چنار روڈ، فردوس مارکیٹ اور چاکلیٹ کریم سولجر

اگرآپ ایبٹ آباد کے جناح آباد میں ہیں اور COMSATS یونیورسٹی کے چنار روڈ پر چہل قدمی کر رہے ہیں جبکہ خزاں اور یونیورسٹی دونوں کے رنگ اپنے جوبن پر ہوں تو آج کی اس سڑک پر جہاں تتلیاں اترتی ہیں اور آتے جاتے پھولوں کو چھیڑ کر گزرتی ہیں، گئے دنوں کی تھرڈ پاکستان بٹالین کے اس روڈ کو قیاس کرنا ناممکنات میں سے ہوگا جو گئے برسوں میں HSs یعنی ہالز آف سٹڈیز کی بھوت بنگلہ نما بارکوں کے قلب سے گزرتی تھی۔ یہیں ایک بارک میں ہمارے اکیڈیمک پلاٹون کمانڈر کیپٹن اختر خلیلی ہمیں انگریزی پڑھانے پر مامور تھے۔ ہم واپس ان ہالز آف سٹڈیز کو پلٹتے ہیں ذرا ایک اچٹتی سی نظر کاکول کے موسم پر ڈال لیں۔

Chinar Road – COMSATS Tobe Camp Abbottabad

پی ایم اےکا سکھلایااوّلین سبق یہ تھاکہ دوچیزوں کاکوئی اعتبار نہیں، زندگی اورموسم۔ وقت آن پڑےتو


گر بازی ’جان‘ کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا


رہ گئی بات سبق کے ثانی الذکر جزو کی تو ایک مقولہ ضرب المثل کی طرح رائج تھا۔ اور وہ یہ کہ پی ایم اےکا کیڈٹ ایکسر سائز پر جانے کے لیے جیسے ہی FSMO پہنتا ہے اللہ عزوجل کے بارش پر مامور فرشتے اوورٹائم کے لیے تیار ہو جاتےہیں۔ اب اگرآپ ایف ایس ایم اوکے بارے میں پوچھیں تو ہم کہیں گےکہ یہ مخفف ہے فیلڈ سروس مارچنگ آرڈر کا۔ آسان الفاظ میں سمجھائیں تو یہ ملٹری ایکسر سائز پر جانے والے کیڈٹ کی کل کائنات ہے۔ چھبیس آرٹیکل بشمول ہاؤس وائف، دوکمبلوں اور اضافی ڈانگری کےگناہوں سے بوجھل بگ پیک، فوجی بوٹ، کندھے پر رائفل (اللہ کے برگزیدہ بندوں کے حصے میں ایل ایم جی یعنی لائٹ مشین گن آتی تھی) اور سرپرہیلمٹ۔ اس انتظام وانصرام کے بعد جو بھی شغل اختیارکیا جائے انجام کار دماغ کا دم پخت ہی بنے گا۔ اب آپ اس پر بارش کا تصور کر لیجئیے۔
FSMO یعنی گناہوں کا مرقع اپنی پیٹھ پر لادے کیڈٹس جب اکیڈیمی کا سائبان چھوڑ کھلے آسمان تلے زندگی کرنے نکلتے تو خدا کی خُشک زمین ان پر تنگ ہوجاتی۔ لوگ چاہے کچھ بھی کہیں ہم اعداد و شمار سے ثابت کرسکتے ہیں کہ پورے ایبٹ آباد کے مقابلے میں کاکول میں سارا سال فی مربع گز بارش اورسردیوں میں فی سیکنڈ کپکپاہٹ کا تعدد زیادہ بلکہ کہیں زیادہ تھا۔ جہاں اہالیانِ ایبٹ آبادمحض بتیسی بجانےپر اکتفا کرتے وہاں کاکول والوں کے سر اورٹانگیں بجا کرتیں۔ اور اگر آپ قسمت کے دھنی ہونے کے سبب ٹوبے کیمپ میں پناہ گزین تھرڈ پاک بٹالین المعروف جراسک پارک کے مکین تھے توآپ اکیڈیمی کی برگزیدہ روحوں میں شامل تھے۔

3rd Pakistan Battalion a.k.a Jurassic Park – Tobe Camp Abbottabad

ہمارے پڑھنے والوں میں سے جنہوں نےاگوکی کی دوسری داستان پڑھ رکھی ہے انہیں جراسک پارک کا خوب تعارف ہوگا۔ فی الوقت اتنا اشارہ کافی ہے کہ ہیڑ اور گیزر کی عیاشیوں سے پرے کمرے کے ماحول اور غسل خانے کے پانی ہر دو کو گرم کرنے کے لیے جو جناتی آلہ مستعمل تھا اسے یارانِ خوش خصال کوئٹہ سٹوو کہا کرتے تھے۔ ان بددعائے چولہوں میں کوئلوں اور گارے کے ملغوبے سے بنے ٹینس کی گیند سے بڑے اور فٹ بال سے چھوٹے پتھر نما آتش گیر گولے جھونکے جاتے تھے۔ جنگِ عظیم اول سے قبل کی پیدائش والے ان چولہوں کی دھونکنیوں سے کبھی آگ کی لپٹیں نکلتی ہوں گی اب یہ کھانستے بزرگ صرف دھواں خارج کرتے تھے۔ کوئٹہ سٹوو کے ان گولوں کو اُپلوں کی مانند بیلتے بناتے تھرڈ پاک کے بیئرز کے ہاتھ اور ان کے دھوئیں میں سانس لینے والے کیڈٹس کے پھیپھڑے سارا سیال کالے رہتے


کالا شاہ کالا، میرا کالا اے دلدار . . .


تو صاحبو وہی ٹوبے کیمپ ہے مگر موسم فرق ہے۔ تھرڈ پاکستان بٹالین کے درختوں کی مردہ شاخوں پرسبز ڈنٹھل پھوٹ رہے تھے اور سارے میں سرمئی جاڑے کو وداع کرتے گلابی بہارکے پیاموں کی بھینی مہک تھی۔ تھرڈ پاک میں بہار آنے کو تھی اور اپنے دلوں کے نہاں خانوں میں عدم سے لوٹ آنے والے کسی نازنین کے ہونٹوں پر مرمٹے خواب اورکسی دلربا کی یادوں سے مشکبو گلابوں کی امید سجائے کیڈٹس بہت پرامید نہیں تھے کہ جاڑا ہو یا گرمی اکیڈیمی میں اپنے فیض والا موسم ہی رہتا ہے


ابل پڑے ہیں عذاب سارے
غبارِ خاطر کے باب سارے
نئے سرے سے حساب سارے


اندر کی بات بتائیں تو فیض نے ٹینا ثانی کو بخشی اپنی نظم کاکول میں بیٹھ کے لکھی تھی۔

صاحبوآج کی COMSATS یونیورسٹی کے چنار روڈ کو پلٹتے ہیں جو گئے وقتوں میں تھرڈ پاک کی ایک ٹوٹی پھوٹی ذیلی سڑک تھی جو خود سے بھی شکستہ بارکوں میں قائم ہالز آف سٹڈیز سے گزرتی بٹالین روڈ کو جا ملتی تھی۔ وہیں ایک بارک میں ، کوئٹہ سٹوو کی آلودہ گرمائش کی جگہ ایک نم ٹھنڈک سے دھندلاتی کھڑکیوں سے چھن چھن کرآتی سورج کی روپہلی کرنوں نے لے لی تھی۔ اندر بیٹھے عبیدہ چھیانوے کے کیڈٹ کیپٹن خلیلی کے بے نیازانہ طنطنے کے زیر دام انگریزی سے نبرد آزما تھے۔کیپٹن اختر خلیلی انگریزی کےاستاد ہونے کے ناطے ہمارے اکیڈیمک پلاٹون کمانڈر بھی تھے اور یہ عہدہ جتانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ ایجوکیشن کور کے تھے مگر لگتے نہیں تھے۔ آرٹلری کے لگتے تھے۔ فوج میں رائج انگریزی محاورے کے مطابق پکے K L M (معاف کیجیے گا اس کا مطلب ہم نہیں بتائیں گے۔ ہم خود توپخانے سے ہیں۔ آپ اپنے کسی واقف کار آرٹلری افسر سے پوچھ لیجیے اور اگر کوئی واقف کار توپخانے میں نہیں ہے تو اور بھی اچھا ہے)۔

انگریزی کا سبق تھا اور جارج برنارڈشا کا کلاسیک کھیل ’آرمزاینڈ دا مین‘ چل رہا تھا۔ چل رہا تھا ہم نے اس لیے لکھا کہ کیپٹن خلیلی کے زیرانتظام باقاعدہ نامزد کیڈٹ اپنے اپنے ڈائیلاگ ادا کرتے تھے۔ صاحبو بھلے دن تھے، کیپٹن بلنتشلی اور رائنا کے معاشقے کی اوٹ میں ہم ہنسی خوشی جارج برنارڈشا کا ہمارے کیپٹن کی زبانی کہلوایا گیا ڈائیلاگ


’نائن سولجرز آؤٹ آف ٹین آر بورن فولز‘


Nine soldiers out of ten are born fools.


نہ صرف پڑھ دیتے تھے بلکہ اس پر کھلکھلا کر ہنس بھی پڑتے تھے۔ آپ آج کل یہ کہہ کر دیکھیے۔ اگر آپ فوجی ہیں تو آپ کا کورٹ مارشل ہوجائے گا اور دوسری صورت میں وہ کیا ظفری خان کی ٹریڈ مارک پنجابی سٹیج کی جگت ہے ’بیٹھو بیٹھو لیا ڈالا‘۔

1885 کی سربیا اور بلغاریہ کی جنگ کے پس منظر میں لکھے ہلکے پھلکے ’آرمز اینڈ دا مین‘ کی اور بہت سی باتیں بھلی تھیں مگر جو ایک ہمیں یاد رہ گئی وہ ہمارے کیپٹن بلنتشلی کو دیا گیا رائنہ کا محبت بھرا لقب چاکلیٹ کریم سولجر تھا۔ وہ اس لیے کہ ہمارا سپاہی جوبن پر آئے محاذ کی عین گرمی میں بھی اپنے ایمونیشن پاؤچ میں کارتوسوں کی جگہ چاکلیٹیں لیے پھرتا تھا۔ صاحب وہ دور ہی ایسا تھا جنگ کے چاکلیٹ کریم سولجر اور فلمی پردے کے چاکلیٹی ہیرو دل پر راج کیا کرتے تھے۔ اورسچ بتائیں تو ہمیں تو کیپٹن بلنتشلی میں اللہ بخشے اپنے وحید مراد دکھتے تھے۔

بہت پرانی یاد ہے، چاکر خان پرائمری سکول میں ساتھ بیٹھے ہمارے کلاس فیلو اور بیسٹ فرینڈ فیصل جاوید نے کسی میگزین کا صفحہ نکال کر دکھایا تھا کہ یہاں وحید مراد کی قبر ہے۔ غالباً پانچویں جماعت کا ذکر ہے پاکستان ٹیلی وژن پر ہفتے میں ایک دن فیچر فلم ٹیلی کاسٹ ہوتی تھی اور ہم کچھ کچھ ہیرو اور ہیروئنوں سے واقف ہو چلے تھے۔ ایک چاکلیٹی ہیرو کو سکرین پر زندگی سے بھرپور، ہنستے مسکراتے، گاتے اور رومان لڑاتے دیکھتے پانچویں کے دو لڑکے میگزین کے اس صفحے کو دیکھ کر رنجیدہ سے ہوگئے تھے کہ وہ جوانِ رعنا اب اس دنیا میں نہیں رہا تھا۔

دوسری یاد ہمالیہ کے معبدوں میں لمبے ہوتے سایوں میں اترتی ایک اداس شام کی ہے جب ہم اپنی تنہائی سمیٹتے بچھاتے اپنے اگلو کو پلٹے اور ٹرانزسٹر آن کیا تو ریڈیو پاکستان سے مواصلاتی لہروں پر نشر ہونے والے ایک محبوب نغمے نے دل کے تاروں پر کوئی جادو سا کیا اور ہم بے اختیار تال سے تال ملا جھومنے اور گانے لگے


اُس کے چہرے پہ جمی جب میری گستاخ نظر
جھینپ سا جائے گا مجھ سے وہ ذرا شرما کر
اِس ادا پر تو مجھے اور بھی پیار آئے گا
جھوم اے دل وہ میرا جانِ بہار ۔۔۔


یوں لگا جیسے اس ایک پل میں ساری کائنات محوِ رقص ہے۔ دل کو ٹٹولا تو اداسی کا کہیں نام ونشان تک نہ تھا۔ ہمارے دل سے بے اختیار وحید مراد کے لیے دعا نکلی۔


بہت بعد کے سالوں کا ذکر ہے ۔۔۔

غمِ روزگار کے حیلے میں ہم لاہور کے گلی کوچوں کو اپنا مسکن کیے بیٹھے تھے۔ ایک جوبن پر آئی شام ’یہ کاغذی پھول جیسے چہرے مذاق اڑاتے ہیں آدمی کا‘ سنتے دل بہت بے چین ہوا تو ہم گلبرگ مین بلیوارڈ کی قربت میں علی زیب روڈ پر فردوس مارکیٹ کے قبرستان چلے آئے۔ یہاں ایک کونے میں اپنے والد کی قبر کے ساتھ ہمارا چاکلیٹ کریم ہیرو ابدی نیند سورہا ہے۔ اس شام علی زیب روڈ پر فاتحہ پڑھتے ہم نے وحید مراد اور کیپٹن بلنتشلی کو بہت یاد کیا۔

وحید مراد کی برسی پر ہم کچھ لکھنے بیٹھے تو یادیں ہمارا دامن پکڑ کر ماضی کی ایک بھولی بسری راہگزر کی سیر کرا لائیں۔ ہم نے ان کے طفیل اپنی جوانی کے دنوں کو یاد کیا۔ اللہ ہمارے چاکلیٹ کریم ہیرو پر اپنا فضل وکرم فرمائے۔
آمین

Waheed Murad is buried in Firdous Market Graveyard on Ali Zeb Road in Lahore.
share this article

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *