پُل کنجری کا شہید
ایک پوٹھواری مکالمہ
کُتھے پئے جُلنے او؟
پنڈ ملکاں ۔ محفوظ شہید کے مزار پر
تُساں محفوظ کی کسراں جاننے او؟
محفوظ میرا بھائی ہے
محفوظ ناں ہکاای بھرااے۔ میں اس کی سنجانناں
محفوظ میرا فوجی بھائی ہے۔جو وردی پہن کر محفوظ شہادت سے سرفراز ہوا وہی خاکی وردی میں نے بھی پہنی ہے
اوتکو! بسم اللہ جی آیاں نوں۔ میں تساں کی ماڑهے پنڈملکاں لئی گچھناں
ایک اجنبی کی اس بسم اللہ میں سارا پوٹھواری رچاؤ اور گرمجوشی تھی اور ان سادہ لوح دیہاتی آنکھوں میں شناسائی کی جھلک تھی کہ محفوظ کا ایک وردی شریک بھائی پنڈملکاں اس کے مزار پر فاتحہ کو جاتا تھا۔
کھاریاں کینٹ میں اپنی پوسٹنگ کے دنوں میں راولپنڈی آتے جاتے، اور ایسا شاذ شاذ ہی ہوتا تھا، مجھے یاد ہے میں نے وہ بورڈ پہلے پہل دیکھا تھا۔ اگر آپ کھاریاں سے راولپنڈی کا قصد کرتے ہیں تو آپکا سفر جی ٹی روڈ پر ٹھہرتا ہے۔ لہجے اور مزاج میں پوٹھواری حلاوت لیے سواں اڈے کی رونق راولپنڈی میں آپکا استقبال کرتی ہے۔ وہیں کہیں، غالباً جہاں کورنگ اور سواں دریاوٗں کے سنگم پر ایک پُل ہے اور داہنے ہاتھ، جبکہ آپکا منہ ول جی ایچ کیو شریف ہو کورنگ کے ایک طرف ملک ریاض کا بحریہ ٹاوٗن ہے اور دوسری طرف ہائی کورٹ کی کچہریاں، وہیں پُل پار کرکے داہنے ہاتھ نکلتی کسی روڈ پر وہ بورڈ آویزاں تھا۔ یا پھر تھوڑا پیچھے ڈی ایچ اے کی قربت میں جہاں گرینڈ ٹرنک روڈ سے جنمی کہوٹہ روڈ نکلتی ہے، وہاں کہیں۔ جیسے کسی مقام کو جاتے راستے کا پتہ دیتے بورڈ ہوتے ہیں ویسے ہی یہ بورڈ تھا، بالکل برلبِ سڑک۔ ایک تیر کا نشان اور سمت خبر دیتے تھے کہ اس موڑ سے جہاں تیز قدم رستے جاتے ہیں وہیں ایک سست قدم راہ لانس نائیک محفوظ شہید نشانِ حیدر کے گاوٗں پنڈ ملکاں کو نکلتی ہے۔
پاک فوج کے جانبازوں میں جو بہادری کے اعلیٰ اعزاز نشانِ حیدر سے سرفراز ہوئے لانس نائیک محفوظ کی ایک طلسماتی شہرت ہے۔ ہم نے سُن رکھا تھا کہ اس شیر دِ ل جوان نے مورچے میں ایک دوبدو لڑائی میں سنگینوں کے زخموں سے چُور ہو کر جب جان دی تو کچھ اس شان سے کہ مرتے دم تک اپنے مد مقابل ہندوستانی فوجی کا گلا اپنے ہاتھوں کی فولادی گرفت میں پھنسائے رکھا اور دونوں سپاہیوں کے پران کم و بیش ایک ساتھ نکلے۔ محفوظ کا دم ہندوستانی سپاہیوں کی سنگینوں سے اور ہندوستانی فوجی کا محفوظ کے آہنی شکنجےمیں۔ تو صاحبو کھاریاں چھاوٗنی سے راولپنڈی آتے جاتے برلبِ جی ٹی روڈ اس بورڈ کو پڑھتے مانی کے دِل میں بھی پنڈ ملکاں کو جانے کی ہڑک اُٹھتی تھی مگر جیسا کہ بسوں اور ویگنوں کے سفر میں ہوتا ہے کہ آپ بیچ راستے اتر کر منزل کھوٹی کرنے کے مقابلے میں اپنی ہڑک کو کسی اور دن پر اُٹھا رکھتے ہیں۔
’کسی اور دن‘ تب آیا جب بہت سالوں بعد فوج سے ریٹائرمنٹ لے لینے پر میں چکلالہ کا باسی ہوا۔ کئی سال پہلے دیکھے اس بورڈ میں مجھے پنڈ ملکاں یاد تھا مگر وہ جگہ بھول گئی تھی جہاں وہ بورڈ لگا تھا۔ یا پھر اتنے برس گزر جانے کے بعد وہ نشان اب وہاں نہیں تھا کہ باوجود تلاش بسیار کے وہ بورڈ دوبارہ نظر نہیں آیا۔ ایک اندازے پر اسی جنرل ایریا میں پنڈ ملکاں کو قیاس کرتے ہوئے مقامی آبادی سے پوچھ تاچھ بھی کسی کام نہ آئی کہ پنڈ ملکاں وہاں ہوتا تو اس کا سراغ بھی ملتا۔ چکلالہ کے ایف سی این اے آفیسرز میس کی ایک ثابت قدم سہ پہر کا ذکر ہے کہ افسر نے ارادے کی پختگی سے گوگل میپ پر سواں اڈے پر اپنی مار کے علاقے کا مرکز رکھتے ہوئے جی ٹی روڈ کے داہنے ہاتھ (جبکہ آپ کا منہ ول جی ایچ کیو شریف ہو) مشرق کی سمت میں پنڈ ملکاں کو کھو ج نکالا۔ اسلام آباد ایکسپریس وے کے پار کہوٹہ روڈ جہاں پہاڑیوں کی راہ لیتی ہے اور تھوڑا آگے جاکے جہاں سہالہ کا پولیس ٹریننگ کالج ہے وہیں سے ایک روڈ پنڈ ملکاں کے گاوٗں کو نکلتی ہے جہاں ہمارے محفوظ شہید کا مزار ہے۔ اپنی میپ ریڈنگ سکلِز پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کرتے ہوئے اس شام چکلالہ کی گریسی لائنز سے میں اکیلا ہی پنڈ ملکاں کی کھوج میں نکل کھڑا ہوا تھا۔
اسلام آباد کے جنوب مشرق میں کہوٹہ روڈ کے اطراف بالائی پوٹھوہار کا علاقہ میرے لیے بھول بھلیّاں تھا اور سہالہ پولیس اکیڈمی سے کچھ آگے میں پنڈ ملکاں کے کسی مسافر کے انتظار میں رک گیا تھا۔ انتظار بارآور ثابت ہوا اور مجھے اس مختصر سفر پر ایک ہمسفر کی رفاقت میسر آگئی۔سواں نالے کو عبور کر کے پنڈ ملکاں کے راستے پر گاڑی کچھ سست روی سے چلنے لگی تو ہمارے درمیان جو گفتگو ہوئی اسے آپ اس تحریر کے آغاز میں پڑھ چکے ہیں۔
پنڈ ملکاں میں ہماری منزل ایک سادہ مگر روشن مزار تھا۔ دیواریں شیشے کی اور لہو کی مانند سُرخ ایک مختصر پیازی گنبد جسے اوپر ایک چاند تارہ۔ پنڈ ملکاں کی اس پرسکوت شام اس مزار پر ایک ملکوتی حسن طاری تھا جب بہت احتیاط سے جوتے اتار کہ کہیں اس سکوت کا طلسم ٹوٹ نہ جائے
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
ہم اندر داخل ہوئے۔ سامنے دو قبریں نظر پڑتی ہیں۔ دعا کے لیے اٹھے ہاتھوں کو اپنے رخساروں پر پھیر اگر آپ مرکزی قبر کے کتبے کو پڑھتے ہیں تو وہ آپکو خبر دیتا ہے کہ اس لحد میں دفن 15پنجاب رجمنٹ کے جری سپوت لانس نائیک محفوظ شہید نشانِ حیدر نے اٹھارہ دسمبر 1971 کی صبح فجر کے وقت جامِ شہادت نوش کیا اور مقامِ شہادت تھا پُل کنجری کی ہندوستانی چوکی۔
تو صاحبو کہانی کچھ یوں ہے کہ
پنڈ ملکاں لانس نائیک محفوظ کا آبائی گاؤں ہے اور 15پنجاب رجمنٹ کا یہ جری اور دلیر سپوت اسی گاؤں کی انمول مٹّی میں آسودۂ خاک ہے۔ وہی 15پنجاب جس نے سن اکہتر کی اٹھارہ دسمبر کی صبح جب پل کنجری پر حملہ کیا تو اس کے ہراول دستے میں محمد محفوظ بھی شامل تھا۔
کنجری کا پُل
اگر آپ واہگہ اٹاری بارڈر پر پریڈ دیکھنے آئے ہیں تو پرچم اتار لیے جانے کے بعد جب دونوں دیشوں کے لوگ ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوتے ہیں، اتنا نزدیک کہ آہنی گیٹوں کے درمیان نو مینز لینڈ کی باریک پٹی کی حدِ فاصل انہیں جدا کرتی ہے تو عین اس سمے جب آپکا منہ آغازِ حدودِ ہندوستان کی سمت ہوتا ہے بائیں طرف جہاں رینجرز کے گھُڑ سوار دستے زائرین کو حصار میں لیے کھڑے ہوتے ہیں ایک بارڈر پلر (ستون) نظر پڑتا ہے۔ یہاں سرحد شرقاً غرباً ایک افقی خط میں چلتی ہے ۔ تھوڑا فاصلہ طے کرنے کے بعد گوپال سنگھ والا کے پاس بارڈر شمال کی سمت ایک عمودی انگڑائی لیتا چلتا چلا جاتا ہے یہانتک کہ لگ بھگ چھ کلومیٹر کے بعد ہندوستان کی طرف پُل کنجری کا گاوٗں آجاتا ہے۔
کہتے ہیں کہ رنجیت سنگھ اپنے لاہور سے باہر کے سفر میں اکثر یہاں قیام کرتا اور تفریح طبع کے لیے مہاراجہ کی ہردلعزیز طوائف موراں بہ انتظام خاص لاہور سے یہاں بلوائی جاتی۔ایک ایسی ہی محفلِ رقص وسرود میں شرکت کی بے تابی میں موراں جو ذرا تیز قدم ہوئی تو برا ہو اس سبک خرامی کا کہ ایک پاؤں کا جوتا راستے میں پڑتے برساتی نالے کے لاپرواہ پانیوں کی نذر ہوگیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ مہاراجہ کے حکم پر موراں کے راستے میں حائل ہونے والے اس نالے پر ترنت ایک پلیا تعمیر کروائی گئی۔ صاحبو سچ کڑوا ہوتا ہے اور زبانِ خلق بھی۔ موراں اور مہاراجہ کا زمانہ تو بیت گیا مگر یہ جگہ آج بھی ایک طوائفانہ سہولت کے پیش نظر تعمیر کی گئی پلیا کے حوالے سے پل کنجری کہلاتی ہے۔ حال ہی میں کچھ کاوشوں سے نام کے ثانی الذکر حصے کو بدل کر موراں کرنے کی
کوشش کی گئی ہے، مگر آپ لاکھ پھول نگر لکھنے کے احکامات جاری کریں لوگ بھائی پھیرو کو بھائی پھیرو ہی کہیں گے۔
گئے دنوں کی باقیات میں سے ایک بارہ دری، ایک خشک تالاب اور مسجد، مندر ، گردوارے کی تگڑم آج بھی پُل کنجری کی تاریخی اہمیت کی گواہی دیتی ہیں۔ یہ نشان تب بھی موجود تھے جب اکہتر کے دسمبر کی ایک برفاب سویر پاکستانی پنجا ب رجمنٹ کی ایک پلٹن خشک تالاب کی سمت سے پُل کنجری پر حملہ کرنے کے لیے پر تولتی تھی۔ پُل کنجری کے مقابل سرحد کے اِ س پار پاکستانی گاوٗں ٹھٹھہ تراڑاں کے نام کا آتا ہے۔ حملے سے پہلے کی اس جمع گاہ میں جب جوان اپنے ہتھیار تیار کرتے تھے تو ان میں لائٹ مشین گن کے چال والے پرزے چیک کرتا پنڈ ملکاں کا ہمارا لانس نائیک محفوظ بھی تھا۔
پل کنجری پر حملہ اور ہماری نالائقیاں
لاہور میں اگر آپ جی ٹی روڈ پر ہیں تو باٹاپور کے مقام پر بی آر بی نہر کا پُل پار کرکے بارڈر کی طرف جائیں تو ڈوگرئی کا گاوٗں آتا ہے۔ یہ وہی ڈوگرئی ہے جہاں پینسٹھ کی جنگ میں لاہور کا آخری معرکہ لڑا گیا تھا جس کی قیمت سولہ پنجاب غازیانِ ڈوگرئی نے اپنی جانوں پر کھیل کر ادا کی تھی۔ مگر ہم اب اکہتر کے دسمبر میں ہیں اور ڈوگرئی میں ہمارا بریگیڈ ہیڈ کوارٹر ہے۔ سقوطِ ڈھاکہ کے اگلے دن سترہ دسمبر کی شام ساڑھے سات بجے اس محاذ پر بھی فائر بندی عمل میں آگئی تھی۔ لاہور کی سرحد کے پار پُل کنجری کی چوکی ابھی تک پاکستانی 43پنجاب کے قبضے میں تھی اور یہ بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کی نالائقی تھی کہ جنگ بندی کے بعد ہندوستانی حملے کی پیش بندی میں مناسب اقدامات نہیں لیے گئے۔ نتیجتاً اسی را ت لگ بھگ نو بجے کا عمل تھا جب جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتی ہندوستانی جارحیت کے آگے 43پنجاب کی کمپنی کو پُل کنجری سے ہاتھ دھونے پڑگئے۔ مگر ابھی مزید کئی نالائقیاں سرزد ہونا باقی تھیں۔ پاکستانی مورچوں میں 18/17دسمبر کی رات نالائقیوں کی رات تھی۔
پُل کنجری کی چوکی کو ہندوستان سے واپس چھین لینے کے لیے بریگیڈ ہیڈ کوارٹر نے 15پنجاب رجمنٹ کے میجر نعمت اللہ کی زیرِقیادت ایک ٹاسک فورس ترتیب دی جو اسی پلٹن کی ایلفا اور ڈیلٹا کمپنیوں پر مشتمل تھی۔ اب 15پنجاب نے پُل کنجری تک کا علاقہ نہیں دیکھا تھا اور سونے پر سہاگہ رات گئے تک ان دونوں کمپنیوں کو حملے کی منصوبہ بندی کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔ اس نالائقی کا توڑ کرنے کے لیے 43پنجاب کی براوو کمپنی سے دو پلاٹونیں میجر نعمت اللہ کو دی گئیں جن کا کام حملے سے پہلے پُل کنجری کو دو اطراف سے گھیرے میں لے کر ایک تو دشمن کی نفری اور ہتھیاروں کی سُن گُن لینا تھا اور دوسرے پُل کنجری کو پہنچنے والی کمک کو روکنے کی تدبیر کرنا تھا۔ عین حملے کے وقت ان پلاٹونوں نے پُل کنجری کے حصار سے واپس اپنے مورچوں میں پلٹ جانا تھا۔
رات کے بارہ بجے کا عمل تھا جب 15پنجاب کو اپنی الفا اور ڈیلٹا کمپنیاں آگے ڈوگرئی کی طرف روانہ کرنے کا حکم مِلا تاکہ وہ میجر نعمت اللہ کے زیرِ کمان آسکیں۔ جوانوں کو کچھ علم نہیں تھا کہ اگلے چند گھنٹوں کے فاصلے پر انہوں نے ہندوستانی سرحدی چوکی پر حملہ کرنا ہے۔ ان کے حساب سے تو محاذ پر فائر بندی ہوچکی تھی۔ میجر نعمت اللہ نے ایک کمپنی سے پُل کنجری پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا اور یہ کام ڈیلٹا کمپنی کو سونپا۔ الفا کمپنی کو ریزرو رکھا گیا کہ کسی ناگہانی کی صورت میں وہ حملے میں مدد مہیا کرے گی۔ اگلی نالائقی یہ سرزد ہوئی کہ 43پنجاب کے کمانڈنگ افسر لیفٹیننٹ کرنل محمد اقبال جن کی زیرِ نگرانی یہ آپریشن انجام پانا تھا کی بریفنگ میں ڈیلٹا کمپنی کا پورا آرڈر گروپ موجود تھا جبکہ الفا کمپنی کے صرف کمپنی کمانڈر کیپٹن فضل معید موجود تھے۔ چونکہ الفا کمپنی ریزرو تھی اس لیے آردڑ گروپ کو بریفنگ کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ جنگی منصوبہ بندی اسقدر سہل نہیں ہوتی۔ میدانِ جنگ کے گھمسان میں ہر وہ چیز جو غلط ہوسکتی ہے ہو کر رہتی ہے۔ 15پنجاب کی ڈیلٹا کمپنی جنہوں نے صبح پونے چھ بجے پُل کنجری کی شمال مغربی سمت ترتیب گاہ میں جمع ہو کر ہدف پر حملہ کرنا تھا رات کے مارچ میں کہیں گم ہوگئی ۔ پاک و ہند سرحد کے عین اوپر پُل کنجری کے مقابل پاکستانی گاوٗں آتا ہے تھٹھہ تراڑاں۔ یہاں حملہ آور فورس نے رات ڈھلتے سمے اکٹھا ہونا تھا مگر ڈیلٹا کمپنی غائب تھی۔ تو فیصلہ یہ کیا گیا کہ اب حملہ الفا کمپنی کرے گی۔ کمپنی کو نہ آگے کے راستوں کی خبر ، نہ تالاب کے پاس جمع گاہ کا پتہ، نہ زمینی نشان ایک نالے کا کچھ علم۔ ایسے نازک مقامات جہاں جان ہتھیلی پر رکھنے کا رواج ہو وہاں کمپنی اور پلاٹون کمانڈر اعتراض نہیں کیا کرتے بلکہ حکم پر عملدرآمد کرتے ہیں۔
کیپٹن معید نے دو پلاٹون اپ میں حملہ کرنے کے احکام دیے۔ دائیں طرف صوبیدار ریاض خان کی پلاٹون نمبر ایک تھی اور بائیں بازو پر حوالدار اصغر علی کی پلاٹون نمبر 3 نے حملہ کرنا تھا۔ پلاٹون نمبر2گہرائی میں پیچھے تھی۔ پنڈ ملکاں کا لانس نائیک محمد محفوظ جو 15پنجاب کا جانا مانا ایتھلیٹ اور زور آور باکسر تھا بائیں بازو کی نمبر3 پلاٹون میں سیکشن کمانڈر تھا اور ساتھ ہی ساتھ لائٹ مشین گن کا نمبر ون بھی۔ لائٹ مشین گن پر اسکے ساتھ نمبر ٹو ، گوجرانوالہ کے گاوٗں منچھر چٹھہ کا رائفل بردار سپاہی ثناءاللہ تھا۔ اس سپاہ کے بارڈر کراس کرجانے سے چند گھنٹے پہلے 43پنجاب کی دو پلاٹونیں پُل کنجری کی سُن گُن لینے گاوٗں کے نزدیک ہوئی تھیں۔ ان کے مطابق اس رات پُل کنجری میں کسی بھی طرح کی کمک آتی نہیں دیکھی گئی۔ دوسرا ہمارے سپاہیوں کے پُل کنجری کے مورچوں کے پاس ہونے پر بھی دشمن کی طرف سے شاذونادر ہی کوئی فائر آیا۔ یہ پلاٹونیں حملے سے پہلے جب واپس ہیڈکوارٹر پلٹ آئیں تو یہ خبر لائیں کہ پُل کنجری کی پوسٹ کم نفری اور کمزور دفاع والا ٹارگٹ ہے جن کے پاس ہتھیار بھی خال خال ہیں۔ سترہ اٹھارہ دسمبر کی سرد رات 15پنجاب کی الفا کمپنی کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکتی یہ تیسری نالائقی تھی۔ جس پوسٹ کو ہندوستان نے فائر بندی کی خلاف ورزی کرکے زور زبردستی سے ہتھیا لیا تھا وہ اس کے دفاع کی پوری پیش بندی کرکے بیٹھا تھا۔ ایک طاقتور دفاعی لائن کی نفری وہاں پہلے سے موجود تھی جسے مزید کسی کمک کی ضرورت نہ تھی۔ وہ لوگ ایک مضبوط دفاع میں مورچہ بند اپنے ہتھیاروں پر سخت فائر کنٹرول رکھے آنے والے حملے کا انتظار کررہے تھے کہ جب پاکستانی سپاہ مار کے علاقے میں قدم رکھے گی تو نشانہ باندھ کر چُن چُن کر ماریں گے۔ اٹھارہ دسمبر کی صبح خشک تالاب کی ترتیب گاہ سے پُل کنجری کے مورچوں کے درمیان بہت سی لاشیں گرنے والی تھیں اور پاکستانی 15پنجاب کی الفا کمپنی ایک ناکام حملے کی بہت بھاری قیمت ادا کرنے والی تھی۔ وہی الفا کمپنی جس نے جب ترتیب گاہ پار کی تو اس کے ہراول دستوں میں بائیں بازو کی پلاٹون میں پنڈ ملکاں کا ہمارا جانباز لانس نائیک محمد محفوظ بھی تھا۔ ایک ایسی جنگ جس میں ہماری سپاہ نے شکست کھانی تھی اللہ نے اپنے بندے کو ایک منفرد مرتبے اور اعزاز کے لیے چُن لیا تھا۔ 18دسمبر 1971 لانس نائیک محمد محفوظ کا دن تھا۔
محفوظ کی داستانِ شجاعت
18دسمبر کی سویر جبکہ ابھی فجر میں کچھ وقت تھا سٹارٹ لائن کراس کرتی پلٹن کو سامنے پلُ کنجری کا ہیولہ نظر پڑتا تھا۔ ہماری سپاہ کو توپخانے کی فائر سپورٹ مہیا نہیں تھی کہ ہمارے بالا کمانڈروں میں جنگ بندی کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا حوصلہ نہیں تھا۔ تو اٹھارہ دسمبر کی سویر پُل کنجری کو واپس چھین لینے کا عزم لیے 15پنجاب اپنے بچاوٗ کے خود ذمہ دار تھے۔ راستے کی پہلی رکاوٹ ہدف اور ترتیب گاہ کے درمیان پڑتا ایک نالہ تھا جو کمبخت نقشے پر ہرگز اتنا گہرا نہیں دکھتا تھا۔ علاقے سے ناواقف الفا کمپنی کے سپاہی ترتیب گاہ کے پار پُل کنجری کے نالے کی کھائی میں گھِر گئے تھے۔ حملے کی لہر کا زور پہلے پہل اس نالے پر ٹوٹ گیا۔ ایک گہرے نالے سے باہر نکلنے کے لیے سپاہیوں کو ایک دوسرے کی مدد حاصل کرنا پڑی۔ الفا کمپنی کے صوبیدار محمد اکرم کو یاد ہے کہ انہیں ہاتھ دے کر باہر کھینچنے والا کمپنی باکسر نمبر3 پلاٹون کا لانس نائیک محمد محفوظ تھا جس نے ہاتھ پکڑاتے ہوئے کہا تھا، ’صاحب ! آج ضرورت پڑگئی نا کمانڈو اور باکسر کی‘۔
نالے کے پرلے پشتے پر جمع ہوتے اور دوبارہ ہدف کی شست لیتے مجاہدوں پر دشمن کا کاری اور کارگر فائر ایک بلا بن کر نازل ہوا۔ بہت جلد یہ حملہ آور سپاہ زمین پر رینگ کر کور لیتے ہوئے آگے بڑھنے کی جدوجہد کرتی نظر آئی۔ ایک طلوع ہوتے دن کی روشنی میں یہ سپاہی ایک مورچہ بند ہندوستانی فوج کے لیے نہایت آسان ہدف ثابت ہورہے تھے۔
حملے کے شروع میں ہی دشمن کے فائر سے محفوظ کی مشین گن تباہ اور ٹانگ زخمی ہوگئ ۔ زخموں سے بے نیاز محفوظ نے ساتھی شہید کی مشین گن قابو کی اور ثابت قدمی سے رینگنا جاری رکھا۔ اس کی نظریں دشمن کے اس مشین گن کے مورچے پر لگی تھیں جہاں سے کارگر فائر نے حملے کو روک رکھا تھا۔ دشمن کی دفاعی لائن کے بالکل پاس محفوظ کو دوسرا زخم لگا۔ چھاتی پر ایک گولی یا پھر دو، اور دوسری مشین گن بھی ناکارہ ہوگئی۔ 15پنجاب کے ساتھیوں نے زخمی محفوظ کو اپنے قدموں پر کھڑا ہوتے اور دھوئیں اور غبار کی چادر کے پار دشمن کی طرف جاتے دیکھا۔ وہ محفوظ کوآخری دفعہ دیکھ رہے تھے۔
اسی دن بعد کے کسی پہر 15پنجاب کے کمپنی کمانڈر اپنی پارٹی کے ساتھ 2سکھ رجمنٹ کے مورچوں کے پار شہداء کے جسد خاکی لینے پہنچے تو محفوظ کو شہید سپاہیوں کے بیچ دیکھ کر بے اختیار کہا، ’یہ میری کمپنی کا بیسٹ باکسر تھا‘۔
2 سکھ رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر کرنل پوری بولے یہ جوان ایک باکسر کی سی دلیری اور بے جگری سے لڑا۔ کرنل پوری نے بتایا کہ کس طرح ان کے جوانوں نے زخموں سے چور محفوظ کو بغیر کسی ہتھیار دھوئیں کی چادر سے برآمد ہوتے دیکھا۔ محفوظ نے ایک ہی جست میں مشین گن کے مورچے پر فائرر کی گردن کو اپنے ہاتھوں کے آہنی شکنجے میں کس لیا ۔ مورچے میں دوسرے سپاہی کے جیسے ہی اوسان بحال ہوئے اس نے محفوظ کو سنگین کی چوٹوں پررکھ لیا۔ محفوظ سنگین کے ان گنت وار سے رتبۂ شہادت پر سرفراز ہوا لیکن اس کی گرفت دشمن کے سپاہی کی گردن پر ڈھیلی نہ پڑی ۔ محفوظ کے جسد خاکی کو اٹھایا گیا تواسکی ایک ٹانگ جسم کے ساتھ نہیں تھی اور ہاتھوں کی آہنی گرفت مشین گن فائرر کی گردن پر اسی مضبوطی سے موجود تھی جسکی تاب نہ لاتے ہوئے اس کا بھی دم نکل چکا تھا۔
محفوظ شہید کا جسدِ خاکی اس کے بڑے بھائی (جو خود بھی فوج میں تھے) کے حوالے کرتے ہوئے صوبیدار میجر نے کہا تھا، معروف ہم نے محاذ پر بہت تلاش کیا مگر ہمیں محفوظ شہید کی جسم سے جُدا ہوئی ٹانگ نہیں ملی۔ کیا مجاہد تھا کہ ایک ٹانگ کٹ جانے پر بھی اسقدر بے جگری سے لڑا اور تب تک لڑا جب تک کہ اس کے جُسے میں زندگی کی تھوڑی سی رمق بھی باقی رہی۔
ہندوستانی 2سکھ رجمنٹ کے کرنل پوری نے کھلے دل سے محفوظ کی دلیری کی تعریف کی۔ لانس نائیک محمد محفوظ شہید کو بہادری کے سب سے بڑے اعزاز نشان حیدر سے سرفراز کیا گیا۔
پُل کنجری کے حملے کا زور ٹوٹنے پر جب کمپنی کمانڈر محاذ سے پس قدمی کا آرڈر دے رہے تھے، محفوظ کے علاوہ کچھ اور بھی شِکرے تھے جنہوں نے پلٹ جانے کے مقابلے میں لڑ مرنے کو ترجیح دی۔ ان میں ایک محفوظ کے ساتھ کا لائٹ مشین گن نمبر2 سپاہی ثناء اللہ تھا۔ اس کے ساتھ سرگودھا کے گاوٗں ٹھٹھی مزلّم کا سپاہی محمد شفیع تھا۔ سپاہی منظور حسین اور سپاہی بشیر احمد بھی اپنے حصے کا ایمونیشن پھونک گرینیڈ پھینک کر دست بدست سنگین لڑائی میں شہید ہوئے۔ ساہیوال کے نواحی گاوٗں قطب شاہانہ کا تئیس سالہ سپاہی بشیر ابھی رنگروٹ تھا جس کی سروس چھ ماہ تھی۔ پُل کنجری کے اس معرکے میں شجاعت کے جوہر دکھانے پر اسے تمغہٗ جرات عطا ہوا۔ نمبر1 پلاٹون کے کمانڈر صوبیدار ریاض خان پلٹن کی پس قدمی کو کور کرتے ہوئے شہید ہوئے، انہیں ستارہٗ جرات کا تغمہ عطا ہوا۔ پُل کنجری پر ایک ناکام مگر دلیر حملے کی قیادت پر الفا کمپنی کمانڈر کیپٹن فضل معید کو ستارہٗ جرات دیا گیا۔
پنڈ ملکاں کا معجزہ اور شہید کی چارپائی
پنڈ ملکاں کی اس پر سکون شام محفوظ شہید کے سادہ طرز کے مقبرے میں ہم نے اوپر دو قبروں کا ذکر کیا تھا۔ ہمارے سپاہی کے دائیں پہلو میں اس کی والدہ ابدی نیند سورہی ہیں۔ محفوظ کی شہادت کی خبر رات گئے انہوں نے اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ مزار سے ملحقہ گھر میں سنی تھی جب محاذِ جنگ سے ایک ٹرک شہید کا جسدِ خاکی لے کر پنڈ ملکاں آیا تھا۔ محفوظ کا بڑا بھائی معروف خود فوج میں کارگل کے محاذ پر دشمن سے برسرِ پیکار تھا۔
2011میں جب میں پنڈ ملکاں محفوظ کے مزار پر دعا کو آیا تھا تو مجھ سے دو سال پہلے
اے ٹی وی کی فرح حسین اسی مقبرے میں شہید کی قبر کے پاس بیٹھی محفوظ کے بڑے بھائی محمد معروف سے بات کرتی تھیں اور معروف شہیدوں کے زندہ ہونے کے تیقن میں آنکھوں دیکھا واقعہ سناتا تھا۔ محفوظ شہید کو نشانِ حیدر کا اعزاز عطا ہوا تو شہادت کو کچھ مہینے ہو چلے تھے۔ پنڈ ملکاں آئے 15پنجاب کے کمانڈنگ آفیسر نے معروف سے کہا کہ قبرستان میں شہید کی موجودہ قبر تنگ جگہ پر ہے۔ ہر سال جب یہاں سلامی ہوگی تو مشکل پیش آئے گی۔ اگر شہید کی قبر کو کھلی جگہ پر منتقل کردیا جائے تو یہ مسئلہ بھی حل ہوجائے گا اور یونٹ ان کی قبر پر ایک سادہ مزار بھی بنا سکے گی۔
محفوظ کی شہادت کے 6مہینے 13دن بعد تیس جون جمعے کا دن تھا جب محمد معروف نے امام مسجد کی اجازت اور اہلِ علاقہ کی مدد سے قبر کشائی کی۔ شہید کا تابوت جب قبر سے نکال کر چارپائی پر رکھا گیا تو لوگوں نے دیکھا کہ اس میں سے تازہ خون رِس رہا تھا۔ معروف کا کہنا ہے کہ نہ صرف اس کا اپنا ہاتھ خون سے تر ہوگیا بلکہ
اس نے گھر سے ایک پلیٹ لا کر چارپائی کے نیچے رکھی جس میں دس سے بارہ خون کے قطرے جمع ہوگئے تھے۔ جب شہید کا تابوت نئی قبرمیں منتقل ہوگیا تو خون آلود پلیٹ بھی ساتھ دفنائی گئی۔
اس ایمان افروز شہادت کے باوجود شہید کی ماں کو قرار نہ آنا تھا نہ آیا۔ معروف کا بیان ہے کہ قبر کی منتقلی کے دوران جس چارپائی پر محفوظ کا تابوت رکھا گیا تھا، والدہ نے ساری عمر کسی کو اس چارپائی پر سونے نہ دیا۔ آنکھوں میں در آئی نمی کی دھندلاہٹ میں معروف کہتا چلا جاتا ہے کہ میں نے والدہ کو کہا کہ شہید کی تربت سے خوشبو اور تازہ خون کا معجزہ تو پورے گاوٗں نے دیکھا ہے, محفوظ جنت میں گیا ہے آپکو بھی جنت میں بلائے گا، مگر وہ دکھ برداشت نہ کرسکیں۔ بیٹے کی شہادت کے بعد محفوظ کی والدہ جتنے عرصے زندہ رہیں کسی نے انہیں ہنستے یا مسکراتے نہیں دیکھا۔
2011 کی اس شام میں جس محفوظ شہید کی قبر پر فاتحہ پڑھتا تھا وہاں ایک دکھیاری ماں آخرت کے سُکھ میں اب اپنے شہید بیٹے کے ساتھ آرام کرتی ہے۔ 15پنجاب مزار کی دیکھ ریکھ کرتی ہے اور ہر سال 6ستمبر اور 18دسمبر کو محفوظ کو اعزازی سلیوٹ دیا جاتا ہے اور اسکی قبر پر اعزازی پھولوں کا تحفہ رکھا جاتا ہے۔ اللہ ہمارے شہید سے جنتوں میں راضی ہو۔ آمین۔
پسِ تحریر
شجاعت کی یہ داستان پنڈ ملکاں میں ختم نہیں ہوتی۔ یہاں سے ایک مرتبہ پھرہم پل کنجری کو پلٹتے ہیں جہاں ایک فوجی یادگار2 سکھ کے ان بہادر سپوتوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جو 43پنجاب کی گرفت سے پل کنجری کو چھڑانے میں کام آئے۔ اسی یادگار پر ایک کونے میں ایک منظر عکسبند کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک سکھ سپاہی ایک مورچے تک پہنچ چکا ہے اور ہتھیار باہر کھینچنے کی کوشش میں واقعتاً چھینا جھپٹی کرتا دکھایا گیا ہے ۔ یہ لانس نائیک شنگھارا سنگھ ہے۔
17/18 دسمبر کی رات 2سکھ کے حملے میں شنگھارا سنگھ کا کارنامہ اگلی صبح کے محمد محفوظ کے ایکشن سے حیرت انگیز مماثلت رکھتا ہے۔ حملے کی گرما گرمی میں شنگھارا سنگھ دلیری کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے مشین گن مورچے کی ناک کے نیچے پہنچتا ہے اور مورچے کے لوپ ھول میں جست بھرتے ہوئے مشین گن کو ایک جھٹکے سے باہر نکال پھینکتا ہے۔ انتہائی نزدیک سے فائر کی گئی گولیاں دلیر شنگھارا سنگھ کا سینہ چھلنی کردیتی ہیں ۔ لانس نائیک شنگھارا سنگھ کو بہادری کے اعتراف میں انڈین آرمی کا دوسرا بڑا اعزاز مہاویر چکر دیا گیا۔
معرکۂِ پل کنجری کے جوانمردوں میں سے محفوظ شہید خطۂِ پوٹھوہار کی جفاکش زمینوں میں محوِ استراحت ہے تو دوسری طرف پل کنجری میں 2سکھ کی یادگار پر ایک کونے میں شنگھارا سنگھ کا نام بھی جگمگا رہا ہے ۔ ۔ ۔
