اور دنیا کے لذیذ ترین ٹھپر گوشت


غالباً کیا یقیناً رمضان کا مہینہ تھا، وہ اس لیے کہ روزوں کے ہی دن تھے جب بھوک کے عالم میں جمعے کی نماز اور افطار کے درمیان اپنے اشفاق احمد کا لکھا یہ اشتہا انگیز قصہ پہلے پہل پڑھا۔ تب انہیں اس دنیا سے رخصت ہوئے بھی چار برس بیت چکے تھے۔


ٹل پوسٹنگ کے دنوں میں ہمارے کمانڈنگ افسر کرنل بھٹی ہمارے ’کتاب دوست‘ بنے۔ اگوکی میں یہ ’اعزاز‘ کیپٹن بخاری کو حاصل تھا جو یونٹ ایجوٹنٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے روم میٹ محض اس بنا پر بنے کہ کتب بینی اور موسیقی میں ہمارا ذوق بہت ملتا تھا۔ اگوکی کی عباسیہ سے ٹل والی میڈیم رجمنٹ میں پوسٹنگ ہونے پر ہمارے مطالعاتی شوق نے بھی ترقی پائی اور ایجوٹنٹ سے کئی درجے اوپر اب یونٹ کے سی او سے یاری گانٹھ لی۔ ممکن ہے کہ ہمارے پڑھنے والوں کو ’یاری گانٹھ لینے‘ کی اس ترکیب میں مبالغے کی آمیزش نظر آئے تو صاحبو ایک کپتان کا ایک کرنیل سے یہ یارانہ فوجی حدود و قیود کا پابند ہی تھا مگر کرنل بھٹی کی جناب میں ہم اکثر گستاخیاں کرتے رہتے تھے۔ کرنل صاحب سےہمارا دوستانہ آج بھی جبکہ ہم دونوں فوج سے ریٹائر ہوچکے ہیں ویسے ہی قائم ہے۔
تو ہم ذکر کررہے تھے بھٹی صاحب سے ٹل میں پروان چڑھی کتاب دوستی کا۔ کرنل صاحب نے فیاض طبیعت پائی تھی اور اور کتاب پڑھ لینے کے بعد دوسروں کو عنایت کردینے کی لذت سے آشنا تھے۔ کبھی کبھار تو اگر کہانی کے عین عالمِ شباب میں کسی نکتے پر پھڑک اٹھیں تو وہیں کتاب ادھ پڑھی چھوڑ ہمیں بخش دیتے کہ کیا اعلیٰ پائے کی لکھت ہے، پڑھ کر کتاب و تبصرہ دونوں واپس کرو۔ کسی ایسی کتاب کا جسے وہ خود ختم کرچکے ہوں ہم نے انہیں واپسی کا تقاضا کرتے کبھی نہیں دیکھا۔ ان سے مستعار لیے گئے میاں محمد بخش کی سیف الملوک کے ایک نادر نسخے پر تو ہم لگ بھگ ایک سال تک سانپ بنے بیٹھے رہے۔ اس سے پہلے کہ ہم غیر ضروری تفصیل نگاری کی بھول بھلیوں میں بھٹک جائیں، بہتر ہے کہ بات کو یہیں لپیٹ لیا جائے۔
تو صاحبو ٹل میں پروان چڑھی کتاب دوستی کے دنوں کا ذکر ہے سنگِ میل کے چھاپے اشفاق احمد کے ’زاویہ‘ کا سیٹ کرنل صاحب کے اور ہمارے زیرِ مطالعہ تھا۔ زاویہ کے داستان گو کی تحریر کا چسکا اپنی جگہ، جس چیز نے کرنل صاحب اور ہمیں کھینچا وہ آخری صفحوں پر سنگِ میل کی طرف سے دیا گیا اشفاق صاحب کی زیرِ طبع کتاب کا اشتہار تھا، عنوان تھا بابا صاحبا۔ تو کچھ یوں تھا کہ خدِمخ کےسائے تلے بل کھاتے دریائے کرم کے پہلو سے لگی ٹل چھاؤنی میں ایک کرنیل اور ایک کپتان اپنے محبوب تلقین شاہ اور داستان گو کی ایک متوقع تصنیف بابا صاحبا کی چاہ میں انتظار کا ساغر کھینچتے تھے۔
پھر یونٹ بھی ٹل سے سیالکوٹ آگئی اور میں بھی جونیئر سٹاف کرنے پہلے کھاریاں اور وہاں سے بیٹری کمانڈر کورس پر عوامی جمہوریہ چین چلا آیا۔ نانجنگ ملٹری اکیڈیمی کی وہ شام ابھی تک یاد ہے جب ایک لُوپ میں سلیم رضا کا گیت ’بھول جاؤ گے تم، کرکے وعدہ صنم‘ سنتے انٹرنیٹ براؤزنگ کرتے وطنِ عزیز میں اشفاق احمد کے گزرجانے کی خبر پڑھی۔ شاید کبھی کرنل بھٹی نے اشفاق احمد اور بانوقدسیہ سے ملاقات کا اہتمام کرنے کا کہا تھا اور وہ ہو نہیں پایا تھا۔ ہمارے کانوں میں بے اختیار بھٹی صاحب کے شبد گونجے، ’یار تم لوگوں سے ملنے کے لیے ان کے مرنے کا انتظار کیوں کرتے ہو‘۔ بہت بعد کے دنوں میں لاہور کے ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں ایک ڈھیری پر فاتحہ پڑھتے کرنل صاحب کے یہی لفظ ہمیں کشاں کشاں 121-C داستان سرائے میں بانو آپا کے پاس لے جائیں گے، مگر وہ ایک الگ قصہ ہے۔

اشفاق احمد کے چلے جانے کے بہت بعد کے دنوں میں بانو آپا نے راہِ رواں لکھی اور ہمیں بتایا کہ وفات سے چند روز قبل جب اشفاق صاحب کچھ آرام میں تھے تو انہوں نے بانو آپا سے کہا تھا ’قدسیہ، گورونانک اور شہنشاہ بابر کا مکالمہ سنو گی؟ سرورِ ازل، منشی تلوک چند محروم والا‘۔ اور پھر ایک لمبی نظم انہوں نے حافظے کے زور پر سنا ڈالی تھی

ہماری بزمِ عشرت میں جو لے آیا خدا بابا
تو بسم اللہ جامِ بادۂ احمر چڑھا بابا
جہاں میں آبِ زر سے کون ہے پاک تر پانی
کہ دُھل جاتا ہے جس سے دفترِ ما و شما بابا

سرورِ ازل از منشی تلوک چند محروم

عمدہ حافظہ بھی کیا چیز ہے، بسترِ مرگ پر بھی خان صاحب کی داستان گوئی جو بقول ان کے انکی جینیٹک کوڈنگ میں گندھی تھی نہ گئی۔ ابھی کچھ دن پہلے نیاگرا آن دا لیک کے پاک ٹی ہاؤس سے ملتے جلتے کیفے میں اوور اے کپ آف کافی حافظے کے زور پر خوشی محمد ناظر کی نظم ہم نے اپنے دوست چودھری عمران صاحب کو سنائی تو (اللہ تعالیٰ اور اشفاق احمد ہمیں معاف کریں) ایک داستان گو کا احساسِ تفاخر تو ہم میں بھی جاگا تھا

ان چکنی چپڑی باتوں سے مت جوگی کو پھُسلا بابا
جو آگ بجھائی جتنوں سے اس پر نہ تیل گرا بابا
ہے شہر میں غُل اور شور بہت اور حرص و ہوا کا زور بہت
بستے ہیں نگر میں چور بہت، سادھو کی ہے بن میں جا بابا

خوشی محمد ناظر کی جوگی

دیکھیے ہم پھر غیرضروری قصوں میں الجھے جاتے ہیں۔ تو صاحبو عوامی جمہوریہ چین کے شہر نانجنگ کی اس دلگیر شام ابھی جبکہ بابا صاحبا چھپ کر بھی نہیں آئی تھی ہمارے بابا جی اشفاق احمد منوں مٹی تلے جا سوئے۔ ان کے انتقال کے لگ بھگ چار سال بعد، بانو آپا نے جگرِ لخت لخت کو جمع کیا اور جیسے تیسے سنگِ میل نے بابا صاحبا کا پہلا ایڈیشن چھاپ دیا۔ پیش لفظ میں بانو آپا اس ایک ’مختلف قسم کے ادب‘ کا دریچوں پر گرنے والی گئی رات کی بوندا باندی کی صورت ایک مختصر تعارف کرواتے ہوئے لکھتی ہیں ’خان صاحب کی یادیں سوہانِ روح تھیں۔ وہ اس تلاش کو چھوڑ نہیں سکتے تھے جس نے اُن کا شانتی سے سونا، جاگنا حرام کردیا تھا‘۔ شاید یہی تلاش تھی جو ایک جاڑے کی دوپہر کہ اس دن جمعہ تھا، انہیں نور والوں کے ڈیرے پر لے گئی تھی۔

کاکول ایبٹ آباد کے دنوں کی خرید ۔ اشفاق احمد کی بابا صاحبا

نہر کے کنارے فوکسی ڈرائیو کرتے کرتے دھرم پورہ کے پُل سے چودھری صاحب نے جب اشفاق احمد کو دائیں مڑ جانے کا کہا تو اشفاق صاحب کہتے ہیں کہ ان کا کسی ڈیرے پر آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

’پھر کسی دن رکھیں گے رشید صاحب۔ کسی اچھے سے، کھلے سے دن۔ جس دن طبیعت امنگ پر ہو اور آرزو جوان ہو اور خواہش کے گھوڑے کا رخ کسی شانتی نکیتن کے سیتل ساگر کی طرف ہو‘۔

مگر ان کا رشید چودھری سے ایک کام پھنسا ہوا تھا اس لیے چار و ناچار آنا پڑا۔ انفنٹری روڈ پر میاں میر کے دربار کو جاتی سڑک سے تھوڑا آگے ’نور والوں کا ڈیرا‘ چھپر اور پھونس کی جھونپڑیوں پر مشتمل لگ بھگ ڈھائی کنال کا قطعۂ زمین تھا جس کی اینٹوں سے چاردیواری کی گئی تھی۔ اب یہاں اشفاق صاحب اپنے رسیلے انداز میں ڈیرے پر آمد اور وہاں پر موجود لوگوں سے اپنی ملاقات کا احوال بتائیں گے، جو ہمارے پڑھنے والے بابا صاحبا میں پڑھ سکتے ہیں۔ ایک ملاقات جو باقی ماندہ سے الگ تھلگ تھی وہ جالندھر کے مہاجر ایک بوڑھے سے تھی۔ فلالین کا کرتہ، ٹسرکا تہبند، ان گنت جیبوں والی واسکٹ نما پھتوئی، اور سرپر چوگوشیہ ٹوپی سجائے، چہرے پر مسکراہٹ اوڑھے یہ تھے بابا جی فضل شاہ، بات کرنے میں ’نوروالے‘ جن کا تکیہ کلام تھا۔

نور والوں کے ڈیرہ پاک کے بابا جی فضل شاہ نور والے ۔ یہ تصویر بانو آپا کی راہِ رواں سے لی گئی

یہیں ڈیرے پر جمعے کی نماز کے بعد ایک قریباً نصف زمین دوز ڈوہنگے کوٹھے میں جب ڈیرے کے مہمان فرشی دسترخوان پر بیٹھے تو شلجم گوشت پکا تھا۔ ’پاؤ پاؤ بھرکی بوٹیاں، دستی کی نلی، دیسی گندم کی سرخ خمیری روٹی جسکے نوالے خود بخود بغیر کسی اضافی کوشش کے بھاپ چھوڑتے شوربے میں اتر کر سیراب ہونے میں مبتلا ہوگئے تھے، بابا جی فضل شاہ صاحب کے اپنے ہاتھ کی بنی پودینے اور اناردانے کی چٹنی‘۔ یہاں اپنے داستان گو اشفاق صاحب لنگر خانے کے توشے کی تعریف میں رطب اللسان ہوکر اپنی تمام تر خودی کو تیاگ دینے کے بعد قلمطراز ہیں۔
’میں نے ایسے خوشبودار، لذیذ اور گرم گرم ٹھپّر اس سے پہلے کشمیریوں کے گھروں میں بھی نہیں کھائے تھے‘۔

لنگر خانے کے طعام اور ایک عام دعوتی پرتکلف دسترخوان کی رال ٹپکاتی تفصیل کے بعد ایک بات اور ہے جسکا ذکر یہاں ضروری ہے اور وہ یہ کہ بعد از طعام مہمانوں کو قیام کی دعوت دیتا ’ٹانسے کی نیلی کناری والا تہبند اور کھدر کا دھلا ہوا کرتہ‘ تھا جو بطورِ خاص اشفاق صاحب کےلیے آیا اور آپ شکم سیر ہو کپڑے تبدیل کرکے اس زمین دوز ڈونگھے کمرے میں کنستروں اور بوریوں کے بیچ ایک چارپائی پر لیٹ گئے تھے۔


میرا اس وقت لیٹنا کچھ اس طرح کا تھا گویا میں غسل کے تختے پر لیٹا ہوا ہوں اور میرے گرد یہ کنستر، ڈبے، ٹین، مرتبان گرم پانی سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان میں کافور، عرق گلاب اور نیم کے پتوں کا ابلا ہوا پانی شامل ہے اور ان سے ابھی مجھے غسل دیا جانا ہے۔ اردگرد کےلوگوں کی آوازیں میرے کانوں میں آرہی ہیں لیکن وہ خود میرے قریب نہیں آرہے۔ ان سب کو غسال کا انتظار ہے جو ابھی تک پہنچا نہیں ہے اور اس کے بیٹے نے آکر بتایا ہے کہ اباجی کھانا کھا کر سوگئے ہیں اس لیے کوئی آدھ گھنٹے تک آئیں گے۔

اشفاق صاحب کی بابا صاحبا

صاحبو اس جمعے کے روشن دن نور والوں کے ڈیرے پرجمعہ پڑھ، شلجم گوشت کھا، ڈوہنگے کوٹھے میں گھوک سو لینے کے بعد شام گئے اٹھنے والے اشفاق احمد کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ ان کے ساتھ کیا ہوا!


بہت بعد کے سالوں کا ذکر ہے، میں تب میجر ریٹائرڈ اور اپنے بھٹی صاحب کرنل ریٹائرڈ ہو چکے تھے۔ اسلام آباد میں پرائیوٹ سیکٹر میں اپنی ملازمت کے سلسلے میں لاہور تبادلے کے احکام لے کر میں اس شہرِ دلپذیر کو پلٹ آیا تھا، جسکی گلیوں کی آوارہ گردی یونیورسٹی کے دنوں کی بھولی بسری یاد تھی۔ اور وہیں کہیں کچھ تھا جو ٹوکتا تھا کہ وہ دروازہ کھُلا ہے اب بھی۔ تو ’کسی صحن میں ہرسُو یونہی پہلے کی طرح بچھے فرشِ نومیدیٔ دیدار‘ کی آس لیے میں بھی بے قرار سا کھنچا چلا آیا۔ مگر صاحبو مکاں کو بھی تو مکیں سے شرف ہوتا ہے۔ گلیاں، چوبارے تو وہیں تھے مگر گئے دنوں کا سراغ لے کر آئے وہ پرانے یار سارے گمشد تھے۔ ایک نئے لاہور میں قصور کے حاجی صاحب کے تعاون سے چھڈیار کی محفلوں میں ابھی دیر تھی۔ ابھی تو میں خود لاہور میں پردیسی تھا۔ تو کچھ ایسا ہوا کہ دفتری مصروفیات کے دوران ڈیفنس وائی بلاک میں ایک زیرِ تعمیر دفتر میں بیٹھے بیٹھے دوپہر کے کھانے کا وقت تھا جب ’لاہور میں پردیسی‘ کی طبیعت میں کچھ ابال آیا اور اچانک کہیں سے اپنے بابا صاحبا کے ٹھپر گوشت بے طرح یاد آئے۔

ڈیفنس سے باہر نکل والٹن روڈ پکڑتے ہوئے میرے ذہن میں ہلکی سی بھی شبیہ نہ تھی کہ شامی روڈ جہاں ایک گول چکر کاٹتے ہوئے انفنٹری روڈ میں بدلتا ہے وہاں آج کی تاریخ میں نور والوں کا ڈیرہ کیسا ہوگا، ہوگا بھی یا نہیں۔ چھاؤنی سے کچھ کچھ باہر نکلتے ہوئے جہان بیس ورکشاپ ہے لگ بھگ وہیں داہنے ہاتھ نیلے گیٹ اور پیلی گیری سے پوتی دیوار پر ایک سبز رنگ کا بورڈ نظر پڑتا ہے ’نور والوں کا ڈیرہ پاک‘۔ دیوار کے اوپر خاردار تار تھی اور گیٹ عوام الناس کے لیے کھُلا نہیں تھا۔ گاڑی ایک طرف پارک کرلینے کے بعد دستک دینے پر دروازہ کھُلا اور اندر آنے کی اجازت ملی تو اندر پھونس اور چھپر کی جھونپڑیاں نہیں بلکہ پکے مکان تھے۔ دالان میں داہنے ہاتھ ایک مزار نما قبر پار کرلینے کے بعد سامنے بیٹھے کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ میں اپنے تعارف کی ریہرسل کرکے آیا تھا۔

’السلام علیکم، میرا نام عمران ہے جی، میں لاہور میں پردیسی ہوں، بابا جی فضل شاہ صاحب کو سلام کرنے حاضر ہوا ہوں، مسافر ہوں تو بھوکا بھی ہوں، اگر لنگر سے کچھ تبرک مل جائے تو ۔۔۔‘۔

بیٹھنے والوں کی جماعت سے بسم اللہ، جی آیاں نوں کا نعرہ بلند ہوا۔ سامنے بیٹھے ایک سادھارن نوجوان سے میرا تعارف نوروالے بابا جی کے پوتے کے طور پر کروایا گیا۔ جتنی دیر میں میں نے وضو کرکے نماز پڑھی اور بابا جی کی قبر پر فاتحہ کو ہاتھ اٹھائے ساتھ ہی دری پر فرشی دسترخوان لگ چکا تھا۔ ایک لذیذ شوربے والی دال تھی اور ساتھ میں تندوری روٹی۔

لاہور میں انفنٹری روڈ پر نور والوں کا ڈیرہ پاک

ایک رغبت سے کھانا تناول کرتے میں نے اطراف کا جائزہ لیا تو عقدہ کھُلا کہ جس ڈوہنگے کوٹھے میں اپنے اشفاق احمد ٹھپر گوشت کھا کر غسلِ میت کے تختے پر سوگئے تھے وہ اب بابا جی فضل شاہ صاحب کا مدفن ہے۔ اسی زمین دوز کمرے میں انکی قبر ہے جس کے اوپر زمین کی سطح سے تھوڑا بلند قبر کا تعویذ ہے۔ جو کھانا میں کھا رہا تھا وہ دربار کے لنگر کا نہیں تھا کہ اب یہاں لنگر نہیں چلتا بلکہ بابا جی کے پوتے کے گھر سے پردیسی کی مہمان نوازی کو بھیجا گیا تھا۔
بابا جی کے گزر جانے کے بعد جو کہ اشفاق صاحب کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا یہ ڈیرہ انکی اگلی نسل کے درمیان گدی نشینی کے تنازعے اور مقدمے بازی کی نظر ہوگیا۔ بابا جی خود نہ تو پیر تھے اور نہ ہی نور والوں کا ڈیرہ کوئی دربار۔ یہ تو اشفاق احمد ہی کی زبانی ایک شانتی نکیتن تھا جہاں آنے جانے، رہنے، کھانے پینے، سونے جاگنے کی کوئی پابندی نہیں تھی، کوئی کرایہ نہیں تھا۔ جالندھر سے آیا تہبند میں لپٹا نور والا بابا ایک سادگی میں گہری باتیں کرتا اور آنے والوں کی دلجوئی کا سامان کرتا۔ اس کے گزر جانے کے بعد جو دنیا داری کا بکھیڑا کھڑا ہوا اس کا بھگتان تیسری نسل میں اس کا پوتا ادا کر رہا ہے، مگر وہ ایک الگ داستان ہے۔
صاحبو اگر حافظہ جینیٹک کوڈنگ میں منتقل ہوتا ہے تو ہمارا ماننا ہے کہ شکر اور مہمان نوازی بھی ایک نسل سے دوسری اور پھر اگلی نسلوں میں منتقل تو ہوتی ہے۔ اس دن نور والوں کے ڈیرہ پاک پر اگر لنگر نہیں چلتا تھا تو ایک پردیسی کے سواگت کو نوروالوں کے پوتے نے اپنے گھر کا دسترخوان کشادہ کر دیا تھا۔ اللہ اس دن کے ہمارے میزبان سے راضی ہو۔ اپنے بابا صاحبا کے تتبع میں اپنی خودی تیاگ دینے اور یہ کہنے میں ہمیں ذرہ برابر بھی شبہ نہیں کہ خواتین و حضرات وہ میری زندگی کی سب سے خوشبودار، سب سےلذیذ دال روٹی تھی جو میں نے اس دن انفنٹری روڈ پر نور والوں کے ڈیرہ پاک میں تناول کی۔

ڈوہنگے کوٹھے میں بابا جی فضل شاہ نور والے کا مرقد
خواتین و حضرات میری زندگی کی سب سے لذیذ دال روٹی

کھانا ختم اور رب کا شکر ادا کرکے میں کھڑا ہوا تو ڈوہنگے کوٹھے میں اب پہلے سے کوئی آرام کی نیند سورہا تھا۔ میرے دل نے بےاختیار چاہا کہ ڈاکٹر صاحب یہاں ساتھ کھڑے ہوتے اور بابا جی فضل شاہ صاحب کو کہتے ’حضور، مانی کو آپ کا یہ کمرہ بہت پسند آیاہے‘ اور میں دال کی پیالی سے پسینے میں بھرا ہوا چہرہ اوپر اُٹھا کر کہتا ’اور اسی کمرے کے ساتھ ساتھ یہ کھانا بھی بہت پسند آیا ہے۔ دونوں ہی خوب ہیں۔ دونوں ہی عجیب ہیں اور دونوں ہی دلرُبا ہیں‘۔ مجھے یقین ہے کہ پرلی طرف کہیں باباجی نے ایک تالی بجاکر نعرہ لگایا ہوگا

’یہ کمرہ بھی ان کا، یہ کھانا بھی ان کا، یہ ڈیرا اور ڈیرے کا سامان بھی ان کا اور ہم بھی ان کے ۔۔۔۔ نور والے‘

جیسا کہ اس روشن دوپہر اشفاق صاحب کے منہ سے دلربا کا لفظ سنُ کر انہوں نے کہا تھا ۔۔۔۔۔۔

نور والوں کے ڈیرہ پاک میں ایک پردیسی
If you like this story, create a buzz, share!
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted