پھلورہ اور خانوالی کی لہو رنگ زمینوں میں

’چونڈہ سیکٹر میں پھلورہ کے قریب ایک کھیت میں پہلو بہ پہلو گیارہ * پکی قبریں ہیں جنکی ساخت اور شکل ایک ہی جیسی ہے‘۔ عنایت اللہ التمش کا قلم لکھتا ہے تو لکھتا چلا جاتا ہے:
’ایک شہید کی بیوہ فائر بندی کے بعد اپنے خاوند کی قبر پر آئی۔ وہ اپنے ساتھ ایک ریشمی رومال لائی تھی ۔ اس نے ایک کانا (سرکنڈا) کہیں سے لا کر قبر کے سرہانے زمین پر گاڑا اور اس پر جھنڈے کی طر ح رومال باندھ دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ رومال اُسے خاوند نے شادی کے موقع پر دیا تھا۔‘

صاحبو زندہ سپاہیوں کے مورچے ہوں یا شہیدوں کی قبریں فوجی ڈسپلن کی بجا آوری میں ایک ہی شکل و صورت، ایک ہی رنگ میں رنگے ہوتے ہیں۔ ہمارے شہید کی بیوہ چلی گئی تو پلٹن کے جوانوں نے اپنے باقی شہید ساتھیوں کی تربت پر بھی سیالکوٹ سے ایسے ہی ریشمی رومال منگوا کر باندھ دیئے اور پھلورہ کی قربت میں یہ قبریں رومالاں والیاں قبروں کے نام سے مشہور ہوگئیں۔ سیالکوٹ چھاوٗنی سے نکلتے، پھلورہ کی راہ پکڑتے، اس سویر پرویز اور مانی یہی سوچتے تھے کہ اتنے برس گزر جانے کے بعد، مہ و سال و ابروباراں کی سختیاں جھیلتے رومال تو شاید گم ہوگئے ہوں مگر کیا رومالاں والیاں قبراں بھی اب وہاں ہوں گی کہ نہیں۔
کئی برس پہلے لفٹینی کے دور کی یادوں کو تازہ کرنے میں ظفروال کی زمینوں کو پلٹا تو آگے بڑا پنڈ جرپال کی یادگار کو دیکھ آیا تھا۔ کچھ وقت کی تنگی کا بہانہ اور کچھ جلد لوٹ کر آنے کا بہلاوہ، واپسی پر پھلورہ کو بائے پاس کرتا، چونڈہ کے سنگِ میل کو ہاتھ لگا میں لاہور پلٹ آیا۔ اگر آپ زندگی کی راہوں پر بائے پاس لینے کے عادی ہیں تو دیکھنے لائق بہت کچھ آپ کی نظروں سے اوجھل رہ جاتا ہے اور اکثر اوقات لوٹ کر آنا بہت سہل نہیں رہتا۔
زندگی کی ’راہوں‘ کے
سب ’موڑ‘ لازم ہیں ، سبھی ’موڑ‘ مشکل ہیں


اس دن چونڈہ سے لوٹتے سمے مَیں عنایت اللہ التمش کی بتائی رومالاں والیاں قبراں بغیر دیکھے پیچھے چھوڑ آیا تھا اور پھر بہت سمے بیت گیا اور پلٹ کر آنے کا وعدہ، وعدہ ہی رہا، وفا نہ ہوا۔ تو پھر یوں تھا کہ اس قلبوت میں جو دل دھڑکتا تھا اس میں پھلور ہ کے فوجی متراں دی سِک تھی مگر پھلورہ کی رومالاں والیاں قبراں سے ہٹ کر کچھ اور بھی تھا جس کی تاہنگ طلب اس گھنیری اداس دلڑی کو سیالکوٹ کی اور کھینچتی تھی۔ فوج کی سسرالی چھاوٗنی کی مین شاہراہ پر ایستادہ گئے وقتوں کا ایک سنگِ میل تھا کہ کسی آس کے گمان میں جہاں سری نگر کا فاصلہ لکھا رہتا تھا ۔پھر رنگ پور جٹاں ۔ مہدی پور کی زمینوں میں جنگ بندی کے دنوں میں لڑا گیا ایک خونریز معرکہ تھا کہ جس میں نشانِ حیدر ملتے ملتے رہ گیا تھا۔ لال کرتی کے قبرستان میں دفعدار خوشی مسیح شہید کی قبر تھی کہ جس کا کتبہ ابھی نیا نیا تھا، اور گوہد پور کے ہمسائے چٹی شیخاں کے قبرستان میں حافظ برخوردار کا مزار تھا، وہی پونی ورگے کاں والے حافظ برخوردار
رات چنے دی چاننی اتے پونی ورگا کاں
اڈیا دانہ آباد توں اوہنوں پیندی رات چناں

سنکھترہ روڈ


سیالکوٹ سے اگر آپ سنکھترہ روڈ پکڑیں تو وہ ککھاں والی اور لِبے سے ہوتا ہوا سیدھا پھلورہ کی مرکزی چوک کو پہنچتا ہے۔ یہیں ایک درخت کی چھاوٗں میں ایک یادگار ہے جو 1SP (فرسٹ سیلف پروپیلڈ) فیلڈ رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل عبدالرحمٰن اور یونٹ کے ان شہداء کو یاد کرتی ہے جنہوں نے ستمبر 1965 کی جنگ میں جان کا نذرانہ پیش کیا۔ ساتھ ہی چوک کے عین مرکز میں پاکستانی سیلف پروپیلڈ توپخانے کی ایک فیلڈ گن ایستادہ ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جسے پینسٹھ کی جنگ کے نقشے پھلورہ کراس روڈ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ عین اسی جگہ 11 ستمبر کی غروب ہوتی شام ہندوستان کی 5 جاٹ رجمنٹ کے جوانوں اور 17 پونا ہارس کے ٹینکوں نے روڈ بلاک لگایا تھا اور اوپر شمال میں ’گڈگور باکس‘ کی جنگ سے شکستہ پسپائی اختیار کرتے پاکستانی 9 فرنٹیئر فورس کے کٹے پھٹے جسوں والے افسر اور جوان چونڈہ کی طرف پس قدمی کرتے ہوئے آ ٹکرائے تھے۔ گیارہ ستمبر کے طلوع ہوتے دن کی روشنی میں انہوں نے اپنے ساتھیوں کو ٹینکوں سے بھڑتے دیکھا تھا اور انسانوں سے ٹینکوں کی اس لڑائی میں اول الذکر کی باقیات کو وہیں محاذ کے مورچوں میں دفنا اب وہ پیچھے کو پلٹتے تھے۔ 9 ایف ایف ہماری وہی یونٹ تھی جس کے شہداء پھلورہ سے آگے گڈگور کی طرف آس پاس کے کھیتوں میں کہیں رومالاں والیاں قبراں میں آرام کرتے تھے اور جنہیں کھوجتے مانی اور پرویز سیالکوٹ سے سنکھترہ روڈ پکڑ پھلورہ آئے تھے۔

پھلورہ چوک میں فرسٹ ایس پی فیلڈ رجمنٹ کے شہداء کی یادگار
پھلورہ چوک میں فرسٹ ایس پی کے لیفٹیننٹ کرنل عبدالرحمٰن شہید ستارہٗ جرات کی یادگار
پھلورہ میں پاکستانی بکتر بند توپخانے کی فیلڈ گن

پھلورہ شہر کی یادگارِ شہداءکے وہی دو نشان تھے جو ہم نے اوپر بیان کیے اور جنکی جگہ کا نشان ہمارے نقشے پر بھی تھا۔ ہمارا نقشے کا علم یہاں ختم ہوجاتا تھا اور آگے پی ایم اے کے کیڈٹس کی میپ ریڈنگ زبان میں چاچا کمپس کا ہی آسرا تھا۔ پاس ہی ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور سے پانی کی بوتلیں خریدتے ہم نے دکاندارسے رومالاں والیاں قبراں کے بارے میں دریافت کیا۔
رومالاں آلیاں قبراں تے پتہ نئیں، پر تسیں ایہہ سامنے چونک توں چوبارہ روڈ پھڑ لوو تے تھوڑا اگے جاکے گڈگور توں اُراں ای سجے ہتھ اک فوجیاں دی نکی جیہی مسیت اے تے نال ای شہیداں دیاں قبراں نیں۔

اپنے ہادی و محسن کا شکریہ ادا کرکے ہم پھلورہ کراس روڈ سے شمال مشرق کی سمت جاتی چوبارہ روڈ پر چڑھے۔ تھوڑا آگے جاکے صابوکے کے گاوٗں کا پٹرول پمپ پارکرکے ہم نے محتاط نظروں سے اطراف کا جائزہ لینا شروع کیا۔ گڈگور کے قصبے سے لگ بھگ ایک کلومیٹر پہلے روڈ کے بائیں طرف آج کے دور کی تعمیر ایک بہت بڑا شادی ہال آتا ہے، وہیں روڈ کے بالکل اوپر دائیں ہاتھ ایک چھوٹی سی مسجد ہے جس کے ساتھ والے احاطے میں دو قطاروں میں ایک ہی طرز کی داتا دربار والے گہرے سبز رنگ میں رنگی کچھ قبریں ہیں۔ کتبے بتاتے ہیں کہ یہ 9 ایف ایف رجمنٹ کے ہمارے وہ شہید ہیں جو 11 ستمبر 1965 کو شہید ہوئے۔ صاحبو گڈگور کے محاذ پر شہادت کا جام پینے والے ہمارے شہیدوں کی قبریں وہی ہیں جنکا ذکر عنایت اللہ التمش نے رومالاں والیاں قبراں کے عنوان سے کیا ہے۔ عنایت اللہ کی بیان کی گئی تفصیل ہو بہو وہی ہے ماسوائے ایک درستگی کے اور وہ یہ کہ شہداء کی قبروں کی تعداد گیارہ نہیں آٹھ ہے۔ دو قطاروں میں سے پہلی میں پانچ اور دوسری میں تین، کل آٹھ قبروں میں سوئے یہ جیالے گیارہ ستمبر کو ہوئے ہندوستانی ٹینکوں کے حملے میں وطن پر نثار ہوگئے۔ روڈ کی طرف سے ان قبروں کے احاطے پر سے نظر دوڑائیں تو گڈگور کے نواحی کھیت نظر پڑتے ہیں۔ یہی وہ زمینیں تھیں جہاں یہ جوان مورچہ زن ہوں گے اور اسی دشا سے انہوں نے ٹینکوں کا اپنے مورچوں کے اوپر چڑھتے آتے دیکھا ہوگا۔ یا پھر ان کی لڑائی جی جگہ تھوڑا آگے شمال مشرق میں گڈگور کے سامنے کا میدان ہو گا۔ جس جگہ پر شہداء کے مدفن ہیں وہاں پلٹن کا بٹالین ہیڈکوارٹر تھا۔ کمپنیاں دائیں اور بائیں جہاں تعینات تھیں، 65 کی جنگ کی فوجی اصطلاحیں اسے ’گڈگور باکس‘ کے نام سے یاد کرتی ہیں۔

چوبارہ روڈ کے عین اوپر9 ایف ایف کے شہداء جو گڈگور کے معرکے میں شہید ہوئے۔ رومالاں والیاں قبراں
رومالاں والیاں قبراں ۔ نائیک کامل شاہ شہید 9FF تاریخِ شہادت 11 ستمبر 1965
رومالاں والیاں قبراں ۔ سپاہی خان بادشاہ شہید 9FF تاریخِ شہادت 11 ستمبر 1965
رومالاں والیاں قبراں ۔شہداء کے مدفن کے پار گڈگور کے نواحی کھیت۔ وہ زمین جنہیں ان شہیدوں نے اپنے لہو سے سینچا

گڈگور باکس کے مورچے


5/4 ستمبر کی رات کا ذکر ہے جموں سے سامبا جاتے روڈ پر 9 آزاد کشمیر رجمنٹ کے جوانوں کی لگائی گھات میں ایک ہندوستانی فوجی ڈسپیچ رائیڈر کا ڈاک کا تھیلا ہاتھ لگا۔ 9 آزاد کشمیر بٹالین آپریشن جبرالٹر کی بابر فورس کا حصہ تھی ۔ اس تھیلے سے ملی ڈاک میں ہندوستانی فرسٹ آرمرڈ ڈویژن کے سیالکوٹ پر حملے کے واضح اشارے تھے۔ 9AK کے میجر نذیر نے یہ تھیلا میجر عباد جو پاکستان آرمی کے 6 آرمرڈ ڈویژن کے گریڈ ٹو انٹیلی جنس سٹاف افسر تھے کے حوالے کیا تھا۔ حیرت انگیز طورپر اس تھیلے کو ہندوستانی سپاہ کے حملے کے ارادے کے ناکافی ثبوت کے طور پر نظر انداز کردیا گیا۔ 8 ستمبر کی صبح جب ہندوستان کے دو ڈویژن کے برابر فوج نے شکر گڑھ بلج کے اوپر ایک بڑا حملہ کیا تو پاکستانی فوج اس کے لیے تیار نہیں تھی۔ یہ سرحد کے ساتھ ساتھ ایک گہرائی میں زیادہ سے زیادہ علاقے پر قبضہ کرنے کی پیش بندی تھی جہاں سے ہندوستانی فرسٹ آرمرڈ ڈویژن نے پھلورہ ۔ بھاگووال کے علاقے میں نقب لگاتے ہوئے پاکستانی فوج کے دفاع کو جسقدر ممکن ہو نقصان پہنچاتے ہوئے تباہ کرنا تھا۔
ہندوستانی 6ماوٗنٹین ڈویژن کا حملہ چاروہ اور مہراجکے پر آیا۔ ایک عجلت میں پس قدمی کرتی ہوئی پاکستان فوج کے دستوں میں سے 3 فرنٹیئر فورس نے جم کر مقابلہ کیا۔ ہندوستانی دستے جب سرحد سے پانچ میل اندر چوبارے سے آگے گڈگور کے دروازے پر دستک دے رہے تھے تو کرنل نثار کی 25کیولری (Men of Steel) کے جراتمندانہ اور دلیر کارروائی نے ہندوستانی حملے کا زور توڑ دیا۔ 8 ستمبر کو لڑی 3FF اور 25کیولری کی جنگ ہماری اس تحریر کے سکوپ سے باہر ہے۔ بس اتنا تذکرہ کافی ہوگا کہ 8ستمبرکی شام گڈگور پر دوبارہ ہماری سپاہ نے قبضہ کرلیا تھا اور اب وہاں 24بریگیڈ کی یونٹیں دفاع میں تھیں۔ شمال میں گڈگور اور جاہر اور گہرائی میں جوشن اور صابوکے کے گاوٗں پر مشتمل یہ ایک مضبوط دفاعی حصار تھا جسے گڈگور باکس کا نام دیا گیاتھا۔ 9ستمبر کی صبح جب گڈگور کے باہر ہندوستانی 16کیولری کے پیچھے چھوڑے ٹینکوں کی تلاشی لے جارہی تھی تو 7ستمبر کی صبح ایشو ہوا ہندوستانی فوج کا آپریشن آرڈر پاکستانی فوجیوں کے ہاتھ لگا اور ہمارے عسکری اربابِ اختیار پر منکشف ہوا کہ ہندوستانی فرسٹ آرمرڈ ڈویژن تو ان کے سامنے حملے کے لیے تیار کھڑا ہے۔ اور یہ تب ہوا کہ پاکستانی 6آرمرڈ ڈویژن کو اس علاقے میں ہندوستانی بکتر بند دستوں سے نمٹنے کی ذمہ داری دی گئی۔ ہمارے رومالاں والیاں قبراں کے سپاہیوں کی رجمنٹ 9FF جنرل ابرار حسین کے اسی 6آرمرڈ ڈویژن کا حصہ تھی۔

گڈگور باکس میں گیارہ ستمبر 1965 کی صبح9FF کے مورچے
الفا کمپنی (سرخ رنگ سے مارک کی گئی) پر آئے حملے کے شہید کمپنی نے پس قدمی سے پہلے اپنے مورچوں میں دفنائے تھے
یہ وہی جگہ ہے جہاں چوبارہ روڈ کے بالکل اوپر آج کی رومالاں والیاں قبراں ہیں

صاحبزادہ یعقوب خان اور ان کی جنگی فراست


فوج میں جب جب فوجی تدبیراتی مضمون Tactics کی سکھلائی ہوتی ہے تب تب لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) صاحبزادہ یعقوب خان کی اس appreciation کا ذکر ہوتا ہے جو انہوں نے فی البدیہہ کاغذ کے پرزے پر ہاتھ سے سکیچ بنا کر کی تھی۔ یہ appreciation سیالکوٹ کے محاذ پر ہندوستانی آرمرڈ ڈویژن کے حملے کی پانچ ممکنہ صورتوں اور انکے جواب میں پاکستانی 6آرمرڈ ڈویژن کی ممکنہ حکمتِ عملی کا اجمالی خاکہ تھا۔ ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ کے وقت صاحبزادہ یعقوب خان کوئٹہ میں کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کے کمانڈنٹ تھے۔ جنگ چھڑنے پر جب کالج بند ہوا تو انہیں 1کور ہیڈکوارٹر میں کورکمانڈر کے مشیر کی حیثیت سے پوسٹ کیا گیا۔ 9ستمبر کو جب سیالکوٹ کے محاذ پر ہندوستانی 1آرمرڈ ڈویژن کی موجودگی کی تصدیق ہوچکی تھی، تو صاحبزادہ یعقوب نے اوپر بیان کی گئی tactical appreciation جنرل ابرار کے سامنے رکھی۔ صاحبزادہ کے تخمینے میں ہندوستانی حملے کی سب سے متوقع صورت پھلورہ ۔ چونڈہ ۔ پسرور اور ساتھ ہی ساتھ مہراجکے ۔ بھاگووال ۔ بڈیانہ کی دشاوٗں میں تھی۔ جوابی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے پاکستانی آرمرڈ ڈویژن کمانڈر نے 24بریگیڈ کوگڈگور باکس کے مورچے چھوڑ کر پیچھے چونڈہ میں دفاع لینے کا حکم دیا۔ بریگیڈ کی جگہ لینے کے لیے 9 فرنیٹیئر فورس اور 11کیولری کی یونٹوں کو گڈگور باکس پہنچنے کا حکم مِلا۔
صاحبزادہ یعقوب خان کی جنگِ حکمتِ عملی کی افادیت اور درستگی اپنی جگہ مگر اس پر عملدرآمد کا وقت انتہائی غلط ثابت ہوا۔ شومئی قسمت سے 11/10 ستمبر کی رات جب مورچوں کی تبدیلی عمل میں آرہی تھی عین اسوقت ہندوستانی 1آرمرڈ بریگیڈ کی یونٹیں پھلورہ اور بھاگووال پر ایک بڑے حملے کے لیے جمع گاہ میں اکٹھی ہورہی تھیں۔ گڈگور باکس کے جن مورچوں پر ایک بریگیڈ کا حملہ آنا تھا وہاں اب صرف دو ایک انفنٹری کی پلٹن (9FF) اور ایک رسالے کی رجمنٹ (11Cav) تعینات کی گئی تھیں۔ بغیر کسی آپسی رابطے اور منصوبہ بندی کے ہوئی اس مورچوں کی تبدیلی کے نتیجے میں 9FF کے جوان جب گیارہ ستمبر کی رات کے آخری پہر اپنے نئے مورچوں کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے تھے 24بریگیڈ کی یونٹیں پہلے ہی وہاں سے جاچکی تھیں۔ 9FF کا جنگی روزنامچہ (War Diary) ہمیں بتاتا ہے کہ 11ستمبر کی رات لگ بھگ 3بجے کا عالم تھا۔ پلٹن کے جوان اپنی ذمہ داری کے علاقے میں 24بریگیڈ کے چھوڑے مورچے ابھی تلاش کر ہی رہے تھے کہ ہندوستانی توپخانے کا فائر آنا شروع ہوگیا۔ یہ چند گھنٹوں کی دوری پر آنے والے ہندوستانی بکتر بند سپاہ کے بڑے حملے کی پیش بندی تھی۔ 11ستمبر کی صبح طلوع ہوئی تو 9 فرنٹیئر فورس کے جوانوں نے خود کو ایک اجنبی زمین پر چو اطراف کھڑی گنے کی فصل سے گھرے مورچوں میں پایا۔ پلٹن کا دیکھنے اور مار کا علاقہ صفر تھا جب ان کے مورچوں پر ہندوستانی 4ہڈسن ہارس کے ٹینک ٹوٹ پڑے۔ ٹینکوں کا یہ حملہ جوسن کے گاوٗں میں 9FF کی الفا کمپنی کے مورچوں پر آیا۔ ان کی مدد کو پاکستانی 11کیولری کے الفا سکواڈرن کے ٹینک مدد کو آئے تو محاذ دھوئیں اور گردوغبار سے اٹ گیا۔ گنے کی فصل میں گھری پلٹن اب دشمن اور دوست ٹینک رجمنٹوں کے فائر کے بیچ میں آگئی تھی۔ گیارہ کیولری نے ہندوستانی 3ٹینک تباہ کردیئے مگر خود اپنے 4ٹینکوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ دوست اور دشمن کے فائر کی تمیز کھودینے کی حالت میں 9FF کی الفا کمپنی ہندوستانی ٹینکوں تلے روندی گئی۔ یہاں سے ہندوستانی 4ہڈسن ہارس کے ٹینک صابوکے کی طرف بڑھے تو سیدھا پھلورہ میں پاکستانی 11کیولری کے چارلی سکواڈرن سے آ ٹکرائے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) صاحبزادہ یعقوب خان کی ہندوستانی حملے کی پیش بندی۔ پانچ امکانات

9 فرنٹیئر فورس اور 11 کیولری کی جنگ


الفا کمپنی کے بکھر جانے کے بعد بھی 9FF کی براوو اور چارلی کمپنیاں اپنے مورچوں میں قائم تھیں مگر اب ہندوستانی ٹینک ان کی پشت پر پھلورہ کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔ ان کی مدد کو پاکستانی گائیڈز کیولری کے جن ٹینکوں نے آنا تھا وہ لبے اور خانوالی میں اپنے بقا کی جنگ لڑ رہے تھے۔ 9FF کی جنگ اب ختم ہوچکی تھی۔ شام کے آس پاس پلٹن کو چوبارہ روڈ پر پھلورہ کے راستے چونڈہ کی طرف پس قدمی کا حکم ملا۔ ٹینکوں کے ساتھ با پیادہ لڑے الفا کمپنی کے آٹھ شہیدوں کو ان کے ساتھیوں نے وہیں کھیتوں میں کھدے مورچوں میں دفن کرکے ان کی آٹھ قبریں بنا دیں۔ یہ گڈگور کی مختصر جنگ میں ہوا پلٹن کا کل نقصان تھا ۔ یہ وہی جگہ ہے جو چوبارہ روڈ پر گڈگور سے پہلے آج کے شادی ہال کے بالمقابل روڈ سے اتر کر کھیتوں میں ہے۔ یہاں آج کی تاریخ میں گہرے سبز رنگ کا چولا اوڑھے دو قطاروں میں آٹھ پکی قبریں ہیں جہاں میں اور پرویز فاتحہ پڑھنے اور شہید سلام کرنے آئے تھے۔ گیارہ ستمبر کی شام جب پلٹن کو پس قدمی کا حکم ملا تو کمانڈنگ آفیسر کرنل عبدالمجید پلٹن کو دوسرے افسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر خود اپنے گروپ کے ساتھ پیچھے نکل گئے۔ یہاں مسئلہ یہ تھا کہ پیچھے پھلورہ کراس روڈ پر ہندوستانی قبضہ ہوچکا تھا جسکی پلٹن کو خبر نہیں تھی۔ وہاں ہندوستانی 17پونا ہارس کے ٹینک اور 5جاٹ کے جوان روڈ بلاک لگاکر انتظار میں بیٹھے تھے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں آج کی تاریخ میں پاکستانی 1SP فیلڈ رجمنٹ آرٹلری کے لیفٹیننٹ کرنل عبدالرحمٰن کی یادگار کھڑی ہے۔

گڈگور باکس میں 9FF اور 11 کیولری پر آیا ہندوستانی ٹینک رجمنٹوں کا حملہ
9FF کے آٹھ شہید جنہیں ان کے ساتھیوں نے بٹالین ہیڈکوارٹرکے پاس سپردِ خاک کیا۔ یہ وہی جگہ ہے جسے آج ہم رومالاں والیاں قبراں کے نام سے جانتے ہیں
سپاہی محمد یونس شہید تمغہٗ جرات 9FF تاریخِ شہادت 11 ستمبر 1965
نائیک چنوں خان شہید 9FF تاریخِ شہادت 11 ستمبر 1965

گڈگور باکس کے دفاع میں لگی دوسری رجمنٹ پاکستانی 11کیولری کے براوو سکواڈرن نے 4ہارس کے حملے کے جواب میں پھلورہ اور لِبے کے درمیانی علاقے میں گھوم کر جوابی حملہ کیا۔ یہاں ہندوستانی 5/9 گورکھا رائفلز کے جوان لِبے پر حملے کے لیے اکٹھا ہورہے تھے۔ 11ستمبر کی صبح نو بجے پاکستانی توپخانے کا کارگر فائر آیا جو ہندوستانی پلٹن کو حملے کی جمع گاہ میں تتر بتر کرگیا۔ توپخانے کے فائر سے گورکھا رائفلز کے 40 اور 5جاٹ کے 20 سپاہی ناکارہ ہوگئے۔ ان میں اکثریت زخمیوں کی تھی۔ توپخانے کا یہ فائر 1SP فیلڈ رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل عبدالرحمٰن کا کارنامہ تھا۔ وہ گیارہ کیولری کے حملوں میں رجمنٹ کے کمانڈنگ افسر کے ساتھ ساتھ تھے۔ دوپہر کے آس پاس جبکہ پھلورہ ۔ گڈگور پر آئے ہندوستانی حملے کا زور ٹوٹتا نظر آرہا تھا، ہندوستانی توپخانے کا ایک گولہ پھلورہ کراس روڈ پر آکر گرا جس کے نتیجے میں وہاں موجود لیفٹیننٹ کرنل عبدالرحمٰن موقع پر شہید اور 11کیولری کے کمانڈنٹ لیفٹیننٹ کرنل عزیز اور 2IC شدید زخمی ہوگئے۔ یہ پھلورہ کراس روڈ پر ہندوستانی قبضے کا نقارہ تھا۔ لیفٹیننٹ کرنل عبدالرحمٰن کو بعد از شہادت ستارہٗ جرات سے سرفراز کیا گیا۔ پھلورہ کراس روڈ پر کھڑا شہید ستون ان کی یادگار ہے۔ گڈگور باکس سے تھکے ہارے , چونڈہ کی طرف پس قدمی کرتے 9FF کے جوان اور عین محاذ میں ان کا ساتھ چھوڑ جانے والے ان کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل عبدالمجید پھلورہ کراس روڈ پر دشمن کے نرغے سے کس طرح بچ کر نکلے یہ تفصیل ہمارے قارئین عنایت اللہ التمش کی کتاب ’دوپلوں کی کہانی‘ کے مضمون ’مورال کا معرکہ لڑنے والے‘ میں پڑھ سکتے ہیں۔

لیفٹیننٹ کرنل عبدالرحمٰن شہید، ستارہٗ جرات ۔ کمانڈنگ آفیسر 1SP فیلڈ رجمنٹ آرٹلری

خانوالی کے شہیدوں کی یادگار


11ستمبر کی صبح پھلورہ پر آئے ہندوستانی حملے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی 1آرمرڈ بریگیڈ کی دو اور رجمنٹ 17پونا ہارس اور 16کیولری بالترتیب لِبے اور ککھاں والی پر حملہ آور ہوئیں۔ جوابی حملے کے لیے پاکستانی 10کیولری(Guides) کو دن کے پونے گیارہ بجے ڈویژن سے احکام موصول ہوئے۔ ساڑھے گیارہ بجے گائیڈز کیولری کے دو سکواڈرن حملے کے لیے تیار تھے مگر اب دیر ہوچکی تھی جو گائیڈز کیولری کے ٹینکوں اور سپاہیوں کو مہنگی پڑنے والی تھی۔ الفا سکواڈرن نے بے جگری سے مقابلہ کرکے ہندوستانی 16کیولری کو ککھانوالی سے پیچھے دھکیلتے ہوئے اپنے ہدف چاہر پر قبضہ کرلیا مگر سکواڈرن کمانڈر میجر عبدالطیف ملک زخمی ہوگئے۔ براوو سکواڈرن کی کمان میجر ضیاالدین عباسی کے پاس تھی۔ یہ سکواڈرن گِل اور خانوالی گاوٗں کے درمیاں ہندوستانی 17پونا ہارس کے ٹینکوں سے جاٹکرایا۔ اپنے ہدف لِبے سے محض ایک کلومیٹر کی دوری پر سکواڈرن کمانڈر اور سیکنڈ ان کمانڈ کے ٹینک ہندوستانی فائر کی زد میں آکر تباہ ہوگئے۔ میجر عباسی اور لیفٹیننٹ حسین شاہ شہید ہوگئے۔ میجر ضیاالدین عباسی کے ٹینک میں لگی آگ سے عملے کی تمام سپاہ جل کر خاکستر ہوگئی۔ گائیڈز کیولری کی ان جری کارروائیوں میں اپنے 6 پیٹن ٹینک تباہ ہوئے جبکہ رجمنٹ نے 21ہندوستانی ٹینکوں کو نشانہ بنانے کا دعوٰی کیا۔ گِل اور خانوالی کی زمینوں پر ہوئے اس معرکے میں 2افسر اور 9جوان کام آئے۔ میجر عباسی اور لیفٹیننٹ شاہ کو بعد از شہادت ستارہٗ جرات عطا کیا گیا۔

گیارہ ستمبر 1965 کے دن گائیڈز کیولری کے جوابی حملے
لیفٹیننٹ حسین شاہ شہید، ستارہٗ جرات ۔ گائیڈز کیولری

پھلورہ کے چوک پر جہاں ہم نے پہلے پہل رومالاں والیاں قبراں کا راستہ پوچھا تھا تو ہمارے گائیڈ نے گڈگور کی قبروں کی طرف ہمیں روانہ کرتے ہوئے خانوالی میں بھی ایک یادگار کی نشاندہی کی تھی۔ چوبارہ روڈ پر جہاں 9FF کے شہیدوں کی قبریں ہیں اسی روڈ پر تھوڑا پیچھے آجائیں تو ایک دفاعی بند روڈ کو کاٹتا جنوب مغرب کی طرف چلتا ہے۔ ہم نے چوبارہ روڈ سے اس بند کے سامنے چلتا کچا راستہ پکڑا اور تھوڑا آگے جاکر سیالکوٹ ۔ پھلورہ روڈ کے پار خانوالی کی یادگار کو کھوجنا شروع کیا مگر بے سود۔ گھومتے گھامتے جب گاڑی خانوالی گاوٗں کی حدود میں داخل ہورہی تھی ہمارا ٹاکرا سامنے سے آتی ایک گھوڑا گاڑی سے ہوا۔ گاڑی بان کو ہماری منزلِ مقصود کا حرف بحرف پتہ تھا۔ مسکراتے ہوئے گویا ہوا
میں وی اودھر ہی چلاں واں۔ تسیں میرے پچھے پچھے آجاوٗ
پچھے پچھے کیوں، تہاڈے نال کیوں نئیں


اور یہ کہہ کر میں کرولا جی ایل آئی کی سیکنڈ سیٹ سے اٹھ ایک غیرروایتی سواری کے گاڑی بان کی ہمراہی میں گھوڑا گاڑی پر سوار ہوگیا۔ تھوڑا آگے جاکر ہم دوبارہ دفاعی بندکے ساتھ آگئے اور وہاں سے تھوڑا آگے ایک تنگ راستہ بند کے پشتے کے پار اترتا تھا جہاں سے میں اور پرویز پیدل چلتے درختوں کے ایک جھنڈ کی ٹھنڈی چھاوٗں میں آگئے ۔ جون کی تپتی دوپہر اس جھنڈ میں ایک ٹھنڈک بھری راحت تھی کہ یہاں گائیڈز کیولری کے شہیدوں کی یادگار کھڑی تھی جسے وطن کی ہوائیں سلام کہہ رہی تھیں۔ اسی یادگار سے تھوڑا ہٹ کر ایک اکیلا ستون سوار قادر بخش کی جائے شہادت کی نشاندہی کرتا ہے۔ سوار قادر بخش شہید 11کیولری میں تھا جس نے 9فرنٹیئر فورس رجمنٹ کے ساتھ گڈگور اور پھلورہ کی جنگ لڑی تھی اور یہیں پھلورہ کراس روڈ پر کے پاس ان کا ایک سکواڈرن دو ہندوستانی ٹینک رجمنٹوں کے گھیرے میں آکر تباہ ہو گیا تھا۔

خانوالی کے پاس گائیڈز کیولری کے شہداء کی یادگار
خانوالی کے پاس گائیڈز کیولری کے شہداء کی یادگار
خانوالی کی یادگارِ شہداء کے پاس سوار قادر بخش شہید 11 کیولری کی جائے شہادت کا ستون
میجر ضیاالدین عباسی شہید، ستارہٗ جرات ۔ گائیڈز کیولری

جنگ بندی کے بعد لِبے اور خانوالی کی انہی زمینوں میں گِل گاوٗں کے پاس میجر ضیاالدین عباسی شہید ستارہٗ جرات کے والد آئے تھے۔ دفنانے کو شہید کا جسدِ خاکی تو نہیں تھا تو وہ جائے شہادت سے تبرکاً کچھ خاک اٹھا کر ساتھ لے گئے تھے کہ اپنے شہید بیٹے کے نام پر حجِ بدل کو روانہ ہوں گے تو یہ خاک اس بھاگوان سرزمین پر ڈال آئیں گے جس کی مٹی میں احد اور بدر کے شہیدوں کا لہو ہے۔ میجر عباسی کا ستارہٗ جرات فیلڈ مارشل سے ان کی نوبیاہتا بیوہ نے وصول کیا تھا۔ خانوالی کی شہداء یادگار سے پرے کراچی میں ناظم آباد کے علاقے میں ایک شہید ستون اور عباسی شہید اسپتال میجر ضیاالدین عباسی شہید کی یادگار ہیں۔

سیالکوٹ سے سنکھترہ روڈ پکڑیں تو وہ سیدھی پھلور ہ کراس روڈ پر آکر رکتی ہے جہاں 1SP فیلڈ رجمنٹ آرٹلری کے لیفٹیننٹ کرنل عبدالرحمٰن شہید ستارہٗ جرات کی یادگار کھڑی ہے۔ وہاں سے چوبارہ روڈ پر گڈگور سے ذرا پہلے روڈ کے ساتھ کھیتوں سے لگ کر ایک چھوٹی سی مسجد کے احاطے میں قطار اندر قطار آٹھ قبریں ہیں۔ کسی زمانے میں یہاں ریشمی رومال لہرائےتھے جو اب تو نہیں ہیں مگر 9FF کے ہمارے شہید اب بھی یہیں آرام کرتے ہیں۔ وہیں سے دفاعی بند پکڑ کر لِبے اور خانوالی کی طرف کی نیت کرلیں تو درختوں کے ایک جھنڈ میں گائیڈز کیولری کے شہداء کی یادگار ہے۔ سیالکوٹ سے نکلتی شکرگڑھ بلج کے دل کو لگتی پھلورہ اور اس کی نواحی زمینیں بہت مقدس ہیں کہ ان میں ہمارے شہیدوں کا لہو ہے۔

If you like this story, create a buzz, share!
3 2 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted