹینک شکن توپیں پل کے اطراف لگوادیں۔ چھ ستمبر کی صبح لگ بھگ ساڑھے دس بجے کا وقت تھا جب ڈوگرئی کی سمت سے انڈین 14ہارس کے دو ٹینک آتے دکھائی دیے۔ اس نازک موقعے پر 3بلوچ کی الفا کمپنی کی ٹینک شکن ڈیٹیچمنٹ نے جرات کی ۔ ڈرایئور سپاہی اکبر علی جیپ کو پل کے پار لے گیا اور کمانڈر نائیک شریف نے ریکائلیس رائفل کے فائر سے یکے بعد دیگرے دونوں ٹینک اڑا دیئے۔ ابھی گرد وغبار کا طوفان تھما نہیں تھا کہ ایک گھبراہٹ کے عالم میں بریگیڈ کمانڈر نے جسقدر دھماکہ خیز مواد پُل پر لگایا جا چُکا تھا اسے استعمال کرتے ہوئے انجینئیرز کو پُل اڑا دینے کا حکم دیا۔ پُل تباہ تو نہ ہوا البتہ اس میں ایک بڑا شگاف پڑ گیا جس میں نائیک شریف کی واپس پلٹتی جیپ پھنس گئی۔ وہاں سے نکلنے کی تگ و دو میں ہندوستانی ٹینک کا ایک گولہ شریف کی پیٹھ کو چیرتا ہوا نکل گیا۔ نائیک شریف وہیں شہید ہوگیا اور باقی ڈیٹیچمنٹ بمشکل وہاں سے نکل بھاگنے میں کامیاب ہوئی۔ سپاہی اکبر علی کمال حاضر دماغی اور مہارت سے اس گولہ باری میں ٹینک شکن جیپ ایک بغلی پُلی کے راستے نہر کے اپنی طرف والے دفاعی بند پر واپس لے آیا۔ اس کارنامے پر ہمارے ڈرائیور سپاہی کو تمغہ جرات عطا ہوا۔
ایک چوڑے شگاف کے باوجود باٹا پور کا پُل ابھی تک سالم تھا کہ کرنل تجمل نے چارے سے بھری ایک بیل گاڑی جو پُل پر پھنسی ہوئی تھی کی آڑ میں ایک ٹینک شکن توپ نصب کردی۔ ہندوستانی رسالے نے اس دن دوبارہ پُل کی طرف آنے کی ہمت نہیں کی۔
ایسے مشکل وقت میں خدا نے آڑ مہیا کردی۔ یہ ایک بیل گاڑی تھی جو ہرے چارے سے لدی ہوئی ڈوگرئی کی طرف سے آکر پُل سے گزر رہی تھی۔ کرنل تجمل حسین نے اس گاڑی کو روک لیا۔ گاڑی بان کو بیل کھول کر دور ہٹ جانے کو کہا اور نائیک اسلم کو آر آر گن والی جیپ آگے لانے کو کہا۔ ذرا سی دیر میں جیپ بیل گاڑی کی آڑ میں ہوگئی اور نائیک اسلم نے اس آڑ سے پہلا گولہ فائر کیا جو ٹھکانے پر لگا۔ دشمن نے بھی جوابی فائر کیا جس میں سے ایک گولہ بیل گاڑی کے لدے ہوئے ہرے چارے میں پھٹا اور جیپ بمعہ گن محفوظ رہی۔ اس سے ٹینکوں کی پیش قدمی رک گئی۔
واہگہ سیکٹر ۔ بی آر بی نہر اور باٹا پور کا پُل
باقی کا سارا دن ایک جزوی طور پر تباہ پُل کی حفاظت دفاعی بند پر تین بلوچ کی ایک ٹینک شکن جیپ کررہی تھی یا پھر دشمن کے رُخ اگلے بند پر پڑی نائیک شریف شہید کی لاش۔ دوپہر ڈھائی بجے کے قریب جب نائیک شریف شہید کا جسدِ خاکی پیچھے لایا گیا تو اسے یونٹ کے خطیب مولوی فضلِ عظیم نے وصول کیا۔ مولوی صاحب درسِ قرآن میں شریف کے استاد بھی تھے اور رازداں بھی۔ رشتے داری اور ذات برادری کی رکاوٹوں کے پار نائیک شریف دِل میں ایک محبت کا فسوں لیے گھومتا تھا، ایک عشقِ لاحاصل جسے شہید اپنے ساتھ ہی قبر میں لے گیا۔
اور پُل ٹوٹ گیا
ہماری انجینیئر ز کمپنی کے جوان پچھلے دن یعنی پانچ ستمبرسے پل کو تباہ کرنے کے لیے ’تیار‘ کر رہے تھے مگر بارود شارٹ سپلائی میں تھا۔ جو مہیا تھااس میں سے جسقدر وہ لگا پائے تھے بریگیڈ کمانڈر کے حکم پر قبل ازوقت پُل اڑا دینے سے اب وہاں شگاف پڑ گیا تھا۔ پل کو صرف جزوی نقصان پہنچامگر اب یہ ٹینکوں کے لیے ناکارہ ہوچکا تھا۔ یہ ساڑھے گیارہ بجے کا وقت تھا جب بقول ہندوستانی راویوں کے 3جاٹ کے پیادہ دستے باٹا پورکا پل عبور کرگئے تھے۔ حقیقت یہ تھی کہ ایک جزوی تباہ شدہ پل دیکھ کر ہندوستانی ٹینک کچھ فاصلے پر رک کر فائر کور دے رہے تھے۔ انہوں نے ایک کوشش اطراف کی طرف نکلنے کی کی تھی مگر ہمارے انجینیئرز کی بچھائی جعلی بارودی سرنگوں کے نشانوں سے گھبرا کر وہیں رک گئے تھے۔ ٹینکوں کی فائری مدد کی شہ پاکر تین جاٹ کے سپاہیوں نے باٹا پورکےپل پر ایک تھڑدلا سا حملہ کرنے کی کوشش کی تھی مگر تین بلوچ کے محافظوں اور 23کیولری کے ٹینکوں کے آگے انہیں منہ کی کھانی پڑی۔
اب باٹا پور کے پل کے پاس بی آربی نہر پر 3بلوچ اور 3جاٹ کے سپاہی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے مورچہ بند تھے اور پاکستان کی4انجینئربٹالین کی براوو فیلڈ کمپنی جان ہتھیلی پر رکھے سینڈ بیگ کی دیوار کی آڑ میں پل پر کام کر رہی تھی کہ اسے ہر قیمت پر مکمل تباہ کرنے کا آرڈر تھا۔ وہ گاڑی جو انجینئرز کا پل تباہ کرنے کا بارود لارہی تھی شومئی قسمت سے باٹا پور کے پل کے بالکل نزدیک جاری توپخانے کی شیلنگ میں ایک ہندوستانی گولے کی براہِ راست زد میں آگئی۔ ایک زوردار دھماکہ ہوا اور پل تباہ کرنے کا بارود جل کر خاکستر ہوگیا۔ باٹا پورکی نہر کا پل گستاخانہ حد تک ڈھیٹ ثابت ہورہا تھا۔ 6ستمبر کی شام آئی کھڑی تھی اور پل اپنی اسی ہٹ دھرمی پر کھڑا تھا۔ اب یہاں جو سبزپوش بزرگ مدد کو سامنے آئے وہ انجینئیرز کی براوو کمپنی کے آفیسر کمانڈنگ میجر آفتاب تھے۔ بارود نہ ہونےکی صورت میں انہوں نے دماغ استعمال کرتے ہوئے چھ چھ ٹینک شکن بارودی سرنگوں کے پچاس کریٹ تیار کروائے جنہیں انجینئرز کے شیردل جوان شدید فائرنگ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پل پر لگاتے رہے۔ 6ستمبر کی ساری شام اور رات یہ کریٹ لگائے جاتے رہے۔ جب آخری کریٹ رکھاجاچکا اور ڈیمولیشن چارج فائر ہوا تو باٹا پور کا پل ایک دھماکے سے اُڑ گیا۔ اسوقت 6 اور 7ستمبر کی درمیانی رات بارہ بج کر پینتالیس منٹ ہوئے تھے۔
6ستمبر کا سارا دن ہندوستانی ڈویژن اور بریگیڈ ہیڈکوارٹر اور دوسری یونٹوں کے دستے پاک فضائیہ کے حملے سے سنبھل ہی نہیں پائے تھے اور ابھی تک اٹاری اور گوسل ۔ دیال کے درمیان پڑاؤ ڈالے اپنے زخم چاٹ رہے تھے۔ مواصلاتی نظام درہم برہم تھا سو برلبِ سرحد بیٹھے انڈین 15ڈویژن کے کمانڈر کو 3جاٹ کے دلیر کارنامے کی کوئی خبر نہ تھی۔6ستمبر کی شام 3جاٹ کے کرنل ڈیسمنڈ ہیڈ نے اپنے انٹیلی جنس افسر کو پیچھے بریگیڈ ہیڈکوارٹرکی طرف روانہ کیا تاکہ اصل صورتحال اسے آگاہی دے کر مزید کمک اور فائری سپورٹ ڈوگرئی منگوائی جائے۔ حیرت انگیزطورپر بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندوستانی بریگیڈ کمانڈر نے 3جاٹ اور 14 ہارس دونوں یونٹوں کو بی آربی نہر کے پشتے سے واپس لوٹ جانے کا حکم دیا۔ بھارتی سپاہ کی واحد شیر دل پلٹن ڈوگرئی تک مارکرکے واپس گوسل ۔ دیال بلا لی گئی جہاں باقی کا بریگیڈ اپنےزخم چاٹ رہا تھا۔ ڈوگرئی کی لڑائی میں گیارہ جانوں کا نقصان اور چوالیس سپاہی زخمی کروا کر ہندوستانی 3جاٹ رجمنٹ وہیں پلٹ آئی تھی جہاں سے وہ صبح چلے تھے۔
3بلوچ کے ثابت قدم جوانوں نے 6ستمبر کا دن اپنے نام کروالیا تھا۔ یہ پلٹن ایک مستقل مزاجی سے باٹا پور کا دفاع کرے گی۔ باٹاپور کے پل پر ایک سنہری موقع گنوا کر پلٹتی 3جاٹ دوبارہ لوٹ کر آئے گی اور ڈوگرئی کے میدان میں ایک فیصلہ کن معرکہ پاکستانی 16 پنجاب سے لڑے گی اور ڈوگرئی کا میدانِ کارزار سجے گا۔ آج بھی شام کی چوپالوں میں جب جاٹ رجمنٹ کے سپاہی بیٹھتے ہیں تو اس رات کو یاد کرتے ہیں جب گھمسان کے رن میں ڈوگرئی کانپ اٹھی تھی
کہے سنے کی بات نہ بولوں گاؤں دیکھی بھئی
تین جاٹ کی کتھا سناؤں سن لے میرے بھائی
اکیس ستمبر رات گھنیری حملہ جاٹوں نے ماری
دشمن میں مچ گئی کھلبلی، کانپ اُٹھی ڈوگرئی
صاحبو، جہاں لاہورکینال اور بی آربی آپس میں گلے ملتی ہیں وہیں چند فرلانگ دور جہاں جی ٹی روڈ بی آر بی نہر سے گزرتاہے باٹا پور کا پل ہے۔ اب یہاں باٹا پور کی یادگار کھڑی ہے جس کی عبارت جنگِ ستمبرکے شہیدوں اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ہمیں بتاتی ہے کہ اس میدانِ جنگ میں بہت سی پلٹنوں اور ان کے سپاہیوں کا لہو شامل ہے۔ اگر آپ بیدیاں روڈ پر گنجِ شہیداں میں ہیں تو وہیں آپکو 3بلوچ کے سپاہی نذرحسین شہید کے ساتھ 38الیکٹریکل اینڈ مکینیکل بٹالین کے وہیکل مکینک شفیق الرحمان شہید کا مرقد نظرآئے گا۔ آر اے بازار کے شہداء قبرستان کی اجتماعی قبروں میں سے ایک میں 19انڈیپینڈنٹ فیلڈ کمپنی انجینیئرز کے اکٹھے چار شہیدوں کے جسموں کے مختلف حصے بخرے دفن ہیں۔ ایک طرف بنی دو قبروں میں 11 بلوچ رجمنٹ کے پانچ شہید سپاہی محمد شریف، رحیم داد، عالم خان، احمد یار، نذیر محمد اکٹھے دفن ہیں، کتبے پر تاریخِ شہادت 7ستمبر1965 درج ہے۔ اور اگر آپ شامی روڈ کے پار کیولری گراوٗنڈ قبرستان کے مسافر ہوتے ہیں تو یہاں دفن پینسٹھ کی جنگ کے شہداء میں قطار اندر قطار باٹا پور کی محافظ تین بلوچ رجمنٹ کے شیر دلیر سپاہی ابدی نیند سوتے ہیں۔ ایک طرف میجر چوہدری انوارالحق شہید آرام کرتے ہیں، ساتھ ہی ان کی یونٹ کے سپاہی محمد نذیر اور نائیک محمد زمان کے مرقد ہیں۔ تھوڑا ہٹ کے 7ستمبر1965 کے دن شہید ہوئے کلرک محمد صدیق ،نائیک حق نواز اور لانس نائیک عبدالغفور سو رہے ہیں۔ ان سب کا تعلق بھی 3بلوچ رجمنٹ سے ہے۔ اور پھر دوسرے ہیں جو ایک ثابت قدمی میں اپنے مورچوں میں ڈٹے رہے اور توپوں کے گولوں اور ٹینکوں کی یلغار میں کچلے گئے۔ مٹی میں مِل کے مٹی ہوئے تو ڈوگرئی سے باٹا پور کی زمین ان کا مرقد ٹھہری۔
باٹا پور کا میدانِ جنگ بہت مقدس ہے کہ اس میں بہت سی پلٹنوں اور ان کے ان گنت سپاہیوں کا لہو شامل ہے۔

