امی جی کا سب کچھ، تنویرکا دوست، سبونہ کا شہید

جلال پور جٹاں، آپاں وی مُسلے ہی ہوندے آں

لگ بھگ سولہ برس پر محیط ہمارے الہّڑ فوجی کیرئیر میں اگوکی اور ٹل کے بعد جو تیسرا مقام جگمگاتا ہے وہ ہے جے پی جے۔ اب یہاں حاسدین و بدخواہ اعتراض اٹھائیں گے کہ جلال پور جٹاں کو جے پی جے کہنے سے شہر کی قصباتی نوعیت اور جغرافیائی محلِ وقوع میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ان کی بات سولہ آنے درست ہے، مگر صاحبو جب وطنِ عزیز پر جنگ کے بادل منڈلائے اور ہمیں بمع سامانِ حرب و ضرب جنرل ایریا جلال پور جٹاں کُوچ کرنے کا حکم مِلا تو ہمیں علم تھا کہ اب جو بنجارہ لاد چلا ہے تو سرحد کے آر یا پار کسی ویران بیابان میں خیمے یا پھر مورچے ہمارا مقدر ٹھہریں گے۔ اب اگر دِل بہلاوے کو ہم یہ کہہ کر خوش ہولیتے تھے کہ جے پی جے جارہے ہیں تو اس میں آپکا کیا جاتا ہے!
اب اسی جلال پور جٹاں کی قربت میں ایک گاؤں لکھنوال کے نام کا آتا ہے جسے ہمارے سٹاف افسری کے دنوں کے ایک سخت گیر کمانڈر سے نسبت ہے۔ ہمارے ہمدمِ دیرینہ میجر (ریٹائرڈ) قیصر محمود حال مقیم کینیڈا، اسی لکھنوال کی نسبت سے گئے دنوں کے کمانڈر کو ایک بھلے سے لقب سے نوازتے ہیں، مگر وہ قصہ پھر کبھی کہیں گے۔


اکیسویں صدی نے ابھی پوری طرح سے آنکھ بھی نہیں کھولی تھی، سال تھا 2001 جب ہم پٹھو جھولا لے کر گجرات سے کچھ آگے کوٹلہ ۔ بھمبر روڈ پر دولت نگر کے نواح میں دم بھر کو سانس لینے کو رُکے تھے۔ وطنِ عزیز پر ایک دفعہ پھر جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے، کچھ کچھ پینسٹھ اور اکہتر والا ماحول تھا۔ صاحبو ویسے تو آزادی کے بعد سے وطنِ عزیز مستقل طور پر نازک دور سے گزرتا رہا ہے، اب بھی گزر رہا ہے، مگر یونٹ کی بیٹل فٹنس انسپکشن پر آیا کور کمانڈر کیڑے نکالنے اور بے عزتی خراب کرنے کے بجائے یونٹ کو شاباش دے کر نعرۂ تکبیر کے جوش میں سپاہیوں سے کہے کہ مجاہدو دیکھنا یونٹ اور وطن کی عزت پر حرف نہ آنے پائے، تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ حالات واقعی نازک ہیں۔ تو صاحبو جے پی جے میں حالات واقعتاً نازک تھے اور ایک اجنبی زمین پر ہر کوئی اپنی ذمہ داری کے علاقے کو تلاشنے، کھنگالنے اور جاننے کی تگ و دو میں تھا۔ دولت نگر سے جو راستہ پیرو شاہ کو نکلتا آگے جلال پور صوبتیاں سے ہوکر گزرتا ہے اس میں کوئی کہکشاں نہیں ہے کہ وہ سیدھا بارڈر پار چھمب ۔ جوڑیاں اور مزید آگے اکھنور کو جاتا ہے۔ انہی پتھروں پر چلتے ایک نازک دور میں اپنے ذمہ داری کے علاقے کو کھنگالتے پیروشاہ کی خاک چھانتے میجر خٹک نے ہمیں وہ قصہ سنایا جو ہم نے پہلے پہل سیکنڈ لفٹینی کے دنوں میں سیالکوٹ کے بارڈر کی آوارہ گردیوں میں میجر اظہر سے سنا تھا۔


پینسٹھ کی جنگ کے دنوں کا ذکر ہے۔ چھمب سے آگے پاک فوج کی ایک پلٹن نے جوڑیاں کے اطراف ایک کامیاب حملہ کیا تھا اور اب ہدف پر قابض تھی۔ کمپنی افسر ایک سیکنڈ لیفٹیننٹ تھا جو یونٹ ایڈجوٹنٹ سے وائرلیس پر اس بات پر الجھ رہا تھا کہ اس کے پاس کوئی گاڑی نہیں تھی جس میں اپنی کمپنی کے شہید جوانوں کے جسدِ خاکی محاذ سے پیچھے بھجوا سکے۔ جب کچھ نہ بن پایا تو لیفٹیننٹ نے کہا کہ میں خود کوئی حیلہ کرتا ہوں۔ جس پر ایڈجوٹنٹ نے کہا تھا کہ میاں کچھ ہوش کرو، یہ محاذِ جنگ ہے کوئی خالہ جی کا گھر نہیں کہ کہیں سے گاڑی کا انتظام کر لو گے۔ لفٹین نے چند سپاہی ساتھ لیے کہ مورچوں کے آگے سے اگر کوئی شہید مِلیں تو انہیں اُٹھا کر لاتے ہیں۔ کچھ آگے چل کر ایک سکھ فوجی ڈرائیور ٹرک میں بیٹھا نظر پڑا۔ ہمارے لفٹین نے ڈپٹ کر نیچے اترنے کو کہا۔ سکھ فوجی نے اترتے ہی سلیوٹ کیا اور اگلے حکم کا انتظار کرنے لگا۔ افسر نے سکھ سپاہی کے ساتھ ملِ کر پاس کھڑی ہندوستانی توپخانے کی پچیس پاؤنڈر توپ کو بمعہ ایمونیشن ٹریلر ٹرک کے پیچھے باندھا اور گاڑی میں سوار ہوکر ٹرک چلانے کا حکم دیا۔ کچھ آگے چل کر ڈرائیور کا ماتھا ٹھنکا اور وہ بولا سر جی ایدھر کدھر جاندے او، اگے تے مُسلے نیں! لفٹین صاحب نے ریوالور نکال کرتانتے ہوئے قہقہہ لگایا، کوئ گل نئیں سردارجی، آپاں وی مُسلے ای ہوندے آں۔


یہ یونٹ تھی چھ ایف ایف اور کمپنی افسر تھا سیکنڈ لیفٹیننٹ شبیر شریف۔ ہمارا شبیر، پینسٹھ میں چھمب جوڑیاں اور اکہتر میں سلیمانکی کے محاذ کا شبیر۔ میجر شبیر شریف شہید نشانِ حیدر۔ کچھ حقیقت اور کچھ زیبِ داستاں کے رنگوں میں رنگے اس قصے کی پرتیں کرنل اشفاق حسین اپنی کتاب فاتحِ سبونہ میں کھولتے ہیں۔


چار ستمبر 1965 کو جوڑیاں کے شمال مغرب میں ٹروٹی ۔ چک بھگوان پر چھ فرنٹیئر فورس کے حملے میں سیکنڈ لیفٹیننٹ شبیر شریف بہادری سے لڑتے ہوئے دشمن کے گولے کا ٹکڑا بازو میں لگنے سے خود زخمی ہوگئے تھے مگر انہیں اصل فکر محاذ کے مورچوں کے اطراف بکھرے اپنے شہیدوں کی تھی۔ گاڑیاں یونٹ توی کے پار چھوڑ آئی تھی جنکا صبح سے پہلے آگے پہنچنا ناممکن تھا۔ شبیر کو اصل پریشانی کمپنی کو ہدف سے پیچھے پلٹ آنے کے احکام کی تھی کہ وہ شہیدوں کو چھوڑ کر پیچھے جانے پر راضی نہیں تھے۔ یونٹ کے ایڈجوٹنٹ میجر انوار الحق سے انکا رابطہ وائرلیس سیٹ پر نہیں ہوا تھا بلکہ شبیر خود چل کر ٹیک ہیڈکوارٹر تک آئے تھے۔ ایڈجوٹنٹ کی ناراضگی اور خالہ جی کے گھر والی جگت اور باقی مکالمہ بعینہٖ درست ہے۔ محاذ سے آگے جس ٹرک کے ڈرائیور کو انہوں نے اعتماد اور پنجابی زبان کے نرغے میں گھیرا وہ ہندوستانی توپخانے کی ایک بیٹری پوزیشن تھی۔ توپ اور ایمونیشن ٹریلر باندھ لینے کے بعد انہوں نے خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی اور سکھ ڈرائیور کو ٹرک کی پچھلی سیٹوں پر اپنے ساتھ آئے دو سپاہیوں کے بیچ میں بٹھا کر انہیں خبردار کردیا تھا۔ پاکستانی مورچوں کے نزدیک پہنچنے پر زخمی بازو کو شیل ڈریسنگ میں لپیٹے ایک ہاتھ سے ٹرک چلاتے شبیر اور سکھ سپاہی کے درمیان من و عن وہی مکالمہ ہوا جو ہم نے اوپر نقل کیا ہے۔


شبیر ایسا ہی تھا، سیماب صفت، نڈر، بے خوف، دِل میں آئی کرجانے والا۔ نظم و ضبط کی بندشوں سے آزاد، انجام سے بے نیاز۔ افسری کے شروع کے دنوں کا ذکر ہے، سیکنڈ لیفٹیننٹ شبیر کے آئے دن کے مچیٹوں سے یونٹ کمانڈر نالاں تھے۔ انہی دنوں ایک فوجی گاڑی کے حادثے کی انکوائری میں جسے شبیر خود ڈرائیو کررہے تھے، پیش ہوئے تو حادثے کی انکوائری پر مامور میجر عبداللہ سعید نے شبیر کی سٹیٹمنٹ اور سوال و جواب ریکارڈ کرنے کے بعد بے ساختہ کہا تھا، ’اگر جنگ ہوئی تو محاذ پر لڑتا یہ افسر یا تو مارا جائے گا یا پھر ستارۂ جرات پائے گا‘۔ انکی پیشن گوئی کا دوسرا حصہ سچ ہونے جارہا تھا۔ پینسٹھ کی جنگ میں چھمب جوڑیاں کے محاذ پر لڑتے سیکنڈ لیفٹیننٹ شبیر کو ستارۂ جرات ملنے والا تھا۔ میجر عبداللہ سعید کی پیشن گوئی کے پہلے حصے کی تعبیر میں ابھی دیر تھی۔

جے پی جے 2001 سرحدی تناؤ کے دن۔ راقم الحروف اپنے فیلڈ آفس میں
جے پی جے 2001 سرحدی تناؤ کے دن۔ میجر گوندل اور اپنے جوانوں کے ساتھ
پینسٹھ کی جنگ میں ہندوستان سے چھینی گئی پچیس پونڈر کی توپ۔ ٹرک کے پیچھے بائیں طرف کشمیر میں تعینات ہندوستان کی چنار کور کا نشان دیکھا جاسکتا ہے۔ قیاس ہے کہ یہ وہی توپ اور ٹرک ہے جو شبیر شریف سکھ ڈرائیور سمیت لے کر بحفاظت اپنے مورچوں میں واپس آگئے تھے۔ تصویر بشکریہ @leftofthepincer

چھمب جوڑیاں میں ستارۂ جرات

پینسٹھ کی جنگ کے دوران چھمب ۔ اکھنور کے محاذ کے معائنے پر آئے کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ نے بہادری کا اعزاز پانے والوں کے سینوں پر تغمے سجائے۔ ان میں ستارۂ جرات پانے والے سیکنڈ لیفٹیننٹ شبیر شریف بھی تھے۔ شبیر کی یونٹ 6 فرنٹیئر فورس یکم ستمبر کو سرحد پار اکھنور کی طرف پیش قدمی کرتے آپریشن گرینڈ سلیم کے دستوں کا حصہ تھی۔ 6 ایف ایف بریگیڈیئر عظمت حیات خان کے 10 بریگیڈ کا حصہ تھی جسے دو ستمبر کو چھمب فتح ہونے کے بعد جوڑیاں اور اس کے اطراف میں اہداف پر قبضہ کرنا تھا۔ صاحبو یہ وہی آپریشن گرینڈ سلیم ہے جسکی قیادت میجر جنرل اختر حسین ملک کررہے تھے اور چھمب کی لڑائی کی کامیابی کے بعد ایک متنازعہ حکم کے نتیجے میں آپریشن کی کمان بیچ منجدھار صدر کے منظورِ نظر میجر جنرل یحییٰ خان کےسپرد کردی گئی تھی۔ شبیر شریف کی 6 ایف ایف والے 10 بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر عظمت کو دو ستمبر کی صبح جوڑیاں پر حملے کے لیے پیش قدمی کے احکام مِلے تھے مگر انہوں نے غیر معمولی سست روی کا مظاہرہ کیا۔ جنرل محمود نے 1965 کی جنگ پر لکھی اپنی کتاب میں اس تاخیر کی ذمہ داری بریگیڈیئر عظمت پر ڈالتے ہوئے اسے دانستہ قدم قراردیا ہے۔ بریگیڈیئر صاحب سے انٹرویو اور جنرل اختر کے لکھے خط کی روشنی میں یہ بات پتہ چلتی ہے کہ بریگیڈیئر عظمت کو کمان کی تبدیلی کا پہلے سے علم تھا اور وہ جوڑیاں پر حملہ میجر جنرل یحییٰ خان کی آشیرواد کے ساتھ انکے زیرِ کمان کرنا چاہ رہے تھے۔ اس لیے انہوں نے کوڈ ورڈ ’کوکا کولا‘ کے انتظار میں دانستہ تاخیری حربے استعمال کیے۔ اسکا واضح نقصان پاک فوج کو یہ ہوا کہ اکھنور فتح کرنے کا سپنا سپنا ہی رہ گیا۔ خیر یہ تو ایک مختلف بحث ہے جو اس تحریر کا موضوع نہیں ہے۔ کمان کی تبدیلی اور جرنیلوں کی آپسی چپقلش سے پرے ہمیں اس بات کی خبر ملتی ہے کہ تاخیر سے ہی سہی 4 ستمبر کو جب 6 فرنٹیئر فورس کے دستوں نے ٹروٹی اور آگے چک بھگوان پر حملہ کیا تو کامیابی نے ان کے قدم چومے۔ کرنل اشفاق حسین کی فاتح سبونہ ہی ہمیں بتاتی ہے کہ شبیر شریف کی ڈیلٹا کمپنی نے چک بھگوان پر حملہ کرنا تھا، حملے کا وقت تھا صبح گیارہ بجے اور شبیر شریف اس حملے میں کمپنی جے سی او صوبیدار کرم شاہ کے ماتحت تھے۔ کرم شاہ کی شہادت کے بعد لیفٹیننٹ شبیر نے کمان سنبھالی اور چک بھگوان کے محاذ میں سرُخرو ٹھہرے۔
اسی حملے کے دوران وہ بازو میں توپ کے گولے کا ٹکڑا لگنے سے زخمی ہوگئے تھے مگر اپنے زخم پر شیل ڈریسنگ لپیٹ کر خود ہی مطمئن ہوگئے تھے۔ اسی دوران دشمن کا ٹرک بمع توپخانے کی توپ اور ایمونیشن قابو کرکے لے آنے والا واقعہ پیش آیا۔ شہیدوں اور زخمیوں کو پیچھے بجھوانے کے دوران بھی اپنےزخم کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا۔ وہ تو اگلے دو دنوں میں گہرے زخم میں پیپ پڑ گئی اور بازو کام کرنے سے عاری ہوگیا تو شبیر کو سختی سے محاذ سے پیچھے ڈریسنگ سٹیشن جانے کا حکم مِلا۔ زخم کافی خراب ہوچکا تھا، شبیر نے بریک لگائی بھی تو سیدھا سی ایم ایچ آکر ٹھہرے۔ کچھ دن بستر پر لیٹنےکی بوریت سے اکتا کر وہ اسپتال سے بھاگ کر یونٹ میں آجائیں گے اور باقی ماندہ جنگ سیالکوٹ کے محاذ پر لڑیں گے، جہاں چھ ستمبر کے ہندوستانی حملے کے بعد انکی یونٹ ۶ ایف ایف چھمب کے محاذ سے اُٹھ کر نیچے آگئی تھی۔ اس جنگ میں لیفٹیننٹ شبیر شریف کو چھمب ۔ جوڑیاں کے محاذ پر دلیرانہ لڑائی کے اعتراف میں بہادری کا تیسرا بڑا اعزاز ستارۂ جرات عطا کیا گیا۔

ستمبر 1965 ۔ جوڑیاں سے اوپر ٹروٹی سے آگے چک بھگوان پر 6 فرنیٹیئر فورس کا 13 لانسرز کے ٹینکوں کے ساتھ حملہ ۔ یہ نقشہ جنرل محمود کی کتاب Illusion of Victory  سے لیا گیا
جنرل اختر ملک کے چھمب جوڑیاں کے محاذ پر بریگیڈیئر عظمت حیات کے تاخیری حربے کے بارے میں تاثرات۔ ان کا خیال ہے کہ ایسا جنرل یحییٰ خان کی ملی بھگت سے ہوا
6 ایف ایف میں شبیر شریف کی ڈیلٹا کمپنی کے کمانڈر صوبیدار کرم شاہ شہید۔ ستمبر 1965 میں آپ ٹروٹی ۔ چک بھگوان پر حملے کی قیادت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ تصویر: فاتح سبونہ
چھمب کے محاذ پر کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ لیفٹیننٹ شبیر شریف کو ستارۂ جرات کا ربن لگاتے ہوئے
کیپٹن شبیر شریف، سیالکوٹ ڈویژن۔ بائیں جیب کے اوپر ستارۂ جرات کا ربن نمایاں ہے

سلیمانکی کا شیر

وہ 2015 کے مارچ کی ایک روشن دوپہر تھی اور میں جنوبی پنجاب کے سرحدی قصبے منڈی صادق گنج کے ریلوے سٹیشن کے مسافر خانے میں ایک رنگین ٹائلوں سے آراستہ منفرد فرش کی کھوج سے سیر ہونے کے بعد ایک لمبی ٹانگوں والی آرام کرسی پر ایک آلکس کے عالم میں نیم دراز تھا۔ بقیہ دن کا پروگرام طے شدہ تھا اور کچھ ہی دیر میں میں نے منچن آباد سے آگے مکلیوڈ گنج سے ہوتی وہ روڈ پکڑنی تھی جو پاک بھارت سرحد کی قربت میں چلتی سلیمانکی ہیڈورکس کو جاتی ہے جس کے ساتھ ہی صادقیہ بارڈر پوسٹ ہے۔ یہاں واہگہ سے ملتی جلتی جھنڈا اتارنے کی تقریب ہوتی ہے جہاں دونوں اطراف کے زائرین یہ ملاحظہ کرنے آتے ہیں کہ کس کا فوجی زیادہ چٹک ہے اور زمین پر ایک گھن گرج کے ساتھ پاؤں مارتے وقت کس کی ٹانگ سر کے اوپر سے ہوکر آتی ہے اور گھنی نوک دار مونچھوں کو تاؤ دیتے سمے کس کی آنکھوں میں سامنے کے سپاہی کے لیے ایک پھن لہراتی نفرت ٹپکتی ہے۔ سورج ڈھلنے سے کچھ پہلے جھنڈا اتارنے کی تقریب میں ہوتے اس تماشے سے دامن بچاتے میں دوپہر کو ہی پوسٹ پر آگیا تھا کہ آبزرویشن ٹاور سے سرحد پار کی زمینوں کا جائزہ لے سکوں۔ میں وہ محاذ دیکھنے آیا تھا جہاں سلیمانکی کے شیر، شبیر شریف نے لڑتے ہوئے جان دی تھی۔ سلیمانکی کے ٹاور کی اوپر جاتی سیڑھیوں کے ساتھ ہر منزل پر شبیر کی کہانی تصویروں کی زبانی ملتی ہے۔ اپنے شہید کو سلام پیش کرتا ٹاور کی سب سے اوپر کی منزل پر پہنچا تو مطلع گرد آلود تھا۔

منڈی صادق گنج کی ایک پرسکون دوپہر
سلیمانکی ہیڈورکس ۔ افتتاحی تختی
سلیمانکی بارڈر پر جھنڈا اتارنے کی تقریب۔ یہ تصویر بارڈر کے دوسری طرف سے ہمارے دوست گرکی مان کی کھینچی ہوئی ہے
صادقیہ بارڈر پوسٹ کا آبزرویشن ٹاور۔ یہ تصویر بارڈر کے دوسری طرف سے ہمارے دوست گرکی مان کی کھینچی ہوئی ہے
صادقیہ آبزرویشن ٹاور کا اندرونی منظر ۔ شبیر شریف گیلری

صادقیہ بارڈر پوسٹ کے آبزرویشن ٹاور سے نیچے دیکھیں تو بائیں پہلو سے لگ کر چلتا ایک حفاظتی پشتہ ہے۔ یہ وہ لیفٹ مارجنل بند (LMB) ہے جہاں میجر شبیر شریف کی براوو کمپنی نے اکہتر کے ستمبر میں دفاع لیا تھا۔ تب اسی بند پر ایک بلند شیشم کا درخت تھا جو اب نہیں ہے، مگر جبکہ وہ تھا تو شبیر نے اس پر مچان باندھی تھی اور جہاں سے سیکنڈ لیفٹیننٹ فاروق افضل نے پہلے پہل بیری والا پُل دیکھا تھا۔
حفاظتی پُشتے اور بین الاقوامی سرحد سے اُدھر کی شانت ہریاول جو ایک آلکس میں دھند کا گھونگھٹ اوڑھے کھڑی ہے اس کے پار کی زمینوں میں 6 فرنٹیئر فورس رجمنٹ المعروف ’چرونجہ‘ (CHARWANJA) نے سبونہ کی جنگ لڑی تھی۔ سلیمانکی کی اس ڈھلتی شام ٹاور پر کھڑے مانی کو دھند کے پار کی زمینوں میں کچھ نظر نہیں پڑتا تھا، مگر جب بادل کھُل کر برسے ہوں اور کسی کے رنگ ورگا دُھلا دُھلایا دن چڑھا ہو تو صادقیہ ٹاور سے آگے اور تھوڑا بائیں سبونہ کی نہر پر بیری والا پُل نظر پڑتا ہوگا۔ وہی بیری والا پُل جس پر حملہ کرنے کو تین دسمبر کی شام ساڑھے پانچ بجے جب لیفٹیننٹ فاروق چودہ نفوس پر مشتمل اپنا لڑاکا پٹرول لے کر نکلے تو لانس نائیک عثمان اور سپاہی میر بادشاہ آگے آگے تھے۔ کچھ ہی دیر میں پُل پر بولے گئے پہلے ہلّے میں دونوں شہید ہوجائیں گے۔ لیفٹیننٹ فاروق مشین گن کے برسٹ اور خود پر پھینکے گئے گرینیڈ سے معجزانہ طور پر بچ نکلنے کے بعد پُل کے پار پہلے بنکر کو خالی کرالیں گے۔ چودہ میں سے نو سپاہیوں کی قربانی دے کر قبضے میں کیا گیا یہ پُل بہت قیمتی ہے کہ اس پر سے گزر کر میجر شبیر شریف دو پلاٹونوں کے ہمراہ سبونہ کے دفاعی بند کو فتح کرلیں گے۔
صادقیہ ٹاور کے نیچے سے ہی سرحد پار جاتا فاضلکا کا نالہ ہے جس کے ساتھ چلتے جائیں تو جھنگر پوسٹ کے ساتھ نور محمد گاؤں ہے۔ تین دسمبر کی شام نمبر چھ پلاٹون نے پلٹن کےنامی گرامی پہلوان (professional wrestler) نائب صوبیدار محمد عارف کی قیادت میں اسے ہندوستانیوں سے خالی کروالیا تھا۔ ایک جوبن پر آئی رات کی چاندنی میں کمر کمر پانی اور کیچڑ سے لت پت جب یہ سپاہ بیری والا پُل پار کرکے سبونہ بند پہنچے گی تو لیفٹیننٹ فاروق نائب صوبیدار عارف کو اس کی پلاٹون کی جگہ دکھا کر ابھی لوٹ ہی رہے ہوں گے کہ ہندوستانی توپخانے کا ایک گولہ ہمارے صوبیدار سے زندگی کا خراج وصول کرلے گا۔ نائب صوبیدار عارف سلیمانکی سیکٹر میں پلٹن کے پہلے شہید جے سی او تھے جنہیں انکی بہادری کے اعتراف میں بعد از شہادت تمغۂ جرات عطا کیا گیا۔
بیری والہ پُل اور سبونہ بند کے پار گُرمکھیرہ گاؤں ہے۔ تین دسمبر کی رات ساڑھے آٹھ بجے اسی گاؤں سے ہندوستانی جوابی حملے کی قیادت کرتے 18 کیولری کے ٹینک آئیں گے۔ پلٹن کے بکتر شکن ہتھیار ابھی پیچھے ہیں مگر میجر شبیر کی پکار پر حوالدار عدالت راکٹ لانچر سیدھا کرکے پہلے ٹینک کو ٹھکانے لگادے گا۔ تین ٹینکوں کے نقصان سے گھبرا کر ہندوستانی سپاہ پسپا ہوجائے گی مگر سبونہ کے مورچوں کے سامنے آگ کے شعلوں میں لپٹے تین ٹینک رات بھر جلتے رہیں گے۔ 4/5 دسمبر کی درمیانی رات میجر شبیر شریف کی کمپنی پر ایک بڑا حملہ آیا۔ ہندوستانی 4 جاٹ اور 3 آسام رجمنٹ کی قیادت 18 کیولری کے ٹینک کررہے تھے۔ گھمسان کی لڑائی میں ایک موقعہ وہ آیا کہ میجر نارائن سنگھ اور شبیر شریف ایک دوسرے کی مار کے علاقے میں آمنے سامنے تھے۔

سلیمانکی ہیڈورکس سے آگے کا ہندوستانی علاقہ۔ ہندوستانی جھنگر پوسٹ گاؤں نور محمد، بیری والا، سبونہ کی نہر اور اس کے پار گُرمکھیرا نقشے کے وسط میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ سروے آف انڈیا کی اس میپ شیٹ کا سکیل 1:50000 ہے۔ 1971 میں میجر شبیر کے زیرِ استعمال کچھ اسی قسم کا نقشہ ہوگا
صادقیہ ٹاور سے سرحد کے پار دیکھتے ہوئے۔ منہ اور نیت فاضلکا کی طرف
صادقیہ ٹاور سے بائیں حفاظتی بند۔ یہاں میجر شبیر کی براوو کمپنی کے دفاعی مورچے تھے جہاں سے انہوں نے سبونہ پر حملہ کیا تھا
سبونہ کی دفاعی نہر پر بیری والا پُل
سبونہ کی نہر اور بیری والا پُل 2021 ۔ یہ تصویر جاگراں ڈاٹ کام پر پنکج دوئویدی نے سبونہ کی لڑائی پر اپنے مضمون میں شامل کی۔ آج کے نقشے کو دیکھیں تو ہندوستانی دفاع گئے وقتوں کی سبونہ نہر سے پیچھے ایک دوسری بڑی آبی رکاوٹ پر قائم ہے
نائب صوبیدار محمد عارف شہید، تمغۂ جرات
فاتح بیری والا پُل، سیکنڈ لیفٹیننٹ فاروق افضل، تمغۂ جرات

راولپنڈی کے آرمی میوزیم میں میجر شبیر شریف گیلری میں سبونہ کی لڑائی عکسبند کرتا ایک منظر ہے۔ ایک پاکستانی اور ہندوستانی میجر آمنے سامنے ہیں۔ اول الذکر کے ہاتھوں میں ایک سٹین گن ہے اور ثانی الذکر اپنے خون میں نہاتا گرتا دکھایا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ فاروق افضل روایت کرتے ہیں کہ میجر نارائن کو مورچے کے پاس دیکھ کر شبیر شریف باہر کو جھپٹ پڑے تھے۔ میجر نارائن کا پھینکا گیا فاسفورس گرینیڈ نشانے سے چوک گیا مگر کالر کے پاس سے شبیر کی وردی کو آگ لگ گئی۔ موقع ملنے کی دیر تھی، شبیر نے جھلسے چہرے کی تپش کو نظر انداز کرتے اسٹین گن کا برسٹ مارا جو میجر نارائن کے جسم کے پار ہوگیا۔ جنگ کے بعد میجر نارائن کا جسم فوجی اعزاز سے ہندوستان کے حوالے کیا جائے گا اور چار جاٹ رجمنٹ اپنے اس سپوت کو بہادری کے اعزاز ویر چکر سے نوازے گی۔

شبیر جلے ہوئے چہرے کے ساتھ محاذ پر ہی رہے گا۔ پینسٹھ کی جنگ میں جب اس کے ہاتھ پر توپخانے کے گولے کا ٹکڑا آکر لگا تھا تو سیکنڈ لیفٹیننٹ شبیر شریف زخم پر شیل ڈریسنگ چڑھا کر بے فکری سے لڑتا رہا تھا۔ اکہتر کی جنگ میں میجر شبیر کا چہرہ ہی تو جلا تھا، وہ مرہم پٹی کے لیے مورچے چھوڑ کر پیچھے جانے پر راضی نہیں تھے۔ پینسٹھ کی جنگ کی طرح اگر کچھ دنوں میں زخم خراب ہونے لگتا تو شاید آپ رجمنٹل ایڈ پوسٹ کو لوٹ جاتے مگر میجر شبیر شریف کے پاس وقت کم رہ گیا تھا۔ چھ دسمبر کی صبح کو آئے ہندوستانی حملے میں ایک ٹینک کا گولہ میجر شبیر شریف کے پاس آکر پھٹا۔ میجر صاحب اسوقت 106 ملی میٹر ریکائل لیس رائفل پر بیٹھے ٹینکوں کا نشانہ باندھ رہے تھے۔ دھماکے کی شدت سے آپکا جسم ہوا میں کئی فٹ اچھلا اور جسدِ خاکی زمین پر گرا تو آپ شہید ہوچکے تھے
بیری والا پُل کے پار سبونہ کے محاذ سے واپس سرحد کی طرف لوٹیں تو صادقیہ آبزرویشن ٹاور کے بالکل ساتھ بائیں جانب وہ جگہ ہے جہاں 6 دسمبر 1971 کی دوپہر بٹالین ہیڈکوارٹر سے براوو کمپنی کی کمان سنبھالنے جاتے میجر ہدایت نکلے ہی تھے کہ سامنے ایک جیپ شہداء کے جسدِ خاکی لے کر آتی نظر آئی۔ جیپ رکوا کر میجر ہدایت نے پیچھے نظر ڈالی تو براوو کمپنی کمانڈر میجر شبیر شریف شہید کا خون میں لت پت جسم پڑا تھا جسکی ٹانگیں جیپ سے باہر لٹک رہی تھیں۔ ابھی کچھ ہی دیر پہلے سبونہ کے بند سے پر وائرلیس آپریٹر کی کال کی بازگشت گونجتی رہی تھی، ’ہیلو آل سٹیشنز، کال سائن ٹو کے امام شہید ہوگئے ہیں۔‘ اور اب پورے بریگیڈ میں ایک ہی بات پھیلی ہوئی تھی، شیر تھا نہ رہا، اب کیا ہوگا!

سلیمانکی فاضلکا سیکٹر میں 6 فرنٹیئر فورس کا حملہ۔ تصویر کرنل اشفاق حسین کی فاتح سبونہ سے لی گئی
سبونہ کی نہر پر میجر شبیر شریف کی براوو کمپنی کا حملے کی ذمہ داری کا علاقہ۔ تصویر کرنل اشفاق حسین کی فاتح سبونہ سے لی گئی
آرمی میوزیم راولپنڈی کی نشانِ حیدر گیلری میں میجر شبیر شریف اور میجر نارائن سنگھ کی دوبدو لڑائی کی عکسبندی
میجر شبیر شریف شہید، نشانِ حیدر
چار جاٹ کے میجر نارائن سنگھ، ویر چکر

میجر شبیر شریف کی شہادت کے بعد ان کے فتح کیے گئے سبونہ بند پر پلٹن سترہ دسمبر کو ہونے والے سیز فائر تک قابض رہی۔ اس دوران انہوں نے توپخانے، ٹینکوں اور ہوائی جہازوں کے گولوں کو سہارتے ہوئے کم وبیش چودہ ہندوستانی حملے پسپا کیے۔ اس دوران ایک افسر، تین جے سی اوز اور چھپن جوان شہید ہوئے۔ اس معرکے میں سیکنڈ لیفٹیننٹ (بعد ازاں بریگیڈیئر ریٹائرڈ) فاروق افضل کو تمغہ جرأت دیا گیا۔ میجر شبیر شریف کو بعد از شہادت بہادری کا سب سے بڑا اعزاز نشانِ حیدر عطا ہوا۔ ملٹری اکیڈمی سے پاسنگ آؤٹ پر شمشیرِ اعزاز، 1965 کی پاک بھارت جنگ میں ستارۂ جرات اور پھر اکہتر کے سلیمانکی میں فاتح سبونہ کو بعد از شہادت دیا گیا نشانِ حیدر، ایک سپاہی کی اس سے بڑھ کر اور کیا آرزو ہوگی!
صلۂ شہید کیا ہے تب و تابِ جاوادنہ

جنگ بندی کے بعد۔  6 ایف ایف کے جوان ایک قابض ہندوستانی ٹینک T54 کے اوپر۔ براوو کمپنی نے حملے کی پہلی رات تین ٹینک تباہ کردیئے تھے۔ 6 دسمبر کی صبح میجر شبیر شریف جس ٹینک کے گولے سے شہید ہوئے وہ اسی ساخت کا T54 ٹینک تھا۔ تصویر @leftofthepincer
جنگ بندی کے بعد۔  پاک فوج کا جوان سبونہ بند کے مورچوں پر۔ تصویر ہفت روزہ ہلال

میانی صاحب کا تنویر عرف احسان میاں


اگر آپ لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں ہیں، تو بہاولپور روڈ سے ایک بغلی گلی جو باغ گلُ بیگم والی گُل بیگم کے مقبرے کو جاتی ہے، وہیں دلا بھٹی کی قبر کی قربت میں سڑک کے عین اوپر ایک سادہ مگر پروقار مزار ہے جس کے بالکل ساتھ ایک مختصر احاطے میں دو قبریں اور ہیں۔ 26 نومبر 1971 کی شام جب بیگم اور میجر شبیر شریف یہاں آئے تھے تب یہاں صرف ایک قبر تھی، تنویر احمد خاں عرف احسان میاں۔ اپنے بیٹے تیمور کی پہلی سالگرہ پر سلیمانکی سے لاہور آئے میجر شبیر سالگرہ کی تقریب کے بعد بیگم کے ساتھ پہلے تنویر کی قبر پر آئے تھے اور کہا تھا
’یہاں کتنا سکون ہے۔ تنویر! میں تمہیں زیادہ دیر تنہا نہیں چھوڑوں گا‘۔

یہ وہ تنویر کی قبر پر آکر اکثر کہا کرتے تھے اور بیگم شبیر گھبرا کر ان کے دوستوں سے کہتیں کہ شبیر کو سمجھائیں اور وہ ہنس کر ٹال دیتے۔ 1 ٹمپل روڈ کے خان بہادر بشیر احمد خاں صاحب کے لاڈلے چھوٹے بیٹے تنویر نے دلبرداشتہ ہوکر اپنی جان لے لی تھی۔ کچھ نے کہا کہ پیار میں ناکامی ہوئی، کچھ نے کچھ اور۔ لوگوں کے مرنے پر دنیا والے تو باتیں کرتے ہی ہیں مگر تنویر کی موت کی خبر دلاں دے جانیوں پر بجلی بن کر گری تھی اور ان میں سے ایک میجر شبیر شریف بھی تھے۔ تنویر میجر شبیر کا گہرا دوست تھا۔ 1971 کے مئی میں انہوں نے یہ خبر بہاولپور میں سنی اور حیران و پریشان جنازہ پڑھنے لاہور چل دیئے۔ میجر شبیر کو دُکھ تھا کہ اگر کوئی گنجل تھی تو تنویر نے انتہائی قدم اٹھا لینے سے پہلے انہیں شاملِ حال کیوں نہیں کیا۔

لوگوں کے چلے جانے کے بعد انکی یادیں اور قبر کا نشان ہی رہ جاتا ہے تو شبیر جب کبھی لاہور آئے تو پہلے تنویر کی قبر پر گئے اور یہیں انہوں نے تنویر کی ماں کو خستہ حال اپنے لاڈلے بیٹے کی قبر کی مجاوری کرتے پایا۔ ماں تکلیف میں تھی کہ اس کا نازوں پلا بیٹا قبر کے اندھیروں میں کہیں پریشان نہ ہو کہ وہ اسے اپنے خوابوں میں گھبرایا ہوا اور دُکھی پاتی۔ بیٹے کے موت کے ساتھ اسے خودکشی کا بھی رنج تھا کہ مذہب کے ٹھیکیدار اسے بیٹے کے قبر کے عذاب سے ڈراتے تھے۔ ایسے ہی کسی عالم نے اسے کہا تھا کہ تنویر کو آرام تب آئے گا جو کوئی شہید، یا صالح روح بیٹے کی قبر کے ساتھ دفن ہو۔ دُکھیاری ماں کو تو یہ ڈھکوسلہ ہی تھا مگر شبیر کے دل میں یہ بات کھُب گئی تھی۔ بعد کے دنوں میں جب وہ تنویر کی قبر پر آئے انہوں نے وہی جملہ دوہرایا جو بیٹے کی سالگرہ والے دن 26 نومبر کی شام بیگم کی موجودگی میں تنویر کی قبر پر کہا تھا۔ انہیں شاید علم تھا کہ محض دس دن کی دوری پر انکی یہ بات سچ ہونے جارہی تھی۔
فاتحِ سبونہ میں کرنل اشفاق حسین ہمیں بتاتے ہیں کہ سلیمانکی کے محاذ سے شبیر نے جو خط لکھے ان میں اکثر اس خواہش کا ذکر کیا کہ ان کہ شہادت کی صورت میں انہیں میانی صاحب میں تنویر کی قبر کے ساتھ سُلا دیا جائے۔ اسی خواہش کی تجدید و تائید ان خطوط میں بھی ملتی ہے جو انہوں نے تنویر کی والدہ اور بھائی کو لکھے۔

اگر آپ لاہور میں میانی صاحب میں ہیں تو بہاولپور روڈ سے جو بغلی گلی باغ گلُ بیگم کے مقبرے کی طرف آتی ہے وہیں برلبِ سڑک تنویر کی قبر کے دائیں پہلو میں ایک سادہ مگر پروقار مزار ہے۔ یہاں سلیمانکی کا شیر، میجر شبیر شریف شہید، ستارۂ جرأت، نشانِ حیدر اپنے دوست کی قربت میں ابدی نیند سورہا ہے۔ تنویر کی قبر کے بائیں پہلو میں اب تنویر کی والدہ محوِ استراحت ہیں۔ میانی صاحب میں شبیر شریف کو آسودۂ خاک دیکھتا ہوں تو یقین ہونے لگتا ہے کہ اس نے دوستی کی لاج نبھانے کو شہادت کا رتبہ پایا۔

لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں شبیر کے دوست تنویر کی قبر
میانی صاحب میں میجر شبیر شریف شہید، نشانِ حیدر کا مزار۔ یہ تصویر 2008 میں لی گئی
میانی صاحب قبرستان میں میجر شبیر شریف شہید، نشانِ حیدر کے مزار کی چھتری، بالکل ساتھ بائیں طرف سائبان تلے قبر انکے دوست تنویر کی ہے، اس کے ساتھ بائیں تنویر کی والدہ کی قبر ہے

کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی


میجر شبیر شریف کی شہادت کی خبر محاذ سے کیا گیا وہ ٹیلیفون تھا جو لاہور میں ان کے گھر کے پڑوس میں موصول ہوا۔ گھر کے دروازے پر دستک دینے والے نے پکار کر پوچھا، کیا آپ کا کوئی فوج میں ہے؟ اندر سے کسی اندیشے سے دہلتی اور ساتھ ہی ساتھ حوصلہ پکڑتی ماں جی نے کہا،
بیٹا، میرا تو سب کچھ ہی فوج میں ہے۔

شبیر اپنی ماں جی کا سب کچھ ہی تو تھا۔ ایک ماں نے میانی صاحب کے ایک گوشے میں دوسری ماں کے بیٹے کے پہلو میں اپنے لختِ جگر کو سُلا کر صبر کی چادر اوڑھ لی اور اپنے شہید بیٹے کی محبت میں ایک لمبی عمر کی مسافت اسی صبر کے آسرے پر کاٹی۔
بہت بعد کے سالوں میں راشد ولی جنجوعہ نے امی جی کا انٹرویو کیا تو کہنے لگیں شاید شبیر کو آگاہی تھی کہ وہ کس راستے کا مسافر ہے۔ بیٹ مین کو حکم تھا کہ ہروقت کم ازکم چار وردیاں تیار حالت میں ہونی چاہییں۔ وہ اپنے پروردگار سے اپنی سب سے اچھی یونیفارم میں ملنا چاہتا تھا۔ امی جی کا معمول تھا ہر روز فجر کی نماز کے بعد گھر میں آویزاں شبیر شریف کی تصویر سے باتیں کیا کرتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس دن مجھے اس کی بہت یاد ستائے تو شبیر خواب میں آکرمل جاتاہے۔ ایک لمبی عمر کی مسافت کاٹنے کے بعد بالآخر امی جی لاہور میں کیویلری گراؤنڈ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں، اپنے شہید بیٹے سے ملنے کے لیے اب وہ کسی خواب کی محتاج نہیں رہیں۔


جن دنوں میں پاکستان ملٹری اکیڈیمی میں پلاٹون کمانڈر کے فرائض انجام دے رہا تھا، میجر جنرل راحیل شریف پی ایم اے کمانڈنٹ تھے۔ آپ میجر شبیر شریف شہید نشانِ حیدر کے چھوٹے بھائی ہیں۔ اکیڈیمی میں ایک فارسی ترکیب کا شہرہ تھا اور ہدایت تھی کہ کسی سبب سے اس شعر یا رباعی کا پہلا مصرعہ یا ابتدائی شعر تلاش کریں
کسب کمال کن کہ عزیزِ جہاں شوی
یہ وہ ضابطۂ حیات تھا جس پر میجر ریٹائرڈ شریف نے اپنے بچوں کی تربیت کی تھی۔ کہ جو کام بھی کرو اس میں کمال حاصل کرو کہ دنیا تمہیں عزیز رکھے۔ کاکول کے دنوں میں تو ہمیں اس کا ترکیب کا سِرا ہاتھ نہیں لگا۔ بہت بعد کا ذکر ہے کہ کسی اخبار میں ایک کالم نظر سے گزرا۔ وہیں سے علم ہوا کہ فارسی کے کسی گم گشتہ شعر کا یہ پہلا مصرعہ جو ضرب المثل کا درجہ رکھتا ہے نیشنل کالج آف آرٹس کے ماتھے کا جھومر بھی ہے۔ امجد اسلام امجد کسی سبب سے این سی اے کی عمارت پر درج مصرعے کے مکمل شعر کی تلاش میں تھی۔ جاننے والوں نے یہ خبر معین نظامی تک پہنچائی اور ایک تلاش بسیار کے بعد پورا شعر جو ان کے ہاتھ لگا وہ کچھ یوں ہے

کسبِ کمال کن کہ عزیزِ جہاں شوی
کس بی کمال ہیچ نَیَرزد عزیزِ من


جہاں پہلا مصرعہ عزیزِ جہاں ہونے کے لیے کسی کسب میں کمال حاصل کرنے کا درس دیتا ہے وہیں دوسرا مصرع بتاتا ہے کہ عزیزِ من اوجِ کمال حاصل کیے بغیر تو کسی بھی کام کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی۔ یہاں معین نظامی صاحب تسلی کرواتے ہیں کہ یہ فارسی کا یہ شعر کسی بھی نامی گرامی شاعر بشمول شیرازی، رومی، جامی، غالب و اقبال کسی سے بھی منسوب نہیں۔ تو صاحبو کسبِ کمال کن ۔۔۔ الخ کا خالق ایک گمنام شاعر ہے۔

شبیر شریف کے والد، میجر (ریٹائرڈ) محمد شریف

اپنے والد کے سکھلائے اس کلیے کی شبیر نے لاج رکھی اور خوب رکھی۔ مگر صاحبو جو کسبِ کمال کی جستجو کرتے ہیں وہ کسی مقام کسی جگہ بھی جھجھکتے نہیں، جو ان کے من میں سمائے کر گزرتے ہیں۔ شمشیرِ اعزاز حاصل کرکے یونٹ جوائن کرنے والے لیفٹیننٹ کی پہلی اے سی آر (ACR Annual Confidential Report کا مخفف ہے) اوسط یعنی Average تھی۔ درہ آدم خیل کے پڑوس میں پٹرولنگ پر نکلے شبیر نے بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ کی عملی تفسیر میں باراتیوں کے ساتھ مل کر ہوائی فائرنگ میں فوجی ایمونیشن پھونکا تو پھونکا ساتھ ہی چراغاں کرنے کو ویری لائٹ پسٹل کا حملے کی کامیابی کا اشارہ ریڈ اوور گرین ویری لائٹ بھی فائر کردیا۔ کچھ دن بعد فوجی گاڑی خود ڈرائیو کرتے ہوئے حادثہ کرا بیٹھے۔ جانیں تو بچ گئیں مگر ڈسپلن کے آہنی شکنجے میں کسے گئے۔ ان کے کمانڈنگ افسر کے مطابق شبیر پرائے پھڈوں میں ٹانگ اڑانے اور جلد غصے میں آجانے والا افسر تھا جسے درست راستے پر رکھنے کے لیے نگرانی کی ضرورت تھی۔ بریگیڈ کمانڈر نے اوسط اے سی آر کی توثیق کرتے ہوئے لکھا
’اعزازی شمشیر جیتنے نے اس (شبیر شریف) کا دماغی توازن بگاڑ دیا ہے۔ اسے چاہیے کہ اب وہ زمین پر اتر آئے اور یہ بات سمجھے کہ ایک شریف آدمی اور اچھا افسر بننے کے لیے اچھا ذاتی رویہ اور نظم و ضبط اولین ضرورت ہیں۔‘
مگر وہ شبیر ہی کیا جو شریف آدمی اور اچھا افسر بننے کی کوشش کرے۔ پینسٹھ کی جنگ میں جیتا ستارۂ جرات سینے پر سجانے کی ترکیب میں راولپنڈی گئے تو باوجود تاکید کے پھر فوجی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے اور ریش ڈرائیونگ کے نتیجے میں ونڈ سکرین چکنا چور کروا آئے۔ ستارۂ جرات ملنے کے بعد والی اے سی آر جو کچھ بہتر ہونے جارہی تھی ہائی ایوریج کے کمتر درجے میں بدل گئی۔ صاحبو شبیر اگر زندہ رہتا تو شاید جرنیل نہ بنتا کہ کسبِ کمال کی جستجو کرنے والے ضابطے کے سمجھوتوں اور نظم و ضبط کی بندشوں میں کہاں جکڑے جاتے ہیں۔ رب العزت نے سلیمانکی کے محاذ پر اسے ایک اور سعادت کے لیے چُن لیا تھا۔
میجر شریف نے اپنے بچوں کی تربیت جس فارسی ضرب المثل کو بنیاد بنا کر کی تھی ان کے سب سے بڑے بیٹے میجر شبیر شریف نے اپنی زندگی اور پھر شہادت میں اس کی عملی تفسیر دنیا کو دکھائی۔ وہ جیا تو دلیروں کی طرح اور جب شہید ہوا تو لوگوں نے کہا:
ایک شیر تھا نہ رہا، اب آگے کیا ہوگا؟

share this article
author bio

Imran Saeed

I am a teller of old tales. History, folklore, military, and more. Mostly covering Pakistan, my homeland, but also the Great White North, where I am currently settled.
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments