دیارِ غیر کا شہید

مشین محلّے کی یادگار

اگر آپ جہلم ریلوے سٹیشن پر اترتے ہیں تو پلیٹ فارم نمبر2 پر سٹیشن ماسٹر کا دفتر ہے جسکے دروازے کے ساتھ ہی دیوار پر جہلم کے سپوت میجر اکرم شہید کا تعارفی پوسٹر لگا ہے۔ ریلوے پلیٹ فارم کے مخالف جہاں مال گاڑیوں کی لگیج برتھ ہے اس کے اور آگے ریلوے کالونی کے بھی پار، پرانا جی ٹی روڈ ہے جو بائیں سمت مشین محلے کو جاتا ہے۔ پرانے جی ٹی روڈ پر ہی تھوڑا سا دائیں جہاں ہماری جرنیلی سڑک کو ریلوے روڈ کاٹتا ہے ایک پارک میں چبوترے پر کھڑی ایک بلند یادگار میجر محمد اکرم شہید، نشانِ حیدر کو یاد کرتی ہے۔ پیتل کی ایک تختی ہمیں میجر اکرم کے جنگی کارنامے سے مختصراً آگاہی بخشتی ہے۔ میجرصاحب 1971 کی پاک بھارت جنگ میں مشرقی پاکستان میں ھِلّی کے محاذ پر ہندوستانی سپاہ کے مقابلے پر دلیری سے لڑتے ہوئے جس وطنِ عزیز پر نثار ہو گئے تھے وہ انکی شہادت کے کوئی دس دن بعد دو لخت ہوگیا تھا۔ آپ مشرقی پاکستان کے محاذ پر لڑنے والے واحد شہید ہیں جنہیں دلیری کا سب سے بڑا اعزاز نشانِ حیدر عطا ہوا۔ پیتل کی تختی ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ ابتدا میں میجر اکرم شہید کو انکی یونٹ چار فرنٹیئر فورس المعروف تُن پور باونجہ نے بہادری کے دوسرے بڑے اعزاز ہلالِ جرأت کے لیے نامزد کیا تھا اور انکی سائٹیشن بھی اس بریگیڈ کمانڈر کے پاس گئی تھی جو دلیری کے تغموں کی سفارش کرنے کے معاملے میں کافی سخت گیر مشہور تھے۔
یادگاری تختی میں مزید آگے چل کر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مشین محلے کے پہلو سے لگے اکرم شہید پارک میں وہ یادگار محض ایک یادگار ہے یہ ہمارے شہید افسر کی لوحِ مزار نہیں ہے۔ نشانِ حیدر پانے والوں میں میجراکرم دوسرے شہید ہیں جو پاکستان کی سرزمین میں دفن نہیں ہیں۔ اسوقت کے مشرقی پاکستان کے بقاء کی جنگ لڑتے شہیدوں کو ہم نے جس دھرتی میں دفن کیا تھا وہ1971 کے دسمبر میں بنگلہ دیش کے نام سے بیگانی ہو گئی تھی۔ شہید سے متعلق دستیاب عام معلومات کے مطابق ان کی قبر دیناج پورمیں ھِلّی کے قصبے کے نزدیک ایک غیر معروف گاؤں بولدار میں ہے۔ میجراکرم کی کمپنی ھِلّی کےشمال میں چارکئی گاؤں میں دفاع لیے ہوئے تھی اور ان کے اگلے مورچے رائے باغ میں تھے۔ بٹالین ہیڈ کوارٹر تھوڑا پیچھے بولدار گاؤں میں تھا۔ میجر اکرم کی شہادت رائے باغ کے مورچوں سے بھی آگے ہندوستانی سپاہ کی ناک کے عین نیچے ہوئی تھی جب وہ راکٹ لانچر ہاتھ میں لیے ایک ٹینک کا نشانہ باندھ رہے تھے۔ ان کا جسدِ خاکی اگلے مورچوں سے بٹالین ہیڈ کوارٹر لایا گیا تھا مگر تدفین وہاں نہیں ہوئی تھی۔ ہمارے شہید افسر کا مدفن بولدارگاؤں میں نہیں ہے۔

جہلم میں میجر محمد اکرم شہید نشانِ حیدر کی یادگار

ھِلّی کا محاذ

1971 میں مشرقی پاکستان کے محاذ پر ہونے والا ھِلّی کا معرکہ عسکری تاریخ میں ایک عمدہ دفاعی جنگ کی کیس سٹڈی کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ ہندوستانی سپاہ کے تمام کیل کانٹے سے لیس ایک زبردست حملے کو پاکستانی 4 ایف ایف بٹالین نے جس ثابت قدمی سےناکام بناتے ہوئے دفاعی جنگ لڑی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ مشرقی پاکستان کے محاذ پر جہاں پاک فوج کی اکثریت پس قدمی اور شکست وریخت کا منظر پیش کررہی تھی، ھِلّی کے مورچے حملہ آور سپاہ کے لیے لوہے کے چنے ثابت ہوئے۔ اور اس میں ایک نمایاں کردار میجر اکرم شہید اور ان کی زیرِکمان چارلی کمپنی نے ادا کیا۔
ھِلّی کا محاذ پاک بھارت باقاعدہ جنگ کے آغاز سے بھی پہلے 22/23 نومبر کی درمیانی رات کُھل گیا تھا اور 16 دسمبر کو ڈھاکہ میں پاکستانی سپاہ کے ہتھیار ڈال دینے کے بعد بھی 18 دسمبر تک بوگرہ شہر کے گلی کوچوں میں یہ جنگ جاری رہی۔ ہندوستانی 20ماؤنٹین دویژن چار انفنٹری اور ایک آرمرڈ بریگیڈ کی قوت کے ساتھ پاکستانی 205 بریگیڈ کی نفری سے برسرِ پیکار تھا۔ ہندوستان کی نظریں بوگرہ پر تھیں کہ وہاں قبضہ کر کے شمال میں برسرِ پیکار پاکستانی سپاہ کو بقیہ مشرقی پاکستان سے کاٹ دے۔ بوگرہ کی صورت کچھ یوں تھی کہ

ہر رہ جو ادھر کو جاتی ہے ھِلّی سے گزر کر جاتی ہے

صاحبو جیسا کہ جنگوں میں دستور ہے کہ حملہ آور کے ارادے بھانپ لینے کے بعد دفاع لینے والی سپاہ مورچوں میں اترتی ہے تو 22/23 نومبر کی درمیانی رات آنے والے حملے سے نمٹنے کے لیے4FF ھِلّی اور اس کے نواح میں کھودے اپنے مورچوں میں اتری۔ میجر اکرم کی چارلی کمپنی شمال کی طرف ذرا ہٹ کے چارکئی کے گاؤں میں مورچہ زن تھی اور حملہ آور سپاہ ان سے ابھی کچھ دوری پر تھی۔ ابھی تو پہلے پہلے وار اپنے سینوں پر جھیلنے کے لیے ھِلّی کے عین قلب میں میجر جولین پیٹر کی ڈیلٹا کمپنی کے جوان تھے۔ پے درپے پست ہوتے حملوں سے منہ کی کھائی تو ہندوستانی سپاہ حکمتِ عملی تبدیل کرتے ہوئے ھِلّی سے شمال کو گھومی تو میجر اکرم کی پلٹن کی خبر لائی۔ 30 نومبر کو چارکئی کے گاؤں سے میجر اکرم کی چارلی کمپنی کے جوان ہندوستانی حملہ آوروں پر پِل پڑے تو انہیں سرحد کے پار دھکیلتے ہوئے خود رائے باغ کی اگلی دفاعی لائن تک آگئے۔ چار کلومیٹر پر پھیلے رائے باغ کے مورچے چارلی کمپنی نے آباد کیےتو پلٹن کو جیسے خبر ہو گئی کہ آنے والا وقت میجر اکرم کا وقت تھا۔

ھلّی کی جنگ کا نقشہ
ھلّی کی جنگ کا نقشہ ۔ میجر جنرل تجمل حسین ملک کی کتاب سے لیا گیا
1968 – میجر اکرم شہید مشرقی پاکستان میں ایسٹ پاکستان رائفلز کی پوسٹنگ کے دوران
1971 میجر اکرم ھلّی کے محاذ پر

رائےباغ کے دُھول اڑاتے اور آگ اُگلتے مورچوں نے حملہ آوروں کی ہر تازہ لہر کو خون میں نہلا دیا تھا مگر اپنے دفاع سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے تھے۔ 4/5 دسمبر کی رات پیدل سپاہ کی براہِ راست امداد میں ہندوستانی 69 کیولری کے ٹینک بھی تھے۔ 4 ایف ایف کی چارلی کمپنی کا دفاع تین پلاٹون اپ میں لگا تھا اور میجر اکرم سب سے اگلے مورچوں میں دفاعی جنگ لڑ رہے تھے۔ محاذ کی گرمی میں کب ان کے ہاتھ ٹینک شکن ہتھیار لگا اور کب وہ مورچے سے باہر نکل ایک جست بھر کے فاصلے پر آگے بڑھتے ٹینکوں پر نشانہ باندھے بیٹھے تھے کسی کو خبر بھی نہ ہوئی۔
صاحبو تُن پور باونجہ کے کمانڈنٹ کے دفتر میں چائے پیتے گپ شپ لگاتے آپ کی نظر آفس کی ایک دیوار پر آویزاں آئل پینٹنگ پر پڑتی ہے۔ دائیں اور نچلے کونے پر مورچے سے باہر جھانکتا ایک سپاہی دوربین لگائے اگلے مورچوں سے آگے کُچھ دیکھ رہا ہے۔ سامنے حملہ آور سپاہ کی صفوں میں آگ کے شعلوں میں گھرے تین ٹینک نظر پڑتے ہیں۔ یہ کمپنی کمانڈر میجر اکرم کا تازہ شکار ہیں۔ اس منظرنامے کے کلیدی مقام پر مورچوں سے باہر بےجگری کے ساتھ کُھلے میدان میں ایک فوجی 40 ملی میٹر راکٹ لانچر سے ایک بکتر شکن گولہ فائر کررہا ہے۔ یہ میجر اکرم ہیں اور سامنے ہندوستانی 69 کیولری کا چوتھا ٹینک ہے۔ ٹینک اور میجر صاحب دونوں ایک دوسرے کے نشانے پر ہیں۔

4 ایف ایف کے کمانڈنٹ آفس میں لگی معرکۂ ھلّی کی آئل پینٹنگ

کچھ ہی لمحوں میں اس چوتھے ٹینک کی مشین گن آگ اُگلے گی اور میجر اکرم شہادت کا رتبہ پالیں گے۔ مگر ابھی آن کی آن میں وہ اس تصویر میں زندہ ہیں مگر ان کے بالکل ساتھ ہی 4 ایف ایف کا ایک اور سپوت چاروں شانے چت پڑاہے جیسے یہ جان کی بازی ہارچکا ہے۔ اپنے جری کمانڈر کے شانہ بشانہ لڑتا شہادت کا رتبہ پاتا یہ سپاہی لعل خان ہے۔ بائیں نچلے کونے پر سامنے دشمن پر تابڑ توڑ فائر گراتی ایک مشین گن ڈیچیٹمنٹ کے دو جوان ہیں۔ مورچوں کے سامنے کا علاقہ دشمن کے سپاہیوں کی لاشوں سے اٹا پڑا ہے۔ ان میں میجر اکرم اور سپاہی لعل خان کے ساتھ چار ایف ایف کے اگلے مورچوں سے آگے بے جگری سے لڑ کر شہید ہونے والے چند اور جوان بھی ہوں گے۔ ہندوستانی حملے کی بڑھتی شدت کے باعث جب 4 ایف ایف کی پلٹن پس قدمی کرے گی تو مورچوں کے سامنے سے میجر اکرم اور اپنے جوانوں کی لاشیں اٹھانا ناممکنات میں سے ہوگا، مگر تُن پور باونجہ کے سپوت اپنے شہیدوں کو اُٹھانے کے لیے بھی جان پر کھیل جائیں گے۔

پانچواں نشانِ حیدر

4 ایف ایف کی براوو کمپنی کےکمانڈر اس وقت کے میجر اور آج کے بریگیڈیئر ریٹائرڈ آصف ہارون راجہ جب ھِلّی کی جنگ کا نقشہ کھینچتے ہیں تو چارلی کمپنی کی بے مثل قربانیوں کا احوال بھی بیان کرتے ہیں۔ میجر اکرم کی شہادت کے بعد جب وہ کمپنی کی کمان سنبھالنے آرہے تھے تو انہوں نے کٹے پھٹے جُثوں والے غازی پلٹتے دیکھے، کسی کا سرکُھلا ہوا، کسی کا جبڑا، کسی کا بازو اور کسی کی ٹانگ غائب۔ اس کمپنی نے چار اور پانچ دسمبر کی رات ہندوستانی سپاہ کی پیادہ بٹالین اورٹینکوں کےمتواترحملے اپنے سینوں کے زور پر سہارے تھے۔ شہداء اور زخمی نکال کر پلاٹون کی نفری 37 سےگھٹ کر اب صرف 7 رہ گئی تھی۔ بریگیڈیئر آصف ہمیں بتاتے ہیں کہ میجر اکرم نے ایک دلیرانہ قدم اٹھاتے ہوئے سامنے کے مورچوں سے باہر ایک کلیدی جگہ پر پوزیشن لی اور راکٹ لانچر کے فائر سے تین ٹینکوں کو تباہ کرنے کے بعد چوتھے کا نشانہ لیتے ہوئے لیتے ہوئے فائر کیا ہی تھا کہ اسی ٹینک کی 50. مشین گن کی گولیاں آنکھ اورحلق میں لگنےسے شہید ہوگئے۔
میجر اکرم کی کمپنی کا بے جگری سے لڑا معرکہ بریگیڈ کمانڈر تجمل ملک نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا۔ بریگیڈیئر (بعدازاں میجر جنرل ریٹائرڈ) تجمل حسین ملک ھلّی کے معرکے کے ابتدائی ہلّے میں 4 ایف ایف کے جنوبی مورچوں میں ایک لیفٹیننٹ اور جوانوں کو بے جگری سے لڑتا دیکھ چُکے تھے۔ میجر جنرل تجمل ملک وہی ہیں جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی کتاب Story of My Struggle لکھی۔ 1965 کی جنگ میں آپ لیفٹیننٹ کرنل تھے اور باٹا پور لاہور کے مقام پر 3 بلوچ کے کمانڈنگ آفیسر تھے۔ جہاں لاہور کے باقی محاذوں پر دادِ شجاعت دینے والوں کو کھُلے دِل سے اعزازات ملِے وہاں جان پر کھیل کر باٹا پور کا دفاع کرنے والی 3 بلوچ کو گنتی کے تغمے عنایت ہوئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کرنل تجمل نے ایک کڑی جانچ پڑتال کے بعد چند ایک سائٹیشن ہی بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو بھجوائیں۔ خود ان کا اپنا کہنا یہ تھا کہ مومن اعزازات کے حصول کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے لڑتا ہے اور اسے تغموں کی کوئی حاجت نہیں۔ 1971 میں مشرقی پاکستان میں ھلّی کے بریگیڈ کی کمان سنبھالنے کے بعد بھی بریگیڈیئر تجمل کی سوچ میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ جنگ زوروں پر تھی اور ابھی تک انہوں نے مشرقی محاذ پر بہادری کے اعزاز کے لیے کسی کو بھی نامزد نہیں کیا تھا۔
4 ایف ایف میں محاذ کی صورتحال پر بریفنگ لینے آئے بریگیڈیئر تجمل کو حالات سے باخبر کرنےکے بعد یونٹ کے قائم مقام کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل ممتاز ملک (یونٹ کے سی او لیفٹیننٹ کرنل اخلاق عباسی زخمی ہوجانے کے باعث بوگرہ کے اسپتال میں زیرِ علاج تھے) نے میجر اکرم شہید کے لیے بہادری کے اعزاز کی سفارش آگے کی۔ تُن پور باونجہ نے اپنے اس سپوت کو بہادری کے دوسرے بڑے اعزاز ہلالِ جرأت کے لیے نامزد کیا تھا۔ بریگیڈیئر تجمل بتاتے ہیں کہ محاذ کی صورتحال کے دوران بیان کیے گئے 4 ایف ایف کے دلیرانہ کارناموں کی تفصیل نے ان پر ایک کیفیت طاری کردی اور بے اختیار ہوکر انہوں نے میجر اکرم شہید کی سائٹیشن کو ایک درجے اوپر بہادری کے سب سے بڑے اعزاز نشانِ حیدر کے لیے نامزد کردیا۔

صاحبو اللہ تعالیٰ نے1971 کی جنگ کے مشرقی محاذ پر واحد نشانِ حیدر ہونے کا اعزاز میجر اکرم شہید کی قسمت میں لکھا۔ ہمارا جری افسر ہر اعتبار سے اس اعزاز کا حقدار تھا۔

ہلال کے دسمبر 1971 کے آخری ہفتے کے شمارے میں چھپی رپورٹ کا عکس

نشانِ حیدر کا فرمان

PA-6831 میجر محمد اکرم 5 دسمبر کو 4 ایف ایف آر کی چارلی کمپنی کمانڈ کررہےتھے جو ھلّی کی پوزیشن کا دفاع کررہی تھی۔ اس جگہ کو ہندوستان کی جارحانہ منصوبہ بندی میں ایک کلیدی مقام حاصل تھا۔ اس پر قبضہ کرکے دشمن مشرقی پاکستان میں آگے بڑھنا چاہتا تھا۔ ھلّی کے عین سامنے بالر گیٹ میں متعین دشمن کے بیسویں پہاڑی ڈویژن کا پورا دباؤ اس پوزیشن پر تھا جو روزانہ برابر دباؤ بڑھاتا جارہا تھا۔ دشمن نے بکتر بند دستوں اور توپخانے کی مدد سے اس پوزیشن پر پے در پے حملے کیے۔ اس کے علاوہ دشمن نے تمام دن اس پوزیشن کو شدید حملوں کا نشانہ بھی بنائے رکھا۔ میجر محمد اکرم کے زیرِ کمان دستوں نے بڑی جرأت سے دشمن کے موج در موج حملوں کو پسپا کیا۔ اپنی پوزیشن پر مضبوطی سے جمے رہنے کے لیے میجر محمد اکرم نے نہ صرف مثالی قائدانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا بلکہ انتہائی ناسازگار حالات میں دشمن کے شدید حملے کی زد میں ہوتے ہوئے انہوں نے اپنے ہتھیاروں کو بے مثال جرأت سے کام لیتے ہوئے انتہائی مؤثر طریقے سے استعمال کیا۔ آخر کار وہ دشمن کے ایک ٹینک کا راکٹ لانچر سے مقابلہ کرتے ہوئے ٹینک کی گولی سے شہید ہوگئے۔ ان کو بعد از شہادت نشانِ حیدر کا اعزاز دیا گیا۔

فروری 1977 ۔ ایوانِ صدر میں منعقدہ تقریب میں میجر محمد اکرم شہید کی والدہ صدرِ پاکستان فضل الٰہی چوہدری سے اپنے شہید بیٹے کا نشانِ حیدر وصول کررہی ہیں
بریگیڈیئر ممتاز ملک جنہوں نے ھلّی کے محاذ پر میجر محمد اکرم شہید (اندرونی تصویر) کی ہلالِ جرأت کی سائٹیشن میجر جنرل تجمل حسین ملک کو پیش کی تھی ۔ تصویر: ہلال

یہاں سے ہم واپس بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) آصف ہارون راجہ کی معرکۂ ھلّی کی یادداشتوں کی طرف پلٹتے ہیں۔ اسوقت کے میجر آصف ہارون تلسی مائنر کے مقام پر 4 ایف ایف کی الفا کمپنی کمان کررہے تھے۔ جنگ کے دوران یہ کمپنی بدوریا کے مقام پر دفاع میں تھی جب پانچ دسمبر کو میجر اکرم کی شہادت کے بعد چارلی کمپنی کی جگہ سنبھالنے کا حکم مِلا۔ ہم اوپر میجر صاحب کے الفاظ میں چارلی کمپنی کے زخمی غازیوں کا احوال بیان کرچکے ہیں۔ پانچ اور چھ دسمبر کی درمیانی رات دشمن کی بڑھتی ہوئی طاقت اور پیش قدمی کے نتیجے میں کمپنی کو پیچھے بولدار کی طرف پس قدمی کے احکام مِلے۔ یہاں میجر آصف ہمیں بتاتے ہیں کہ اس رات ان کی کمپنی کو پلاٹونوں کے ٹکڑوں کی شکل میں دشمن کے فائری چنگل سے نکل کر پیچھے جانا پڑا۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ سامنے کے مورچوں سے لگ بھگ پچاس گز دور میجر اکرم اور سپاہی لعل خان کے جسدِ خاکی ابھی تک پڑے ہوئے تھے، جنہیں لگاتار فائر میں وہاں سے اٹھا کر پیچھے لانا ناممکن تھا۔ میجر صاحب کے بقول دسمبر کی اس رات کی لڑائی میں جسے وہ کوئی کارنامہ سمجھتے ہیں وہ اپنے شہداء کی لاشوں کی مورچوں کے سامنے سے ریکوری اور احترام اور تکریم کے ساتھ انکی بولدار منتقلی تھی۔ اب یہاں مسئلہ یہ ہے کہ اس کارروائی کی تفصیل بریگیڈیئر صاحب اس دلاسے پر گول کر گئے کہ وہ اسے ایک الگ جگہ تفصیل سے بیان کریں گے۔ ہماری معلومات کے مطابق یہ تفصیل بریگیڈیئر راجہ نے ابھی تک کہیں بیان نہیں کی، اور اگر کی بھی ہے تو ہماری نظر سے نہیں گزری۔ صاحبو، شکر خورے کو خدا شکر دے ہی دیتا ہے۔ ہمیں کیا علم تھا کہ قسمت کی خوبی سے اپنے شہر کراچی کی ملیر چھاؤنی میں تعینات 4 ایف ایف بٹالین، تنُ پور باونجہ میں ہماری مطلوبہ تفصیل ہمارا انتظار کررہی تھی۔

سرِ خاکِ شہیدے برگہائے لالہ می پاشم (شہید کے مدفن کی کھوج)

چند سال قبل گھر سے ایک طویل عرصے کی غیرحاضری کے بعد میں ایک مختصر چھٹی پر پاکستان لوٹا تو پہلے ہفتے تو والدین کے قدموں سے لگ کر بیٹھ رہا۔ بچپن کے یار دوستوں کی ٹولی (وہی ’دوستوں کے درمیاں وجہِ دوستی ہے تُو‘ والی) کے ساتھ ایک شام اور چکلالہ کے ہواباز گروپ کے دو ہوابازوں کے ساتھ بیس مسرور پر ایک رات کے علاوہ باقی کا وقت ماں باپ نے نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیا اور ایک غریب الوطن بھی لمبا عرصہ پردیس کاٹنے کے بعد گھر کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ رہنے پر راضی بہ رضا رہا کہ

باپ سِراں دے تاج محمد، ماواں ٹھنڈیاں چھاواں

دوسرے ہفتے اماں کے اصرار پر ان کی اکلوتی بیٹی سے ملنے کراچی سے جنوبی پنجاب کی ڈرائیو کی۔ واپسی کے سفر میں رات گزارنے کو پنوں عاقل چھاؤنی میں ٹھہرے تو ایک عرصے بعد فوجیوں کی میزبانی کا لُطف اٹھایا۔ کھانے کے بعد ایک کپ چائے کی پیالی پر میس حوالدار اور گیسٹ روم سٹاف سے گپ لگی۔ غالباً میس حوالدارچار فرنٹیئر فورس رجمنٹ کا تھا یا پھر کچھ اور وجہ سے جو اب ہمیں یاد نہیں باتوں باتوں میں 4 ایف ایف کا ذکر آیا تو یادوں کے کسی گوشے سے مجھے میجر اکرم شہید جھانکتے نظر آئے۔ میس حوالدار سے کہا کہ ذرا پتہ تو کرے کہ پلٹن کی پوسٹنگ آج کل کہاں ہے، جواب بہت دلربا اور حوصلہ افزا تھا، ملیر کینٹ۔
صاحبو کینیڈا سے وطنِ عزیز کو لوٹتی اس پندرہ روزہ چھُٹی کے دو دن بہت محبوب ہیں۔ ان میں سے ایک تو پاکستان ایئر فورس بیس مسرور پر ہوئی ملاقات کے طفیل راشد منہاس کی جائے شہادت کی کھوج میں نکلنے اور بالآخر مقامِ شہادت کو پا لینے کا تھا۔ دوسرا پنوں عاقل چھاؤنی سے کراچی کو پلٹتی ایک رات کے صدقے ہاتھ آئے سِرے کی ڈور کو تھامے ملیر کینٹ میں گزری ایک روشن دوپہر۔

پنوں عاقل چھاؤنی کے مہران لاجز میں گزاری اکتوبر کی ایک رات، جہاں سے چار ایف ایف کے ملیر کینٹ میں ہونے کی خبر ملی
نشانِ حیدر بٹالین ۔ ملیر چھاؤنی میں 4 فرنٹیئر فورس رجمنٹ

4 ایف ایف میں ایک خوشگوار حیرت ہماری منتظر تھی کہ کمانڈنٹ آفس میں ہمارا سواگت کرنے والے سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈو لیفٹیننٹ کرنل افضال تھے۔ ان سے ہماری یاداللہ تب سے تھی جب ہم دونوں پاکستان ملٹری اکیڈیمی میں پلاٹون کمانڈر تھے۔ کرنل صاحب کی مہمان نوازی سے اُدھر تُن پور باونجہ میں ہماری آؤ بھگت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہم پلٹن کے حیدری شہید کی بابت مزید معلومات کھوجنے ان کے ہاں آئے تھے۔ کمانڈنٹ آفس میں لگی اس آئل پینٹنگ پر میجر اکرم شہید کی شہادت کے وقت اور ساتھ سپاہی لعل خان کو یاد کیا تو سی او صاحب کے فرمان پر پلٹن کے صوبیدار میجر نے ہماری رسائی شہید افسر پر دستیاب مواد تک کروا دی۔ وہاں کچھ تصاویر کھنگالتے اور صفحے پلٹتے ہماری نظر نائیک یار دل کے انٹرویو پر پڑی۔ پانچ سے چھ دسبمر کی رات جب میجر آصف ہارون راجہ پس قدمی میں مصروف تھے تو مورچوں کے سامنے سے میجر اکرم اور سپاہی لعل خان کے جسدِ خاکی اُٹھانے کے لیے انہوں نے نائیک (بعد ازاں لانس حوالدار) امیر نواز اور سپاہی (بعد ازاں نائیک) یار دِل کو آگے جانے کا کہا تھا۔ چاندنی رات اور اندھا دھند فائر کے بیچوں بیچ شیر کے جگر والے یہ دونوں جوان جان پر کھیل کر اپنے شہداء کی لاشیں لے کر آئے تھے کہ انہیں پیچھے چھوڑ کر جانے میں پلٹن کی عزت پر حرف آتا تھا۔
ایک سرد رات کی یخ بستگی میں امیر نواز اور یار دِل ایک نالے کی آڑ لینے کی ناکام کوشش کرتے اپنی رائفلیں سامنے تانے پیٹ کے بل رینگتے میجر اکرم شہید کے جسدِ خاکی تک پہنچے اور پھر ایک دلیری سے سپاہی یار دِل اُٹھ کھڑا ہوا اور میجر اکرم شہید کے جسدِ خاکی کو اپنی پیٹھ پر لاد لیا۔ میجر صاحب صبح نو دس بجے کے درمیان شہید ہوئے تھے۔ اتنا وقت گزرجانے اور سردی کے باعث جسم اکڑ گیا تھا اور بھاری بھی ہوگیاتھا، مگر یار دِل کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ میجر اکرم کو پیچھے لانے کے بعد دوبارہ اسی آتشِ نمرود میں بے خطر کود کر یہ دونوں جوان سپاہی لعل خان کی لاش بھی پیچھے لے کر آگئے تھے۔ نائیک یار دِل کا انٹرویو ہمیں اس ایکشن کی تفصیلی خبر دیتا ہے۔ یہ انٹرویو پروفیسر سعید راشد علیگ نے کیے تھے اور انہوں نے میجر محمد اکرم شہید پر اپنی کتاب میں بھی شامل کیے ہیں۔

نائیک یار دِل کا انٹرویو

سوال ۔ یار دل! آپ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ شدید خطرات کے باوجود محمد اکرم شہید نشانِ حیدر کی لاش میدانِ جنگ سے پیٹھ پر اُٹھا کر لائے تھے۔ اس سے پہلے کہ ہم آپ سے اس کی تفصیلات پوچھیں یہ بتائیے کہ آپ 5 دسمبر 71ء کی صبح کو جب محمد اکرم شہید ہوئے کہاں تھے؟ اور کیا کررہے تھے؟
جواب ۔ میں اس وقت سپاہی تھا اور میجر محمد اکرم صاحب کی سی کمپنی کی ایک ٹینک شکن 106 آر آر گن کا کمانڈر تھا اور میری گن اسی پلاٹون کے دفاع میں تھی جہاں میجر صاحب کا ٹیک ہیڈ کوارٹر تھا۔ اسی پلاٹون کے اگلے مورچوں کے سامنے وہ شہید ہوئے۔
سوال ۔ شہادت کا وقت کیا تھا؟
جواب ۔ صبح نو دس بجے کا وقت تھا۔
سوال ۔ پھر کیا ہوا؟
جواب ۔ میجر محمد اکرم کی شہادت کے بعد ان کے کمپنی افسر لیفٹیننٹ (انٹرویو کے وقت میجر) ترمذی نے کمان سنبھالی۔ گھنٹے آدھ گھنٹے کے بعد وہ اور ان کے جے سی او صوبیدار محمد دین بھی زخمی ہوگئے اور انہیں بھی پیچھے بھیج دیا گیا۔ تو ان کی جگہ ہماری سی کمپنی کے کمانڈر میجر (انٹرویو کے وقت لیفٹیننٹ کرنل بعد ازاں بریگیڈیئر ریٹائرڈ) آصف ہارون مقرر کیے گئے۔ وہ اس وقت دفاع کی گہرائی میں لگی الفا کمپنی کو کمان کررہے تھے۔ آصف ہارون صاحب تقریباً چار بجے شام ہماری پوزیشن پر آئے۔ اس وقت میں اسی پلاٹون کے ہیڈ کوارٹر میں تھا جس کے آگے محمد اکرم شہید ہوئے تھے۔ صبح سے اب تک یہ سارا علاقہ دشمن کے شدید حملے کی زد میں تھا۔ سر اٹھانا مشکل تھا۔ ہم سب چاہتے تھے کہ ہم اپنے عظیم کمپنی کمانڈر کی لاش تو کسی نہ کسی طرح دشمن کے چنگل سے نکال کے لائیں۔ محمد اکرم صاحب اتنے بڑے اور اتنے محبوب کمانڈر تھے کہ ان کے لیے کمپنی کا ہر ایک سپاہی جان پر کھیلنے کو تیار تھا۔ رات تقریباً سات بجے کے قریب آصف ہارون صاحب نے مجھے اور امیر نواز کو حکم دیا کہ تم لوگ جاؤ اور میجر محمد اکرم شہید کی لاش کو اٹھا لاؤ۔ گو رات کا وقت تھا پھر بھی ہم بہت آہستہ آہستہ اور بہت احتیاط سے آگے بڑھے۔ دشمن بہت قریب تھا اور ذرا سی بے احتیاطی سے ہمارا کام بگڑ سکتا تھا۔ بہرحال ہم خاموشی سے اس جگہ تک پہنچ گئے جہاں شہید کی لاش پڑی تھی۔
سوال ۔ لاش اگلے مورچے سے کتنے فاصلے پر تھی؟
جواب ۔ کوئی سو قدم۔
سوال ۔ لاش کس حالت میں تھی؟
جواب ۔ میجر صاحب کی لوہے کی ٹوپی پرے پڑی تھی سر ننگا تھا۔ قریب ہی لانچر پڑا تھا۔ ان کے ہاتھ دائیں بائیں پھیلے ہوئے تھے۔ سر کا رُخ دشمن کی طرف تھا۔ ہاتھ گھنٹوں ٹھنڈ میں پھیلے پھیلے ذرا سخت ہوگئے تھے۔ یہ بہت عجیب لمحہ تھا۔ اپنے شیر دل مجاہد کو یوں پڑے دیکھ کر میرے دل کی عجیب حالت ہوئی۔ بہرحال یہ وقت سوچنے یا رونے کا نہیں تھا۔ ہم دونوں آگے بڑھے، نائیک (بعد ازاں لانس حوالدار) امیر نواز نے میری مدد کی اور میں نے لاش کو پیٹھ پر اُٹھا لیا۔ ان کی سٹین گن اور ٹوپی امیر نواز نے اٹھا لی۔ میں نے اپنی سٹین بھی اسی کے حوالے کی۔ جس طرح ہم گئے تھے اسی طرح آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے ہم اس جگہ پہنچ گئے جہاں میجر آصف ہارون بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے میجر محمد اکرم صاحب کی لاش کو اتار کر وہیں رکھا اور پھر واپس چلے۔
سوال ۔ کیوں؟
جواب ۔ کیونکہ جب ہم وہاں پہنچے تھے تو میجر محمد اکرم صاحب کے قریب ہی سپاہی لعل خان کی لاش پڑی تھی وہ بھی ان کے ساتھ ہی شہید ہوا تھا۔ اس کی لاش کو واپس لانا بھی ہمارا فرض تھا۔ اس بار امیر نواز نے لاش کو کندھے پر اٹھایا اور میں نے اسے کندھوں پر اٹھانے میں مدد دی اور اس کی سٹین میں نے پکڑ لی اس طرح ہم نے لعل خان شہید کی لاش کو بھی وہاں لا کر رکھ دیا جس جگہ میجر صاحب کی لاش رکھی تھی۔
نائیک یار دل کا یہ انٹرویو پروفیسر سعید راشد علیگ کی میجر محمد اکرم شہید، نشانِ حیدر پر مرتب کی گئی کتاب سے لیا گیا ہے۔

اگلے مورچوں سے جسدِ خاکی کی ڈنگہ پارہ منتقلی نائیک ایوب کی زیرِ نگرانی ہوئی تھی اور اس طویل اور صبر آزما سفر میں اسٹریچر پارٹی کی مدد کے لیے تین مقامی لوگ بھی رضاکارانہ طور پر ساتھ ہوگئے تھے۔ یہ پارٹی دونوں شہداء کو اٹھائے ڈنگہ پارہ سے چنگ گرام اور پھر بٹالین ہیڈکوارٹر جو کہ بولدار گاؤں میں تھا پہنچی تو صبح ہورہی تھی۔ یہاں ہمیں یہ خبر ملتی ہے کہ بولدار سے میجر اکرم اور سپاہی لعل خان دونوں کے جسدِ خاکی تدفین کے لیے بوگرہ روانہ کردیئے گئے تھے۔

بوگرہ میں بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تھا۔ ڈھاکہ روڈ پر بوگرہ فائر بریگیڈ اسٹیشن کے مقابل ایک قبرستان تھا جسمیں ایک قطعۂ اراضی شہیدوں کے لیے مخصوص کردیا گیا تھا۔ پاک بھارت باقاعدہ جنگ کے آغاز سے بہت پہلے ہی سرحدی جھڑپیں اور مکتی باہنی سے مڈبھیڑ ہوتی رہتی تھی اور ہمارے سپاہی شہید اور زخمی ہوتے رہتے تھے۔ قبرستان کے ساتھ ہی ایک عمارت میں مین ڈریسنگ سٹیشن قائم کیا گیا تھا جہاں محاذ سے پیچھے بھیجے گئے زخمی زیرِ علاج تھے۔

بوگرہ میں ہمارے دونوں شہداء میجر محمد اکرم اور سپاہی لعل خان کی تدفین کی کارروائی آرمی ایجوکیشن کور کے صوبیدار محمد اعظم اور میجر اکرم کی یونٹ کے ہیڈ کلرک صوبیدار محمد صدیق کی زیرِ نگرانی انجام پائی۔ چھ دسمبر کی سہ پہر میجر اکرم شہید کا تابوت بوگرہ پہنچا۔ ریلوے سلیپروں کو جوڑ کر یہ تابوت بٹالین ہیڈکوارٹر بولدار میں بنایا گیا تھا۔ شہید کی نمازِ جنازہ یونٹ کے خطیب نے پڑھائی اور اس کے بعد بوگرہ شہر کے فائر بریگیڈ سٹیشن کے سامنے والے قبرستان میں میجر اکرم کے تابوت کو تازہ کھُدی قبر کے حوالے کرکے اوپر بانس کے ڈنڈے جوڑ کر چکنی مٹی سے لیپ کردیا گیا۔ بوگرہ کے قبرستان میں تدفین کی تفصیل ہمیں ایجوکیشن جے سی او صوبیدار محمد اعظم کی زبانی پتہ چلتی ہے۔

چھ دسمبر کی دوپہر دو ڈھائی بجے ہمیں اطلاع ملی کہ میجر محمد اکرم اور ایک سپاہی کو تدفین کے لیے لایا جارہا ہے۔ میں عباسی صاحب (چار ایف ایف کے سی او لیفٹینٹ کرنل عباسی جو زخمی ہونے کے سبب بوگرہ میں زیرِ علاج تھے) کے پاس گیا اور انہیں فون کی اطلا ع دی جس پر انہوں نے کہا کہ دفن کا انتظام کریں۔ ایک دن پہلے میں نے 4 ایف ایف کے ایک اور انتہائی دلیر سردار صوبیدار گل محمد شہید تمغۂ جرأت کی تدفین کا انتظام بھی کیا تھا۔ بوگرہ کا قبرستان ذرا پست جگہ تھا جہاں سیلابی پانی آجاتا تھا۔ میجر اکرم کی شخصیت کے پیشِ نظر ہم نے قبرستان میں ایک اونچی ٹیکری منتخب کی تاکہ قبر سیلاب کی زد سے محفوظ رہے۔ قبر کھودنے کے لیے ہم نے چار بہاریوں کی خدمات حاصل کیں جو فاقہ زدہ اور پریشان حال وہاں گھوم رہے تھے۔ کوئی چار بجے نائیک حق نواز ٹرک میں میجر محمد اکرم کا تابوت لے کر پہنچ گئے۔ قبریں تیار ہوچکی تھیں۔ میں دفن کی اطلاع دینے کے لیے کرنل عباسی کے پاس گیا۔ ان کو تکلیف تھی، سیڑھیاں اتر کر آنا ان کے لیے مشکل تھا۔ ان کی اجازت سے میں نے تدفین شروع کی۔ تدفین کے انتظام و اہتمام میں میرے ساتھ 4 ایف ایف آر کے حوالدار کلرک محمد صدیق بھی شریک تھے۔ ہم دونوں کی بڑی خواہش تھی کہ میجر محمد اکرم شہید کا منہ دیکھیں۔ چنانچہ ہم نے تابوت کا ایک تختہ کھلوایا۔ چہرہ اور سینہ بالکل سلامت تھا۔ صرف بائیں آنکھ میں گولی کا ایک زخم تھا۔ گولی دماغ کو چیر کے نکل گئی تھی۔ بائیں طرف گردن اور کندھے پر خون جما ہوا تھا۔ ہم نے شہید کے چہرے کو قبلہ رو کیا اور تابوت بند کرکے قبر میں اتار دیا۔ تابوت پر ٹین کی دو چادریں ڈالیں۔ چادروں پر پیڑوں کی ٹہنیاں پھیلائیں اور پھر اوپر سے مٹی ڈال دی۔ جب ہم نے فاتحہ کے لیے ہاتھ اٹھائے تو سورج غروب ہورہا تھا۔ ہر طرف سناٹا تھا اور ہوُ کا عالم۔ میرے دل نے کہا اے ارضِ وطن تو سلامت رہے ہم نے کیسے کیسے چاند سورج تیرے اوپر نچھاور کیے ہیں۔
میجر اکرم کی تدفین کے بارے میں صوبیدار محمد اعظم علوی کی یہ تحریر پروفیسر سعید راشد علیگ نے میجر محمد اکرم شہید، نشانِ حیدر پر اپنی کتاب میں شامل کی ہے۔

بوگرہ کے فائر بریگیڈ سٹیشن کے بالمقابل بھائی پگلا مزار کا قبرستان ۔ تصویر : گوگل فوٹوز
بوگرہ کے فائر بریگیڈ سٹیشن کے بالمقابل بھائی پگلا مزار کا قبرستان ۔ تصویر : گوگل فوٹوز

صاحبو آج کے بوگرہ شہر کے مرکز سے جنوب کی سمت شیر پور روڈ چلتی ہے جس پر لگ بھگ ڈیڑھ میل کے بعد فائر سروس اینڈ سوِل ڈیفنس (شہری دفاع) سٹیشن ہے۔ سٹیشن کے عین مقابل روڈ کے پار دکھِن بوگرہ گورستان (بوگرہ کا جنوبی قبرستان) ہے جو بھائی پگلا مزار کے قبرستان کے نام سے مشہور ہے۔ گھنے درختوں کی چھاؤں سے ڈھکے اس قطعۂ زمین میں آراستہ روشیں ہیں جن کے اطراف بانسوں سے کی گئی حد بندی میں گھری انفرادی قبریں ہیں۔ یہیں چار فرنٹیئر فورس کے شیر دل صوبیدار گل محمد شہید، تمغۂ جرات اور سپاہی لعل خان کی قبریں ہیں۔ ان کے ساتھ بوگرہ سے آگے کی سرحدی چوکیوں پر شہید ہوئے مشرقی محاذ کے ہمارے اور سپاہی بھی سپردِ خاک ہیں۔ یہیں گئے دنوں کے شہیدوں کے قطعے میں سیلابی پانی سے حفاظت کی نیت سے صوبیدار محمد اعظم کی منتخب کی گئی بلند ٹیکری پر ایک قبر میں ہمارا پانچواں نشانِ حیدر ابدی نیند سو رہا ہے۔
1971 میں اس قبرستان میں منتخب کیے گئے پاک فوج کے شہیدوں کے قطعے کی کوئی نشانی بچی ہے یا نہیں، یہ ہم نہیں جانتے۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ آج کی تاریخ میں اس گورستان میں میجر محمد اکرم شہید، نشانِ حیدر کی قبر کا کوئی کتبہ کوئی نشان دستیاب ہے بھی یا نہیں۔ اب کوئی بوگرہ کے دکھِن کی دشا میں بھائی پگلا قبرستان جائے تو ہمارے دیارِ غیر کے شہید کی کوئی خبر لائے۔

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دُھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

share this article
author bio

Imran Saeed

I am a teller of old tales. History, folklore, military, and more. Mostly covering Pakistan, my homeland, but also the Great White North, where I am currently settled.
5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments