گور پیا کوئی ہور

راولپنڈی سے جی ٹی روڈ پکڑیں توسوہاوہ سے تھوڑا پہلے بائیں ہاتھ کو ایک بغلی روڈ نکلتی ہے، اگر آپ اس راستے کے مسافر ہوں تو ایک بورڈ آپکو بتاتا ہے کہ یہ راستہ سلطان شہاب الدین غوری کے مقبرے کو جاتا ہے۔


صاحبو، گزری شام کا ذکر ہے کہ میاں محمد بخش کا کلام گجرات کےنواح کی سریلی آواز احسان اللہ وڑائچ اور ہمنواؤں کے طفیل کان پڑاتھا

اُٹھ دلا چل ڈھونڈھن چلیے گھر نئیں سجن ملدے
باجھ تکلیفوں مل دے نئیوں جیہڑے نیں محرم دل دے


ہمیں بے اختیاراپنے سجن میجر قیصر محمود یاد آئے۔ میجرصاحب ہیں تو ہم سے ایک کورس سینیئر مگر اپنی یارباش طبیعت کے سبب ہمارے ہم نوا اور نوشہرہ و کھاریاں میں ہمارے ہم پیالہ و ہم نوالہ رہے۔ ان کے ساتھ گزرے وقت کی حسین یادوں کے لیے تو ایک علیحدہ دفتر چاہیے۔ فی الوقت جی ٹی روڈ اور سوہاوہ کی طرف پلٹتے ہیں۔

تو صاحبو، گئے وقتوں کا ذکر ہے ہم اور میجر قیصر دل کے ہاتھوں بے چین ہوکر گھر سے باہر نکل تو آئے تھے مگر ایک تازہ بہ تازہ ریٹائرڈ اور ایک مائل بہ ریٹائرمنٹ میجروں کی پہنچ اور کہاں ہونی تھی۔ راولپنڈی سے نکلےتو سوہاوہ سے کچھ پہلےاس بغلی راستے میں جا اٹکےجو ایک سلطان کے مزار کو جاتا تھا، جس کے نام پر پاک فوج کا ایک میزائل پروگرام ہے، جی ہاں وہی ’لئو جی غوری آیا جے فیر‘۔

سوہاوہ سےنکلتی سنسان سڑک ہمیں دھمیاک کے ویرانے میں لےآتی ہے جہاں ہمارے سلطان کا ایک جدید طرز پر بنا مزار آنے والوں کا استقبال کرتاہے۔ پہلی ہی نظر میں اندازہ ہوجاتا ہے کہ موجودہ مزار حال ہی کی کارستانی ہے۔ مزار کے بیرونی احاطے میں سنگِ مرمر کی سِل پر کندہ ایک تعارفی تحریر ہمیں غور افغانستان کے معز الدّین محمد ابنِ سام المعروف شہاب الدین سے ملاتی ہے۔ جذبات کی رو میں بہتی یہ تحریر ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے سلطان نے پانی پت کے پاس تھانیسر کے میدانِ کارزار میں پرتھوی راج چوہان اور دوسرے راجپوت راجاؤں کی فوج کو 1192 عیسوی میں شکستِ فاش دے دی اور اس عظیم الشان فتح نے مسلمانوں کو ہندوستان کا مالک بنا دیا۔

یہاں ہمارے گرو سلمان رشید ایک توجہ دلاؤ نوٹس پر ہمیں آگاہ کرتے ہیں کہ ہندوستان کے انہی راجپوتوں کے ہاتھوں پہلی لڑائی میں شہاب الدین کی عظیم الشان شکست اور پسپائی کے بارے میں ہمیں کوئی نہیں بتائے گا۔ راجپوت لڑائی بھی اصول پر لڑتے ہیں۔ شہاب الدین کی میدانِ جنگ سے پسپا ہوتی کٹی پھٹی فوج کا پیچھا کرنے پر انہوں نے غورکے سلطان کو ایک آن کے ساتھ میدانِ جنگ سے لوٹ جانے دیا کہ اگلی لڑائی کسی اور دن پہ اٹھا رکھنے کا حیلہ تو ہو۔

سنگِ مرمر کی اسی تحریر سے ہمیں خبر ملتی ہے کہ دھمیاک کے اس مقام پر سلطان شہاب الدین کو اپنے تین محافظوں سمیت ایک سازش کے ذریعے قتل کردیا گیا تھا۔ تھوڑا ہٹ کر ایک طرف کو سائبان تلے ساتھ ساتھ تین قبریں ہمارے محافظوں کی ہیں۔ یہاں سے ہوکر آپ مزار میں داخل ہوں تو لگتا ہے کسی دربار میں آگئے ہیں جہاں عُرس ہوا ہی چاہتا ہے۔ سامنے ایک سبز غلاف سے ڈھکی قبر ہمارے سلطان کی ہے۔ 2014 کی سہ پہر جب ہم اور میجر قیصر نے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے تو ہمارا خیال تھا کہ ہم شہاب الدین غوری کی قبر پر کھڑے ہیں۔


دعا کرتےسمے آپ کنکھیوں سے کتبے کو دیکھتے ہیں تو فارسی میں ایک عبارت آپکو متوجہ کرتی ہے

شہادت ملک بحر و بر معز الدین
کز ابتدائے جہاں شہ چو اونیا مدیک
سیوم ز غرہ شعبان بہ سال شش صد و دو
فتاد ور رہ غزنین بہ منزل دمیک

خلاصہ اس بیان کا یہ ہے کہ ہمارے سلطانِ عالی شان سنہ 602 ہجری میں شعبان کی تیسری تاریخ کو غزنی جاتے ہوئے دھمیاک کے مقام پر سورگباشی ہوئے۔ مزے کی بات یہ کہ یہ سطریں طبقاتِ ناصری سے حرف بہ حرف عبارت ہیں۔

سوہاوہ سے دھمیاک کو جاتی سنسان سڑک
دھمیاک میں مزار
مقبرے سے ایک طرف کو ہٹ کر تین قبریں سلطان کے ساتھ قتل ہوئے محافظوں کی ہیں
مزار کے اندر قبر جو سلطان شہاب الدین غوری سے منسوب ہے
کتبے پر کندہ فارسی زبان میں رباعی
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تصویر اور غوری میزائل

منہاج سراج جوزجانی کی تیرھویں صدی کی تالیف کردہ طبقاتِ ناصری افغانستان کے غوری حکرانوں سے متعلق ایک قابلِ اعتبار دستاویز ہے۔ طبقات ہمیں بتاتی ہے کہ سلطان معز الدین محمد ابن سام جسے ہم شہاب الدین غوری کے نام سے جانتے ہیں نے شمالی ہندوستان پر اپنے قدم جما لیے تھے۔ 1186 عیسوی میں لاہور پر قابض ہونے والے معزالدین نے ہندوستانی راجپوتوں کی فوج کے ساتھ پہلی لڑائی میں منہ کی کھائی۔ یہ سپاہ 1192 میں جب پلٹ کر حملہ آور ہوئی تو پرتھوی راج چوہان سمیت راجپوت لشکر کو دھول چٹا ہندوستان کی دہلیز پار کرگئی۔

جوزجانی ہمیں بتاتا ہے کہ 602 ہجری میں سلطان جب افغانستان کو پلٹتا غزنی کا مسافر تھا تو یہاں دھمیاک کے عارضی پڑاؤ میں ملحدین کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ یہ ملحدین اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھنے والے مسلمان تھے جنہیں دوسرے فرقوں کے مسلمان مرتد گردانتے تھے۔ اب یہاں جامع التواریخ کہتی ہے کہ شہاب الدین کے قتل کی سازش خوارزم کے سلطان نے فخرالدین رازی کے ساتھ مل کر تیارکی۔ کچھ اور لوگوں کا خیال ہے کہ پوٹھوہار کے گکھڑوں نے موقع ملنے پر سلطان سے ایک پرانا حساب بے باق کرلیا۔

سلطان کے قاتل کون تھے یہ بحث ہماری آج کی کہانی کا موضوع نہیں ہے۔ ہمارے مطلب کی چیز اگلے کچھ صفحوں کی دوری پر طبقاتِ ناصری میں ہمیں ملتی ہے۔ طبقات ہمیں بتاتی ہے کہ سلطان کی میت، شاہی خزانےکے صندوقوں کے ساتھ دھمیاک سے غزنی روانہ کردی گئی تھی۔ شہاب الدین کے جسم کے چاک سی دئیے گئے اور اس کی لاش کو کپڑے سے ڈھانپ کر اُٹھایا اور لے جایا گیا اور یہ افواہ اڑادی گئی کہ سلطان دورانِ سفر بیمار پڑگیا ہے۔ غزنی پہنچنے تک سلطان کا قتل راز ہی رہا۔

ہمارے داستان گو سلمان رشید اپنے منفرد رسیلےانداز میں بتاتے ہیں کہ پارہ چنار سے پیواڑ کوتل تک ایک پہاڑی درہ پاکستان سے افغانستان کو نکلتا ہے۔ اسی درے پر شلوزان کے راستے شہاب الدین کی میت اپنے لشکر کے ساتھ افغانستان کے سرحدی صوبے پکتیا سے ہوتی غزنی کے راستے پر رواں دواں تھی۔ سلطان کے قابلِ بھروسہ جرنیل تاج الدین یلدوز نے شہاب الدین غوری کی تدفین غزنی میں سلطان کی بیٹی کی قبر کے پہلو میں کروائی۔

صاحبو، اگر ہمارے سلطان کا مدفن غزنی میں ہے تو دھمیاک میں کھڑے ایک تازہ مزار میں وہ قبر کس کی ہے؟

منہاج سراج جوزجانی کی طبقاتِ ناصری کے صفحوں کا عکس

گئے وقتوں کی اس سہ پہر ہم اور میجر قیصر نے جس کے سرہانے کھڑے ہوکر فاتحہ کو ہاتھ اُٹھائےتھے اسی قبرکے کتبے کی دوسری طرف ایک جنرل صاحب کا نام بھی کندہ ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ دھمیاک کے ایک ٹیلے پر کھڑی ان قدیمی قبروں پر جنرل صاحب کے دماغ کی اختراع یہ کہانی ایک نئے سرے سےکہی گئی۔ دھمیاک کا مزار اللہ بخشے ہمارے افسانوی شہرت رکھنے والے نیوکلیئر سائنسدان کی زیرِ سرپرستی تعمیر ہوا۔ مزار کے ساتھ ہی ایک چبوترے پر فوجی کیموفلاژ میں رنگی ہمارے غوری میزائل کی نقل بمطابق اصل اپنی بہار دکھا رہی ہے۔

جس ترک جنرل کے نام پر ہم اپنے فوجی اسلحے کو معنون کرتے ہیں وہ اس دھرتی پر افغانستان سے وارد ہوا تھا اور اس کی لاش بھی ہمارے مغربی ہمسائے کے شہر غزنی کو ہی لوٹا دی گئی تھی۔ جس عالیشان مقبرے پر ہمارا غوری میزائل دست بستہ حاضر ہے ہمارے سلطان کا جسدِ خاکی یکسر غائب۔

اس سبز غلاف میں لپٹی لحدمیں کیا ہے، ایک پادشاہی جسم کی انتڑیاں اورآلائشیں یا پھر دھمیاک میں ایک دھوکہ! یقین سے کچھ نہیں کہاجاسکتا۔ مگر وہ ہرگز نہیں ہے جس کا دعویٰ کتبے کے ایک طرف کندہ میجر جنرل شیر علی ہلالِ جرات کی اپنی کہی ہوئی غزل کا مقطع کرتا ہے
’وہ غازی‘ دفن ہےاسی مٹی کےڈھیر میں


بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں
گور پیا کوئی ہور

سلطان شہاب الدین غوری کی مزار بننے سے پہلے کی قبر۔ تصویر بشکریہ عقیل احمد ہاشمی
share this article

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *