اور کرک کا خٹک


غالباً 117 لانگ کورس کی پاسنگ آؤٹ کے دن تھے۔ میں پاکستان ملٹری اکیڈیمی میں پلاٹون کمانڈرتھا۔ پاسنگ آؤٹ پریڈ سے پہلے کی ایک روشن رات فرسٹ پاکستان بٹالین میس میں آرمی سکول آف میوزک کے ساز ابھی ابھی اے وطن کے سجیلے جوانو چھیڑ کر خاموش ہوئے تھے۔ ماحول کچھ کچھ جذباتی ہو چلا تھا اور کیوں نہ ہوتا، فائنل ٹرم کے کیڈٹس نے پاس آؤٹ ہوکر اندرونی اور بیرونی سرحدوں کا رُخ کرنا تھا اور جیسا کہ روایت ہے ایبٹ آباد کے آرمی سکول آف میوزک کا کیل کانٹے سے لیس بینڈ انہیں غنائی الوداع کہنے اورخراج عقیدت پیش کرنے آیا تھا۔ اس شام کے آرکسٹرا کی میزبانی ایک کلف لگی آواز مگر شیریں لحن والے ایک ریٹائرڈ میجر صاحب کے سپرد تھی جو خود بھی وار وونڈڈ سولجر تھے یعنی میدانِ جنگ کے زخموں کا مزہ چکھ چُکے تھے۔

صاحب آج بھی ہمیں ان کے وہ لفظ لہجے کی جزئیات کے ساتھ یاد ہیں جب وہ اگلی دھن کی اناؤنسمنٹ کرنے مائیک پر آئے اور ایک تیقن کے عالم میں بصد ناز اعلان کرنے کے انداز میں گویا ہوئے:


Ladies and Gentlemen! The full moon outside is not a coincidence.
It’s been precisely placed for our next melody of the night …


چاندنی راتیں ! اور آرمی سکول آف میوزک کے بینڈ نے وہ ایوارڈ وننگ دھن بجانی شروع کی جس نے حال ہی میں جرمنی میں فوجی دھنوں کے ایک مقابلے میں اول انعام جیتا تھا۔


سب جگ سوئے ہم جاگیں
تاروں سے کریں باتیں
چاندنی راتیں


شینوارې لونګینه


ابھی ہم اس نغمے کے فسوں سے نکل بھی نہ پائے تھے کہ میجر صاحب دوبارہ نمودار ہوئے مگر اس دفعہ تمہید باندھے بغیر اگلی دھن کا اعلان کیا کہ وہ کسی تعارف کی محتاج نہ تھی۔ شینوارے لونگینہ۔ غیور پختونوں کی اپنی گل زمیں سے چاہت کے رنگوں میں رنگی لازوال دھن۔ محاذ کی گرمی ہو یا ٹریننگ کی گرمجوشی ایک خون گرم کرتے الاؤ کی دہکتی روشنی میں ایسا کیسے ممکن ہے کہ تالیوں کی تھاپ پہ اٹن نہ کھیلا جائے اور وہاں بجنے والی دھنوں میں شینوارے لونگینہ نہ ہو! تو صاحبو کاکول میں جبکہ بات وہ آدھی رات کی تھی اور رات بھی پورے چاند کی، آرمی سکول آف میوزک کے میجر صاحب کی آواز کا رچاؤ ہمیں نئے سرے سے زرسانگه اور داؤد حنیف کے گائے اس گانے کا اسیر کرگیا جس میں کچھ ندیوں اور انکے جھلملاتے پانیوں کا ذکر ہے۔

صاحبو ایک تارڑ صاحب کا بے مثال ناول تھا بہاؤ جو پنجاب کی دھرتی کو آباد کرتے بڑے پانیوں کے بارے میں تھا اور اس کا سرناواں ہی کتنا زبردست اور ہیجان انگیز تھا ’سرسوتی جو بڑے پانیوں کی ماں ہے، اور ساتویں ندی ہے، اس کے پانی آتے ہیں شاندار اور بلند آواز میں چنگھاڑتے ہوئے‘۔ اب ذرا گل زمین کے ٹھنڈے میٹھے پانیوں کی شہد بھری حلاوت سے دُھلا یہ پشتون لہجہ بھی دیکھیے، جیسے کہ بہتے پانیوں کی جلترنگ بجتی چلی جارہی ہو۔


پاس په باړه کې اوبه ګډې وډې ځینه
شینوارې لونګینه شینوارې لونګینه


ان ندیوں اور جھرنوں کے سنگ بہتے کتنے رنگین پانی میرے وطن کو سیراب کرتے ہیں
شینوارے لونگینہ شینوارے لونگینہ


لونګ کرمه
که لومې ګډ کړیاره تا به را ولمه


ان پانیوں کی چنگھاڑ مجھے کیا خوفزدہ کرے گی!
میری پختو، میری دلیری مجھے ان پانیوں کے پار اُتارے گی


اس سے کچھ سالوں بعد کا ذکر ہے کہ ایک مینیجر آؤٹ ریچ اور پشاور ریجن کا کوآرڈینیٹر جب مردان سے صوابی کے راستے کے مسافر تھے تو ایکسل لیب کی جاپان اسیمبلڈ ہنڈا سٹی میں جو دھن بجتی تھی اس کی ترنگ میں زرسانگه اور داؤد حنیف ایک مستی میں گاتے تھے۔

شینوارے لونگینہ۔ شینوارے لونگینہ

اسی مردان ۔ صوابی روڈ پر تھوڑا آگے نواں کلے کے پاس کیپٹن کرنل شیر شہید نشانِ حیدر کا مزار ہے۔ صوابی کا شیر آج تو اپنے مدفن میں ابدی نیند سو رہا ہے مگر جولائی کے اس چڑھتے دن جب 12 ناردرن لائٹ انفنٹری کے مٹھی بھر جوانوں کے ساتھ اس نے ٹائیگر ہل پر ہلّہ بولا تھا تو کرنل شیر کی اس جوانمردی میں اسی گل زمین کی ندیوں کے جھلملاتے پانیوں کی چمک تھی، کہ یہ پانی جب ملتے ہیں تو ایک ترنگ میں گاتے ہیں

شینوارے لونگینہ۔ شینوارے لونگینہ

Captain Karnal Sher Shaheed, Nishan e Haider, 12 NLI Battalion

مردان، تمباکو اور خان سیف الملوک خان


’فرنٹیئرمیں نہایت عمدہ قسم کا ورجنیا تمباکو پیدا ہوتا ہے۔ انگلینڈ کو تمباکو اور سرطان سے ہمکنار کرنے کا سہرا سر والٹر رائے کے سر ہے۔‘


اس مختصر مگر جامع تمہید کے بعد یوسفیؔ کو انکے باس نے اسی برگِ حرام پر ریسرچ کی خاطر خان سیف الملوک خان کے حوالے کردیا تھا کہ وہ مردان کے نواح کا رہنے والا قبائلی تھا۔ جی ہاں وہی مردان جو پاکستان میں تمباکو کی جنت ہے۔
تمباکو پر ہماری معلومات سگریٹ اور اس کے جان لیوا آخری کش تک محدود ہیں (سو سواو اوووو)۔ اب آپ سے کیا چھپائیں ہم خود لگ بھگ دو دہائیوں تک اس علت کے (جسکو ہماری نصف بہتر نشہ کہتی اور مانتی آئی ہیں) اسیر رہ چکے ہیں۔ ہمارے اس پھیکے سگریٹی تجربے میں کچھ رنگینی وہ گنی چنی یادیں بھرتی ہیں جو حقے سے متعلق ہیں۔ بہت دن نہیں گزرے کہ ڈی ایچ اے لاہور کے حاجی ریسٹورنٹ کے احاطے میں قصور کے حاجی صاحب اور ہمارے لاہورئیے یاروں کی ٹولی المعروف ‘چھڈیار’ جب کبھی مل بیٹھتی تو رات کے کھانے میں (ویکھیں ذرا چھنڈ کے لائیں والے) نان اور ساتھ کباب کے شغل کے بعد کوڑے تماکوُ کا حقہ گردش کرتا تھا۔ زندگی رہی تو چھڈیار کی کہانی کسی اور دن کہیں گے۔ اسی حقے اور اس کے تمباکو سے جُڑی ایک اور قدیم یاد اللہ بخشے ہمارے دادا سے متعلق ہے۔ آنکھ مچولی کھیلتی صاف چھپتی بھی نہیں سامنے آتی بھی نہیں ان یادوں میں گاؤں میں ہمارے آبائی گھر کا ’مال والا اندر‘ ہے۔ وہ کمرہ جہاں دادا بیٹھے تمباکو کی کاشت کی گئی فصل کے سوکھے پتوں کو ایک رسی کی طرح بل دیتی گانٹھوں میں باندھا کرتے تھے اور ہم بچے کبھی کبھی ان کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ یا پھر کبھی کبھی ـ’پت آ ذرا حقہ دھر لیا‘ یا پھر ’چلم تتی کر لیا‘ کے فرمان پر حرکت میں آتے میں اور میرا کزن چولہے کی بجھتی آگ اسے انگارے اکٹھے کرتے اور حقے کا نالی میں پھونک مارکر پانی گزارتے یا پھر چلم کی تہہ میں احتیاط سے جمائے تمباکو کے اوپر گُڑ کی پیسی رکھتے سمے آنکھ بچا کر کبھی کبھار آنکھ میچ کے ایک گڑگڑاتا کش کھینچ لیتے تو گلا اور دماغ دونوں نتھیا گلی ہوجاتے۔

سگریٹ کا آخری کش ۔ ایکسل لیب اسلام آباد
‘چھڈیار’ چونیاں میں ایک شادی پر
لائلپور۔ بھگت سنگھ کے گاؤں کی قربت میں

ایکسل لیب پشاور


دیکھیے حقے اور اس سے جُڑے تمباکو کے نشے میں آکر ہم بہکتے ہوئے کہیں کے کہیں نکل گئے۔ تمباکو کا ذکر تو ضمناً درمیان میں آگیا ہم بات تو یوسفی کو تفویض کی گئی تمباکو پر ریسرچ اور استاد کے طور پر عطا کیے گئے قبائلی علاقے کے خان سیف الملوک خان کی کررہے تھے۔ کچھ اسی نوعیت کی صورتحال ہمارے ساتھ ایکسل لیب میں تب پیش آئی جب ہم جی فور کی ایک میٹنگ میں بیٹھے تھے۔ یوسفی کے باس اینڈرسن سے ملتی جُلتی تعارفی تمہید اس میٹنگ میں بھی باندھی گئی جب ایکسل کے سی ای او ڈاکٹر صاحب ہم سے مخاطب ہوئے، ’عمران صاحب فرنٹیئر میں ہمارے کلیکشن پوائنٹس پشاور میں ہیں۔ گردونواح کی قبائلی پٹی یہاں تک کہ سرحد پار جلال آباد بلکہ کابل تک کے مریض حیات آباد آتے ہیں۔ پشاور میں بہت بزنس پوٹینشل ہے‘
صاحبو یوسفی کو تو خان سیف الملوک خان کے حوالے کیا گیا تھا ہمیں سیدھا پشاور کے حوالے کردیا گیا، اپنا خان سیف الملوک خان ہم اسلام آباد سےاپنے ساتھ جہیز میں لے کر گئے۔ پشاور اور جلال آباد کے قبائلی خون اور خوانین کے دیگر خارجی و پوشیدہ مواد کے لیبارٹری ٹیسٹوں کے بزنس پوٹینشل میں ہماری مدد کے لیے بنوں اورکرک کی نواحی پٹی کا نیم قبائلی مسمی نہال خٹک ہمارا کوآرڈینیٹر بن کر اسلام آباد سے پشاور شفٹ ہوگیا۔۔ نیاعلاقہ، نئی ٹیم اورنہال خٹک کا ساتھ۔۔ بابا محمد یحیٰ خان نے اپنی کتاب پیا رنگ کالا کے پس ورق پر ہیر وارث شاہ کا ایک شعر نقل کیا ہے


عاشق بھور فقیر تے ناگ کالے
باجھ منتروں موُل نہ کِیلیے نی


باباجی لکھتے ہیں یہ چاروں ہی اندر باہر سے کالے ہوتے ہیں۔ ان چاروں کالوں سے راہ و رسم استوار کرنا ایک مشکل امر ہے کہ یہ کسی کے متر نہیں ہوتے۔ ہمارے ساتھ صورتحال ذرا فرق تھی۔ فرنٹیئر کی سنگلاخ گل زمین کے زندہ دل یار باش پختونوں سے راہ و رسم استوار کرنا بالکل بھی دشوار نہیں۔ آپ ان سے انکی ماں بولی پشتو میں بات کیجیے اور پھر دیکھیے۔ ہمارا مسئلہ یہ تھا کہ ہم پشتو میں صرف اپنا نام ٹھیک ٹھیک ادا کرسکتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگائیے کہ کسی ہنگامی حالت میں سیمپل دینے یا پھر حوائجِ ضروریہ سے فراغت پانے کے لیے ٹائلٹ کا راستہ تک ہمیں پشتو میں پوچھنا نہیں آتا۔ تب بھی نہیں آتا تھا، آج بھی نہیں آتا۔ اب ایسے میں ایکسل لیب کی پشاور کی ٹیم کو کیسے کِیلتے۔ نہال کے ساتھ معاملہ البتہ مختلف تھا۔ ایک نجیب الطرفین خٹک تو ڈھول کی ایک تھاپ یا پھر الغوزے کے ایک مدھر سُر کی مار ہے اور ہمارے ترکش میں تو ہلکا پھلکا پشتو ٹنگ ٹگور (راگ رنگ) سمایا ہوا تھا۔
کاکول کی پورے چاند کی رات میں شینوارے لونگینہ کے خمار میں جو زرسانگه کے اسیر ہوئے تو ہماری گاڑی کی پلے لسٹ پر پشتو گانوں کی کیٹیگری نمودار ہوگئی اور اس میں زرسانگہ نے مستقل جگہ بنا لی۔ اسلام آباد سے پشاور کی ایک ایسی ہی ڈرائیو میں ایک رسیلی دھن کے سُروں پر ہمارے فرنٹئیر کی ریشماں (مراد اس سے زرسانگہ ہیں) کی چاندی کے پانی میں دُھلی آواز کے ہتھیار سے ہم نے نہال خٹک کو زیر کیا تھا


ورو ورو کیژده قدمونه آشنا
شرنگ د پایزیب د عالمونه خبروینه، آشنا

او میرے محبوب اپنے قدم پھونک پھونک کر رکھو
کہ تمہاری پازیب کی جھنکار تو دنیا کو جگانے کو پھرتی ہے

تعارف ایک خٹک کا


مرشدی و آقائی مشتاق احمد یوسفیؔ نے اپنے مردان کے قبائلی خان سیف الملوک خان کا جو سراپا باندھا ہے ہمارے لفظ تو اسکی خاک کو بھی نہیں پہنچ سکتے مگر کیا کریں کہ ایک پختون سراپے میں اکثر فیچرز تو آرتھوڈوکس (روایتی) ہوتے ہیں۔ ہم اتنا ضرورکہیں گے کہ ایک نکلتے ہوئے پٹھان قد اسی قدر بڑے منہ اور راست تناسب میں نکلتی مضبوط کاٹھی۔ اب اس چوڑے ڈیل ڈول پر آپ گھنگھریالے بال اور داڑھی مونچھ سے بے نیاز ایک معصوم صورت کا تصور کرلیجیے تو یہ نہال تھا۔ اور پھر اس پر دل کو موہ لینے والی ایک کھِلی کھِلی مسکراہٹ۔ وہ کیا کہتے ہیں

او خاندا چہ رنگ دے خہ شی

ہنسو کہ تمہارے چہرے پہ کچھ تو رنگ چڑھے


نہال ہمیں ہمیشہ عمران صاحب کہہ کے مخاطب کرتا مگر جہاں صیغۂ غائب میں ہماری طرف اشارہ کرنا مقصود ہو محمود وایاز ایک کردیتا۔ یونیورسٹی روڈ پوائنٹ کے افتتاح پر نئے سٹاف سے ہمارا تعارف کراتے ہوئے، ’یہ عمران صاحب ہیں۔ یہ اسلام آباد سے ابھی ایدھر آیا ہے۔ اس کو کہہ کےبلانا پڑتا ہے کہ ایدھر ابھی تمہارا ضرورت ہے۔ ماڑا سنتا ہی نہیں ہے۔‘
ہم اس لیے اس کا برا نہیں مناتے تھے کہ وہ اپنے والد کا ذکر بھی اسی پیرائے میں کرتا تھا حالانکہ ان کے نظام الاوقات اور غصے سے خود کی جان نکلتی تھی۔ بڑے خان جی کچھ عرصہ فوج سے ہو آئے تھے۔ ساری عمر انہوں نے اولاد کو شیر کی نظر سے دیکھا تھا۔ نہال کو دیکھ کے لگتا تھا کہ ابھی تک دیکھ رہے ہیں۔ ہماری ان سے فون پر ایک دفعہ بات ہوئی تھی۔ نہال کی جغرافیائی نقل و حمل کام کے سلسلے میں پشاور اور ویک اینڈ پر اپنے والد اور ہماری بھابھی سے ملنے کرک تک محدود تھی۔ ہوا کچھ یوں کہ ہمارے گروپ نے جس میں پاکستان ایئر فورس کے کچھ کارگر اور کچھ ناکارہ پائلٹ شامل تھے ایک ویک اینڈ پر حویلیاں کی قربت میں سجی کوٹ جانے کا پروگرا م بنایا تو میں پشاور میں تھا۔ ان کے بے حد اصرار پر ہم نے ایک دعوتی صلح نہال کو بھی مار دی۔ ہمیں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا۔ بڑے خان جی نے ہو بہو ٹی ایل سی کے سُروں میں نہال کو کورا جواب دے دیا

ڈونٹ گو چیزنگ واٹر فالز


جب انہیں معلوم ہوا کہ نہال کا مینیجر فوج کا ریٹائرڈ میجر ہے تو فرمائش کرکے ہم سے بات کی۔ ہمیں تو وہ دارجی لگے۔ ایک بزرگانہ رکھ رکھاؤ سے سجی اس گفتگو میں انہوں نے شفقت فرمائی اور ہمیں نہال کے بڑے بھائی (دیکھنے میں ہم نہال کے چھوٹے بھائی لگتے تھے) کے مرتبے پر فائز کرتے ہوئے نہال کو نہ صرف ویک اینڈ ٹرپ پر جانے کی اجازت دے دی بلکہ نہال کا پاسپورٹ ایک دم سے اسرائیل کے علاوہ خیبر پختونخواہ کے تمام ڈویژنوں کے لیے کارآمد ہوگیا۔ بس ہماری ہمراہی شرط تھی۔
حویلیاں کی داستان تو ہم پھر کبھی کہیں گے مگر یہ بڑے خان جی کی اجازت کا فیضان تھا کہ ہم اور نہال خٹک اس روشن دن مردان سے صوابی کا سفر کرتے تھے اور روڈ سائیڈ کے ایک مزار پر کیپٹن کرنل شیر شہید کے مشتاق ملاقاتی تھے۔

حویلیاں۔ریٹائرڈمیجراورمسٹردی وائس
حویلیاں۔نہال خٹک اور رحمان ارشد المعروف راشدمنہاس

شاہکوٹ مائنر اور سیاچن کے شہید


سیاچن سے جُڑی ہماری سب سے قدیم یاد ہمارے نانکے پنڈ (ننھیالی گاؤں) کی ہے۔ برلبِ نہر (جسے ہم اٹی والی نہر کہتے اور سنتے جوان ہوئے مگر پٹواری کی فردیں اورگوگل میپ آپ سے کہیں گے کہ یہ شاہکوٹ مائنر ہے) واقع چک نمبر چورانوے ر۔ب کی شمال مشرقی حد پر واقع قدیمی قبرستان میں ایک سیاچن کے شہید کی قبر ہے۔
میں غالباً چھٹی یا ساتویں جماعت میں تھا، ہم گرمیوں کی چھٹیوں میں ’وانڈے‘ آئے ہوئے تھے۔ تو جیسا کہ دیہات میں رواج ہے کہ سال پیچھے لوٹے پروہنے سے گذشتہ دنوں کا حال احوال کرتے ہیں تو بڑے بزرگوں کے اس حال احوال سے اڑتی اڑتی خبر ہم بچوں نے بھی سُنی کہ اس سال چڑھتے چیتر کو گاؤں میں فوجی آئےتھے اور سیاچن میں شہید ہونے والے ہمارے گاؤں کے سپاہی کی پورے فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین ہوئی تھی۔ مارے اشتیاق کے ہمیں اور تو کچھ سوجھا نہیں کاغذ قلم پکڑ ایک دن کی محنت سے کچی پکی خطاطی میں یہ شعرلکھ کے رکھ لیا

اے راہ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں


چک نمبر چھیانوے ر۔ب ماڑی کے پرائمری سکول کے ہیڈماسڑ چوہدری فرزند علی رشتے میں ہمارے ماموں لگتے ہیں۔ وہ ہمارے خط کی تعریف ہی اتنی کیا کرتے تھے کہ ہمیں اپنی خوشخطی پر ناز سا ہو گیا تھا۔ سو ہماری دانست میں وطن پر نثار ہوئے ایک سپاہی کو سب سے بڑا خراج عقیدت ہماری خوشخطی ہی تھی۔ اپنے ماموں اورخالہ زاد بھائیوں کے ہمراہ اسی دن جب قبرستان گئے تو شہید کی قبر کے سرہانے سجا آئے۔ بہت سے مہینے اور بہت سی بارشیں گزرگئی تھیں۔ جو پھولوں کی چادریں تدفین والے دن چڑھائی گئی تھیں ان کے زنگ آلود لوہے کی چرخیوں کے ڈھانچے ہی بچے تھے، مگرہم بچوں کے معصوم دل کو قرار تھا کہ شہید کی لحد اندر سے گل وگلزار ہوگی۔
صاحبو شاہکوٹ مائنر کے کنارے قبرستان کی ایک لحد کے سرہانے چھوڑے ہمارے ہدیۂ عقیدت کو بہت برس بیت گئے۔ کئی موسم آئے اور گزرگئے۔ اب تو ہمارے نانا، نانی اور بڑے ماموں بھی اسی قبرستان میں جاسوئے، مگر سیاچن کے شہید کی قبر پر اس دن ہوئی گفتگو چھٹی (یا ساتویں) جماعت کے عمران کو ابھی تک یاد ہے۔ کاشف بھائی نے بتایا تھا کہ پارسال ہماراسپاہی برف کے تودے کے نیچے آکر شہید ہوا تھا اور اس کی صرف خبر ہی گھر والوں تک پہنچی تھی کہ جسدِخاکی باوجود کوشش کے نکالا نہیں جاسکا تھا۔ پسماندگان ایک غمگین آس کی خلش لیے دل پر صبر کا پتھر رکھ کر بیٹھ رہے تھے۔ بعد کے موسموں میں جب برفیں پگھلیں تو بہتے پانیوں کے تلے ہمارے گمشدہ سپاہی کا سراغ بھی ملا اور یوں قریباً شہادت کے ایک سال بعد اٹی میں فوج آئی اور ایک جسدِ خاکی کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ شاہکوٹ مائنر کی قربت میں زمین کے حوالے کر گئی۔
بہت بعد کے سالوں سیاچن کے برفاب موسموں میں اپنی پہلی پوسٹنگ پر یہ سمجھ میں آیا کہ اس محاذ پر اصل دشمن توموسم اور دشوار گزار راستے ہیں۔ برفانی تودوں یا پھر گہری کھائیوں کے نشیب میں بہتے تیز پانیوں کی نذر ہونے والوں کے جسدِ خاکی نہیں ملا کرتے اور ان کے پسماندگان تک صرف خبر ہی پہنچ پاتی ہے۔ ان میں سے اکثر اپنے غم کو دفنائے بغیر ایک انجانی آس ایک دائمی خلش کو گلے کا ہار بنائے پھرتے ہیں۔ مگر پھر یہی سیاچن تھا، اور چشمِ فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ جب کچھ کر گزرنے کا وقت آیا تو مادرِ وطن کی پکار پر لبیک کہتے پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے ہندوستانی سپاہ کے ٹھکانوں کے اندر ایک دُور مار نقب لگائی اور اپنے تنے ہوئے سینوں میں چھید کروا کر جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔ مگر جب ان شہیدوں کے جسدِ خاکی بصد احترام اٹھانے اور دشمن سے وصول کرنے کا وقت آیا تو مملکت خداداد اور اسکی جہاد فی سبیل اللہ کی خوگر فوج نے اپنے ہی خون سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔ سیاچن بڑا کٹھور محاذ ثابت ہوا۔ برفانی تودوں اور گہری کھائیوں سے ہار نہ ماننے والے جب کارگل کے محاذ پر دشمن کی سپاہ کی گولیوں کا ہار چھاتی میں پرو کر شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے تو ان کے جسدِ خاکی بھی پسماندگان تک نہ پہنچے۔ ہمارے شہیدوں کو سرحد پارکے پہاڑوں میں جگہ ملی اور ان کے چاہنے والوں کے غم جب کہیں دفن نہ ہوئے تو ان کی جگہ ایک انجانی آس ایک دائمی خلش نے لے لی۔
معاف کیجیے گا ہم جذبات کی رومیں بہہ کر کہیں کے کہیں چلے گئے۔واپس مردان۔صوابی روڈ کو پلٹتے ہیں جس پر ایک جاپان اسیمبلڈ ہنڈا سٹی میں فیصل آباد کا عمران اور کرک کا نہال خٹک خراماں خراماں چلتے چلے آتے تھے۔ اسی روڈ پر نواں کلے میں جسکا آج کا نام کیپٹن کرنل شیر کلے ہے صوابی کا شیرابدی نیند سو رہا ہے۔ سبز رنگ کے گنبد تلے ایک سادہ مزار میں (جیسا کہ ۲۰۱۳ میں تھا) کرنل شیر کا مدفن ہے۔

صوابی کا شیر


وہ جولائی 1999 کا ایک روشن طلوع ہوتا دن تھا جب دنیا کے بلند ترین محاذِ جنگ پر گنتی کے شیر دل جوانوں کے ساتھ بلندی پر بیٹھے دشمن کی ناک کے نیچے اپنی کھوئی ہوئی پوسٹیں دوبارہ حاصل کرنےکےلیےکیپٹن کرنل شیر نےجوابی حملہ کردیا۔ اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتےہوئے یہ جوان اتنی دلیری سے لڑے کہ ٹائیگر ہل کی بلندیوں پر قابض ہندوستانی فوجیوں کو انکی جوانمردی کا اعتراف کرنا پڑا۔ کیپٹن کرنل شیر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کی بہادری کا اعتراف دشمن نے بھی کیا اور صلے میں کرنل شیر کو دلیری کا سب سے بڑا اعزاز نشانِ حیدر دیا گیا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اپنے اس بہادر سپوت کو اپنانے میں حکومت پاکستان نے پس و پیش سے کام لیا اور شہادت کے بعد دس دن تک ہمارے دلیر سپاہی کا جسدِ خاکی ہندوستان کے پاس ایک اجنبی سرزمین میں وطن واپسی کی راہ دیکھتا رہا۔ تو صاحبو کچھ ماضی کے ورق پلٹتے ہیں اور شجاعت کی ایک داستان کی خبر لاتے ہیں۔
انڈین ایکسپریس کے 17 جولائی 1999 کے پرچے میں دراس سے بھیجی ایک رپورٹ چھپی کہ ٹائیگر ہل اور نواحی چوٹیوں پر مورچہ بند اٹھارہ گرینیڈیئرز اور آٹھ سکھ کے سپاہیوں نےکچھ رشک کے عالم اور کچھ ممکنہ شکست کے اندیشوں میں پاکستانی بارہ ناردرن لائٹ انفنٹری کی ڈیلٹا کمپنی کے کیپٹن کرنل شیر کو جوانمردی سے لڑتے دیکھا۔ آٹھ سکھ کے ایک فوجی افسر نے تو یہانتک کہا کہ دن کی روشنی میں جب ہم تمام حرکات وسکنات بخوبی دیکھ سکتے تھے شیر کے لیے حملہ کرنا خود کشی کے مترادف تھا مگر پھر بھی اعلیٰ فوجی اقدار کی پاسداری میں وہ ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹا بلکہ اپنے وطن پر نثار ہوگیا۔ شاید وہ پاک فوج کو ہزیمت سے بچانا چاہتا تھا۔
کہانی کا اگلا ٹکڑا 2019 کے دکن کرانیکل میں ملتا ہے جب کورین انیٹ نے لکھا کیپٹن شیر کو ملنے والے نشانِ حیدر میں کچھ حصہ اس چٹھی کا بھی تھا جو ایک انڈین بریگیڈیئر نے لکھی۔ کورین ہمارا تعارف بریگیڈیئر باجوہ سے کراتی ہیں جو انڈین 192 ماؤنٹین بریگیڈ کمانڈ کر رہے تھے۔ وہی 192 بریگیڈ جس نے ٹائیگر ہل کا معرکہ اپنے نام کیا تھا۔ بریگیڈیئر باجوہ جب یادداشت کے ورق پلٹتے ہیں تو ہمیں کیپٹن شیر اور اس کے ساتھ ایس ایس جی کے ایک کمانڈو میجر صاحب سے بھی ملواتے ہیں جنہوں نے ایک دلیر جوابی حمل ےمیں انڈیا گیٹ نامی چوٹی پر دشمن کے دو جے سی اور چودہ سپاہی ٹھکانے لگائے۔ حملہ کرنے والوں میں ٹریک سوٹ پہنے کیپٹن کرنل شیر بہت دلیر تھا اور رہ رہ کے اپنے جوانوں کو حملہ جاری رکھنے پر ابھار رہا تھا۔ آٹھ سکھ کے سپاہی ستپال سنگھ نے نزدیک سے نشانہ لے کیپٹن شیر پر گولیاں برسائیں اور ان کے شہید ہوتے ہی حملہ کرنے والی باقی ماندہ سپاہ تتر بتر ہوگئی۔ حملہ ناکام ہونے کے بعد بریگیڈیئر باجوہ کو یاد ہے کہ انکی سپاہ نے لگ بھگ تیس پاکستانی فوجی ٹائیگر ہل کے پاس پہاڑی پتھروں میں دفن کیے مگر دلیر کیپٹن شیر کا جسدِخاکی حفاظت میں رکھا کہ وہ اس بہادر سپاہی کو جوانمردی کے اعزاز کی سفارش کے ساتھ اس کے گھر اس کے وطن واپس بھیجنا چاہتے تھے۔
بریگیڈیئر باجوہ نے بقلم خود ایک دو سطری اعزازی نوٹ ہمارے شہید کیپٹن کی پتلون کی جیب میں احتیاط سے رکھا اس پر درج تھا ’کیپٹن کرنل شیر خان بہت بہادری سے لڑا۔ پاک فوج کا یہ سپاہی جوانمردی کے اعزاز کا صحیح حقدار ہے۔‘ بریگیڈئیر باجوہ کو اس بہادر پاکستانی افسر کا نام اس چٹھی سے ملِا جو کرنل شیر کی جیب سے ملی۔ ایک خاتون کی لکھی اس چٹھی کو ہندوستانی فوجی کیپٹن شیر کی بیوی کا خط سمجھے، مگر کیپٹن شیر ابھی غیر شادی شدہ تھے
کارگل کی بلندیوں سے سرینگر بھیجے گئے ایک پاکستانی کیپٹن کی ڈیڈ باڈی اور اس پر ملے خط کا انڈین میڈیا میں بہت چرچا ہوا مگر پاکستانی نشریاتی ادارے دم سادھے ایک غفلت کی چادر اوڑھے کان لپیٹے پڑے رہے۔

انڈین ایکسپریس 17 جولائی 1999 کے پرچے میں چھپی رپورٹ
دکن کرانیکل کی 4 اپریل 2019 کی اشاعت میں چھپا مضمون
عباس ناصر کا ڈان اخبار میں چھپا مضمون۔ جب بی بی سی اردو کی توسط سے کیپٹن کرنل شیر کی شناخت ہوئی

1999 میں کارگل کی لڑائی کے دوران ڈان اخبار کے عباس ناصر بی بی سی اردو میں کام کررہے تھے۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ان دنوں شارجہ سے ایک کال موصول ہوئی۔ کال کنندہ پاکستان کے شہر صوابی کا رہنے والا تھا اور درخواست کررہا تھاکہ بی بی سی اردو سرینگر میں رابطہ کرکے کچھ شناختی حوالوں میں مدد دے۔ کارگل سے سرینگر لائے گئے شہید فوجی کے پاس سے جو خط ملا ہے اس پر بھیجنے والی کا کیا نام لکھا ہے۔ سرینگر والوں نے خط لکھنے والی کا نام اور خط کے مندرجات بی بی سی اردو کے حوالے کردیے اور شارجہ سے فون پر رابطہ کرنے والے نے دونوں افراد کو شناخت کرلیا۔ خط لکھنے والی اس کی بہن اور کارگل کے محاذ پر جامِ شہادت سے سرفراز ہونے والا اس کا چھوٹا بھائی صوابی کا رہائشی کیپٹن کرنل شیرتھا۔ پسماندگان اپنا شہید شناخت کرچکے تھے، وہ شہید جس کا جسدِخاکی ہنوز ہندوستان میں تھا کہ حکومت پاکستان یہ ماننے کو تیار نہیں تھی کہ کارگل کے محاذ پر کام آنے والا دلیر سپوت ان کا اپنا سپاہی تھا۔ وہاں تو مجاہدین برسرِ پیکار تھے ہماری فوج کا جن سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ جب سفارتی دباؤ بڑھا اور کرنل شیر کے وارثین کچھ بے چین ہوئے تو بالآخر سترہ جولائی کو جبکہ راجپوتانہ رائفلز کے سپاہی کیپٹن شیر کو شہید سلام پیش کرچکے، کراچی ائیر پورٹ پر ان کا تابوت پورے فوجی اعزاز کے ساتھ وصول کیا گیا اور اسی قدر اعزاز سے کرنل شیر کی تدفین ان کے آبائی علاقے نواں کلے کے قبرستان میں کی گئی۔ حکومتِ پاکستان نے انہیں شجاعت کے سب سے بڑے اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا۔

شاہکوٹ مائنر کی ہمسائیگی میں چک نمبر 94 اٹی کے قبرستان میں آسودہ ہمارا سیاچن کا سپاہی ہو یا نواں کلے میں کپیٹن کرنل شیر شہید نشانِ حیدر کا مدفن، دونوں کے پسماندگان ایک اعصاب شکن انتظار سے گزر کر اب کسی آسرے پر توہیں۔ اپنی دعائیں دان کرنےاور گاہے بگاہے گزر جانے والے کے پاس چکر لگا لینے کو ان کے پاس ایک یادگار تو ہے۔ کارگل کے محاذ کے کتنے دلیر، جوانمرد مگر بے نامی شہید ہیں جو ہمارے عالی ظرف دشمن ہندوستان نے ہمالیہ کی گھاٹیوں میں جہاں تہاں جگہ بن پڑی دفنادیے۔ ان کے چاہنے والے ایک انتظار کی آس اور کئی وسوسوں کے اندیشے آنکھوں اور دل میں سمیٹے انہیں غائبانہ یاد کرتے ہیں۔ ان کو محاذ پربھیجنے والے کمانڈر انچیف نے ’ان دا لائن آف فائر‘ لکھی اور سارا ملبہ بے لگام مجاہدین پر ڈال کر اپنی دانست میں بری الذمہ ہوگیا۔ سرحد پار اجنبی ملک میں دفن ان دلیروں کے سرکاری والی وارث ایک دائمی بیمار وزیرِ اعظم نے کمال ڈھٹائی سےاعلان کیاکہ اسے تو معرکۂ کارگل کا علم ہی نہیں تھا اور اب بھی ہر سال جبکہ ہندوستانی سپاہ جولائی کے آخیر کے دنوں میں کارگل وجے دیواس مناتی ہے ہم ایک ڈھٹائی سے علی الاعلان یہ کہنے سے نہیں چوکتے کہ کارگل کی جنگ بے نامی مجاہدوں نے لڑی، ہماری سپاہ کا اس لڑائی سے کچھ لینا دینا نہیں۔

قارئین، مردان سے صوابی آتی اس سڑک پر نواں کلے کے پاس میں اور نہال کیپٹن کرنل شیر شہید کے مزار پر رکے اور فاتحہ پڑھی۔ ساتھ میں ہم نے افسروں اور جوانوں کو یاد کیا جو کرنل شیر کے محاذ پر، اس کی قربت میں یا کچھ دوری پر لڑے اور کام آئے۔ اللہ ہمارے شہیدوں سے راضی ہو اور ان کے پسماندگان کے صبر میں ان کا والی
آمین
ثم آمين

share this article

Join the Conversation

1 Comment

  1. اللہ ھمارے شہیدوں سے راضی ھو اور پاکستان و ہندوستان کے باہمی مسایل مستقلا حل کرے۔ دونوں ممالک اگر ہاتھ ملا لیں تو یہ خطہ جنت نظیر بن جائے۔ نہ جانے کتنے وسائل دشمنی کی نذر ھو چکے ہیں اور کتنے اور ہوں گے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *