وزیرستان کے سکاؤٹس، پختون ولی اور سروِکئی کا کیپٹن بورنگ

ٹوچی پکٹ اور محسود چھاپہ مار

پشتو کی ایک کہاوت ہے، جسکا مفہوم کچھ یوں ہے
پہلے ایک گورا صاحب آتا ہے مسافر یا شکاری کے بھیس میں، پھر دو آتے ہیں اور نقشہ بناتے ہیں، پھر ان کے پیچھے ایک پوری فوج آتی ہے اور ملک فتح کرلیتی ہے، اس لیے بہت بہتر ہے کہ سب سے پہلے آنے والے خانہ خراب گورے کو مار ڈالو۔
صاحبو، کہاوتیں اپنی صحت میں زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتی ہیں۔ ’وطن‘ میں باہر سے آنے والوں کے ساتھ مرنے مارنے کا قبائلی وطیرہ آج بھی جاری و ساری ہے مگر وہ ہمارا موضوعِ سخن نہیں۔ رہے ہمارے نوآبادیاتی آقا گورے، تو انہیں اس کہاوت کی سمجھ آگئی تھی مگر اس راہِ پر خطر پر کچھ ہچکولے کھانے کے بعد۔

بہت دنوں کی بات ہے کہ شمالی وزیرستان کی ایک پکٹ (پہاڑی چوکی) پر سرکارِ انگلشیہ کے لگ بھگ ساٹھ کے قریب ہندوستانی سپاہی آکر ٹھہرے۔ ان کا کام ٹوچی کی وادی سے گزرتی ایک سڑک پر نظر رکھنا تھا۔ اس بے آب وگیاہ ویرانے میں تاحدِ نظر کچھ بھی تو نہیں تھا جو حرکت کرتا نظر آتا۔ سو ہرگزرتے دن کے ساتھ ہمارے سپاہی ایک اکتا دینے والی یکسانیت کے عالم میں وہی سب کچھ کِیا کیے جو فوج عموماً کیا کرتی ہے۔ سنتری ڈیوٹی، ہتھیارصفائی، کھانا، اونگھنا، سونا اور رفعِ حاجت۔
ایک کام البتہ فرق تھا۔ ہر روز پہلی روشنی (طلوعِ آفتاب سے پہلے کا ملگجا سویرا جس میں حرکت کرتی ہوئی چیزیں سائے یا ہیولے کی مانند نظر آتی ہیں) کے وقت کوئی دس سپاہیوں کا دستہ پکٹ سے کچھ فاصلے پر ایک بلند گھاٹی پر جا ٹھہرتا جہاں سے پکٹ اور ارد گرد کے علاقے پر نظر رکھی جاسکتی تھی۔ آخری روشنی (سورج غروب ہوتے وقت کا ملگجا اندھیرا) کے وقت یہ سپاہی واپس آجاتے۔ یکسانیت اور سہل پسندی کا یہ عالم تھا کہ گھاٹی پر جانے اور واپس آنے کے لیے یہ لوگ ایک ہی راستہ استعمال کرتے۔ احتیاط کے پیشِ نظر راستہ بدل بدل کر آنے جانے کی انہوں نے کبھی ضرورت ہی محسوس نہ کی تھی کہ وہاں آس پاس کبھی کوئی ذی روح نظر تک نہ آیا تھا جن سے انہیں کوئی خطرہ یا خطرے کا اندیشہ ہی لاحق ہوتا۔
کچھ نادیدہ آنکھیں مگر یہ سب دیکھ رہی تھیں۔ نو میل دور ایک پہاڑی کھوہ میں نوجوان محسود قبائلیوں کا ایک گروہ دبکا بیٹھا تھا۔ وہ اپنی کمین گاہ اور اس کے باہر سے ان سپاہیوں کے معمولات پر مستقل نظر رکھے ہوئے تھے کچھ اس چابکدستی اور مہارت سے کہ سپاہیوں کو اپنی قربت میں کسی دشمن کی موجودگی کا شائبہ تک نہ ہوا۔ ان قبائلیوں کا صرف ایک مقصد تھا۔ بلند گھاٹی اور پکٹ کے درمیان کا راستہ محض چند ایک گز کے لیے دونوں مقامات کی نظروں سے اوجھل ہوجاتا تھا۔ قبائلیوں نے عین یہیں ان دس ہندوستانی سپاہیوں پر گھات لگانی تھی۔ ایک صبرآزما منصوبہ بندی کے بعد جب یہ قبائلی رات کو گھات کے طے شدہ مقام پر پہنچ گئے تھے عین تب آسمان سے ایک تارا ٹوٹا۔ یہ اچھا شگون نہیں تھا، کمانڈر خاموشی سےاپنے جوانوں کو لے کر واپس پلٹ گیا۔
دوسری رات راستے کے نشیب میں پڑتا ایک نالہ خلافِ معمول بپھرا ہوا ملا تو منصوبہ ملتوی کرنا پڑا۔ تیسری رات ایک گاؤں کے پاس سے گزرتے اس جتھے پر کتا بھونک پڑا، اس سے ہندوستانی سپاہ کے سنتری لازماً چوکنے ہوگئے ہوں گے، سو یہ جماعت پلٹ آئی۔ چوتھی رات سب کچھ ٹھیک تھا کہ گھات کے مقام سے کچھ پہلے ایک نوجوان کو پیشاب کی حاجت نے آلیا، پتھریلی زمین پر پڑتی دھار کی آواز کسی بھی سنتری کو اگر وہ واقعتاً سنتری کی تعریف پر پورا اترتا تھا چوکنا کرنے کو کافی تھی۔ چاروناچار ہمارے قبائلی پلٹ گئے۔ اگلی رات ہر جوان کے ہاتھ میں مقامی طور پر اگنے والی ٹھگنی کھجور کا چوڑا پتہ تھا کہ عین حاجت کے سمے دھار براہِ راست زمین پر گرنے کے بجائے پتے کا لہردار راستہ طے کرے اور آواز پیدا ہونے کا احتمال نہ رہے۔
اس رات پہلی روشنی ہونے پر دس سپاہیوں کا دستہ پکٹ سے نکل بلند گھاٹی کو چلا۔ جیسے ہی سپاہیوں کی یہ ٹولی گھات کے طے شدہ اوجھل مقام پر آئی یوں لگا جیسے برق سی کوند گئی ہو۔ سروں کے عین اوپر برستی گولیوں کی بوچھاڑ، پکٹ کی طرف ایک برسٹ تاکہ وہاں کے نشان دار سر اٹھا نہ پائیں، اور چھروں سے لیس قبائلیوں کی ایک آخری یلغار، زخمیوں کو ٹھکانے لگاتی اور ان کے ہتھیار اچکتی ہوئی، اور ہمارے محسود قبائلیوں کا جتھہ یہ جا وہ جا۔
پختون ٹھیک کہتے ہیں۔ صبر بھلے کتنا کڑوا کیوں نہ ہو، اس کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔

ٹل میں آؤٹ سٹینڈنگ


چارلس شینیوی ٹرنچ کی کتاب ’دا فرنٹیئر سکاؤٹس‘ میں درج یہ قصہ جسکا ہم نے اوپر پھیکا سا ترجمہ کرنے کی کوشش کہ ہے، اسقدر دلچسپ تھا کہ ہم کتاب ہاتھ میں پکڑتے ہی اس کے عاشق ہوگئے۔ یہ کتاب کوہاٹ کے انفنٹری ڈویژن کے جنرل آفیسرکمانڈنگ کی ذاتی لائبریری سے براہِ راست ٹل کی میڈیم رجمنٹ میں ہمارے نام ارسال کی گئی تھی۔ جنرل صاحب کی اس نوازشِ خسروانہ کا ایک پس منظر تھا۔
سال تھا 2001، جب ایک نوآموز کپتان یعنی ہمیں ہمارے کمانڈنگ آفیسر نے سالانہ کارکردگی کی رپورٹ میں آؤٹ سٹینڈنگ گریڈ کے لیے نامزد کیا۔ سالانہ لکھی جانے والی مہارت کی رپورٹ (جسے OER – Officer Efficiency Report کہتے ہیں۔ بھلے وقتوں میں اسکا ایک ڈراؤنا سا نام ہوتا تھا ACR – Annual Confidential Report جسکا سلیس ترجمہ ہوگا سالانہ خفیہ رپورٹ) میں افسروں کی قابلیت جانچنے کے گریڈ ہوتے ہیں۔ Average یعنی معمولی سے اوپر کی طرف جائیں تو Above Average یعنی غیرمعمولی، Well Above Average نہایت غیر معمولی اور قسمت سے ملنے والی Outstanding جسکا سلیس ترجمہ ہوگا باہر کھڑا ہوا، یعنی فوج کے ’عام ریوڑ‘ سے باہر الگ تھلگ کھڑا ممتاز افسر۔
اس بحث سے قطعِ نظر کہ ہم اس Outstanding رپورٹ کے اہل تھے بھی یا نہیں اس رپورٹ کی توثیق ڈویژنل آرٹلری کمانڈر سے دستی ہوگئی، کچھ اس سبب سے کہ بریگیڈیئر میکسی عباسین تھے اور گو کہ ہم نے عباسیہ میں انکی ماتحتی میں کام نہیں کیا تھا مگر وہ ہمارے ’کارناموں‘ سے واقف تھے اور آخر کو ہم ان کے یونٹ افسر تھے۔ آرٹلری ہیڈکوارٹر سے جب یہ رقعہ چلا چل لفافے کبوتر کی چال چلتا ڈویژنل ہیڈ کوارٹر پہنچا تو جنرل آفیسر کمانڈنگ کے دفتر کی دہلیز پر اس کے پر جل گئے۔ جنرل صاحب کا فرمان تھا کہ کوہاٹ والے ڈویژن میں آؤٹ سٹینڈنگ لینا کوئی بچوں کا کھیل ہے! نتیجتاً ڈویژن کمانڈر کے بک شیلف سے چارلس شینیوی ٹرنچ کی کتاب ’دا فرنٹیئر سکاؤٹس‘ ہمارے نام کے سرناویں کے ساتھ ٹل چھاؤنی میں وارد ہوئی۔ سرناواں کیا تھا، شاہی فرمان تھا جس کی رو سے متعلقہ افسر کو کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد فوج کے جدی پشتی سافٹ ویئر مائیکروسافٹ پاورپوائنٹ میں ایک پریزینٹیشن تیار کرکے اسے باقاعدہ کوہاٹ گیریژن آڈیٹوریم میں جمع ہوئے ڈویژن آفیسرز کے اکٹھ کے سامنے پیش کرنا تھا۔
معاملہ گھمبیر ہو چلا تھا کہ اب ہماری کارکردگی سے براہِ راست یونٹ اور یونٹ کمانڈر کا نام جُڑ گیا تھا۔ کرنل بھٹی نے ایک لانس نائیک کلرک سٹینو گرافر کے طور پر ہمیں عنایت کردیا اور اپنے تئیں بے فکر سے ہوگئے۔ ہم بھی ایک بے نیازی کے عالم میں اپنے اعزازی سٹینو کو ’ٹھنڈ رکھنے‘ کا کہہ کر کتاب سنبھال کر بیٹھ گئے۔ یونٹ کمانڈر کی بےفکری اور راقم السطور کی بےنیازی کی اپنی وجوہ تھیں۔ اول الذکر تو ویسے کسی چیز کی ٹینشن نہیں لیتے تھےاور شاید انہیں ہم پر کچھ ضرورت سے زیادہ بھروسہ تھا کہ کچھ ’کَر کُر‘ لے گا۔ رہ گئے ثانی الذکر تو ایک تو عباسیہ کے ہیڈ کلرک کی مہربانی سے مابدولت کو ٹائپنگ آتی تھی، بلکہ ہمارے کی بورڈ سکلز کے آگے تو ٹاواں ٹاواں کلرک خود پانی بھرتا تھا، دوسرے پاورپوائنٹ میں بلا شرکتِ غیرے اپنی مہارت پر ہمیں پورا اعتماد تھا۔ مگر ہماری بے نیازی کی اصل وجہ تھی فرنیٹیئر سکاؤٹس کی کتاب۔ پیش لفظ میں بیان کیا گیا قصہ جس کا ہم نے اوپر ترجمہ پیش کیا ہے کچھ اسقدر چٹخارے دار تھا کہ ہم سب کچھ تیاگ کر کتاب کے چسکے میں گم ہوگئے۔ کہ پہلے تسلی سے کتاب پڑھ لیں، ڈویژن والوں کو پریزینٹیشن بعد میں دیکھ لیں گے۔

وزیرستان کے پہاڑ
افسر، وزیرستان کے پہاڑوں میں
رزمک، شمالی وزیرستان۔ گورے اسے لٹل لنڈن کہا کرتے تھے
چارلس شینیوی ٹرینچ کی کتاب، دا فرنٹیئر سکاؤٹس

فرنٹیئر سکاؤٹس


جن دنوں کا یہ قصہ ہے خیبر پختونخواہ ابھی سرحد کہلاتا تھا اور اس میں موجود قبائلی علاقے وفاق کے زیرِ انتظام تھے۔ کوہاٹ سے لگ بھگ تین گھنٹے کی مسافت پر اورکزئی اور کرم ایجنسیوں کے سنگم کو چھوتی ٹل چھاؤنی ’علاقہ غیر‘ کی عین سرحد پر واقع تھی۔ ٹل کے اُس پار سارا وہی علاقہ تھا جس کے واقعات و وقوعہ جات سے مسٹر ٹرینچ کی کتاب بھری پڑی تھی۔ ہم ٹل سے اگر ایک لاپرواہ سی چھلانگ لگاتے تو سیدھے شمالی وزیرستان میں گرتے اور ایک ثابت قدمی میں سپین وام، میرعلی اور میرانشاہ کی منزلیں مارتے جنوبی وزیرستان میں جا پہنچتے۔ یہ دونوں ایجنسیاں سب سے زیادہ جنگجو اور گوروں کے حساب سے ناقابلِ اعتبار محسود اور وزیر قبائل کا گڑھ تھیں۔ آگے چل کر ہم ان کا ذکر کچھ تفصیل سے کریں گے۔ فی الوقت تو ٹل کے چوبارے سے وزیرستان کو جھانکتے مانی کے ہاتھ میں فرنٹیئر سکاؤٹس کی کتاب تھی اور بالکل سامنے ایک دشت کی سیاحی کی دعوت دیتے وزیرستان کے کوہسار۔
بّرِصغیر میں جب کمپنی کی حکومت اپنے اصل رنگ ڈھنگ میں تاجِ برطانیہ کے زیرِ فرمان انگلشیہ سرکار کی حکومت بن گئی تھی تب بھی خانہ خراب گورا صاحب کے دماغ میں شمال مغربی سرحدی صوبے سے لگتی قبائلی پٹی پر اپنا انتظام و انصرام تھوپنے کا سودا نہیں سمایا۔ شمال میں مالاکنڈ سے لے کر جنوب میں ڈیرہ اسماعیل خان تک فرنٹیئر کے چھ اضلاع کو چھ عدد ڈپٹی کمشنر چلاتے تھے اور فرائض کی ادائیگی میں یہ سب پشاور میں موجود گورنر کو جوابدہ تھے۔ یہ لکیر وہ آخری حد تھی جہاں تعزیراتِ ہند اور حکومتی لگان کا اطلاق ہوتا تھا۔ اس کے پار جنوبی وزیرستان سے باجوڑ اور اوپر شمال کی سمت چترال اور گلگت کی طرف کی قبائلی پٹی میں صورتحال مختلف تھی۔ یہاں معاملات کی دیکھ ریکھ میں مقامی سرداروں اور جرگے کا راج تھا۔ ان مقامی سرداروں سے سرکاری رابطہ استوار رکھنے والا تاجِ برطانیہ کا افسر پولیٹیکل ایجنٹ کہلاتا تھا۔
امن و امان اور کاروبارِ زندگی کی عملداری کے لیے حکومتِ برطانیہ نے یہ طریقہ نکالا کہ یہاں کے مقامی قبائلی لوگوں کو بھرتی کرکے اسکاؤٹس کی داغ بیل ڈالی۔ یہ وہ نیم فوجی دستے تھے جنکو کمانڈ کرنے برطانوی فوج کے افسر آتے تھے جنکے کوائف میں باقی چیزوں کے علاوہ ایک یہ چیز نمایاں تھی کہ وہ سب پشتو زبان کے مقامی لب ولہجے پر بولنے، پڑھنے اور سمجھنے پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ دوسری نمایاں چیز ان افسران کا چھڑا چھانٹ ہونا تھا وہ اس واسطے کہ فرائض کی ادائیگی کے دوران کسی حادثاتی طور پر یا پھر قبائلیوں کے ہاتھوں دیہانت ہوجانے کی صورت میں سرکاری خزانے کو بیوگان کو پنشن و دیگر بقایا جات کی بھاری ادائیگی نہ کرنی پڑے، محض پسماندگان کے نام تعزیتی چٹھی سے ہی تاجِ برطانیہ سرخرو ٹھہرے۔
صاحبو، سکاؤٹس ایک ایسی پٹھان فورس تھی جو مقامی قبائلیوں کے خلاف لڑنے کے لیے انہیں میں سے بھرتی کیے گئے قبائلیوں پر مشتمل تھی۔ یہ لوگ ساری سروس اپنے بھائی بندوں سے لڑنے کے بعد جب ریٹائر ہوتے تو واپس انہی قبائلیوں کے درمیان ایک عزت سے باقی ماندہ زندگی گزارتے کہ ان علاقوں میں وفاداریوں سے زیادہ فنِ سپہ گری کی حرمت مقدم تھی۔
شروع شروع میں تجرباتی طور پر کھڑی کی گئی، شمال میں خیبر رائفلز اور نیچے جنوب میں ژوب ملیشیا کا بنیادی کام تو برٹش انڈیا کی سرحدوں کی حفاظت تھا، مگر یہ تجربہ اتنا کامیاب رہا کہ ’وزارتِ خارجہ‘ کے اسی ماڈل پر ’وزارتِ داخلہ‘ نے قبائلی علاقوں میں سکاؤٹس کی داغ بیل ڈالی تھی۔ مختصر لفظوں میں کہا جائے تو علاقے کے سارے کن ٹٹوں کو بھرتی کرکے گورے ایس ایچ او کی زیرِ نگرانی علاقے کی نگرانی انہی کو سونپ دی گئی تھی۔ مگر کن ٹٹے بھی تو اپنی خصلت و خواص میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ وزیرستان کے علاقے کے محسود اور وزیر قبائل بھی کچھ مختلف شہرت ہی رکھتے تھے۔ عین ان دنوں جب اسکاؤٹس کا تجربہ تاجِ برطانیہ کے ایوانوں میں ’انتہائی مطمئن‘ اور قابلِ عمل گردانا جارہا تھا، محسود قبیلے کے سکاؤٹس نے ’راکھی‘ کرنے کے مقابلے میں ’بدمعاشی‘ کرنے کا فیصلہ کیا۔
تو پھر کچھ یوں ہوا کہ جنوبی وزیرستان میں سَروِکئی نام کی ایک چوکی پر جبکہ خلقت بشمول گورا پولیٹیکل ایجنٹ کیپٹن جے بی بورنگ خوابِ غفلت میں پڑے سوتے تھے،آدھی رات کے سناٹے کو چیرتی گولی کی آواز گونجی۔

فاٹا کے قبائلی علاقہ جات
رزمک میں شوال رائفلز کا قلعہ

شینیویکس vs شینیوی اور پختون ولی


چارلس ’شینیویکس‘ ٹرینچ از جنرلائزنگ دا پختونز آف فرنٹیئر آن دی بیسز آف اے کوڈ آف کنڈکٹ، پختون ولی۔ اینڈ مائی ڈیئر آڈینس آئی ہیو مائی ریزرویشن آن دیٹ۔
اپنی طرف سے ہم نے بڑا ناپ تول کر یہ جملہ بولا تھا۔ یونٹ ٹی بار میں سامنے بیٹھے کرنل فرخ گویا ہوئے، یار بات سنو یہ جس کو تم نے ہجے در ہجے کرکے Chenevix شینیویکس پڑھ لیا ہے یہ فرنچ نام لگ رہا ہے۔ اس کا صحیح تلفظ چیک کرلو۔ کرنل صاحب نے بڑے پتے کی بات بتائی تھی مگر پاور پوائنٹ کی سلائیڈوں کی انگریزی سیدھی کرتے کیپٹن عمران کو کہاں فرصت تھی کہ فرنچ کی جانچ پڑتال کرتا۔۔ نتیجتاً پریزینٹیشن والے دن بھی یہی غلطی دوہرائی جس کی تصحیح بقلم خود جنرل آفیسر کمانڈنگ کے پاس سے آئی جو سامعین کی سب سے اگلی قطار میں تشریف رکھتے تھے۔ ینگ آفیسر، دا نیم از شینیوی، ناٹ شینیویکس۔
اس ایک ہچکی کے علاوہ پریزنٹیشن ہموار اور لگاتار چلتی چلی گئی تھی۔ ہم نے ریہرسل ہی اتنی کی تھی اور ’شینیویکس‘ کے اعتراض طلب ہجے کے علاوہ پختون ولی کی تعریف میں اوپر بیان کیا گیا جملہ تو تیار ہی اس نیت سے کیا گیا تھا کہ اس پر سوال اُٹھے گا۔
پٹھانوں کے آپسی طور طریقے اور معاملات پختون ولی کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ یہ پختونوں کی روایت اور غیرت میں گندھا ایک ان لکھا ضابطۂ کار ہے۔ ایسا ’فرنیٹئر سکاؤٹس‘ میں کہنا تھا مسٹر چارلس شینیوی ٹرینچ کا۔ اور صرف مسٹر ٹرینچ پر ہی موقوف نہیں اس دور کے انگریز لکھاریوں نے ہمیں یہی بتانے کی کوششش کی ہے۔ پختون ولی کے تین کلیدی اصول ہیں۔ پہلا بدل : پختون پر اپنے خاندان، قبیلے اور قوم پر آئے زخم یا ذلت کا بدلہ لینا واجب ہے، بھلے اس میں اس کی اپنی جان چلی جائے۔ وہ مناسب موقعے کے انتظار میں قرن بتا دے گا مگر وقت آنے پر وار ضرور کرے گا۔ دوئم نانوتی : پناہ طلب کرنے والے کو چاہے وہ دشمن ہی کیوں نہ ہو، کبھی انکار نہیں کیا جائےگا۔ خدا کی مقدس کتاب پر اگر جانی دشمن بھی پناہ طلب کرے تو دی جائے گی، یہاں نانوَتی کا اصول بدل پر فوقیت لے جائے گا۔ مگر اپنے دشمن سے پناہ طلب کرنا پختونوں میں ذلت کا آخری درجہ گردانا جاتا ہے۔ تیسرا میلمستیا : مہمان نوازی۔ پختون اپنے مہمان پر گھر کا دروازہ،دسترخوان اور دل کے دوار کھول دیتا ہے۔ اس کا مہمان ایک طرح سے اسکی پناہ اور حفاظت میں آجاتا ہے۔

چارلس شینیویکس (شینیوی) ٹرینچ از جنرلائزنگ دا پختونز آف فرنٹیئر آن دی بیسز آف اے کوڈ آف کنڈکٹ، پختون ولی۔ اینڈ مائی ڈیئر آڈینس آئی ہیو مائی ریزرویشن آن دیٹ۔ (چارلس شینیوی ٹرینچ پختون ولی کے ضابطہ کار پر علاقہ غیر کے تمام پختونوں کو پرکھنے کی غلطی کررہے ہیں، ​​اور معزز حاضرین اس پر میرے تحفظات ہیں۔)
کوہاٹ کے گیریژن آڈیٹوریم میں ڈویژن کے افسروں کے اژدھام میں سامنے روسٹرم پر کھڑے اکیلے مانی نے آخری جملہ ناپ تول کر بولا تھا، کہ اسے علم تھا کہ اس پر سوال اُٹھے گا جس کے جواب کے لیے بطورِ خاص ایک نقشہ اور پاور پوائنٹ کی کچھ سلائیڈز پریزینٹیشن کے آخر میں Q&A Session (سوال و جواب کے دور) کے لیے سنبھال کر رکھی تھیں۔
وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

فوجی محاورے کے مطابق چند ایک آدھی راتوں کا تیل جلا کر ہماری پاور پوائنٹ کی فائل تیار ہوئی تو پریزینٹیشن کا دن بھی آچلا تھا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اس solo presentation کے آخر میں Q&A session یعنی سوال وجواب کا دور بھی تھا۔ ایک اکیلی جان نے کوئی ڈیڑھ پونے دو سو سلائیڈوں پر مشتمل تھیسس پیش کرنے کے بعد ڈویژن کے منکرِ نکیر افسران کی بازپرس کا بھار بھی اُٹھانا تھا۔ ایسے میں بیٹری کمانڈر میجر خٹک ہماری مدد کو آئے۔ ویسے تو انکی یونٹ کے سٹاف افسروں سے لگتی تھی۔ یونٹ کے مکینیکل ٹرانسپورٹ افسر کیپٹن گیلانی کو وہ ’شٹوری‘ اور کوارٹر ماسٹر یعنی ہمیں ’کارروائی‘ کہا کرتے تھے۔ مگر اب معاملہ یونٹ کی عزت کا تھا۔ اس دن ٹی بار میں جمع ہوئے یونٹ افسروں کے جھرمٹ میں وہ کہنے لگے، گھبرانا نہیں ہے مڑا، کیسا ہی مشکل اور گھٹیا سوال کیوں نہ آئے، انگریزی میں تین سے چار جملے پر اعتماد ہو کے بول دینے ہیں، انگریزی ویسے بھی تیری ٹھیک ہے۔ ساتھ ہی ہال میں بیٹھے ہم یونٹ افسروں میں سے ایک آدھا اُٹھ کر ’ویل سیڈ، اینڈ ٹو ایڈ آن ٹو وٹ عمران جسٹ سیڈ‘ کا جیک لگا کر سنبھال لے گا۔
تقریب میں ہماری پریزینٹیشن احسن طریقے سے انجام کو پہنچی اور سوال و جواب کے دور میں پختون ولی کی ہماری ریزرویشن پر سوال اُٹھا تو ہم تیار تھے۔ صاحبو پختون ولی کی جنرلائزیشن تک تو ٹھیک ہے مگر یہی گورا جب کہے گا کہ پٹھان سونے (gold) کی حرص کے پیچھے کچھ بھی کرسکتا ہے، شاید مہمان کو دغا نہ دے، مگر شاید دے بھی دے تو کیسا لگے گا۔ اور پھر قبائلی خوانین کی بذریعہ جبلی خواص گروہ بندی کیسی رہے گی۔ نقلِ گورا حقیقت نہ باشد نری بکواس باشد، وزیر ایک چیتے کی طرح اکیلا وار کرتا ہے، عیار اور خطرناک جبکہ محسودوں سے ڈرنا چاہیے جب وہ ایک گروہ میں ہوں، بھیڑیوں کے غول کی طرح، جلد یا بدیر مقصد کے حصول سے نہ ٹلنے والے۔ محسود چہرے پر ایک مسکان سجائے خود آپ سے کہے گا، ہم مکار لوگ ہیں، بھروسے کے بالکل بھی قابل نہیں۔
عین یہاں ہمارے مدگار کلرک نے اگلی سلائیڈ بدلی اور سامنے جنوبی وزیرستان کا نقشہ ابھرا۔ مگر 1904 کی اس تاریک رات سَروِکئی پوسٹ پر ’بھیڑیوں کے غول‘ سے پرے ایک اکیلا محسود سنتری کھڑا تھا، کیپٹن جے بی بورنگ کی چارپائی کی پائنتی۔ وہی درے محسود جو وزیر سپاہیوں سے بڑھ کر گورے کو عزیز تھے، جب سناٹے کو چیرتی گولی کی آواز گونجی۔

جنوبی وزیرستان کا نقشہ
جنوبی وزیرستان میں افسر

وزیرستان میں گشت


گیریژن ہال میں تقریب کا باقاعدہ اختتام کرتی اپنی تقریر میں جنرل آٖفیسر کمانڈنگ نے ستائشی کلمات تو کچھ نہیں کہے ہاں یہ مگر ضرور کہا کہ ہماری کاوش کتاب کے بہت قریب تھی اور یہ کہ بذاتِ خود پختون ہوتے ہوئے انہیں ’ینگ کیپٹن‘ کی پختون ولی پر ’ریزرویشن‘ سے مکمل اتفاق ہے۔ تقریب کے اختتام پر چائے کے دوران باقی ماندہ افسران سے تعریفی کلمات سمیٹتے ہماری خوشی چھپائے نہ چھپتی تھی کہ نفس پھول کر کپا ہوگیا تھا اور کانوں کی لویں لگاتار سرخ تھیں۔ اسی دن شام کو کوہاٹ سے ٹل واپس جاتے سمے ملٹری ڈیری فارم سے سی او جیپ مکھن کی گھریلو سپلائی لینے کو رکی تو مینیجر فارمز کے ساتھ چائے میں کیک پیس ڈبو کر کھاتے سمے کرنل بھٹی نے نوید سنائی کہ ہماری آؤٹ سٹینڈنگ OER کی جنرل آفیسر کمانڈنگ سے توثیق ہوگئی ہے۔
زندگی رفتہ رفتہ ٹل کی پتھریلی روٹین کو پلٹ گئی تھی۔ دفتری بیگار کے بعد شام کے کھیلوں میں یونٹ کے جوانوں کے ساتھ والی بال، بعد ازاں افسر میس کے سامنے والے رڑے میدان میں، جسقدر ٹل کی ناہموار زمین میں ایک میدان ’رڑا‘ ہوسکتا تھا، دس اوور کا کرکٹ میچ، اور رات کے کھانے کے بعد بی او کیوز میں سپلائی اینڈ ٹرانسپورٹ بٹالین کے کیپٹن نسیم کے کمرے میں مین حیث البیچلرز مووی نائٹ۔ فرنٹیئر سکاؤٹس کے صفحوں سے یادداشت کے قرطاس پر نقش ہوئے واقعات زبان و بیان کے چسکے سمیت رفتہ رفتہ دھندلے پڑتے جارہے تھے کہ اچانک اس سکوت میں ہلچل مچی۔
کرنا خدا کا کیا ہوا کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرزمین، یہاں کے باشندوں اور بود و باش سے شناسائی حاصل کرنے کے لیے ڈویژن کی طرف سے ٹل میں مقیم یونٹوں کے گشت کا ایک منصوبہ ترتیب دیا گیا۔ اس گشت میں شامل ٹل کی میڈیم آرٹلری رجمنٹ کے افسروں میں ہمارا بھی نام تھا۔ صاحب ہماری تو بیٹھے بٹھائے چاندی ہوگئی تھی۔ ٹل سے میرعلی اور پھر میران شاہ کے ٹوچی آفیسرز میس میں رات کے قیام کے بعد غلام خان بارڈر اور پھر وہاں سے رزمک کی نیت کرتا قافلہ گوروں کے دور کے مُلا پاوندہ کی زیارت کی قربت میں لدھا، تیارزا سے ہوتا ہوا جنوبی وزیرستان سکاؤٹس کے ہیڈ کوارٹر وانا تک جانا تھا۔ وانا میں رات کے قیام کے بعد ہم نے اس روڈ پر جو ٹانک کو جاتا ہے جنڈولہ کے قلعے کو ہاتھ لگا شمال کے رُخ پر گھومتے ہوئے کچھ انجانے راستوں ان کے پتھروں اور ندی نالوں کی خاک چھاننی تھی۔ اسی راہ پر ہمارے فوجی نقشے میں نشان زدہ ایک صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں کے مصداق ایک پکٹ نظر پڑتی تھی۔ ہم نے ذرا نظر بھر کے غور سے دیکھا تو ظاہر ہوتے حروف میں یہ سَروِکئی کا قلعہ تھا۔ جنڈولہ ۔ سَروِکئی ۔ وانا کے بل کھاتے روڈ پر واقعہ وہی پوسٹ جہاں ستمبر کی ایک نسبتاً گرم رات جبکہ کپیٹن جے بی بورنگ کھلی فضا میں ایک چارپائی پر سوتا تھا تو فائر کی آواز گونج اُٹھی تھی۔ چارلس شینیوی ٹرنچ کی فرنٹیئر سکاؤٹس کے پنوں سے جھانکتی یہ جیتی جاگتی پوسٹ ہمارے سامنے تھے اور اس تک پہنچنے کے لیے جنڈولہ ۔ سَروِکئی ۔ وانا کے کینچلی بدلتے لہرئیے سانپ کی مانند بل کھاتے راستے کے علاوہ بھی اور کچھ ہوسکتا تھا!
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

ٹوچی میں ایک شام
جنڈولہ کے قلعے کے باہر
سروِکئی کا قلعہ ۔ گوروں کے زمانے کی تصویر

سروِکئی میں قتل


وہ ستمبر 1904 کی ایک نسبتاً گرم رات تھی جب ساؤتھ وزیرستان ملیشیا کے زیرِ انتظام سَروِکئی پوسٹ پر گولی چلنے کی آواز کے بعد ہلچل مچی ہوئی تھی۔ اس رات ٹھنڈک کی نیت سے پولیٹیکل ایجنٹ کیپٹن جے بی بورنگ اوپر چھت پر کھلے میں سورہا تھا۔ اب ایک خون آلود بستر پر اسکی لاش پڑی تھی اور رات کا سنتری غائب تھا۔ ایک ہڑبونگ نما افراتفری میں جب سپاہی اِدھر سے اُدھر بھاگ رہے تھے پوسٹ کے واچ ٹاور سے دو راؤنڈ اور فائر ہوئے۔ حملہ آور وہیں تھا اور اسکی ہتھیار ڈال دینے کی کوئی نیت نظر نہیں آتی تھی۔ نفری کی گنتی چلی تو معلوم پڑا کہ واچ ٹاور کا مفرور بہلول زئی محسودوں کے قبیلے عبدالرحمٰن خیل سے تعلق رکھنے والا سپاہی کابل خان تھا۔ ایک نیند سے بیدار ہوئی چوکسی میں ٹاور کی شست باندھے اکا دُکا فائر کے تبادلے میں جیسے تیسے پوسٹ کے سپاہیوں کی رات گزری۔ دن کے اجالے میں گورے افسر اور پٹھان انڈر افسر اکٹھے ہوئے تو اس پر تو سب کا اصولی اتفاق تھا کہ کابل خان کو جس نے کہ پولیٹیکل ایجنٹ کو جب وہ دھت پڑے سوتے تھے اس لیے فائر سے اڑا دیا تھا کہ سونے میں صاحب بہادر کے پاؤں قبلہ رُخ تھے، سزائے موت دی جانی تھی۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ کیسے اور اس سے بھی بڑھ کر کہ کس کے ہاتھوں۔ اگر آفریدیوں میں سے یا پھر محسودوں کے کسی اور قبیلے کا سپاہی کابل خان کو ٹھکانے لگاتا تو عبدالرحمٰن خیل کے سپاہیوں پر پختون ولی کی رو سے بدلہ واجب ہوجاتا اور ملیشیا کی اپنی صفوں میں پھوٹ پڑجاتی جو نسلوں چلتی۔ اتنے میں پوسٹ صوبیدار نے تجویز دی کہ جلاد کا کام پوسٹ پر موجود عبدالرحمٰن خیل قبیلے کے کسی محسود سپاہی کو ہی سونپا جائے اور اس کام کے لیے کابل خان کے سگے بھائی جو اسی پوسٹ پر نائیک تھا سے بہتر اور کون ہوسکتا ہے۔
کابل خان سے جبکہ وہ اوپر واچ ٹاور میں ہی محصور تھا، مذاکرات شروع ہوئے اور اس نے قبیلے کے ناموس اور قبائلی جھگڑوں سے بچنے کے لیے اپنے بھائی کے ہاتھوں عزت سے مرنا منظور کرلیا۔ دوپہر دو بجے کے مقررہ وقت پر طے شدہ طریقے کے مطابق کابل خان ٹاور کی فصیل پر چند قدم چل کر آگے آیا، چھاتی تانتے ہوئے اس نے اپنی رائفل نیچے گرا دی اور ساتھ ہی اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ ایک محسود نائیک کی بندوق سے اپنے ہی بھائی کے دل کا نشانہ باندھتی گولی فائر ہوئی اور کابل خان کا بے جان جسم تیورا کر فصیل سے نیچے آگرا۔ مجمعے سے ایک سرگوشی نما سکون کا سانس بلند ہوا۔ کابل خان کے قبیلے اور رشتے داروں نے لاش حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جو منظور کرلیا گیا۔ انہوں نے اپنے علاقے میں اسلام کے ناموس کے علمبردار کابل خان کا مزار بنایا جس نے ایک کافر گورے کو جبکہ اس کے پاؤں قبلہ رخ تھے توہین کی پاداش میں مار ڈالا تھا۔ جمعرات بھری مراد کے جلتے تیل کے چراغوں کی روشنی میں وہاں قبائلی نوجوان اکٹھے ہوتے اور کابل خان کے نقشِ قدم پر چلنے کا عہد کرتے۔ اگر ساؤتھ وزیرستان سکاؤٹس کے کمانڈنٹ کرنل رچرڈ ہرمن جو چھٹیوں پر انگلستان گئے ہوئے تھے اس دن سَروِکئی پوسٹ پر ہوتے تو کابل خان کی لاش کبھی حوالے نہ کرتے کہ وہ اس علاقے کی نبض، محسود قبائل کے طور طریقے اور یہاں بولے جانے والی پشتو کے لہجے پر ایکسپرٹ مانے جاتے تھے۔ یہ اور بات کہ کچھ دنوں کی دوری پر وہ خود وانا کے ہیڈکوارٹر میں اپنے ہی سپاہیوں کے ہاتھوں مارے جائیں گے، مگر وہ قصہ پھر کبھی۔
تین تیروں والی میڈیم رجمنٹ کے افسران پر مشتمل وزیرستان کے ’گشت‘ کو ٹل چھاؤنی سے نکلے تیسرا روز تھا جب ٹانک روڈ پر جنڈولہ کے قلعے سے ہم نے واپس شمال کا راستہ پکڑا۔ ہمارا اگلا پڑاؤ سَروِکئی پوسٹ تھی۔ بیسویں صدی کے آغاز سے ساؤتھ وزیرستان سکاؤٹس کے زیرِ انتظٓام یہ قلعہ نما چوکی آج بھی قائم و دائم ہے۔ سکاؤٹس کے جوانوں کی کمان پاک فوج سے عارضی تعنیاتی پر آئے افسران کے ہاتھ میں ہے۔ گوروں کے دور میں یہ کام برٹش آفیسرز انجام دیتے تھے، جن میں سے ایک کیپٹن بورنگ تھا۔ پوسٹ میں پہنچنے پر ہم نے ایک پوسٹ نائیک کو ساتھ لیا اور پوسٹ کے واچ ٹاور اور ان سے ملحقہ چھت کو دیکھنے پہنچے۔ یہیں کہیں ستمبر کی اس رات گورا صاحب کی ٹانگیں قبلے کی سمت پھیلی دیکھ کر کابل خان کی انگلی ٹریگر پر بھاری ہوگئی تھی، اور پھر اسی واچ ٹاور کی فصیل پر وہ اپنے سگے بھائی کی بندوق کی گولی کا نشانہ بنا تھا۔ ہمارے استفسار پر پوسٹ نائیک نے بتایا کہ قلعے کے باہر پچھلی دیوار کے ساتھ ایک گورے کی قبر تو ہے۔ ہم دونوں قلعے کی پچھلی دیوار کے پاس پہنچے تو قبریں دو تھیں۔ دونوں کتبے یا کسی اور نشان سے بے نیاز۔ پوسٹ نائیک نے بتایا کہ پار سال گوروں کی ایک ٹیم آئی تھی جو ایک قبر سے کتبہ اتار کر ساتھ لے گئی تھی۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی قبر کیپٹن بورنگ کی نہیں تھی جو ہمیں معلوم تھا کہ کہیں اور دفن ہیں۔

سروِکئی پوسٹ ۔ پس منظر میں واچ ٹاور کی دیوار نظر آرہی ہے
سروِکئی پوسٹ ۔ واچ ٹاور کی چھت جہاں کیپٹن بورنگ کا قتل ہوا تھا

اگر آپ ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹانک اڈے پر ہیں تو وہاں سے ٹانک روڈ پر تھوڑا آگے چلتے ہی بائیں ہاتھ پر ایک پرانا گورا قبرستان ہے۔ چار دیواری سے گھرا ایک پلاٹ جس کے داخلی دروازے پر قدیم لکڑی سے بنے چیپل کی چھتری آج بھی قائم ہے۔ اندر شکستہ قبروں کی صورت میں ایک پوری تاریخ دفن ہے۔ یہیں ایک قبر میں ہمارا کیپٹن جان بیلاسس بورنگ ابدی نیند سورہا ہے۔ جن وقتوں میں کہ کتبے کی تحریر پڑھی جاتی تھی تو بورنگ کے چاہنے والوں کے نام بتاتی تھی۔ لیوس بورنگ اور اس کی بیوی کیتھرین کا لاڈلا۔ یہیں تھوڑی دور سینٹ ٹامس کے چرچ میں پیتل کی ایک اعزازی تختی بھی انڈین آرمی اور پنجاب کمیشن کے کیپٹن بورنگ کو یاد کرتی ہے جسے ایک ’جنونی‘ نے مار ڈالا تھا۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹانک اڈے کے پاس مسیحی قدیمی قبرستان
ٹانک اڈے کے نزدیک مسیحی قبرستان میں کیپٹن جان بیلاسس بورنگ کی قبر
ڈیرہ اسماعیل خان کے سینٹ ٹامس چرچ میں کپیٹن بورنگ کی یادگاری تختی
کیپٹن بورنگ کی قبرکے کتبے کی تحریر کا عکس
سینٹ ٹامس چرچ میں کیپٹن بورنگ کی اعزازی تختی پر لکھی تحریر کا عکس

صاحبو، اگر سَروِکئی کا ہمارا کپتان ڈیرہ اسماعیل خان میں دفن ہے تو قلعے کی پچھلی دیوار پر پوسٹ نائیک کے بقول قبر کس گورے کی ہے۔

سروِکئی قلعے کی گمنام قبر


سَروِکئی کے کیپٹن بورنگ کے بعد ہمارے محسود قبائلیوں کے ہاتھوں جنوبی وزیرستان میں اور کئی خون لکھے تھے۔ چند مہینوں کی دوری پر وانا میں کرنل ہرمن اور پھر بنوں میں کپیٹن ڈونلڈسن۔ مگر فروری 1917 کے آخر میں سَروِکئی پر کیا گیا محسودوں کا بڑا حملہ جس میں کیپٹن ہیوز اور ان کے ساتھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اس پر سرکارِ انگلشیہ کا پیمانہ کچھ کچھ لبریز ہوگیا۔ سول اور ملٹری گزیٹ کے صفحے محسودوں کی چالبازی کے ذکر سے بھر گئے۔
’وہ (محسود) زبان کے نرم مگر چرب زبان ہیں اور معاملات میں چالباز۔ انکی ہماری سروس رائفل سے محبت کوئی ڈھکی چھُپی بات نہیں مگر پچھلے پندرہ برسوں میں چھینے گئے ہتھیاروں کے گولہ بارود کی فراہمی کے لیے انہوں نے ہمارے قافلوں پر بڑی عیاری سے ہمیشہ نئے ڈھنگ سے حملے کیے ہیں۔‘
اور پھر یوں ہوا کہ اسی سال یعنی 1917 میں محسودوں سے باقاعدہ جنگ کرنے کے لیے ٹانک سے ایک وزیرستان فیلڈ فورس ترتیب دی گئی۔ جنوبی وزیرستان پر جاری اسی مہم جوئی کے دوران ایک حملے میں انڈین سول سروس کا کپیٹن فرانسس چارٹرس ڈیوڈسن بھی تھا جو 10 مئی 1917 کو مارا گیا تو سروِکئی پوسٹ پر دفن ہوا۔ کیپٹن ڈیوڈسن کی ایک یادگاری تختی برطانیہ کے شہر ہیڈنگٹن کے سینٹ میری چرچ کی دیوار پر بھی آویزاں ہے۔

فروری 1917 میں سروِکئی پر ہوئے محسود حملے کی رپورٹ۔ جسمیں حملہ آور کیپٹن ہیوز کا سر کاٹ کر ساتھ لے گئے تھے۔
یادگاری تختیاں جو ہمیں بتاتی ہیں کہ انڈین سول سروس کا کپیٹن فرانسس چارٹرس ڈیوڈسن 10 مئی 1917 کو وزیرستان کی لڑائی میں مارا گیا توسروِکئی پوسٹ پردفن ہوا

بہت ممکن ہے کہ سَروِکئی کی اس دوپہر میں کیپٹن ڈیوڈسن کی قبر کے سرہانے کھڑا تھا اور پارسال آئے جن گوروں کا پوسٹ نائیک نے ذکر کیا تھا وہ ایڈنبرا کے پاس ہیڈنگٹن سے آئے ہمارے انڈین سول سروس کے کپتان کے والی وارث تھے۔

share this article
author bio

Imran Saeed

I am a teller of old tales. History, folklore, military, and more. Mostly covering Pakistan, my homeland, but also the Great White North, where I am currently settled.
4.5 2 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments