عرب اسرائیل جنگ کے پس منظر میں ہمارے آپکے محبوب فیض احمد فیضؔ نے دریائے نیل کے نشیب سے فلسطین کے قدم چومتی سینا کی وادی میں فروزاں آزادی کی رمق پر ایک نظم کہی تھی۔ اور دیدۂ بینا کو للکار کر کہا تھا کہ اب دید کا وقت ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ دیکھنے والی آنکھ میں دم ہے بھی کہ نہیں۔

پھر برق فروزاں ہے سر وادئ سینا
پھر رنگ پہ ہے شعلۂ رخسار حقیقت
پیغام اجل دعوت دیدار حقیقت
اے دیدۂ بینا
اب وقت ہے دیدار کا دم ہے کہ نہیں ہے


صاحبو اب پھر وہی سینا کی وادی ہے، جہاں ایک محشر بپا ہے۔ شعلۂ رخسارِ حقیقت اپنے جوبن پر ہے اور ’رسمِ ستم حکمتِ خاصانِ زمیں‘ ہونے اور ’تائیدِ ستم مصلحتِ مفتئِ دیں ہونے‘ کی فیضؔ کی دونوں پیشنگوئیاں درست ثابت ہونے جارہی ہیں۔ ہم محکوموں کا قبلہ و کعبہ متحدہ اقوام کا ڈھکوسلا اور کرۂ ارض کی سب سے بڑی عدالت تائیدِ ستم میں اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ سینا کی وادی میں موت کا رقص جاری ہے، اور ایک پیغامِ اجل ہے کہ دیدۂ بینا کو ندا دیتا ہے
اب وقت ہے دیدار کا دم ہے کہ نہیں ہے


اسی پس منظر میں اپنے ذاتی مشاہدے پر مبنی درجِ ذیل سطور ہمارے قلم نے قرطاس کے حوالے کی ہیں۔ اپنے پڑھنے والوں کی نظر

گورا جھوٹ نہیں بولتا

سکول بس کی فلیشنگ لائٹس، ڈیف چائلڈ ایریا

Trudeau on Genocide

شہزادوں اور شہزادیوں کی کہانیوں کے برعکس بہت پرانی بات نہیں ہے، ایک دہائی سے بھی کم کا قصہ ہے، اور پھر یہ بھی تو شہزادوں اور شہزادیوں کی کہانی نہیں ہے۔ تو صاحبو ایک دہائی سے چند ایک برس اِدھر کا قصہ ہے جب زندگی اور اس کے محلِ وقوع نے کروٹ بدلی اور ہم اس دیس کو پدھارے تو ہمارے عزیز دوست نے یاد دہانی کروائی کہ ’بھائی جا‘ اب گریٹ وائٹ نارتھ جا رہے ہیں۔ ہمارے من پسند شاعر سلیم کوثر نے کہا تھا
تمھیں ان موسموں کی کیا خبر ملتی اگر ہم بھی
گھٹن کے خوف سے آب و ہوا تبدیل کرلیتے


الحمدللہ زندگی میں کوئی گھٹن نہیں تھی اور نہ ہی اس کا خوف، مگر اپنی جنم بھومی، ایک عمر کے یارانوں اور دوستیوں اور جس دھرتی کے شہروں اور قصبوں سے عشق کیا تھا، ان سب کو ایک ہجرت کے روپ میں تیاگ دینے کے سمے ہم نے جانتے بوجھتے آب و ہوا تبدیل کرلی۔ اہلِ وطن کو ان موسموں کی کیا خبر ملتی کہ اس شمالی سفید برِعظیم کے برفاب میں بیتی صبحوں اور شاموں کا ذکر ہم نے ابھی تک خود سے نہیں کیا، کہ یوسفی کے بقول یہ برس ابھی پال میں لگادیئے ہیں، کچھ اور سالوں کی دوری پر نکال، کھنگال اور ان کی گرد جھاڑ کر دیکھیں گے کہ ان میں کچھ دم خم ہے بھی یا نرے بودے روزنامچے ہی ہیں۔
مگر پھر دنیا کے افق پر کچھ ایسے منظر طلوع ہوئے جو چشمِ فلک نے پہلے بھی دیکھے ہوں گے مگر چشمِ انسانی سوشل میڈیا کے توسط سے براہِ راست شاید پہلی بار دیکھ رہی ہے، اپنی پوری سفاکی، بربریت، دہشت اور بے چارگی کے ساتھ۔ دُکھی دِل انسانیت سے جب ضبط نہ ہوا تو خلقت چیختی چلاتی، اس پاگل پن کے خاتمے کا مطالبہ کرتی سڑکوں پر نکل آئی اور تب یوں ہوا کہ ترقی یافتہ، باشعور دنیا کے اربابِ اختیار نے نہ صرف یہ سنی ان سُنی کردی بلکہ انسان اور حیوان کی اس لڑائی میں ثانی الذکر کی جبلت کی حمایت کردی۔ ایک عمر کا خون اور سرمایہ پلائے ترقی یافتہ باشعور اور حقوقِ انسانی کے علمبردار مغربی معاشرے کے کیپیٹل ازم کی قلعی کُھل گئی۔ اور ہمیں یوں لگا کہ جیسے ہم اتنے برس ایک جھوٹ کی دنیا میں جی رہے تھے۔ ایک ایسی سرزمین پر جس کے بارے میں ہمیں یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ گورا جھوٹ نہیں بولتا۔

ہم بھی جب ایک تیسری دنیا کے ترقی پذیر معاشرے کی غلام گردشوں سے پہلی دنیا کی نئی منزلیں مارتی شاہراہ پر بذریعہ پی کے سیون ایٹ ون (PK 781) وارد ہوئے تھے تو گوروں اور ان کے دیس کے متعلق بہت سی خوش گمانیاں لے کر آئے تھے۔ یہ ہمارا پہلا بین الاقوامی سفر نہیں تھا، مگر کینیڈا کا پہلا سفر ضرور تھا۔ یوسفی کے بینکنگ کیرئیر میں وارد ہونے کے عین موافق ہم بھی ریوڑ میں نئے تھے، اس لیے ہرکوئی ٹکریں مارتا تھا۔ سو یہاں پہلے سے مقیم ہمارے رشتے داروں نے، جن میں ایک بڑی تعداد ہماری شریکِ حیات کے خاندان سے تھی، اور کچھ کیا نہ کیا نصیحت ضرور کی، اور جو اسکی حیثیت و استعداد نہ رکھتے تھے انہوں نے مشورہ ضرور دیا۔ جو باتیں ہم اپنے ساتھ پوٹلی میں باندھ کے لائے تھے کہ گورا جھوٹ نہیں بولتا، لین دین میں ایماندار ہوتا ہے، اور کینیڈا کے لوگ طبعاً و مزاجاً خوش اخلاق و ہنس مُکھ ہوتےہیں، ان میں ٹیکسوں کا رونا، گاڑیوں کی انشورنس کا ہوشربا پریمیم، سستی گروسریز کرنے کے ٹوٹکے، ڈالر سٹور کی بچت اور ’پیسے درختوں پر نہیں لگتے‘ کا اضافہ ہوگیا۔
صاحب جھوٹ کیوں بولیں، ہم خود اس کے بات کے شاہد ہیں کہ گورا جھوٹ نہیں بولتا، فریب نہیں دیتا، معاملات میں سولہ آنے کھرا اور سچا۔ کینیڈا میں ہمیں اپنی پہلی گاڑی خریدنی تھی، کسبِ معاش اور بجٹ سیکنڈ ہینڈ، جسے آج کل کی دنیا سرکے پیچھے سے ہاتھ گھما کر ’پری اونڈ‘ کہنا شروع ہوگئی ہے، کار کی اجازت دیتا تھا۔ ہمارے ماموں کو گاڑیوں اور کجیجی (کینیڈا کا OLX) دونوں کا تجربہ ہے سو ہماری مدد کو آئے۔ ہیملٹن کے پاس ایک نسان آلٹما دیکھنے گئے جو ایک گورے نے فروخت کے لیے لگائی ہوئی تھی۔ گاڑی کی ایک طرف ایک سکریچ تھا جو کچھ نمایاں تھا۔ اب وہاں ماموں الجھ پڑے کہ تم نےگاڑی کے اس رُخ کی تصویر کیوں نہیں لگائی، ہم خوامخواہ اتنا سفر کرکے آئے۔ جواب یہ مِلا کہ اس نشان کا تفصیلی تذکرہ ڈسکرپشن میں موجود ہے اور اس کی وجہ سے گاڑی کے قیمتِ فروخت کے تخمینے میں کی گئی کمی کا تذکرہ بھی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ گاڑی کے نشان والے رُخ کی (اور صٓاحب آپس کی بات ہے وہ سکریچ بھی ہمیں کوئی ڈیل بریکر تو نہیں لگا) تصویر نہ لگانے پر گورے نے معذرت کی اور ہمیں پیش آنے والی زحمت پر کافی کی دعوت دی، مزید برآں کہا کہ گاڑی کی لسٹڈ پرائس میں وہ کوئی کمی نہیں کرے گا کہ اس میں متذکرہ سکریچ کی بابت پہلے ہی تخفیف کردی گئی ہے اور گاڑی کی قیمت اس کے تخمینے کےمطابق عین مناسب ہے۔ اس کے مقابلے پر ایک غیر انگریز میاں بیوی (ہم ان کی نیشنلٹی نہیں بتائیں گے) ہمیں جو گاڑی فروخت کررہے تھے اس کی ایکسیڈنٹ ہسٹری (جو ہم نے احتیاطاً نکلوا لی تھی) پر موجود ایک بڑے حادثے اور مرمتی تفصیل کو بالکل گول کرگئے تھے۔ ہمارے استفسار پر وہ گاڑی کی قیمت پر بارگیننگ پر اتر آئے۔ بندہ پوچھے ہم تم لوگوں سے سچ چھپانے کا گلہ کررہے ہیں اور تم اپنے کنڈم مال پر بھاؤ تاؤ کررہے ہو!
کینیڈا آمد کے شروع کے دنوں میں روزگار کے حیلے کے طور پر ہم نے ایک کال سنٹر میں نوکری کی۔ وقت کی پابندی اور کام کے وقت کام کی اسقدر عمدہ تعبیر پہلے کہیں نہیں دیکھی تھی۔ وقت مقررہ سے پانچ منٹ قبل کام کی جگہ پر موجود ہونا ایک ان لکھا ضابطہ کار ہے اور ہم نے کسی کو اس پر فخر کرتے نہیں دیکھا کہ یہ وہ کم از کم ہے جسکی آپ سے توقع کی جاتی ہے۔ ہمارے جاوید بھائی کا کہنا تھا کہ یہاں کے لوگ نسلی تعصب رکھتے اور اسلام سے خوفزدہ (islamophobic) ہیں۔ ہمیں ایک دن جانے کیا سوجھی کہ ورک پلیس پر نماز کی ادائیگی کا پوچھ لیا (ہم نماز کے بہت زیادہ پابند نہیں ہیں مگر یہاں ریا کاری سے زیادہ دوسروں کو جانچنے کا تجربہ کارفرما تھا)۔ پہلے دن لنچ روم میں انہوں نے ایک صاف ستھرا کپڑا ہمیں عنایت کردیا جس پر ہم نے نماز پڑھی اور اگلے دن سے اپنی جائے نماز لے آئے۔ چند دن تو وہ دیکھا کیے کہ ایک بندہ روز لنچ ٹائم میں نماز پڑھنے کو کھڑا ہوجاتا ہے جہاں باقی خلقت خوش گپیوں میں مصروف ہوتی ہے، تو انہوں نے ایک چھوٹا اسٹورروم خالی کرکے عبادت کے کمرے کے طورپر مختص کردیا۔ ہمیں بھی اب شرما شرمی نوکری کے دوران آنے والی دونوں نمازیں ظہر اور عصر پڑھنے کا اہتمام کرنا پڑا۔ صاحبو گوالمنڈی کی نکڑ پر شاہ عالمی گیٹ کے عین سامنے معرکۂ کفر و اسلام میں ایمان کی حرارت والوں نے شب بھر میں ایک مسجد بنا ڈالی تھی ادھر اس دیارِ غیر میں کافروں کی عنایتوں نے اس برسوں کے پرانے پاپی من کو نمازی بنادیا۔
کینیڈا کی معیشت میں ایک بڑا حصہ زراعت کا ہے۔ ہمارے صوبے انٹاریو کے مغرب میں ایک صوبہ چھوڑ کر سسکیچوئن آتا ہے جسے کینیڈا کا نان نفقہ (bread basket of Canada) کہتے ہیں۔ صاحبو ایک وسیع و عریض رقبے پر پھیلے اس زرعی اینٹرپرائز کو سیراب کرنے کے لیے نہ تو نہری نظام کا ٹنٹا ہے نہ ہی بارانی علاقوں کی طرح ٹیوب ویل کا بکھیڑا۔ نہ ہی بابا غلام حسین ندیم کے لفظوں میں نیناں دے کھوُہ گیڑ کے دل دی بھئوں وتر کرنی پڑتی ہے۔ برفاب موسموں میں ایک تواتر کے ساتھ گری اور جمع ہوئی برف جب پگھلتی ہے تو زمین میں اترے وتر میں یہاں کے کسان بیج پھینک کر بےفکر ہوجاتے ہیں اور وقت گزرنے پر صبر کا پھل کاٹ لیتے ہیں۔ ہمیں تو اس دھرتی پر رب سوہنے کا خاص فضل نظر آیا اور ہماری فیملی گیدرنگز میں جب ہم کثرت سے دوہرایا جانے والا یہ جملہ سنتے کہ گورے ہم سے زیادہ اسلام کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں بس ویسے کافر ہیں تو ہم کہہ دیتے کیا پتہ مرنے کے بعد ہمیں جب اس بات پر درے لگ رہے ہوں کہ صرف ایمان لانا ہی کافی نہیں تھا اور ہمارے سامنے یہ کافر گورے اپنے احسن اعمال پر دھڑا دھڑ بخشے جارہے ہوں تو محفل کے قریباً تمام حاضرین قرات کے ساتھ استغفراللہ کہہ اٹھتے۔

یہاں کینیڈا میں ہمارے ماموں ڈرائیونگ انسٹرکٹر ہیں۔ کجیجی پر گاڑیوں کی خریدوفروخت سے بھی پہلے انہوں نے ہمیں لائسنس کے حصول کے لیے ڈرائیونگ کے سبق دیئے تھے۔ ایک دوسرے شہر سے اپنے معاوضے والے کلائنٹس کو چھوڑکر وہ بلامعاوضہ ہماری تربیت کے لیے سفر کرکے آتے اور ہم انہیں لے کر لندن کی سڑکوں پر گھومتے۔ جس چیز سے نئے ڈرائیوروں کی سب سے زیادہ جان جاتی ہے، ایک چومکھی سٹاپ سائن سے گزرنے کی ترتیب سے بھی زیادہ، وہ ہے سکول بس اور سکول زون۔ ثانی الذکر میں آپ کی رفتار پینتالیس کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہوئی تو آپ ڈبل جرمانےکے گیڑے میں آجائیں گے اور اول الذکر کو جبکہ اس کی فلیشنگ لائٹس آن ہوں جو کہ اس بات کا اشارہ کہ بچے بس سے چڑھ یا اتر رہے ہیں اوورٹیک کرنا سنگین ترین جرم ہے۔ سکول بس اپنے سٹاپ پر رکتی ہے تو دورویہ ٹریفک ساکن ہوجاتی ہے، ریلوے کراسنگ پر جبکہ پھاٹک بند نہ بھی ہو سکول بس کا رُکنا لازم ہے کہ اس میں بچے موجود ہیں اور ڈرائیور رتی بھر غفلت کا مرتکب نہیں ہوسکتا۔ صبح جب سکول لگتا ہے اور دوپہر کو جس سمے چھُٹی ہوجاتی ہے، اپنے علاقے کے رضاکار (neighbourhood volunteers) جن میں اکثریت ریٹائرڈ لوگوں کی ہوتی ہے، ٹریفک جیکٹس پہن اور سٹاپ سائن تھام کر سکولوں سے باہر کی روڈ کراسنگ پر آجاتے ہیں۔ ہم بھی جب احمد کو سکول چھوڑنے جائیں تو راستے میں پڑنے والی زیبرا کراسنگ پر ایک گوری گرینڈ ما سٹاپ سائن ہاتھ میں اٹھائے موجود ہوتی ہیں۔ ان کا کام ہے سکول آتے جاتے بچوں اور ان کے والدین کو سڑک پار کرانے میں مدد دینا۔ گاڑیاں دھیمے دھیمے جونک کی رفتار سے رینگتی ہیں کہ بچوں کے معاملے میں کوئی رتی برابر غفلت کا بھی مرتکب نہیں ہوسکتا۔ کسی نیبر ہوڈ میں گاڑی چلاتے اکثر ڈیف چائلڈ ایریا کا ہوشیار کرتا ٹریفک سائن نظر پڑتا ہےجو مشتری کو ہوشیار باش کرتا ہےکہ خبردار یہاں سماعت سے محروم ایک بچے کا گھر ہے، جسے شاید آپ کی گاڑی کی آواز یا ہارن سنائی نا دے، سو براہِ مہربانی رفتار انتہائی کم کرلیجیے۔
صاحبو بچے نوعِ انسانی کا مستقبل ہیں، ان کا تحفظ، انکی نگہداشت، انکی پرورش باقی ہر چیز، ہر کام پر فوقیت لےجانے والی ہے اور اس کا مغربی ممالک میں سرِ عام مظاہرہ دن میں دو مرتبہ سکول لگتے وقت اور چھٹی کے سمے سڑکوں پر ہوتا ہے۔
یہاں کے سکول نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔ ہم نے اپنے دونوں بچوں میں سچ بولنےکی خصلت سکول کی بدولت آتے دیکھی۔ ہم جنوبی ایشیائی لوگ جس طرح بات کو گھما پھرا کر کرنے کے عادی ہیں اور باتوں باتوں میں جھوٹ کی آمیزش ہمارے لیے معمول کی بات ہے، اس پر ہم نے اپنے بچوں کو اکثر چیں بہ چیں ہوتے دیکھا کہ ماما بابا جھوٹ کیوں بول رہے ہیں، یا پھر سیدھی بات کیوں نہیں کرتے۔ سچائی یہاں کے بچوں کی گھُٹی میں پڑی ہے۔ وہ اگر اپنی فطرت کے خلاف جھوٹ بولنے کی کوشش بھی کریں گے تو بل کھا کھا جائیں گے اور چہرے کے بدلتے رنگ سے فٹ بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ سچ کے ساتھ دوسری خصلت خوش اخلاقی ہے۔ یہاں کے لوگ اشفاق احمد کی دیرینہ خواہش کے عین مطابق جب گھر سے باہر نکلتے ہیں تو مسکراہٹ پہن کر نکلتے ہیں، ہیلو ہائے کرنے میں عموماً پہل کرتےہیں، ہنس کر آپکے حال احوال کا جواب دیتے ہیں اور شکریہ کہنے کی رسم تو ان لکھے آداب میں داخل ہے۔

صاحبو یہ سب کچھ ایسا ہی تھا اور شاید ایسا ہی رہتا اگر اکتوبر میں بہت کچھ تہ و بالا نہ ہوجاتا۔ غالباً بدھ کا دن تھا جب اکتوبر کی اس سویر میں احمد کو سکول چھوڑنے نکلا، آگے سے مجھے دفتر کی بس بھی پکڑنی تھی۔ گھر سے تھوڑا آگے سائیڈ والک پر ہمیں گوری گرینڈما ملیں اور خلافِ توقع کافی چہک کر مجھے اور احمد کو ہیلو کہا۔ ہماری گلی میں رہنے والا یہ گورا عمر رسیدہ ریٹائرڈ کپل کافی ریزروڈ رہتا ہے سو اس دن خاتون کا چہکنا خلافِ توقع تھا مگر بھلا معلوم ہوا۔ اس سے لگ بھگ دو روز بعد کا ذکر ہے کہ ہم گھر کے باہر خزاں کی سرخی میں درختوں سے جھڑے پتوں کو اکٹھا کرکے پوٹلیوں میں باندھنے میں اپنے ہمسائے کی مدد کررہے تھے کہ گپ شپ کرتے اس نے اچانک کہا، یو نو دیٹ لیڈی (روئے سخن اسی گوری گرینڈ ما کی طرف تھا)

She told me to go back to my country


ہمارے ہمسائے شام سے تعلق رکھنے والے عیسائی ہیں اور کینیڈا ہجرت کرنے والے خاندان کی دوسری نسل ہیں۔ ہمارا ہمسایہ کچھ کچھ غلطاں و پیچاں لہجے میں کہنے لگا۔


I was born in Alberta. Why should I get back to Alberta and who is she to tell me that!
I told her to get back to her house and do something she is good at. Beat the shit out of her poor husband!


یہ ایک عجیب بات تھی، ہمارے رہائشی علاقے میں جہاں عرب اور گوروں کے گھر ساتھ ساتھ تھے، ایسی بات پہلے سنی نہیں تھی۔ یہ یقیناً اسرائیل کے فلسطین پر جاری حملوں کا شاخسانہ تھا۔ اور تب مجھے احساس ہوا کہ جس سویر اس گوری گرینڈ ما نے چہک کر احمد کو ہیلو کہا تھا اس دن اسرائیل نے فلسطین پر حملوں کی ابتدا کی تھی۔ رات گئے آنے والی خبروں میں پہلے پہل معصوم سویلین جانوں کی ہلاکتوں کی اطلاع آئی تھی۔


صاحبو اس واقعے کو بھی سو سے اوپر دن گزر گئے ہیں۔ اسرائیل نے بربریت اور وحشت کی نئی داستان رقم کی ہے وہیں مغربی دنیا نے جسے لوگ نوعِ انسانی کی تہذیبی ترقی کا پیمانہ گردانتے ہیں، ہٹ دھرمی، قول و فعل کے تضاد اور نسلی انتہا پسندی کا نیا معیار متعین کیا ہے۔ ہمارے شمالی برفانی برِعظیم میں بھی بہت کچھ بدل گیا ہے۔ گورا ایک فرضی ملک اسرائیل کے مفاد کی حفاظت میں بڑے سے بڑا جھوٹ بول سکتا ہے اور بول رہا ہے۔ سو دنوں سے اوپر کی لگاتار بمباری، چوبیس ہزار سے زائد انسانی جانوں کے ضیاع جن میں دس ہزار سے زائد معصوم بچے ہیں، اسپتالوں، سکولوں مسجدوں کی ہولناک تباہ کاری، غذائی اور پینے کے پانی کی اسرائیلی پیدا کردہ قلت، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے اراکین کی ہلاکت اور بربریت کی دوسری داستانوں کے باوجود ایک لفظ جینوسائڈ اور دوسرا شبد سیزفائر کہتے کینیڈا کے حکومتی اراکین اور ہمارے وزیرِ اعظم کی زبانوں پر چھالے پڑتے ہیں۔
ذرائعِ ابلاغ سرِ عام بدنیتی اور جھوٹ کا پرچار کررہے ہیں، اکیڈیمیا اپنے پڑوسی ریاست ہائے متحدہ امریکا کی زایونسٹ پالیسیوں پر چل رہا ہے۔ فلسطین کی حمایت میں سڑکوں پر نکلنے والے پرامن مظاہرین پر پولیس دھاوے بول رہی ہے، فلسطین کی حمایت میں آواز اٹھانے والوں کو ڈراوے دیئے جارہے ہیں، ان پر کسبِ معاش اور عرصۂ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔ فلسطین کی آزادی کا نعرہ لگانے والوں سے ان نسل پرستوں کو یہودیوں سے نسلی تعصب کی بو آتی ہے۔ ہماری گلی میں رہنے والی گوری بڑھیا کو معصوم فلسطینیوں کی ہلاکتوں پر فرحت اور تسکین کا احساس ہوتا ہے اور وہ ہر غیر گورے کو اس کے وطن واپس چلے جانے کا حکم سناتی ہے۔ مگر وہ یہ بھول جاتی ہے کہ وہ اس سرزمین پر وارد ہوئے آئرش، اسکاٹ یا پھر برٹش جس کسی نطفۂ تحقیق و ناتحقیق کا خون ہے وہ بھی اس سرزمین پر ہجرت کرکے آیا تھا، فرق یہ ہے کہ وہ اس سرزمین پر بسنے نہیں بلکہ چھین لینے کی نیت سے آیا تھا جس نے یہاں کے مقامی باشندوں کا قتلِ عام کرکے جو ان کا تھا اپنا بنالیا۔ اسی لیے وہ سیٹلر کہلایا۔ بادی النظر میں بعینہٖ یہی کام اسرائیل فلسطین میں کررہا ہے۔ صاحبو ہر کولونیل سیٹلر کے لاشعور میں ایک فلسطین بستا ہے، جس سے وہ ڈرتا ہے اسی لیے وہ ہر اسرائیل کی حمایت اور پشت پناہی میں تن من دھن سے حاضر ہے۔
ان تکلیف دہ سو دنوں میں ہمیں بھی کچھ تکلیف دہ حقیقتوں کا ادراک ہوا ہے۔ گورا سچ بولتا ہے مگر اتنا ہی سچ جس سے اس کے مفادات کا تحفظ ہو۔ گورا معاملات اور ان کے سبھاو میں ایماندار ہے مگر وہیں تک جہاں اسے اپنے مفادات پر چوٹ نہ لگتی ہو۔ گورے کو بچے عزیز ہیں مگر صرف سفید چمڑی والے اصل النسل۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک طرف تو سکول بس کی فلیش لائٹس پر دورویہ ٹریفک ساکن ہوجائے اور دوسری طرف اسرائیل کی بمباری میں جان ہارتے اپنے سکولوں کو ویران کرکے جاتے بچوں کی ہلاکتوں پر ان کا دِل نہ پسیجے، ان کے کلیجے منہ کو نہ آجائیں۔ ان کا بس نہیں چلتا ورنہ سٹاپ سائن اٹھائے بچوں کو روڈ کراس کراتی یہ گوری گرینڈ مائیں سفید چمڑی کے علاوہ دوسرے بچوں پر گاڑیاں چڑھوادیں۔ معاف کیجیے گا، آپ کو شاید ہمارے شبدوں سے انتہا پسندی کی بو آئے مگر صاحبو اتنا کچھ ہوجانے کے بعد بھی جو شخص یہ کہہ کر خاموش رہے کہ وہ نیوٹرل ہے یا دونوں طرف کے لوگ برابر کے قصور وار ہیں تو انسانیت کی تعریف کی رو سے وہ خود ایک حیوان ہے۔

ہمارے شمالی سفید برِعظیم کینیڈا کی حکومت اور کچھ نہیں تو معافی مانگنے کے فن میں طاق ہے۔ ریزیڈینشل سکول جو یہاں کے مقامی باشندوں کے بچوں کا قبرستان بنے ان پر سرکار نے ہاوس آف کامنز میں باقاعدہ معافی مانگ لی تھی۔ ان گنت اور غیر نشان شدہ گورستانوں میں دفن ان بچوں کی یاد میں اب ٹروتھ اینڈ ریکنسیلئیشن ڈے (سچائی اور دوستانے کا دن) منایا جاتا ہے۔ 1914 میں وینکوور میں ایک بحری جہاز لنگر انداز ہوا تھا جس کے تین سو چھیتر مسافروں میں ہندوستان سے آئے سکھ، ہندو اور مسلمان شامل تھے، مگر انہیں ہندوستان واپس بھیج دیا گیا تھا جہاں ان میں سے جو مرنے سے بچ رہے تھے انہیں قیدو بند کے مصائب برداشت کرنا پڑے تھے۔ 2014 کے مئی میں جسٹن ٹروڈو کی حکومت نے اس پر بھی باقاعدہ معافی مانگ لی تھی۔ نومبر 2018 میں کینیڈا سرکار نے باقاعدہ معافی مانگی کہ 1939 میں قریباً نوسو سے زیادہ جرمن یہودیوں کی سرکاری پناہ کی درخواستیں مسترد کردی تھیں۔ بعد ازاں ان میں سے کئی نازی جرمنی کے قتلِ عام (جسے ہولوکاسٹ کہتے ہیں) میں مارے گئے۔
صاحبو 2023/24 کے غزہ کے قتلِ عام میں جسے جینوسائڈ کہتے اور سیزفائر کا مطالبہ کرتے کینیڈا کے اربابِ اختیار کی زبانوں پر چھالے پڑتے ہیں، آج سے کئی برسوں بعد ایک گورا وزیرِ اعظم ہاؤس آف کامن میں کھڑا ہوکر آج کی مجرمانہ غفلت پر معافی مانگ لے گا اور سب مل کر ہنسی خوشی سچائی اور باہمی دوستانے کا دن منائیں گے۔ گورا آج جھوٹ بول رہا ہے کہ اس میں اسکا فائدہ ہے، مگر گورا چند برسوں کی دوری پر سچ بولے گا کہ اس میں بھی اسکا مفاد پنہاں ہوگا اور ہم جیسے سادہ دِل تالیاں پیٹیں گے، مگر غزہ اور فلسطین کے گورستانوں میں ان گنت اور غیر نشان زدہ قبروں میں دفن معصوم بچوں کی ہڈیاں سرمہ بن چکی ہوں گی۔

The banner on this post has free license and is downloaded from Palestine Flag Vectors by Vecteezy

share this article
author bio

Imran Saeed

I am a teller of old tales. History, folklore, military, and more. Mostly covering Pakistan, my homeland, but also the Great White North, where I am currently settled.
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments