سانوں آ مِل یار پیاریا
’ایتھے میرے سامھنے رکھو کرسی میجر صاب دی۔ اسیں انہاں نوں رج کے ویکھ تاں لیے‘
’ہور حاجی صاحب؟‘ مانی نے کرسی پر بیٹھتے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے پوچھا تھا
’شکر اے مالک دا، بڑا چنگا وقت گزر رہیا اے، تسیں دسو‘
’آہو جی بڑا چنگا وقت گزر رہیا اے، ایکسیڈنٹ توں بعد حاجی ہوریں ہن اپنے جوگے وی نئیں رہے میجر صاب‘ حاجی صاحب کے سامنے ہماری کرسی رکھنے والا پاس کھڑا ہوٹل کا ملازم ایک شکوہ کناں لہجے میں مخاطب ہوا
’کیہدے ایکسیڈنٹ توں بعد !!!‘ مانی ٹانگ پر رکھی ٹانگ کو نیچے رکھ حاجی صاحب کی صورت کو دیکھتے ہوئے بولا۔ اسے رہ رہ کر کسی انجانے اندیشے کا شبہ ہورہا تھا۔
ڈیفنس فیز تھری کے وائی بلاک میں حاجی ہوٹل پر بیٹھے مانی کو وہی صورتِ حال درپیش تھی جسکا سامنا مرشدی و آقائی یوسفی کو تھا جو انہوں نے آبِ گم کے دیباچے “غنودیم غنودیم پس و پیش لفظ” میں بیان کی ہے۔
وہ ایک عمر کے غمِ روزگار کا کشٹ کانٹے کے بعد اپنے یاروں کو ملنے وطن آئے تھے
احسان بھائی! منوّر حسین بھی رخصت ہوگئے۔ انتقال سے پہلے ۔۔۔
کس کے انتقال سے پہلے؟ میاں احسان الٰہی نے اپنی بے نور آنکھوں سے چھت کے پنکھے کو تکتے اور اپنے فالج زدہ ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے اُٹھا کر اپنے دل پر رکھتے ہوئے پوچھا۔ انہیں رہ رہ کے انجائنا کے درد کا شبہ ہورہا تھا۔

2024 کی اس سویر میں لاہور پلٹا تو نو سال بیت گئے تھے، مگر کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا۔ قصور والے حاجی احمد ڈوگر کا ریسٹورنٹ وہیں تھا۔ ڈیفنس لاہور فیز تھری میں وائی بلاک کمرشل ایریا کے پچھواڑے، جہاں سیکٹر ایکس کے گھروں کی قطارشروع ہوتی ہے۔ ایکسل لیب بھی وہیں تھی، وہی ایکسل جس کے لاہور آفس کی داغ بیل ڈالنے ہم اسلام آباد سے بوریا بستر سمیٹ زندہ دلانِ لاہور کے شہر میں آبسے تھے۔
اتوار کا کسی کے رنگ ورگا گورا دن کچھ دیر پہلے طلوع ہوا تھا اور یار لوگوں کی زبان میں سنڈے برنچ کا وقت تھا۔ ہم نے فون ملایا ’حاجی صاحب، میں عمران۔ ایس ویلے ہوٹل تے بیٹھا واں، تے تسیں آجاؤ‘۔
حاجی صاحب نے پہچاننے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی ۔ ’بسم اللہ جی آیاں نوں میجر صاحب، اوتھے اپنے بچے ہوندے نیں، میں اونہاں نوں دسداں۔ تسیں بیٹھو‘۔
’نہیں حاجی صاحب دسنا کسے نوں کجھ نئیں، میں تہانوں اُڈیکداں پیاں، تسیں پہنچو‘۔
ہم نے کچھ ضد اور کچھ پیار بھرا استحقاق جتاتے ہوئے اصرار کیا۔ حاجی صاحب کی آواز میں گرمجوشی کی جگہ ایک سرد لاتعلقی نے لے لی۔ ’تسیں ناشتہ کرو، میں ایس ویلے گھر آگیا واں، شام نوں مڑ ہوٹل آساں۔ میجر صاحب تہانوں نئیں جے پتہ، میرے کجھ ہور معاملات نیں۔‘
لاہور میں اس اتوار کو چڑھے کسی دے رنگ ورگے گورے دن ریسٹورنٹ کے احاطے میں بیٹھے مانی کو فون پر حاجی صاحب سے اپنا مدعا بیان کرنے میں یکایک دشواری سی محسوس ہوئی۔
وہی دشواری جو پیرومرشد یوسفی کو درپیش تھی جب وہ لندن کے شب وروز میں ایک دہائی تیاگ دینے کے بعد وطن واپس پلٹے تومیاں احسان الٰہی سے ملنے آئے تھے اور جسکا ذکر ہم اس کہانی کے شروع میں اوپر کر آئے ہیں۔
یہ 2014 کا ذکر ہے۔ میں ایکسل لیب کے لاہور آفس کے قیام اور لاہور اور ملتان ریجن میں بزنس کی نمو و نشوونما کی ذمہ داری سنبھالنے چک لالہ کی لالہ رُخ گلیوں سے اُٹھ کر ڈیفنس فیز تھری کی غلام گردشوں میں آن پڑا تھا تو یک بیک بہت کچھ بدل گیا تھا۔ ایک لگی بندھی روزمرہ کی عادی زندگی کچھ کچھ خانہ بدوش ہو گئی تھی اور سب سے بڑی بات کہ اب جو میں اس شہرِ دلپذیر کی ’موم کی گلیوں‘ میں لوٹ کر آیا تھا تو یہاں میرا کوئی دوست نہیں تھا۔ شروع شروع کے دن تو کام کے بعد ڈی ایچ اے کلب کے گیسٹ رومز کی قیدِ تنہائی میں مہندرا کپور کی آواز میں شِو کمار بٹالوی کو سنتے گزر گئے
میں چاہوندا اج دا گورا دن انیائی موت نا مرجاوے
میں چاہوندا اس دے چانن توں ہررات کلہنی ڈر جاوے
میں چاہوندا کسے تجوری دا سپ بن کے مینوں لڑجاوے
جو قرض میرا ہے سمیاں سر او بے شک سارا مر جاوے
پھر ڈی ایچ اے وائی بلاک کے کمرشل ایریا میں کرائے پر مستعار لی گئی عمارت کے تعمیراتی ڈھانچے میں کچھ تبدیلیوں سمیت تزئین و آرائش کا کام مکمل ہوا تو پہلی دو منزلوں پر ریسیپشن اور لیب فلور کے اوپر کانفرنس روم کے پہلو میں مینیجر آوٗٹ ریچ کا رہائشی کمرہ بھی تیار تھا۔ رہنے کو جگہ تو میسر آگئی مگر صاحبو ہر اک مکان کو اس کے مکینوں سے بھی تو شرف ہوتا ہے۔ سو دل کی دنیا کمرے کی طرح ویران ہی رہی اور ان چند دل پسند ساعتوں کے علاوہ جن میں چکلالہ کی واہیات کمپنی کے گرگے لاہور میں ہمارے مہمان ٹھہرے ایک بھرے پُرے لاہور میں مانی کو مشاغل کا کال پڑ گیا
ہر شب منم فتادہ بہ گردِ سرائے تو
ہر روز آہ و نالہ کنم از برائے تو
اور پھر یوں ہوا کہ لیب کے پڑوس میں واقع حاجی ڈوگر ریسٹورنٹ سے رات کا کھانا پیک کروا کے واپس جاتے ہوئے ہم ڈیفنس لاہور کے فارغ البال ادھیڑوں کی اس ٹولی سے ٹکرا گئے۔ پلاسٹک کی میز سے گھری پلاسٹک کی کرسیوں پر بے نیازانہ بیٹھے اپنے مہاندروں پر مفتی کے الفاظ میں ’سو وہاٹ‘ کا سوانگ رچائے یہ لوگ جو مجھے دیکھتے تھے تو ان کی آنکھوں میں ایک مشتاق مانوسیت جھلکتی تھی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کی زبانی ہمارا کچھ کچھ غائبانہ تعارف حاجی ہوٹل والے حاجی صاحب تک پہنچ چکا تھا کہ لاہور لیب کے مینیجر فوج کے ایک ریٹائرڈ ’میجر صاب‘ ہیں۔ حاجی صاحب نے ہی باآوازِ بلند ہاک لگائی ، کھانا لے لیا میجر صاحب! کچھ تو حاجی صاحب کی دلآویز صدا کی چاشنی تھی اور کچھ بقیہ اہلِ محفل کا التفات کہ ہم بے اختیار کھنچے چلے گئے۔
راجہ گدھ کی بانو قدسیہ لکھتی ہیں کہ کچھ لمحے بہت فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ ان میں یہ طے پاتا ہے کہ کب کون کس کا سیارہ بنایا جائیگا، کب کس وقت کسی قلب کی سوئیاں کسی دوسرے قلب کے تابع کردی جائیں گی۔ ڈی ایچ اے وائی بلاک کے حاجی ریسٹورنٹ کی وہ شام بڑی فیصلہ کن تھی۔ ایک رسمی تعارفی نشست کے اختتام پر مانی جب وہاں سے اُٹھا تو قصور کے حاجی صاحب اور ان کی سنگت میں ڈیفنس لاہور کے فارغ البال ادھیڑوں کی اس ٹولی کو دل دے کے اُٹھا۔ مانی کو اچے برج والے لاہور کی چاروں دشاوٗں پر بلدے چار مشعالوں کی دعا لگ گئی تھی کہ اس شہرِ دلپذیر کی شامیں بہت رنگین ہونے والی تھیں۔
یوسفیؔ نے کہیں لکھا ہے کہ دوست کو کسی نام سے بھی پکاریں گلوں کی ہی خوشبو آئے گی۔ ہمارے نو دریافت دوستوں کی ٹولی میں ناموں کی کوئی اہمیت نہیں تھی کہ ہمارے ذاتی اسمِ معرفہ سے بڑھ کر ہمارے لقب ہماری شناخت تھے۔ حاجی ہوٹل والے حاجی صاحب تھے، سیکٹرایکس کے رہائشی دو بھائیوں کی جوڑی میں سے ایک چوہدری صاحب اور دوسرے میجر صاحب تھے (جو اب میرے آنے کے بعد میجر افتخار ہوگئے تھے)، پھر راجہ صاحب تھے، چوہدری اشفاق تھے اور پھر میں تھا، ’میجر صاب‘۔ دوسروں کی چاہ میں ایک دلنواز آوٗ بھگت اور جی آیاں نوں میں مشغول اپنے آپ سے بے نیاز اتنے لوگوں کا بے غرض اجتماع میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔
ممتاز مفتی کی الگھ نگری میں دوستوں کے ایک حادثاتی گروہ کا ذکر ہے، جس کا نام چھڈ یار پڑگیا تھا ۔ کارِ معاش اور کارِ جہاں دراز کی فکروں سے آزاد یہ لوگ ویک اینڈ پر کہیں گھومنے نکلتے تو زندگی کے پیچیدہ سوالوں کا ان کے پاس ایک ہی جواب ہوتا ’چھڈ یار‘۔ ایک نئے شہر میں کارِ معاش کی غلام گردشوں میں پھنسے مانی کو لاہور کے پیروں کی دعا سے چھڈ یار کی ٹولی ہاتھ آگئی تھی۔ ایک ہیجان انگیز دن کے بعد کی گُل ہوئی جاتی شام میں چائے اور سگریٹ (اور کچھ بھاگ وان شاموں میں دیسی حقے) کے دھوئیں میں ایک دلنواز سو وہاٹ مسکراہٹ کے ساتھ ہر فکر اور اندیشے کو اڑادینے والی ’چھڈیار‘ کی ٹولی ۔
ڈی ایچ اے وائی بلاک کمرشل ایریا میں منعقدہ ان سنگتوں کا تعدد بڑھا اور حاضرینِ محفل کا جھاکا کھُلا اور کچھ کچھ آپ سے تم اور تم سے تو ہونے لگا تو چھڈ یار کی یہ ٹولی اتوار کے اتوار لاہور کے جغرافیے سے باہر کی مسافر ہوئی۔ پہلا پڑاوٗ ہی حاجی صاحب کے قصور میں بلھے شاہ کا دربار ٹھہرا
دور دور اساتھوں گیوں
اصلا تے آکے بہہ رہیوں
کیوں قصر قصور وساریا
سانوں آ مِل یار پیاریا
اندرون شہر میں قصوری فالودے کے پیالوں سے سیراب ہوتے، بابا کمال چشتی کے دربار کی سانس اور ٹانگوں دونوں کی آزمائش کرتی سیڑھیو ں کی جان توڑ چڑھائی چڑھتے، گنڈا سنگھ والا کی سرحد پر اترتے جھنڈوں کے سائے تلے لوہے کی نعل لگے فوجی بوٹوں کی دھرتی پر لگتی چوٹوں پر تالیاں پیٹتی خلقت کا ساتھ دیتے اور پھر ہندوستان کی سرحد کی قربت میں ستلج کے اِس پار ٹیوب ویل کے پانیوں میں کالے چونسے کی پیٹی کو ٹھنڈا کرتے چھڈیار کا پیار بڑھتا ہی گیا۔
پھر چونیاں میں ایک شادی کو بھگتانے جب چھڈ یار کا اکٹھ ہوا تو ہمیں یاد ہے ، تقریب میں بھانڈوں کو پیسے دے کر چوہدری اشفاق کی بھد اڑواتے ، ڈنکے کی چوٹ اپنی میڈم نورجہاں کے پنجابی گانے سنتے
چن سجناں وے نیڑے نیڑے ہو
ڈھول جانیاں وے نیڑے نیڑے ہو
شام کے دھندلکے میں لاہور کو پلٹتے چھڈیار کے ہمارے دوست مسکراتے چہروں میں پُرباش تھے اور خوشی ان کے مہاندروں سے ٹپکتی تھی۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ فرشی نشست میں ساتھ بیٹھ کر کھانا کھالینے والے دلوں میں محبت پروان چڑھتی ہے۔ چھڈ یار کی ٹولی میں حاجی صاحب کی میزبانی میں یہ تو کئی بار ہوا، اور اس نسبت سے ہر دفعہ حاجی صاحب سے ہماری محبت کی تجدید ہوئی۔ مگر صاحبو قصور کے نواح میں ایک اونچے ٹبے پر دفن صاحبِ مزار کی تربت کے پاس حال کھیلنے والوں کے جھرمٹ میں باجے والوں کی سنگت کرتے قصور کے حاجی صاحب اور ایکسل کا ریٹائرڈ میجر ایک فرشی نشست میں جب تال دے رہے تھے تو وہیں کہیں حجاباتِ من و تو اٹھ گئے۔
چھڈ یار کا یارانہ اور حاجی صاحب کی الفت دونوں کی گاڑھی چھن رہی تھی جب محفل کے عین شباب میں مَیں سب چھوڑ چھاڑ ایک دور دیس کا مسافر ہوا۔ اور پھر ایک اجنبی سرزمین پر پرانی یادوں کو ایک ٹائم کیپسول میں دفن کرتے چھڈیار سے رابطے کو بھی جانتے بوجھتے پال میں لگا دیا۔ دیس سے آتی خبروں میں کچھ کچھ پتہ لگتا رہا کہ چوہدری اشفاق بھی نیویارک آگئے ہیں، چوہدری ذوالفقار اور میجر افتخار وہیں لاہور میں ہیں، اور حاجی ہوٹل والے حاجی صاحب کچھ بیمار رہنے لگ گئے ہیں مگر ’میجر صاب‘ کو بہت یاد کرتے ہیں۔ پھر وینکوور میں بسے راجہ صاحب کا انتقال ہوا اور ان کا جسدِخاکی گھر والے جہلم لے گئے، وہی اپنا جیالا مردم خیز جہلم، تب چوہدری اشفاق سے افسوس کرتے بات ہوئی اور پتہ لگا کہ حاجی صاحب بہت بیمار رہے ہیں۔ اب ان کی طبیعت بہتر ہے ’پر میجر صاب تہانوں بڑا یاد کردے نیں‘۔
2024 کی اس سویر میں لاہور پلٹا تو نو سال بیت گئے تھے، مگر کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا، یا شاید بہت کچھ بدل گیا تھا۔ ڈوگر ریسٹورنٹ پر حاجی صاحب کے بیٹوں نے میرا بہت خیال رکھا تھا، مگر ایک ٹیلیفون کال پر ہوئے رابطے میں حاجی صاحب کچھ سرد مہری سے پیش آئے تھے کہ وہ شام کو ہی آئیں گے ’سمجھیا کرو میجر صاب، میرے کجھ ہور معاملات نیں‘
ِ
اسی دن شام کو جب میں وائی بلاک کمرشل میں ڈوگر ریسٹورنٹ کو پلٹا تو حاجی صاحب باہر کرسی ڈال کر بیٹھے تھے۔ میں ایک گرمجوشی میں معانقے کو آگے بڑھا، حاجی صاحب کرسی پر بیٹھے بیٹھے مجھ سے بغلگیر ہوئے اور کندھے سے کندھا ملانے کو مجھے کچھ جھکنا پڑا۔ ریسٹورنٹ کے سٹاف نے ان کے پہلو میں ایک کرسی لگائی تو ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے حاجی صاحب گویا ہوئے ’ایتھے میرے سامھنے رکھو کرسی میجر صاب دی۔ انہاں نوں اسیں رج کے ویکھ تاں لیے‘۔
اور میں ان کے سامنے بیٹھ گیا۔ چہرے پر وہی دلنواز مسکراہٹ، آنکھوں میں وہی مانوس گرمجوشی۔ ہور سناوٗ حاجی صاحب، میں گویا ہوا۔
شکر اے مالک دا، بڑا چنگا وقت گزر رہیا اے
۔
اتنے میں وہی سٹاف جس نے میری کرسی حاجی صاحب کے سامنے لگائی تھی کچھ کچھ کسیلے لہجے میں بولا ’ آہو جی بڑا چنگا وقت گزر رہیا اے، ایکسیڈنٹ توں بعد حاجی ہوریں ہن اپنے جوگے وی نئیں رہے میجر صاب‘۔
یہ کہہ کر اس نے حاجی صاحب کی شلوار کا ایک پائنچہ اوپر اُٹھا یا تو حاجی صاحب کی داہنی ٹانگ گھٹنے کے نیچے ہڈی و گوشت سے بے نیاز تھی۔ کچھ عرصہ پہلے ایک حادثے میں اس ٹانگ پر چوٹ آئی تھی ۔ شوگر اور بلڈ پریشر کے دائمی امراض اور کچھ اپنی بے احتیاطی سے زخم خراب ہوگیا اور حاجی صاحب کی ٹانگ گھٹنے کے نیچے سے کاٹنی پڑ گئی تھی۔ حاجی صاحب اب اٹھنے، بیٹھنے اور ہوٹل آنے جانے کے لیے دوسرے لوگوں کے محتاج ہوگئے تھے۔ مجھے ایک جھٹکا سا لگا۔ صبح جب فون پر میں ان سے ہوٹل آنے پر اصرار کررہا تھا تو آبِ گم کے میاں احسان الٰہی کی طرح اپنے حاجی صاحب نے اپنا ہاتھ اُٹھا کر دائیں گھٹنے پر رکھا ہوگا ’میں ہن شامیں آواں گا، سمجھیا کرو میجر صاب میرے ہن کجھ ہور معاملات نیں‘
کچھ کچھ پریشان، کچھ پشیمان، غنودیم غنودیم ہمارے منہ سے کچھ جھوٹی تسلی کے الفاظ نکلے ہوں گے جو ہمیں یاد نہیں مگر حاجی صاحب کا دلنواز جاندار قہقہہ یاد ہے۔’ کجھ نئیں ہویا میجر صاب، تسیں ایویں چنتا پئے کردے او ۔ رب دا بڑا فضل اے۔ اپنے بچے سب ویکھدے بھالدے نیں۔ میں بالکل ٹھیک آں، الحمد للہ‘۔
اتنے میں باقی کی چھڈ یار کی ٹولی آگئی۔ چوہدری اشفاق تو کچھ دن پہلے آکر واپس نیویارک چلے گئے تھے، اور راجہ جی اب جہلم کی خاک اوڑھے سورہے تھے۔ میجر افتخار اور چوہدری ذوالفقار اسی دلنوازی اور یارباشی سے ملے جو بے غرض دوستیوں کا خاصہ ہے۔
یہ وہ لوگ تھے جن سے یاری لگا، کچھ میٹھے بول بول کر جب میں بچھڑا تھا تو رابطے منقطع کر گیا تھا۔ پلٹ کر میں نے حاجی صاحب تک کی خبر نہ لی تھی، وہ جو ہر سانس کے ساتھ مجھے یاد کرتے تھے۔ مگر لاہور کی اس ماضی کو پلٹتی خوش رنگ شام جب چھڈ یار ایک پرانی وضع کا یار باش بھوجن کرتے تھے تو انکی آنکھوں اور انکی باتوں میں کوئی شکوہ، کوئی شکایت، کوئی ذومعنویت، کسی طنز کا ہلکا سا شائبہ تک نہ تھا۔ حاجی صاحب مسکراتی نظروں سے مجھے وقفے وقفے سے ایک نظر ڈال جی بھر کر دیکھتے تھے کہ میں ان کے سامنے بیٹھا تھا۔ بات سے بات نکلنے کے وقفے میں ہر چند لحظے بعد چوہدری ذوالفقار کہتے اسیں تہانوں بہت یاد کیتا میجر صاب۔ اسیں کہیا خورے کدھر ٹُر گئے نیں۔ اور میجر افتخار ایک چھپائے نہ چھپنے والی خوشی سے لبریز آواز میں کہتے، چلو ہن واپس تے ساڈے کول ای آئے نیں۔
شمالی سفید برِعظیم کے برفاب سے اُچے برج والے لاہور کی گلیوں کو پلٹے مانی کے ساتھ بیٹھ کر ڈی ایچ اے وائی بلاک کمرشل ایریا کے حاجی ریسٹورنٹ کی میزوں پر کھانا کھاتے یہ میرے دوست تھے۔ ایک دہائی پہلے کی طرح آج پھر ایک اجنبی دیار میں انہوں نے مجھ سے ہمدردی کی تھی کہ میں انہیں بہت پیارا تھا۔ میں ان سے کٹ کے انہیں بھول گیا تھا مگر انہوں نے بغیر کسی شکوے، کسی شکایت کے مجھے اپنا لیا تھا۔ یہ دنیا کے سب سے اچھے لوگ تھے اور میں ان کا بہت برا دوست۔
آبِ گم کے مشتاق احمد یوسفیؔ جب میاں احسان الٰہی سے ملنے آئے تھے تو انہوں نے ملتجیانہ لہجے میں کہا تھا ’اتنے برس بیت گئےاب وطن واپس آبھی جائیے۔ ہمارے بعد آئے تو کیا آئے‘۔ اور یہ کہہ کربقول یوسفیؔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے تھے۔
لاہور چھاوٗنی کے براوو میس میں اس رات جب میں واپسی کے سفر کا ارادہ باندھتا تھا تو مجھے حاجی صاحب یاد آتے تھے۔ حاجی صاحب جن کی میں نے شدید بیماری میں خبر تک نہ لی تھی۔ جو ایک حادثے میں ٹانگ گنوادینے کے بعد اب اپنے دوست سے اُٹھ کر بغلگیر ہونے سے معذور ہوگئے تھے۔ وہی حاجی صاحب ایک دلنواز مسکراہٹ کی اوٹ سے کہہ رہے تھے ’ایتھے میرے سامنے رکھو کرسی میجر صاب دی۔ انہاں نوں اسیں رج کے ویکھ تاں لیے‘۔
میرا اک انوکھا یار ہے
میرا اوسے نال پیار ہے
کدے سمجھیں وَڈ پرواریا
سانوں آ مِل یار پیاریا
سانوں تیریاں دُکھاں نے ماریا
اتنے سالوں میں شاید پہلی دفعہ میرا دل کیا کہ پھوٹ پھوٹ کر رو دوں۔


