روہتاس کا سر کٹا جرنیل
سخی خان خواص سُکھے دا
دُکھ ونڈیندا ہے دُکھے دا
پیٹ بھریندا ہے بُھکھے دا
ساندل بار کی ایک کہانی ہے جو سخی خواص خان کو چناب کنارے کسی ’سُکھو تیلی دا پُتر‘ بتاتی ہے۔
چند برس اُدھر کا ذکر ہے جب کام کے سلسلے میں لاہور اور اسلام آباد کے مابین ڈرائیوز میں سے، جو اکثر براستہ گرینڈ ٹرنک روڈ المعروف جرنیلی سڑک عمل میں آتی تھیں، ایک ڈرائیو پر ہم کچھ وقت پس انداز کرکے دینہ سے کہان ندی کی سمت سڑک سے اترے اس آس کے ساتھ کہ روہتاس کے قلعے کو دیکھتے چلیں جسے جرنیلی سڑک والے شیرشاہ سے نسبت ہے۔ گرینڈ ٹرنک روڈ پر دینہ کے پاس سے وہ راستہ پکڑیں جو روہتاس کی طرف آتا ہے تو اسی سڑک پر یہ قلعے کا داخلی دروازہ ہے۔ اسے خواص خانی گیٹ بھی کہتے ہیں۔ دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی سڑک کے عین درمیان ایک نسبتاً مختصر لوپروفائل دربار ہے۔ آدم کے قد سے کافی چھوٹی ایک قبر ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہاں حضرت سخی خواص شاہ کا سرِ مبارک دفن ہے۔
تو صاحبو ساندل بار کی ایک کہانی ہے جو سخی خواص خان کو چناب کنارے کسی ’سُکھو تیلی دا پُتر‘ بتاتی ہے۔ کہانی کی شروعات تو دکن میں قلعہ برہان پور سے ہوتی ہے جہاں ایک نواب شیر خان لودھی ہے ’اوس شادی کیتی ۔ عورت نال بڑی محبت شحبت‘۔ جن دنوں بیگم شیر خان حمل سے تھی تو ’مخول مخول میں‘ اڑتے پرندوں کی ڈار میں نر اور مادہ کی تمیز پر بدی شرط ہارنے پر نواب نے اسے طلاق اور دیس نکالا دے دیا۔ قسمت کی ماری دربدر بھٹکتی یہ حاملہ عورت چناب کے کنارے چنیوٹ آپہنچی جس کا نام اس وقت چندن وٹ تھا۔ یہاں اسے سُکھو تیلی نے بیٹی بنالیا اور جب اس نے خواص خان کو جنم دیا تو لوگ اسے سُکھے تیلی دا پُتر خواصو تیلی بلانے لگے۔ اب ہماری کہانی تو لمبی ہے مگر اس کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ خواص خان چنیوٹ کے ایک فقیر کی دُعا سے اپنی نوابی شناخت اور بہت سا مال دولت سمیٹ جہلم کے پاس روہتاس قلعے کا مالک بنا اور بے بہا سخاوت کے سبب سخی خواص خان شہرت پائی۔ یہ شہرت جب سلطنت کے دارلخلافے دلی پہنچی جہاں اسوقت سلیم غور کی بادشاہت تھی تو وہ خواص خان کے بڑھتے اثر و رسوخ سے خوفزدہ ہوا۔ شاہ سلیم نے تدبیر لڑانے کو ’راملی‘ بلائے جنہوں نے رائے دی کہ بادشاہ راجے بھٹ کو جو بادشاہوں کا مانگت ہے خواص خان کے پاس بھیجے اور منگتا میں اس کے سر کا تقاضا کرے۔ خواص خان جو کہ زمانے کا سخی ہے کیسے ممکن ہے کہ کسی مانگت کو انکار کرے بھلے وہ اس کا سر ہی کیوں نہ مانگتا ہو۔ تو ہوا کچھ یوں کہ راجہ بھٹ روہتاس کے قلعے پہنچا اور تقاضا کیا
اے خان خواص سُکھے دا، مینوں گھر دی گوہدی دے
میں دور دھیانی منگتا، تیرے سِر دا اسیس کرے
راجہ بھٹ کے تقاضے پر سخی خواص خان نے اپنی ماں کی آشیرواد لی ’جے کدی توں اجازت دیویں تے میں اللہ واسطے سِر دیواں‘ اور ماں نے بھاری دِل سے اجازت دی کہ باد شاہ ایسے ہی جی دار ہوتے ہیں اور شیر دلوں کا یہی شیوہ ہے کہ مانگے کی خیرات کو منع نہیں کرتے
ایک کھٹ چڑھ مرن، ایک سُتے نہ جاگن
ایک پانی ڈُب مرن، ایک ڈنگت بھوا بھاجن
ایس جیونے کو جیونا، اگر راج بھاٹ یہ کہے
یہ سیس کٹ دے بھٹ کو، جس کیرد جگ میں رہے
تو دلی کے دربار میں سخی خواص خان کا کٹا ہوا سر پہنچا ۔ وہی خواص خان جسکے برید ہ سر کا مزار ہم قلعہ روہتاس کے خواص خانی گیٹ پر دیکھ آئے ہیں۔
خواص خاں ولی
اوپر بیان کی گئی سخی خان خواص کی کتھا پروفیسر سعید بھٹہ کی ’بار کہانی‘ کے صفحوں سے ہم تک پہنچتی ہے۔ مگر صاحبو کہانیاں، واریں اور ڈھولے اپنی روایت میں ضعیف بھی تو ہوتے ہیں۔ خواص خان کو دھونڈنے ہمیں تاریخ کے پنوں پر جانا پڑے گا جہاں ہمارا ٹاکرا عباس خان سروانی کی تاریخِ شیر شاہی اور خواجہ نعمت اللہ کی تصنیف تاریخِ خان جہانی و مخزنِ افغانی سے ہوگا۔ اب تاریخ کے ان روزنامچوں میں خواص خان کا ذکر شیرشاہ سوری کے ایک قابلِ بھروسہ جرنیل کی حیثیت میں شاذ شاذ تو ملتا ہے مگر ہمیں اس کے حسب نسب اور ابتدائی زندگی کے احوال کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ 1929 میں اکبر شاہ خاں نجیب آبادی کی لکھی کتاب ’خواص خاں ولی‘ حسن نظامی ایسٹرن لٹریچر کمپنی نے دہلی سے چھپوا کر شائع کی جو اصل میں اوپر بیان کی گئی کتب سے خواص خان سے متعلقہ تاریخی روایات کو یکجا کرکے قلمبند کی گئی تھی۔ مصنف ہمیں کوئی ٹھوس تاریخی صحت بتائے بغیر لکھتا ہے کہ ہندوستان پرلودھی پٹھانوں کی سلطنت کے دوران ایک مقامی جاگیردار حسن خان نے سُکھا نام کے ایک یتیم بچے کی پرورش کا ذمہ لیا جو بڑا ہوکر ملک سُکھا کے نام سے مشہور ہوا۔ حسن خان سور کے بیٹے فرید خان نے ملک سُکھا کو اپنی جاگیر کے پرگنہ ٹانڈہ کا حاکم و منتظم مقرر کیا۔ ملک سُکھا جو بعد ازاں مقامی جاگیروں کی لڑائی میں مارا گیا اس کے چار بیٹوں میں سب سے بڑا بیٹا خواص خان تھا۔ فرید خان جب بعد میں شیر شاہ آف سوُر بنکر بہار کا حاکم ہوا تو خواص خان کو فوج کا سپہ سالار بنا کر بنگالہ میں قلعہ گور کو فتح کرنے کی مہم پر روانہ کیا۔ اس قلعے کے محاصرے کے دوران خواص خان ایک خندق میں گر کر جاں بحق ہوا اور تب یوں ہوا کہ ملک سُکھا کے دوسرے بیٹے اور خواص خان کے چھوٹے بھائی صاحب خان کو خواص خان کا لقب دے کر اسی فوج کے سپہ سالار کی حیثیت سے گور روانہ کیا جس نے اپنی آمد کے دوسرے روز ہی شیر شاہ سوری کے چھوٹے بیٹے جلال خان کے ساتھ مِل کر قلعہ گور فتح کرلیا۔ یہی خواص خان ثانی ہے جسے دینہ کے نواح میں واقع ہمارے قلعہ روہتاس کے خواص خانی گیٹ سے نسبت ہے۔
شیر شاہ کے ہمایوں بادشاہ سے ہوئے مچیٹوں میں خواص خان ہمیں شیر شاہ سوری کا دستِ راست نظر آتا ہے۔ 10محرم 947 ہجری (1540عیسوی) کو جب قنوج کے محاذ پر گنگا کنارے فیصلہ کن لڑائی میں شیر شاہ سوری اور ہمایوں کی مغل فوجیں آمنے سامنے تھیں شیرشاہی فوج کی صفوں میں دو جرنیل خواص خان اور ہیبت خان نیازی پیش پیش تھے۔ یہ وہی لڑائی ہے جسمیں مغل پادشاہ کی دردناک شکست کا حال بیان کرتے ہوئے مرزا حیدر دوغلت لکھتا ہے کہ چغتائی فوج کے چالیس ہزار بکتر بند سواروں کے مقابلے پر آئے دس ہزار شیر شاہی نفوس کے سمندر کی موجوں کی مانند امڈے سیلِ رواں نے مغل لشکر کو تتر بتر کردیا۔ میدانِ جنگ سے سرپٹ بھاگتی مغل سپاہ نے اپنی ہی صفوں میں زنجیروں سے بندھی توپوں کی کڑیوں کو روند ڈالا۔ مغل فوج کے سر پر پیر رکھ کر بھاگتے جتھوں کی اس جنگ میں بغیر کوئی تیر چلے، بنا کسی توپ کے فائر یا پھر رتھ کی یلغار کے جب شیر شاہی فوج نے میدان مار لیا تو کیا دوست کیا عدو کسی کو کوئی جنگی زخم تو درکنار خراش تک نہ آئی تھی۔ خیر شیر شاہ کے مقابلے پر ہمایوں کی نااہلی کی یہ الگ داستان ہے۔
مغلوں کو شکستِ فاش دے لینے اور بعد ازاں ہمایوں اور مرزا کامران کے تعاقب سے فراغت پا کر شیر شاہ آف سور نے شمال مغرب میں گکھڑوں کی گوشمالی کے لیے جہلم کے مغرب میں کہان ندی کنارے روہتاس قلعے کی داغ بیل ڈالی تو خواص خان اور ہیبت خان نیازی کو یہاں متعین کیا۔

قلعہٗ روہتاس
لاہور کی ایک حسِین سہ پہر اگر آپ ہمارے جانے مانے تاریخ دان و کہانی کار اور ہمارے گرو، سلمان رشید کے گھر ان کے مہمان ہیں تو صحن میں چھتنار درختوں کے سائے تلے اوور اے کپ آف ہاٹ کافی آر اے سِپ آف سمتھنگ آن دی راکس ایک آنکھ میچ کر ہمارے گرو کھُلتے ہیں تو ایک روانی میں کہتے چلے جاتے ہیں، ’بھائی صاحب، اگر آپ روہتاس میں ہیں تو آپ کو یہ کوئی نہیں بتائے گا کہ جو آج کا سہیل گیٹ ہے یہ اصل میں زحل گیٹ تھا۔ وہ اس لیے کہ جب یہ گیٹ بن رہا تھا تو اس کے عین اوپر آسمانوں میں زحل سیارہ روشن تھا‘۔ سلمان کو یہ کہانی 1974 میں قلعے کی یاترا کے دوران ایک بابا جی نے بتائی تھی۔ ان بابا جی نے تو یہ بھی بتایا تھا کہ اکبر بادشاہ کے جرنیل مان سنگھ کی حویلی اور رانی محل کو جاتے راستے پر واقع گیٹ دروازہ اندر کوٹ کہلاتا ہے۔ اندر کوٹ اس لیے کہ پہلے قلعہ روہتاس اسی مختصر زمین پر مشتمل تھا۔ بعد ازاں شیر شاہ سوری نے اس قلعے کی کشادگی کا حکم دیا تو بعد کی تعمیر ایک وسیع قلعہٗ روہتاس میں یہ علاقہ اندر کوٹ کہلایا۔ سلمان رشید جو روہتاس قلعے پر اتھارٹی تصور کیے جاتے ہیں پوٹھوہار میں واقع شیر شاہ کی اس چھاوٗنی کو اے مانیومنٹ آف ویسٹڈ لیبر (جس کا سلیس اردو میں ترجمہ ہوگا ’کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنہ‘) بتاتے ہیں۔ اپنے ایک مضمون میں ہمارا تعارف خواص خان سے کراتے ہوئے لکھتے ہیں کہ شیر شاہی فوج کے انتہائی قابل جرنیلوں میں سے ایک خواص خان قلعہ روہتاس کی تعمیر کے دوران انتظامی امور کا حاکم مقرر کیا گیا۔ ہیبت خان نیازی کو گکھڑوں کے مقابلے پر شیر شاہی رسالے کی کمان سونپی گئی، اور یہیں ٹوڈر مَل (جی ہاں وہی اکبر کے دربار کا نورتن ٹوڈر مل دربارِ اکبری سے بہت پہلے شیر شاہ کے دربار میں وزیرِ خزانہ تھا) کو قلعے کی جلد از جلد تعمیر کے کام کو یقینی بنانے کے لیے سرمایہ مہیا کیا گیا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ گکھڑوں کے زیرِ اثر علاقے میں مقامی مزدوروں کی عدم دستیابی اور وقتاً فوقتاً عمارتی کارروائیوں میں چھیڑ چھاڑ سے جب روہتاس کی تعمیر کھٹائی میں پڑی تو شیر شاہی دربار سے روانہ کیے گئے ایک گوشمالی میں لپٹے شاہی فرمان کی رُو سے ٹوڈر مل کو خزانہ لٹانے کی کُھلی چھُٹی دے دی گئی۔ سلمان رشید لکھتے ہیں کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب روہتاس کی تعمیر میں ایک پتھر کو تراش خراش کر اپنی جگہ پر لگانے کی اجرت سونے کی ایک اشرفی تک جا پہنچی۔ ایک مہنگے عوض معاوضے پر کھڑے کیے گئے اس چھاوٗنی نما قلعہٗ روہتاس پر اس زمانے میں چالیس لاکھ روپے سے اوپر کا خرچہ آیا۔ اب یہ الگ بات کہ اس قلعے کو مکمل حالت میں دیکھے بنا ہی 1545عیسوی کے مئی میں، قنوج میں ہمایوں کو شکستِ فاش دینے کے عین پانچ سال کے بعد شیر شاہ سوری راجھستان میں کلنِجھر قلعے کے محاصرے کے دوران بارود پھٹنے سے زخمی ہوکر عین اس دن جس دن اس کی فوجیں قلعے کے اندر داخل ہورہی تھیں ملکِ عدم سدھار گیا۔ دیکھیے بات سے بات نکلی تو ہم بھی تاریخ کی رو میں بہتے چلے گئے۔
خواص پور کا مزار
تو صاحبو، واپس آج کے دور کو پلٹتے ہیں۔ قلعہٗ روہتاس کے خواص خانی گیٹ کی یاترا کے نو برس بعد جب میں وطن کو لوٹا تو نقشے پر ایک اور مقام تھا جہاں ایک مزار اور اس کے مجاور ہماری راہ تکتے تھے۔ اسلام آباد سے سیالکوٹ کو لوٹتے سمے پرویز اور میں جی ٹی روڈ پر تھے جب ہم نے لالہ موسٰی شہر میں اس جگہ سے تھوڑا پہلے جہاں اپنے عالم لوہار کا مزار ہے، حاجی صاحب کو دور سے سلام کرتے ہوئے گاڑی اس راستے پر ڈال دی جو شہر کی بھول بھلیاں گلیوں سے گزرتا آگے دولتانگر کو جاتا ہے۔ لالہ موسٰی سے آگے بھمبر نالہ ٹاپ جائیں تو ساتھ ہی خواص پور کا قصبہ ہے جہاں برلبِ سڑک اگر آپ کا منہ دولتا نگر کی طرف ہو الٹے ہاتھ ایک قبرستان ہے۔اس قبرستان میں جہاں ہمارا سیاچن کے گیاری محاذ کا ایک شہید نائیک مدثر اقبال ابدی نیند میں زندہ ہے اس کی قومی پرچم سے مزین جنگلے سے گھری قبر کے بالکل ساتھ ایک سبز چھتری والا مزار ہے۔ مزار کے سامنے کے رُخ کی فصیل نما دیوار پر سرُخ اور سبز آرائشی کنگروں کی قطار ہے۔ گنبد کے اوپر سرخ رنگ میں ایک آرائشی کنول نما پھول الٹا دھرا ہے جس کے اوپر بلند ہوتی انٹینے نما آہنی سلاخ جس کے کونے پر چلتی ہوا ماپنے کو باد پیما کے پیالے لگے ہیں اسی ہوا کے زور سے اوندھی ہوگئی ہے۔ مزار کے باہر کسی چوہدری عظمت کی ہدیہ کردہ سنگِ مرمر کی تختی ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ یہ حضرت سخی خواص خاں کا مزارِ پرانوار ہے۔
سولہویں صدی عیسوی میں ایک زیرِ تعمیر قلعہٗ روہتاس کا انتظام وانصرام سنبھالتے عین ممکن ہے کہ شیر شاہ کے اس قابل جرنیل نے گردو نواح میں بہت سے فلاحی کاموں کی داغ بیل ڈالی ہو۔ کہتے ہیں کہ لالہ موسٰی کے ہمسائے میں اس قصبے کا نام خواص پور ہمارے جرنیل کے نام پر ہی پڑا کہ بھلے وقتوں میں یہاں خواص خان کی تعمیر کردہ سرائے اور پانی کا کنواں تھا۔ کچھ بعید نہیں کہ عوامی فلاح و بہبود کے انہی کاموں کی وجہ سے ہمارے ممدوح نے سخی کا لقب پایا ہوا۔ مگر امتدادِ زمانہ سے اب سخی کے لقب کو حضرت کا سابقہ لگ چکا ہے اور سال 2024 کے جون کی اس تپتی سہ پہر جب پرویز اور ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کی کڑی نظروں کے پہرے میں ایک ادب میں ہاتھ باندھے مشتاق زائرین کے بہروپ میں مزار کی سیڑھیاں چڑھنے کے بعد احاطے میں نیم مدہوش ایک گدی نشین نما شخص سے دامن بچاتے ہوئے جو دربار کے اندر داخل ہوئے ہیں تو اندر مزار شریف پر چڑھائی گئی دبیز چادروں کی تہہ نے ہمارا استقبال کیا۔ تربت کو ڈھکی چادروں کے اوپر ایک مرتبان میں نمک پڑا تھا۔پنجاب کے ایک متوسط سے کچھ کم پسماندہ قصبے کے قبرستان میں واقع ایک مزار پرانوار پر دربارِ عالیہ کے لوازمات پورے تھے۔صاحبو کیا تماشہ ہے کہ گئے وقتوں کی شیر شاہی فوج کے ایک دبنگ سپہ سالار کی قبر پر آج کے دور کی ضعیف العقیدہ خلقت اپنی ناآسودہ خواہشوں، نظر کے توڑ، محبوب کو زیر کرنے کے وظیفوں، اولادِ نرینہ کے حصول و منجملہ دیگر آرزوٗں کی جھولی پھیلائے حاضر ہوتی ہے۔

خواص خان کو ایک جرنیلی سلام پیش کرنے اور فاتحہ پڑھ لینے کے بعد پرویز کو باہر دالان میں پڑے نیم غنودہ مجاور پر نظر رکھنے کا کہہ کر ہم ایک بے ادبی کے مرتکب ہوئے اور کسی پرانے قدیمی نشان کی کھوج میں قبر پر پڑی چادر کو ایک طرف سے ہٹا دیا۔ ایک تین درجے بلند تعویذ کی بالائی پیازی گولائی میں کچھ کچھ پرانے وقتوں کی جھلک نظر آئی مگر اسے سہ رنگی تازہ پینٹ کی بدنمائی نے ڈھانپ لیا ہے۔ اگر نیچے کوئی بیل بوٹے یا نقش ونگار تھے بھی تو ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ ہم نے آنکھ بچاتے ہوئے دھڑکتے دل کے ساتھ درباری بے ادبی کو جاری رکھا اور چاروں کونوں سے چادر سرکا کر تعویذ کا جائزہ لیا۔ کہیں کوئی کتبہ کوئی نام نظر نہیں پڑتا۔ جو کچھ ہے اسے سفید، سرخ اور سبز رنگ کے بدنما روغن نے ڈھانپ رکھا ہے۔ تربت پر چادر برابر کرکے ہم باہر آئے اور دربار کے بیرونی تھڑے پر بیٹھ جوتے پہنتے ہوئے ہم نے اپنے ساتھی پرویز کو سخی خواص خان کا مختصر خاکہ سنایا، خود بھی لطف اندوز ہوئے اور پرویز بھی باہر اکھٹے ہوئے مقامی زائرین سے نظر چرا کر مسکرادیا۔ مزار سے پلٹتے ہوئے ہم اپنے شہید نائیک مدثر اقبال کی تربت پر فاتحہ اور بعد از فاتحہ سلیوٹ کو رُکے اور واپس گاڑی کی راہ لی۔ اب یہاں سوال یہ اُٹھتا ہے کہ کیا مزار کے اندر واقع قبر واقعی شیر شاہ سوری کے جرنیل خواص خان کی تھی؟ اور اگر تھی تو روہتاس کے خواص خانی گیٹ پر دفن سر کا کیا قصہ ہے؟


سنبھل میں قتل
کلنجھر کے قلعے میں شیر شاہ کی اچانک وفات کے بعد سور کے بادشاہ کے چھوٹے بیٹے جلال خان جس نے بعد ازاں سلیم شاہ کا لقب پایا، بذورِ بازو و محلاتی سازشوں کے بل بوتے پر تخت نشین ہو کر شاہی کا دعوٰی کردیا۔ خواص خان کے نزدیک یہ شیرشاہ کے بڑے بیٹے عادل خان کے ساتھ ناانصافی تھی۔ جواباً اس نے شاہ کے پسرِ کلاں کا ساتھ دیا اور منہ کی کھائی۔ یہاں سلمان رشید بتاتے ہیں کہ سلیم شاہی لشکر سے شکست کھا کر خواص خان شمال میں سنبھل کی ریاست میں روپوش ہوگیا جہاں کا راجہ پٹھان تھا۔ سنبھل کے راجہ نے بد عہدی کرتے ہوئے سلیم شاہ کے بھیجے کارندوں کے ساتھ مِل کر رات کی نیند میں غافل خواص خان کا سر تن سے جدا کردیا اور بطور ثبوت سلیم شاہ کے دربار میں دلی روانہ کردیا۔ اب ہمارے جرنیل کے چاہنے والے خواص خان کے دھڑ کو لے کر چلے کہ سسرام میں شیر شاہ سوری کے مزار میں شاہ کے پہلو میں اس کے جرنیل کو سپردِ خاک کریں گے۔ مارچ کا مہینہ تھا جب یہ قافلہ کشمیر کی پہاڑیوں سے گئے وقتوں کی بھمبر ۔ گجرات شاہراہ کے راستے پنجاب کے میدانوں میں اترا۔ تب تک لاش باس دینے لگ گئی تھی تو لالہ موسیٰ کے نواح میں خواص پور کے قبرستان میں سخی خواص خان کو امانتاً دفنادیا گیا۔ سلمان کا خیال ہے کہ اپنے سخی کے نام پر قائم قصبے میں ہوئے جنازے میں دور دراز سے لوگ خواص خان کا دیدار کرنے آئے ہوں گے اور بغیر سر کے دھڑ کو دیکھا ہوگا۔ بغیر سر کے دھڑ کی تدفین کی اڑتی اڑتی خبر پاس میں قلعہٗ روہتاس پہنچی ہوگی تو خواص خان کے چاہنے والوں نے اس کے نام کے گیٹ پر سر کی علامتی قبر بنا ڈالی ہوگی۔
ہندوستانی ریاست بہار کے شہر سسرام کی ایک شہرت سور کی سلطنت کے بادشاہ شیر شاہ سوری کا عظیم الشان مقبرہ ہے۔ مقبرے میں شیر شاہ سوری اپنے چوبیس جرنیلوں کے ساتھ آسودہٰ خاک ہے۔ کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک قبر شیر شاہ کے قابل جرنیل خواص خان کی ہے۔ سلمان رشید کا کہنا ہے کہ 1546 کی سردیوں میں پٹھان سپاہی واپس خواص پور آئے ہوں گے اور وہاں امانتاً دفنائے خواص خان کے جسدِ خاکی کو لے کر سسرام روانہ ہوگئے ہوں گے۔ اپنے سخی کی تربت پر شمع جلانے والوں کو خوب علم ہوگا کہ خواص خان اب وہاں دفن نہیں ہے مگر دیا جلانے والو ں نے علامتی قبر پر ہی اس ریتی رواج کو جاری رکھا ہوگا۔ آگے چل کر اسی گربھ وتی روایت سے ایک دربار عالیہ اور اس سے متعلقہ چندہ و نذر نیاز سے پھلتا پھولتا بزنس پروان چڑھا جس کا ’فیض‘ آج بھی جاری و ساری ہے۔
صاحبو اب یہاں دو قباحتیں ہیں۔اگر سنبھل میں قتل ہوئے خواص خان کو سسرام میں شیرشاہ سوری کے مزار میں ہی دفنانا تھا تو وہاں سے نزدیک ترین راستہ جنوب میں دلی اوروہاں سے مشرق کی اور شیر شاہی سڑک پکڑتا ہوا سیدھا پانچ سوا پانچ سو میل کی دوری پر سسرام میں شاہ کے مزار پر جا پہنچتا ہے۔ جنازہ اٹھانے والوں کو سسرام سے بالکل مخالف سمت میں قریب قریب پونے چار سو میل خواص پور جانے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ وہاں سے براستہ جرنیلی سڑک سسرام کا سفر تو مزید ایک ہزار میل سے زیادہ ہونا تھا۔ دوئم کیا خواص خان واقعی ریاست سنبھل میں قتل کیا گیا اور کیا ہمارا جرنیل واقعی سسرام میں شیر شاہ سوری کے پہلو میں دفن ہے؟

اب یہاں نجیب آباد کے ہمارے اکبر شاہ خاں نے ’خواص خان ولی‘ میں کچھ تفصیل درج کی ہے۔ سلیم شاہ کے شر سے مفرور خواص خان کو اماں مِلی تو ہمالیہ کی ترائی میں واقع ریاست کماوٗں میں۔ مگر جب کماوٗں کے راجہ کے تیور بھی بدلتے دیکھے تو خواص خان اتر پردیش کے شمال مغربی علاقے روہیل کھنڈ میں آگیا تھا۔ یہاں دامنِ کوہ میں پٹھانوں کے علاقے آباد تھے اور خواص خان یہاں شیرکوٹ کے قلعے میں متمکن ہوا۔ شمال میں کماوٗں اور جنوب میں خود سلیم شاہ کے مخبروں اور خواص خان کی نگرانی پر مامور منصب داروں کی موجودگی کے باوجود کسی کو روہیل کھنڈ کی اس باریک پٹی میں محصور خواص خان پر حملہ کرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ شیرکوٹ کے جنوب میں سنبھل کے مقام پر تاج خان کرانی نام کے منصب دار کو سلیم شاہ نے خواص خان پر نگاہ رکھنے کے لیے تعینات کیا تھا۔ پانچ سال کے انتظار کے بعد تاج خان نے سلیم شاہ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ خواص خان کے نام عام معافی کا اعلان کرکے ایک امان نامہ لکھ دے جو خواص خان کو صلح کے لیے روہیل کھنڈ کے پہاڑوں سے نکال لائے گا۔ سلیم شاہ کے ساتھ صلح کے بہلاوے میں خواص خان، تاج کرانی سے آکر مِلا اور یہ دونوں سنبھل کی سمت روانہ ہوئے تو راستے میں سرسی کے مقام پر تاج خان نے دھوکے سے وار کرکے خواص خان کا سر قلم کردیا اور بطور سند کٹا ہوا سر دہلی دربار کو روانہ کردیا۔ اب اکبر شاہ نجیب آبادی اس قتل کی تاریخ ذیقعد 959 ہجری بتاتے ہیں جو ماہ نومبر سن 1552عیسوی بنتی ہے۔ سلمان رشید کی بتائی تاریخ اور سال سے اختلاف کرتے ہوئے یہ سردیوں کا موسم تھا جب خواص خان کی سرکٹی لاش کو اس کے مقامی معتقدین دفنانے نکلے ہوں گے۔ مگر یہاں واقعات کی صحت میں مزید اختلاف پایا جاتا ہے۔
منتخب التواریخ میں ملا عبدالقادر بدایونی کے مطابق خواص خان کو دھوکے سے سرسی کے مقام پر قتل کیا گیا اور کٹا ہوا سر دہلی دربار میں بھیجنے کے بعد خواص خان کی لاش بھی تدفین کے لیے دہلی لائی گئی۔ مخزن افغانی میں خواجہ نعمت اللہ کی روایت کے مطابق خواص خان کو دھوکے سے دہلی لاکر شہر کے بازار میں ہی اسے قتل کیا گیا اور عبرت کی خاطر اسی بازار میں خواص خان کا سربریدہ جسم تین دن تک پڑا رہنے دیا گیا۔ اب خواجہ نعمت تو یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ سلیم شاہ کی لاش پر پاسبان کھڑے کرنے کے باوجود خواص خان کا سربریدہ جسم نادیدہ قوتوں کے زور سے بار بار پھولوں سے ڈھک جاتا رہا۔ نتیجتاً تیسرے دن اپنے کیے پر پشیمان ہوکراور خواص خان کی ولایت و بزرگی کا اقرار کرتے سلیم شاہ نے اپنے باپ کے قابل جرنیل کو دہلی میں ہی دفنانے کا حکم دیا۔ اب ہمارے اکبر شاہ نجیب آبادی فرطِ جذبات میں آگے نکل جاتے ہیں اور خواص خان کے ’خصوصی خصائل‘ پر روح پرور روایتوں سے بھرپور ایک پورا باب باندھتے ہیں مگر وہ ہمارا موضوعِ سخن نہیں۔
تو صاحبو خواص خان سنبھل کے پاس سرسی یا پھر دہلی میں قتل ہوا اور گمان غالب ہے کہ دہلی میں ہی اس کی سربریدہ لاش دفنائی گئی۔ خواص خان کے جسدِ خاکی کو اگر سسرام لے کر جانا ہی تھا تو دلی سے سیدھی پادشاہی سڑک بہار کی اور جاتی تھی۔ سسرام جانے کے لیے جنازے کے اس جلوس کو مخالف سمت گجرات اور لالہ موسیٰ کی طرف جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اگر ہمیں دہلی میں خواص خان کی قبر کا سراغ نہیں ملتا تو سسرام میں شیرشاہ سوری کے پہلو میں دفن ہونے کی بھی ہم تصدیق نہیں کرسکتے کہ ایک گنبد تلے دفن شیر شاہ سوری کی قبر تو نشاندہ ہے مگر بقیہ چوبیس قبور بغیر کسی کتبے اور نشان کے ہیں جن کے مکین ایک گمنامی میں پڑے سوتے ہیں۔ تو اگر خواص خان کا سفرِ آخرت بھمبر ۔ گجرات سے نہیں گزرا تو پھر خواص پور میں وہ مزار کس کا ہے؟
برِ صغیر کے سرکٹے بزرگ
اللہ بھلا کرے کاکول اکیڈمی میں ہمارا سٹاف رضا ایک کرخت خالص فوجی لہجے میں کہا کرتا تھا، ’ پہلی بار ہو تو غلطی ہوتی ہے، دوسری بار ہو تو مستی اور بار بار کی جائے تو غلطان ہوتا ہے صاحبانو!‘ ۔ تو کچھ ایسا ہے صاحبانو، کہ برِّ صغیر پاک و ہند میں کچھ طلسماتی روایتیں غلط العام عرف غلطان کا درجہ اختیار کرچکی ہیں۔ ہماری طرف کے رائج الوقت غلطانوں میں سے ایک تو یہ مفروضہ ہے کہ ہم سب ، مین حیث القوم بحیرہ عرب کے پار نجف و حجاز کے عربی النسل ہیں۔ جہاں ہمارے اجداد ہاتھوں میں تلوار بکف اس دھرتی پر وارد ہوئے وہیں عین لڑائی میں وقتِ شباب آجانے پر روایتوں میں آتا ہے کہ ہمارے جنگجو بزرگ اپنا سر کٹ جانے پر بھی لڑتے چلے جاتے تھے، مر کے ہی نہیں دیتے تھے۔ جس طرح ہمارے توہماتی قبرستانوں میں اپنے وقت کے پیغمبروں کی نوگزی قبریں ملتی ہیں اسی طرح آپ کو جا بجا ایسے مزار ملیں گے جہاں صاحبِ مزار کا سر اور دھڑ الگ الگ دو مرقدوں میں آرام کرتے ہیں۔ کس واسطے کہ سر دھڑ سے جدا ہوجانے پر بھی لڑائی کے ہنگام میں ان کا جسدِ خاکی تلوارکے جوہر دکھاتا لڑتا چلا گیا اور کئی کافروں کو جہنم رسید کردینے کے بعد تھک کر گِرا تو اعزازی طور پر سر اور دھڑ نزدیکی فاصلے پر ہی مگر الگ الگ دفنائے گئے۔
ایسا ہی ایک منظر ہم نے لاہور کے یکی گیٹ پر دیکھ رکھا ہےجہاں اس گیٹ کے نام سے نسبت رکھتا ایک مزار ہے۔ مزار کا سرناواں بحوالہ صدیقتہ الاولیاء ہمیں ایک پیر ذکی صاحب سے متعارف کرواتا ہے جو لاہور کے اس دروازے کے پاس کے رہائشی تھے جب تاتاری لاہور پر حملہ آور ہوئے۔ آپ نے کمال بہادری کے جوہر دکھائے اور شہید ہونے کے بعد آپ کا تن بغیر سر لڑتا رہا۔ بعد ازاں جسم کے دونوں حصے الگ الگ اس مزار میں دفن کیے گئے اور اس دروازے کو آپ کے نام پر ذکی گیٹ کہا گیا جو بعد میں بگڑ کر یکی گیٹ بن گیا۔ تاریخ کے ساتھ ہوئی اس یکی (گستاخی معاف) سے قطعِ نظر اب اس دروازے پر ایک مزار ہے سن 2016 میں جہاں باوا محمد بشیر نوشاہی زلفاں والی سرکار کے ساتھ کچھ اور لوگ گدی نشین تھے اور چڑھاوے چڑھتے تھے اور ڈھیر چندہ اکھٹا ہوتا تھا۔ گمان غالب ہے کہ آج بھی ہوتا ہوگا ۔
سیالکوٹ میں ایسے ہی ایک سرکٹے بزرگ کے مزار کا احوال ہماری دشت نوردی کی یادوں کی شریک ایک دوست کے قلم سے طلوع ہوتا ہے۔ بہت اچھا لکھتی ہیں۔ اپنے نام کے ساتھ راٹھو ر کا لاحقہ لگاتی ہیں۔ بقول یوسفیّ ’طوطے کی چونچ جیسی ناک والے راٹھور۔ خمدار‘۔ یہ اور بات کہ ہمیں آج تک ان کے منہ پر یہ جگت مارنے کی ہمت نہیں پڑی ۔ سو مِس راٹھور کہ ان کے پیروں کو بھی سیاحت کے گرداب نے گھیرا ہے ایک دفعہ اپنی جنم بھومی سیالکوٹ کو لوٹیں تو ایسے ہی
ایک مزار پر پہنچیں
۔
کہانی برزبانِ سجادہ نشین، کہانی باشد،’بہت قرنوں پہلے کا ذکر ہے کہ سیالکوٹ کی راجدھانی میں ایک نوجوان کے خونِ ناحق کا بدلہ لینے حجاز کی سرزمین سے عرب جنگجو آئے تو ایک خونخوار لڑائی میں کام آئے بہت سے شہیدوں میں سے ایک اس مزارِ مزکور میں دفن ہے، جو مرجع خلائق ہے۔ صاحبِ مزار دور دور سے آئی زائر بیبیوں کے منتی دھاگوں اور دیوں کے بدلے اولادِ نرینہ سے سرفراز کرتے ہیں‘۔ اب یہاں ہماری دوست کے راجپوت خون نے جوش مارا کہ اگر وہ جنگ میں کام آیا سپاہی تھا تو پھر پیر کیسے ہوا! اور ایک باآوازِ بلند احتجاج کرتے ہوئے مزار کی دہلیز پر دھرے منتوں کے دیے میں سے کوئی دیا اٹھائے بغیر پلٹ آئیں۔ ہمیں گمان ہے کہ دو الگ گوروں میں دفن صاحبِ مزار کے سر اور دھڑ نے بہت برا منایا ہوگا۔
دیکھیے ہمارا قلم پھر بھول بھلیوں میں کھو گیا۔ کہہ ہم یہ رہے تھے کہ اس خداداد دھرتی پر مزاروں اور درگاہوں کے کاروبار کو زوال نہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ دہلی سے خواص خان کے قتل اور سربریدہ لاش کے دفنانے کی خبر روہتاس کے راستے خواص پور پہنچی تو کسی جید مرید نے، ایک تمنائے گدی نشینی میں اپنے مربی و محسن خواص خان کا مزار بنا ڈالا ہو اور وہ بھی مٹھا برابر ڈالتے ہوئے کہ حالتِ جنگ میں ہمارے جنگجو کا سر روہتاس کے گیٹ پر قلم ہونے کے بعد بھی دادِ شجاعت دیتا، بہادری کے جوہر دکھاتا خواص پور تک آن پہنچا ہو اور تھک کر یہاں متمکن ہو گیا ہو۔ عین اسی جگہ جہاں آج حضرت سخی خواص خان کا مزار مرجع خلائق ہے اور گو کہ ہمارا ممدوح خود سخی ہے مگر درگاہ کے زائروں کو پھر بھی چندہ اپنے ہاتھ سے ڈالیں والے مقفل بکسوں میں اپنی حلال کی کمائی سے بھینٹ دان کرنی پڑتی ہے۔
تو صاحبو لاہور ہو یا سیالکوٹ یا پھر لالہ موسٰی کے ہمسائے میں اپنا خواص پور، یہ دھرتی سرکٹے پیروں اور ان کے معجزات سے خالی نہیں۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔








