استاد قمر جلالوی ؔ
تمہارے چاند سے رُخ کی قسم میں ہی ہوں قمر ؔ
جگر کا داغ دکھا دوں جو اعتبار نہ ہو
مرشدی و آقائی یوسفی کے دوست میاں احسان الٰہی کے والد گھر میں تاش، فلمی ایکٹرسوں کے فوٹو اور گانے کی محفل کے روادار نہ تھے۔ فرماتے تھے کہ ’بیٹا جی! موسیقی حرام تو ہئی ہے۔ منحوس بھی ہوتی ہے۔‘ اللہ رکھے ہمارے ابا، معلوم نہیں نحوست کے سبب یا کسی اور وجہ سے گانے کی محفل تو دور کی بات گھر میں موسیقی کے بھی روادار نہ تھے۔ تاش اور فلمی ایکٹرسوں کے فوٹو کے متعلق بھی ابا کے خیالات حیران کن حد تک میاں احسان الہٰی کے والد سے ملتے جلتے تھے۔
ہمارے بچپن کے دنوں میں گھر کی قیمتی چیزوں میں سےایک نیشنل کا ٹیپ (آڈیو کیسٹ پلیئر /ریکارڈر) ہوا کرتا تھا۔ قیمتی ہمیں اس لیے لگتا تھا کہ ابا اس کا بہت دھیان رکھتے تھے۔ گئے وقتوں میں دبئی میں ہمارے ماموں شمس عرف چھما ہوا کرتے تھے، پاکستان آتے جاتے کراچی سے فلائٹ پکڑتے تو ہمارے یہاں ٹھہرتے ۔ متذکرہ ٹیپ ریکارڈر ان کے ایک ’ہوم ٹرپ‘ پر ابا نے بفرمائش منگوایا تھاا ور پھرصدر ریگل چوک سے لوکل پرچیز اور اپنی کاریگری کی برکت سے گھر کی بیٹھک اور ماسٹر بیڈ روم میں سٹیریو سپیکر ’انسٹال‘ کرکے شاد کام ہوگئے تھے۔ سٹیل ٹاوٗن سی بلاک کے دوکمروں والے گھر میں یہ ہمارا اول اول کا ہوم تھیڑ تھا۔ جس گھر میں موسیقی شجرِ ممنوعہ تھی وہاں یہ انتظام تلاوت، نعت اور درسِ قرآن کی آڈیو کیسٹس سننے کے لیے کیا گیا تھا جو ابا کا شوق تھا اور آج بھی ہے۔ عمروعیار کی زنبیل کی طرح گھر میں بھی ایک گمشدہ پرانے گانوں کی کیسٹس کا ذخیرہ پڑا رہتا جسے گزرتے وقت کے ساتھ بدلتے رحجان والے ابا کی بے اعتنائی چاٹ گئی تھی۔ گئے وقتوں کے اس آواز خزانے سے بھولی بسری ان دھنوں کا دِل رکھنے کے لیے کبھی کبھار نظر اور کان بچا کر ہم بھی سٹیریو ساوٗنڈ میں ایک آدھ گیت سنُ لیتے۔ اگر آج بھی رفیع اور لتا کے گانے اس دل کی تاروں کو چھیڑتے ہیں تو اس کا سبب محض یہ ہے کہ ہم بچپن میں ان کیسٹوں کو ابا سے چوری سن کر جوان ہوئے ہیں۔ اور صاحبو بچپن کی پکڑی جانے والی چوری کا نشان بازو کے ویکسینیشن مارک کی طرح سیدھا دِل پر ثبت ہوتا ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ یہ داغ بھی بڑھتا جاتا ہے
تجھے کیا سناوٗں اے دلربا، تیرے سامنے میرا حال ہے
تیری اک نگاہ کی بات ہے میری زندگی کا سوال ہے
ایک دل جلی دوپہر جب طبیعت لتا رفیع کے دوگانوں سے ہٹ کر کسی اور طرف مائل تھی اور بیٹھک کے سٹیریو سپیکر پر فلم شیش ناگ کے انورادھا پاڈوال اور سریش واڈکر کے دوگانے کے مدھر بول گونج رہے تھے ہماری چوری دن دہاڑے پکڑی گئی
دنیا کے لوگو بیچ میں ہمارے
دنیا کے لوگو بیچ میں ہمارے تم نہ کھڑی دیوار کرو
کبھی میں تمہارا رستہ دیکھوں کبھی تم میرا انتظار کرو
ہمیں آسمان نے بھیجا اس جہان میں ۔۔۔
موقع واردات پر ہمارا کیا حشر ہوا اس سے قطعِ نظر فی الفور ایک آئینی ترمیم پاس ہوئی اوران کانوں کو کبھی کبھار کی دِل لگی سے مستقل نااہل کرگئی۔ مگر بہتے پانیوں کا راستہ بھی کبھی کوئی روک پایا ہے۔ میان احسان الہٰی بھی تو اپنے بزرگوار کی وصیت کی پیروی میں گھر میں زندہ گانے والی کا گانا نہ سنتے بلکہ ٹیپ بجاتے تھے، مزید اہتمام یہ کرتے کہ راگنی پکی رکھتے تا کہ خدانخواستہ گانے کے بول سمجھ میں آجانے کا خدشہ بھی نہ رہے ۔ ہم نے بھی ایک( کافی حد تک) مذہبی ماحول میں پروان چڑھتے گھرانے میں ایک بریلوی رعایت کے لوُپ ہول سے ٹیپ ریکارڈر پر باجے طبلے کی گنجائش نکال لی تھی، اور وہ تھی قوالی۔ ابا اپنے ہم عصر دیگر بریلویوں کی طرح صوفیا، عرس، دھمال اور قوالی کے قتیل ہیں۔ تو کچھ یوں ہوا کہ لتا رفیع کے پرانے دوگانوں کی سرگم سے یہ دِل گِرا تو قوالی کی کھجور میں اٹک گیا۔ اب آپ سے کیا چھپائیں وہ بھی کیا دن تھے کہ عزیز میاں کی ذو معنی گرہوں میں یہ دِل عشقِ حقیقی کے پردے میں (خدا ہمیں معاف کرے) عشقِ مجازی کے مزے لوٹتا تھا۔
کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو
نہ جانے کیسے خبر ہوگئی زمانے کو
ہمارے بزرگوار کو اگر خبر ہو جاتی کہ ان کا بڑا لونڈا مرزا غالب کی رمز ’رات کے وقت مے پیے ساتھ رقیب کو لیے‘ عزیز میاں کے منہ سے سن کر کیا کیا نہ رنگین منظر تخیل کے پردے پر باندھتا ہے تو عاق واق کرنے کو جائیداد تو تھی نہیں انجامِ کار ایک بن کھِلے مرجھاجانے والی حسرت میں کہیں ہمارا مزار ہوتا اور پس منظر میں عزیز میاں کی تکرار، ’دبا کے چل دئیے‘
دبا کے قبر میں سب چل دیئے دعا نہ سلام
ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو
دیکھیے بات لمبی ہوگئی، اس سارے منظرنامے میں ہم فوکس عزیز میاں اور ان کی لازوال قوالیوں ’تیری صورت نگاہوں میں پھرتی رہے‘ مگر اس سے بھی زیادہ ’کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو‘ پر کرنا چاہ رہے تھے کہ ایک پا بہ گِل لڑکپن میں استاد قمر جلالوی کے اس کلام نے کتنی ناآسودہ آرزووٗں اور نوآموز حسرتوں کی نکاسی کا سامان کیا تھا۔ مگر استاد کی ایک لازوال غزل اور ہے جو ہمیں دوسرے منظر میں لیے چلتی ہے۔
نام اور کہانی تو ہمیں یاد نہیں، اتنا ضرور یاد ہے کہ دھواں سے شہرت پائے عاشر عظیم دوسری دفعہ سکرین پر پی ٹی وی کے ایک طویل دورانیے کے کھیل میں جلوہ گر ہوئے تھے۔ حسبِ سابق ایک سرکاری افسر کے روپ میں جسے کچھ کچھ جمالیاتی ذوق سے بھی شغف تھا۔ اس ڈرامے کا واحد سین جو ہمیں بیک گراوٗنڈ میوزک سمیت یاد ہے اسمیں ہمارا سرکاری افسر یعنی عاشر عظیم ہاتھ میں برش تھامے ایک عالمِ بے نیازی میں سامنے دھرے ایزل پر کچھ مشق آزمائی کررہا ہے۔ کیسٹ پلیئر پر منی بیگم کی رس بھری آواز کا جادو ہے اور ایک لامتناہی لوپ میں ایک ہی انترا چل رہا ہے
انہیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا محبت نہ کرتے
تمہیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے
ہمارے ہیرو کے چہرے کا اتار چڑھاوٗ بتا رہا ہے کہ استاد قمر ؔ جلالوی کی اس لازوال ’مریضِ محبت‘ کے اِس شعر پر کہیں کہانی اٹک سی گئی ہے۔ اب کس منہ سے کہیں کہ بعد کی رتوں میں لکھے ایک محبت نامے کا بعینہٖ انہی شبدوں میں جواب ملنے پر راقم الحروف کی بھی شافی تسلی ہوگئی تھی مگر وہ قصہ پھر کبھی پر اٹھا رکھتے ہیں۔ تو صاحبو کہنا ہم یہ چاہ رہے تھے کہ یہ بچپن عزیز میاں کی تکرار اور جوانی دیوانی منی بیگم کی رس بھری آواز اور ہر دو میں استاد قمر جلالوی کی اردو شاعری کی کلاسیک رومانویت کو ایک آنکھ میچ کر ایک سرور میں سنتے بیتی ۔ دیکھیے آنکھ میچنے کے ذکر پر آپ مسکرا رہے ہیں۔ اپنے یوسفیّ کے یارِ طرحدار بشارت علی فاروقی کا کہنا ہے ’اس (ان کے اپنے بچپن کے) زمانے میں باذوق سننے والے گانا سنتے وقت آنکھیں بند ہی رکھتے تھے۔ البتہ طوائف کا گانا کھُلی آنکھوں سے سننا جائز تھا‘۔ ثانی الذکر عیاشی کی اس نادار جوانی کو حسرت ہی رہی سو تادمِ تحریر ہمارے اس سادھارن جیون کی معراج گانا سنتے ہوئے ایک آنکھ میچ لینے والی لذت ہی تو ہے۔
فیض
احمد فیض ؔ پر ایک یادگاری مضمون پڑھتے مشتاق احمد یوسفی ؔ نے کچھ پرانے زمانے کے رائج الوقت شعری موضوعات کا ذکر کیا تھا۔ان ہی کے کھٹ مٹھے لہجے میں گل و بلبل، آشیانہ و بجلی، شبِ ہجر کی طوالت، دل وجگر سے خون کا اخراج ، موت کے بعد بھی غیر شرعی خواہشات کا غلبہ، مزار پر صفائی، روشنی ومرمت کا ناکافی انتظام، قبر کے اندر مرحوم کی جناب میں فرشتوں کی بڑھتی ہوئی گستاخیاں وغیرہ وغیرہ۔ صاحبو اساتذہ کی روایت اور خود اردو شاعری کا کلاسیکل لب و لہجہ یعنی ڈی این اے تو یہی تھا اور اسی رنگ میں رنگے استاد قمر ؔ جلالوی نے اپنے عہد تک اس روایت کو زندہ رکھا اور بہت خوب رکھا۔
نزع کی تکلیف، جنازہ، جاتی ہوئی میت، قبر پر محبوب کا آنا، چمن اور بجلی، گُل اور کانٹے، شعری روایت میں گندھے ان موضوعات پر استاد قمر جلالوی کا اپنا جداگانہ رنگ ہے اور صاحبو کیا ہی سُریلا اور نرالا رنگ ہے
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں
جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی واللہ تم اٹھ کر آ نہ سکے
دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں
اے مرے ہم نشیں چل کہیں اور چل اس چمن میں اب اپنا گزارہ نہیں
بات ہوتی گلوں تک تو سہہ لیتے ہم اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں
آج آئے ہو تم کل چلے جاؤ گے یہ محبت کو اپنی گوارہ نہیں
عمر بھر کا سہارا بنو تو بنو دو گھڑی کا سہارا سہارا نہیں
کیڈٹ کالج کے ہمارے استاد ثروت اللہ قادری کے بقول اس سے بڑھ کر کسی شاعر کی قبولِ عوام اور دوامِ کلام ہونے کی کیا دلیل ہوگی کہ اس کے کہے شعر ضرب المثل کا درجہ اختیار کرلیں
موسیٰ سے ضرور آج کوئی بات ہوئی ہے
جاتے میں قدم اور تھے، آتے میں قدم اور
دکھا کے میرے جنازے کو مسکرا کے کہا
بتوں نے بات نہ پوچھی تو اب خدا کے چلے
پیری میں خم کمر میں نہیں ضعف سے قمر ؔ
میں جھک کے ڈھونڈتا ہوں جوانی کدھر گئی
عزیز میاں کی تکرار اور منی بیگم کی آواز کا لوچ ہٹا بھی دیجیے تو استاد کا شعری ترنم اور ایک لہر میں بہتی جاتی غزلوں کی موسیقیت آپ اپنا تعارف کرواتی ہے۔ اور صاحبو لطف اللہ خان کا شکریہ ادا کیجیئے کہ ان کے آواز خزانہ کی زنبیل میں کلامِ شاعر بزبانِ شاعر کے نگینوں میں سے استاد قمر جلالوی سے انتخاب غزلیں بھی ہیں۔ استاد ایک ترنم میں پڑھا کرتے تو سماں باندھ دیتے۔ جو رنگ کلام کا تھا وہی گفتار کا
ہمارے یہی لطف اللہ خان کراچی میں ایک سائیکل پنکچر کی دکان کی تلاش میں نکلتے ہیں تو لالو کھیت کی خبر لاتے ہیں۔ تین ہٹی سے لالو کھیت (لیاقت آباد) جاتے ایک نمبر چورنگی سے پہلے دائیں طرف ایک جامع مسجد ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اسی مسجد کی گلی میں جہاں دکانوں کی قطار ہے وہیں سائیکل مرمت کی ایک دکان ہوا کرتی تھی۔ وہاں سائیکل مستری قمرجلالوی بیٹھا کرتے تھے ۔ تیس پینتیس سال کے وقفے کے بعد اس دکان کو تلاش کرتے لطف اللہ خان کو مایوسی کا منہ دیکھنا پڑا۔ دُکان کیا وہاں تو خود استاد قمر ؔ جلالوی کو جاننے والا کوئی نہ تھا!
سائیکل مرمت کی دکان کا قصہ کچھ یوں ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت کی ہجرت کے بعد ایک نوزائیدہ مملکت میں یہی استاد کا حیلہ و وسیلہٗ معاش تھا۔ علی گڑھ کے قصبہ جلالی میں پیدا ہوئے سید محمد حسین عابدی کوایک بھرا پرُا جیون غیر منقسم ہندوستان میں گزار لینے کے بعد قیامِ پاکستان کے وقت اپنے اہل و عیال کے ہمراہ ہجرت کرنے پاکستان آنا پڑا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ایک کھاتے پیتے زمیندار گھرانے کے فرزند کو جو اسوقت تک قمر ؔ جلالوی کے نام سے اردو شاعری میں ایک مقام بنا چکے تھے، نئی مملکت میں کلیم میں کچھ بھی نہ مِلا اور استاد کی وضعداری نے انہیں تقاضے سے باز رکھا۔
خبر نہیں کیوں ہم نے جب جب استاد قمر ؔ جلالوی کی تصویر دیکھی ہمیں ان میں اپنے یوسفی کے آبِ گم والے قبلہ کی شبیہہ نظر آئی۔ ’یہ چھوڑ کے آئے ہیں‘ والے قبلہ جب کراچی پدھارے تو متروکہ املاک کے دفتروں میں ناکام و نامراد جوتیاں چٹخانے کے بعد زندگی نے بھی انہیں ایک سبق سکھایا تھا۔ وہ اپنے ساتھ زادِ راہ میں میڈ اِن علیگڑھ تین سیر کا تالا بھی لائے تھے۔ ایکویکی پراپرٹی کے دفتری کلرکوں کو رشوت کھلانے کے مقابلے میں قبلہ نے برنس روڈ پر ایک فلیٹ خود اپنے لیے پسند فرمایا، ایک ٹھوس علیگ تالےکی ایک ہی ضرب سے نحیف کراچوی قفل کو توڑ کر فلیٹ اپنے نام کرلیا۔ بقول پروفیسر قاضی عبدالقدوس ’اول الذّکر کو ثانی الذّکر پر مار کر آخر الذّکر کا قبضہ لے لیا‘۔ قبلہ کا غیر منقسم ہندوستان میں لکڑی کا بزنس تھا سو ایک نئی سرزمین کے عروس البلاد کی لی مارکیٹ میں ایک لکڑی کی دکان کا مہورت کیا۔ اپنے قمر ؔ جلالوی کے ہاں کسبِ معاش زمینداری اور شغل شاعری تھا۔ اول الذکر کا کلیم سوئیکار نہ ہوا تو ہمارے خوددار استاد
پیٹ پالنے کو لالو کھیت میں سائیکل مستری بن گئے اور ساتھ ساتھ
ہے مشقِ سخن جاری ’سائیکل‘ کی مشقت بھی
حاسدین کا کہنا ہے کہ قمر ؔ جلالوی کے نام کے ساتھ استاد کا سابقہ دراصل ایک سائیکل مستری کی کوالیفیکیشن ہے۔ ایک شاعر جس نے دبستانِ شاعری میں کسی استاد کے آگے زانوئے تلمذ تہہ نہ کیا ہو اور جس کی زندگی میں اس کی شاعری کی کوئی کتاب چھپ کر نہ آئی وہ استاد کیسے ہوسکتا ہے۔ اب زبانِ خلق پہ کیا پہرہ بٹھانا۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ قمر ؔ جلالوی کراچی کے مشاعروں کی جان اور جگت استاد تھے۔ کیا بڑے اور کیا چھوٹے سب ان سے اصلاح لیتے تھےاور استاد ایک بے نیازانہ فراخ دلی میں کسی کو نراش نہ لوٹاتے۔ استاد کے مرثیوں کے مجموعے غمِ جادواں کے دیباچے میں یاور عباس لکھتے ہیں کہ استاد قمر پیدائشی شاعر تھے اور بڑا ’بانکا شعر ‘کہتے تھے۔ جن جن لوگوں نے ان سے اصلاح لی ان کی فہرست طویل ہے اور ان میں کچھ ’پردہ نشینوں‘ کے نام بھی آتے ہیں۔ یاور عباس تو یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ صرف اچھا شاعر ہی اچھا مرثیہ کہہ سکتا ہے اور ایک مرثیہ گو قمر ؔ ایک غزل گو قمر ؔ سے کسی طرح بھی کم نہیں۔
شمر سے سنیے اگر شہ کی کہانی چاہیے
قصہ ٗ مظلوم ظالم کی زبانی چاہیے
اس قدر سوکھا گلا شبیر کا تھا اے قمر ؔ
خنجرِ قاتل پکار اُٹھا کہ پانی چاہیے
استاد قمر ؔ جلالوی نے اپنے منفرد تخلص کی دودھاری تلوار اپنے کلام میں جا بجا استعمال کی ہے ۔ استاد کی ہر غزل کا مقطع ایک خاصے کی چیز ہے
رات کی رات مجھے بزم میں رہنے دیجیے
آپ دیکھیں گے نہ سحر کو قمر ؔ کی صورت
قمر ؔ ذرا بھی نہیں تم کو پاسِ رسوائی
چلے ہو چاندنی شب میں انہیں بلانے کو
اگر آ جائے پہلو میں قمر ؔ وہ ماہ کامل بھی
دو عالم جگمگا اٹھیں گے دوہری چاندنی ہوگی
سالِ رواں کے اواخرِ مئی کی ایک تاریخ کو جب ٹورنٹو کے پیئرسن انٹرنیشنل کے ٹارمیک سے ایک بوئنگ 787 اڑان بھرنے کو پر تولتا تھا تو اپنے ہی جوبن میں بھیگتی اس گرم رات جہاز کی سیٹ پر بیٹھے مانی کے کانوں میں گولڑہ کے درباری قوال حاجی محبوب کا کلام گونجتا تھا اور لبوں پر استاد قمر ؔ جلالوی کے تخلص کی دو دھاری تلوار اوڑھے ان کا بانکا شعر
تمھارے چاند سے رُخ کی قسم میں ہی ہوں قمر ؔ
جگر کا داغ دکھادوں جو اعتبار نہ ہو
ٹورنٹو کی روشنیاں پیچھے چھوڑتے مانی کا دل مسرور تھا کہ وہ اس دھرتی کو لوٹتا تھا جہاں گولڑہ کے حاجی محبوب قوال اورکراچی کے لالوکھیت کے سائیکل مکینک جگت استاد قمر ؔ جلالوی کے مدفن پر حاضری دینا ممکن تھا۔ پتہ نہیں کیوں مگر ہم نے ہمیشہ استاد کی گور کو سخی حسن کے قبرستان میں تصور کیا، شاید اس لیے کہ تقسیم کے بعد کراچی کے دبستانِ شاعری کو آباد کرنے والے اکثر شعراء وہیں آرام کرتے ہیں۔ مگر اہلِ بیت سے نسبت کی بدولت استاد قمر ؔ جلالوی لیاری کے پاس علی باغ کے اہلِ تشیع کے قبرستان میں سپردِ خاک ہیں۔ سندھ کے ریگزار کی یاترا کے بعد کراچی کی آوارہ گردی میں اب قیوم ہمارے ساتھ بلا شرکتِ غیرے ’دوسرا وارداتیا‘ بن چکا تھا۔ ایک تپتی جون کی دوپہر کی کوکھ سے نکلتی گرم شام ہم نے اسے بہتیرا کہا کہ وہ علی باغ کے قبرستان کے گیٹ پر ہی کلٹس کی ڈرائیونگ سیٹ پر آرام کرے مگر استاد کی کہانی سن کر اسے بھی قمر ؔ جلالوی کے مرقد پر حاضری دینی تھی۔ کراچی کی اس شامِ الم اس مریضِ محبت کی آخری آرامگاہ پر حاضری تھی جو دم نکلتے نکلتے بھی ’انہی کا فسانہ‘ سناتا رہا تھا۔
کتبے پر سامنے کی طرف ان کا وہی ضرب المثل بن جانے والا شعر کندہ ہے
ابھی باقی ہیں پتوں پر جلے تنکوں کی تحریریں
یہ وہ تاریخ ہے بجلی گری تھی جب گلستاں پر
24اکتوبر 1968
کتبے کی پشت پر اور جیسا کہ کتبوں پر اکثر ہوتا ہے املا کی غلطیوں کے ساتھ ان کے سوزو سلام اور مرثیے کا رنگ چھلکاتے اشعار ہیں
اصغر جگر کو تھام کر روتی ہے فوجِ شام
تم تیر کھا کے آئے ہو یا تیر مار کے
تاریکیاں یہ شامِ غریباں کی اے قمر ؔ
تارے بھی چُھپ گئے فلکِ کج مدار کے
جس استاد کے کلام کی نغمگی اور شعری رومانویت تلے اس جیون کی مسیں بھیگیں ہم نے اس شاعر کی برسی پر اسے یاد کیا۔ اللہ تعالیٰ استاد قمر ؔ جلالوی سے ان کے ابدی مسکن میں راضی ہو۔ آمین

پسِ تحریر
پتہ نہیں کیوں مگر ہم نے ہمیشہ استاد کی گور کو سخی حسن کے قبرستان میں تصور کیا تھا۔ کھوج کے بعد امسال کراچی کی یاترا میں ہم علی باغ تو گئے مگر کسی سبب سے سخی حسن قبرستان نہ جا پائے۔ وہاں سوئے اور بڑے لوگوں کے بیچ ایک بہت محبوب کتبہ طالبِ دُعا نہ جانے کب سے ہماری راہ تکتا ہے۔ بشرطِ زندگی دوبارہ کراچی آئے تو سب سے پہلے وہیں جائیں گے۔
