گلگت ہیڈکوارٹر سے

اچھا سب سے پہلے تو یہ بتاتے چلیں کہ بقیہ کہانیوں کی طرح یہ کہانی بھی ہماری ذاتی زندگی اور اس سے جڑے کچھ پردہ نشین حضرات اور بے پردہ بیبیوں کے گرد گھومتی ہے۔ کسی اور فرد یا افراد سے مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی۔ اس تنبیہہ کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ آج کل ریٹائرڈ افسروں کا شہرہ ہے اور چونکہ افسروں کے کوائف قریباً ایک دوسرے سے مماثل ہوتے ہیں اس لیے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے مغالطے میں کوئی اور شریف النفس افسر لپیٹے میں آجائے۔


یار یہ دوہری شہریت کی بیویاں بڑی ظالم ہوتی ہیں یہ شوہروں کو اپنے ساتھ ملک سے باہر لے جا کر ہی دم لیتی ہیں۔


ہم ہرگز ایک بے تکلفانہ پیرائے میں اسقدر براہِ راست حملے کے لیے تیار نہیں تھے سو ایک ٹُک جنرل صاحب کو دیکھا کیے۔ ہم تو یہاں فوج سے اپنی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواست پر فارمیشن کمانڈر کے انٹرویو کے لیے آئے تھے، اپنی اوقات خراب ہوتے دیکھ کر کچھ گڑبڑا سے گئے۔ جنرل صاحب کی بات سچی تھی اور سچ کی چوٹ کھائے قریب قریب ریٹائرڈ میجر کو بات کہنے کا کوئی سرا ہی سجھائی نہیں دے رہا تھا اس لیے وہ بے چارہ منمنا کر رہ گیا۔


سیاق و سباق کے لیے ہمیں کچھ دن پیچھے جانا پڑے گا۔ سکردو کے ہمسائے گمبہ کی وہ رات اب تک یاد ہے جب ہم نے بیک وقت اپنے سینیئر اور کاکول کے پلاٹون کمانڈری کے دنوں کے دوست (اس وقت کے میجر) شفقت گوندل سے فون پر بات کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ سر قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی وجہ کیا لکھی جائے۔ خدا میجر صاحب کو خوش رکھے انہوں نے کہا کہ بات وہ ہے جو سیدھی کی جائے۔ تم وہی وجہ لکھو جو سچ ہے۔ ہم نے ممتاز مفتی کو پڑھ رکھا تھا سو میجر گوندل کی نصیحت کو پلے باندھتے ہوئے بغیر کسی لگی لپٹی کے لکھ دیا کہ افسر کی فیملی دوہری شہریت رکھتی ہے اور ہماری بیٹی کی سکولنگ کے لیے پاکستان سے باہر سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے تو افسر کا بڑا دل ہے کہ وہ بھی بیرون ملک ان کے ساتھ جاکر رہے۔ ازراہِ کرم فدوی کو فوج سے برخاست کرتے ہوئے پروانۂ راہداری عطا کیا جاوے،بندہ حضورِ والا کے اقبال کی بلندی کے لیے دعاگو رہے گا۔

ایک ناپائیدارعشق


ہماری انگریزی کی لاڈ بھری ترکیبوں سے مرصع عرضی کا ڈویژن ہیڈکوارٹر سے ایک دو سطری جواب موصول ہوا۔ سیاچن کی پوسٹنگ پر آنے والوں کو ریٹائرمنٹ ہی یاد آتی ہے۔ افسر کو مطلع کیا جاتا ہے کہ دل لگا کر پہلے ہمالیہ کے پہاڑوں میں دو سال کا عرصہ پورا کرے اور اگر تب تک ریٹائرمنٹ کا بھوت نہ اترا ہو تو دوبارہ عرضی ڈالے۔ کچھ مہینے ہوچلے تھے کہ ہم سٹاف کالج کے داخلی امتحان میں کامیاب قرار پائےتھے اور اسی سال جولائی کے مہینے میں کوئٹہ ہماری راہ دیکھتاتھا۔ فارمیشن ہیڈکوارٹر کو جب بتایا گیا کہ افسر اگر ریٹائر نہ ہوا تب بھی سیاچن میں دو ماہ سے زیادہ نہیں رہے گا بلکہ کوئٹہ کا مسافر ہوگا تو انہیں بھی ترس آگیا اور تب کچھ ایسا ہوا کہ اسے ایک جینوئن کیس سمجھتے ہوئے ہماری ریٹائرمنٹ کی درخواست بمع وجوہ پڑھ لی گئی اور اس کا شاخسانہ اس گفتگو کی شکل میں ظہور پذیر ہوا جو کمانڈر فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کے دفتر میں ہوئی اور جس کا ذکر اوپر ہو گزرا۔


ہم اپنی ذاتی سوزوکی مہران خود ڈرائیو کرتے ہوئے سکردو سے گلگت کے لگ بھگ آٹھ گھنٹوں کا سفر کرکے آئے تھے کہ فارمیشن کمانڈر سے اپنی عزت کروا سکیں۔ مگر اسقدر ڈائریکٹ حملے کے لیے تیار نہیں تھے۔ صاحبو اگر ایک میجر جنرل ایک میجر سے بے تکلف ہورہا ہو تو یہ سراسر یک طرفہ عمل ہوتا ہے۔ غالباً اسی طرح کی ناپائیدار صورتحال کے لیے اپنے شاعرِ مشرق نے کہا تھا


شعلے سے بے محل ہے الجھنا شرار کا
کیا عشق پائیدار سے ناپائیدار کا


(اللّٰہ تعالیٰ اور شاعرِمشرق اس تحریف پر ہمیں معاف کریں) تو صاحب انشا جی کے فرمان سے پہلو تہی کرتے ہوئے ہم چپ رہے اور خود کو ہنسنے سے باز رکھا۔ جنرل صاحب جب ہمیں سٹاف کالج کے فضائل اور بیرون ملک کی ایک دوسرے درجے کی نوکری کا تقابلی موازنہ ذہن نشین کروا چکے تو گفتگو میں آگے چل کر برسبیل تذکرہ ان کے اپنے بچوں کا ذکر آیا جو بیرونِ ملک تعلیم حاصل کررہے تھے۔ ایک دفعہ تو دل نے بہت اُکسایا کہ منہ پکا کرکے کہہ دو کہ جس رینک میں آپ اپنے بچوں کو بیرونِ ملک پڑھوا سکتے ہیں اس میں سے اگر جنرل کا لاحقہ نکال دیا جائے تو ناچیز کے کندھوں پر بچا چاند تارہ اس خرچے کا اسی صورت متحمل ہوسکتا ہے جب وہ خود بیرونِ ملک جاکر نوکری کا کشٹ کاٹے ۔ صاحبو ایک میجر کی تنخواہ کو ایکسچینج ریٹ کے پلڑے میں کسی سبب سے بہلا پھُسلا کر ڈال بھی دیں تو حاصلِ تقسیم میں امریکی سازش ہی نکلتی ہے۔ دیکھیے ہم ایک فوجی ہیڈکوارٹر سے سیاست کی غلام گردش میں نکل گئے۔ تو ہم کہہ رہے تھے کہ یکبارگی تو خیال آیا کہ جی کڑا کرکے دل کی بات کہہ دی جائے مگر دماغ سے آواز آئی کہ میاں ہوش میں آؤ چپ کرکے ہاں میں ہاں ملاؤ تاکہ بعد از ریٹائرمنٹ باعزت طریقے سے پنشن پاؤ۔ تم کونسے مرزا نوشہ ہو کہ صاحب بہادر کی شان میں کوئی قصیدہ بطریق نذر گزرانو گے اور سات پارچے کا خلعت مع جیغہ و سرپیچ و مالائے مروارید برابر وصول کرتے رہو گے (صاحب ہمارا کوئی قصور نہیں ہے، یہ ترکیب اسی پیرائے میں حرف بحرف ہمارے محبوب مصنف یوسفی صاحب نے زرگزشت میں نقل کی ہے۔ خدا گواہ ہے ہم نے تو مکھی پہ مکھی ماری ہے۔)

ویئرڈویوسی یورسیلف ان فایئو ییئرز؟


ویئر ڈو یو سی یورسیلف ان فایئو ییئرز؟

Where do you see yourself in five years?

اردومیں اس کا ترجمہ ہوگا ’آپ آئندہ پانچ سالوں میں خودکوکہاں دیکھتےہیں‘

مرشدی وآقائی مشتاق احمد یوسفی نے اپنے بینکنگ کیرئیر کے آغاز میں پہلا انٹرویو اپنے باس اینڈرسن کو دیا تھا۔ اس کی تیاری میں انہوں نے معقول سوالات کے ساتھ ساتھ احتیاطاً کچھ نامعقول قسم کے بے سروپا سوالوں کے جواب بھی رٹ لیے تھے، جیسے کہ کرکٹ کی گیند کا وزن، مکھی کی ٹانگوں کی تعداد، بلّی کی آنتوں کی لمبائی، کتے کے زبان باہر نکالے رکھنے کی وجہ وغیرہ۔ اس زمانے میں ضرور ایسے سوال پوچھے جاتے ہوں گے۔ فی زمانہ ان سب بے سروپا سوالوں کی مجموعی نحوست کانچوڑ اوپر پیراگراف کے شروع میں بیان کیا گیا شاہ تاج سوال ہے۔ آپ اسے انگریزی میں پوچھ کے دیکھیے یا پھر اردو میں، امیدوار پر ایک ہی طرح کی بدحواسی طاری ہوگی۔

صاحبو منصوبہ بندی اور ارادے کی پختگی اپنی جگہ مگر ہم سے پہلے پہل جب یہ سوال پوچھا گیا تو ہم کسی نوکری کا نہیں اپنی ریٹائرمنٹ کا انٹرویو دے رہے تھے اور ہم سے یہ سوال پوچھنے والے ہمارے فارمیشن کمانڈر تھے جن کی فارمیشن بلکہ فوج سے آؤٹ گوئنگ ہونے کے لیے ہم پر تول رہے تھے۔ ہماری بیگم کی دوہری شہریت اور اس کے لازمی نتیجے میں دیارِ غیر نقل مکانی کی درست پیشنگوئی کے بعد جنرل صاحب نے دوسری چوٹ ہمارے غیر یقینی مستقبل پر کی تھی۔ صحیح صحیح تو درکنار ہم تو اس سوال کا غلط جواب دینے کی بھی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔

کلی جوٹا اور باجوے


اگر آپ کا بچپن کنچے کھیلتے گزرا ہے تو آپ اس کھیل سے واقف ہوں گے جسے پنجاب کے دیہاتی دروبام ’کلی جوٹا‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ گیس دا نمبرگیم کی اس بگڑی ہوئی شکل میں ننھے منے ہاتھوں میں جتنے کنچے سما جائیں چُھپا کرپوچھا جاتا ہے کلی کہ جوٹا۔ اگر مخاطب جوٹا کہے تومطلب ہے کہ کنچوں کی تعداد جفت عدد ہے، دوسری صورت کلی میں چھپائی گئی گولیوں کی تعداد کاتخمینہ طاق عدد ہوتا ہے۔ اب کسے معلوم تھا کہ ہرمن جیت ایک بے مثال گیت لکھ ڈالے گا جسے فلم نکا ذیلدار ٹو میں ایمی ورک سونم باجوہ کے سامنے کچھ لہک اور کچھ جھجھک کر گائے گا


کلی جوٹا کھیڈدا اے رب ساڈے نال
ہاڑا جوٹا ای ہووہے
دل وچ ہووے اوہدے پیار میرے لئی
ماڑا موٹا ای ہووے


ہمارے ہیرو وِرک کی معصومانہ خواہش ہے کہ چھپا ہوا نمبر جوٹا یعنی جفت ہی ہو تاکہ وہ اور مِس باجوہ جوڑا بن سکیں۔ اس کا جواب سونم باجوہ ایک دلکش من موہ لینے والی مسکراہٹ سے دیتی ہیں تو سارے میں جیسے چانن ہوجاتا ہے۔ گانے میں آگے چل کر کچھ اور بھی غیر شریفانہ مطالبے آئیں گے مگر وہ ہم سے متعلقہ نہیں۔ یہ تو ایمی ورک تھا جو بازی چوپٹ ہونے سے پہلے معاملات کو کچھ آگے تک کھینچ گیا، ہم نے تو گیت کے پہلے انترے میں ہی سونم باجوہ کی مسکراہٹ کے مہورت پہ ڈھیر ہوجانا تھا۔ پس صاحبو ثابت یہ ہوا کہ کلی جوٹا کھیلنے میں لدھیانے کے وِرک ہوں یا فیصل آباد کے آرائیں، یا پھر شومئیِ قسمت سے میانوالی کے نیازی، مقابلے پر اگر باجوے آجائیں تو میدان باجووں کے ہاتھ رہتا ہے۔


2010 کی اس روشن دوپہر گلگت کے کوہساروں سے ڈھکے کمانڈر ایف سی این اے کے دفتر میں صورتحال کچھ کچھ دلچسپ ہو چلی تھی۔ جنرل صاحب کی گپت مٹھی میں ہماری عرضی کے جواب میں کیا تھا، کلی کہ جوٹا وہ اشارہ تک نہیں دے رہے تھے اور ایک مائل بہ ریٹائرمنٹ میجر اب تک سر کی خفی و جلی جنبش سے اتنی مودبانہ ٹھونگیں مار چکا تھا کہ اب تو ہمیں خود پر ایک ہدُ ہدُ ہونےکا گمان ہو چلا تھا۔ ایک غیر مطمئن حد تک چھائے اس سناٹے میں اس سوال کی بازگشت دوبارہ گونجی۔


ویئر ڈویوسی یورسیلف ان فائیو یئرز


صاحبو یہ کوئی سیدھا سادا سوال نہیں تھا بلکہ (آج کل کے ٹاک شوز کی زبان میں) ایک بیانیہ تھا کہ تم جو سٹاف کالج کی دہلیز کو پہنچی ایک بظاہر کامیاب فوجی زندگی کو لات مار کر جارہے ہو تو باہر جا کر کونسی توپ چلاؤ گے۔ آپس کی بات بتائیں تو تب تک ہماری بھوش وانی کے کینوس پر مستقبل قریب میں چلانے کے لیے کسی توپ کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا، ہاں ہر فیصلہ کن چوراہے پر ڈرائیور سائیڈ کا دروازہ کھولے ایک ٹیکسی ضرور کھڑی تھی۔ اس سے پہلے کہ ہم شیخ چلی کی اس انڈوں کی ٹوکری کی بے توقیری کو طشت از بام کردیں ہم نے توقف کیا۔

ذکر کچھ ناموں کا


پاکستان ملٹری اکیڈیمی کی اپنے کیڈٹوں پر دان کردہ نعمتوں میں سے ایک پی ایم اے نیم (PMA Name) ہے۔ ہر فوجی کا ایک پی ایم اے نیم ہوتا ہے۔ کل کو وہ کیسا ہی نابغۂ روزگار قابل افسر یہاں تک کہ چیف بھی بن جائے اس کے کورس میٹس نجی محفلوں میں اسے اسی نام سے جانتے اور پکارتے ہیں۔ اب اکثر پی ایم اے نیمز ناقابل اشاعت تو ہوتے ہی ہیں مگر کورس میٹس کی محفلوں سے باہر انہیں افشا کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ یہ فوجی زندگی کے ان لکھے ضابطوں میں شامل ہے۔ ہر افسر کا پی ایم اے نیم اس کے ساتھ قبر میں جاتا ہے، ہمارا بھی وہیں جائے گا۔ لیکن ہمارے ساتھ فوجی زندگی میں پیش آنے والے ایک حادثے کے بعد ہونے والا سانحہ یہ ہوا کہ ہم ایک اور نام سے مشہور ہوگئے۔


فوج میں فرائض کی ادائیگی کے دوران زخمی ہوجانے یا چوٹ آجانے پر ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے ایٹریبیوٹیبل ٹوآرایگریویٹڈ بائی ملٹری سروس (attributable to or aggravated by military service) ایسی چوٹ جسے پیش آنے یااس کے بڑھ جانے میں فوجی سروس وجہ رہی ہو۔پاکستان ملٹری اکیڈیمی کے دنوں میں جب ہم پلاٹون کمانڈر تھے، دورانِ ٹریننگ پیش آنے والے ایک حادثے نے ہمارے بائیں گھٹنے کو گھائل کر دیا تھا۔ ان دنوں ایم آر آئی ایم ایچ راولپنڈی میں ہوتی تھی اور ایک لمبی ویٹنگ لسٹ میں لوگ اپنے اپنے مجروح اعضاء سہلاتے مہینوں انتظار کیا کرتے۔ لگے ہاتھوں سی ایم ایچ ایبٹ آباد کو اور کچھ نہیں سوجھا تو نیم حکیم کے کوائف پر پورا اترتے ہوئے راج مستری لگا ہماری ٹانگ کو پلستر سے ڈھک دیا۔ لگ بھگ ایک ماہ ہم اپنی بائیں ٹانگ کو ایک کٹھور پلستر کے شکنجے میں جکڑوا بستر پر پڑے رہے۔ پلستر عین اس جگہ سے شروع ہوکر جہاں اپنے پنجاب کی ہیروئنیں ’پٹ کا سرہانا‘ لگا کر سونا پسند کرتی ہیں سیدھا ایڑی کی حدِ فاصل تک لیپ دیا گیا تھا سو نہ تو ہم نے بستر کو چھوڑا اور نہ ہی ثانی الذکر نے اول الذکر کو یعنی ہمیں۔ نتیجتاً جب پلستر اترا تو اکڑی ہوئی ٹانگ کو رواں کرنے کے لیے اگلے ایک مہینے میں ہم فزیو تھراپی والوں کے مستقل مہمان بنے رہے۔


خدا خدا کرکے ایم آر آئی کی باری آئی تو کچھ کچھ گھٹنے کی چوٹ کا اصل تخمینہ سامنے آیا۔ ہمیں وہ دن جزئیات کے ساتھ یاد ہے جب ہم اپنے بے پروا اور اسی قدر بے مروت آرتھوپیڈک سپیشلسٹ میجر عاصم کے روبرو اپنی رپورٹ سمیت حاضر ہوئے۔ رپورٹ دیکھتے ہی میجر صاحب کے منہ سے بے اختیار نکلا

Man! Your knee is f**ked!

ہم کچھ چونکے تو میجر صاحب محتاط سے ہوگئے اور ہمارے استفسار پر کچھ کچھ ڈپلومیٹک جواب دینے لگے۔ کھٹک تو ہم اسی دن سے گئے تھے۔ لگ بھگ دو سال مختلف ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے چکر کاٹنے اور دو سرجیکل پروسیجرز کے بعد ہم اٹھنی کی سائز کا میڈیل مینسکس (medial meniscus) کا ایک ٹکڑا ٹوٹ کر گنوانے اور اے سی ایل ٹیئر (ACL tear) کے باعث ۲۵ فیصد ڈس ایبیلیٹی (disability) کے ساتھ مستقل طور پر میڈیکل کیٹیگری ڈاؤن ہوگئے۔ ایک طبی معائنے کے بورڈ نے ہمیں انتظامی امور سے متعلق پوسٹنگ کے لیے موزوں کرتے ہوئے ہمارے چوکڑیاں بھرتے آپریشنل کیرئیر کے قبل از وقت خاتمے پر مہر لگا دی تھی۔

ہماری پروفیشنل زندگی کو جو جھٹکا لگا سو لگا سونے پر سہاگہ پی ایم کے پلاٹون کمانڈرز میں جن میں ہمارے کورس میٹس اورامیجیٹ جونئیرز اور سینیئرز شامل تھے ہمارا نام عمران گوڈا مشہورہوگیا۔ جو آج بھی ہےاور جب تک ہم ہیں ہمارے ساتھ رہے گا۔ بُرا ہو اس لکھنے کے تسلسل کا کہ گُپت رکھنے والی چیز کا ہم نے خود ہی اشتہار لگا دیا۔ چلیں جو ہوا سو ہوا اب اگر ہمارے پڑھنے والوں کے ذہن میں ہمیں پیش آنے والے حادثے کے عوامل اور اس کی تفصیل جاننے کاتجسس کلبلا رہا ہے تو وہ ہم نہیں بتائیں گے۔ وہ ہمارے ساتھ ہماری قبرمیں جائیں گی۔

گھٹنے کی تکلیف


ان پیشہ ورانہ اور جذباتی دھچکوں سے ہٹ کر ہماری زندگی کی شاہراہ میں سست روی کی ایک اور لہر جو داخل ہوئی وہ فزیکل انجری تھی، وہ بھی گھٹنے کی۔ صاحبوگھٹنےکی تکلیف کا مسئلہ یہ ہے کہ

جہاں معلوم ہوتی تھی، کمبخت وہیں معلوم ہوتی ہے


لیکن جب پاک فوج کے میڈیکل بورڈ کو ہماری سٹاف کالج کے داخلی امتحان میں کامیابی کی خبر ملی تو انہوں نے یہ جانچنے کے لیے کہ ہم سٹاف کالج کے لیے موزوں ہیں یا نہیں ایک بار پھر ہمیں طبی معائنے کے لیے بلا بھیجا۔ ماروں گُھٹنا پھوٹے آنکھ کے مصداق وہ ’سالے‘ ہمارے مجروح گھٹنے کو ہماری دماغی صوابدید سے ملا رہے تھے۔

گستاخی معاف اوپر سالے لفظ اس لیے لکھا کہ بہت دل کیا کہ اسی اندازِ تخاطب کا گیئر لگا کر کہیں کہ ’سالو! ہمارا دماغ کیا ہمارے گھٹنے میں ہے‘۔ لیکن صاحب جس رینک سینیارٹی کے افسر وہاں بیٹھے تھے ہم خود ان کے برادرِنسبتی بننے کی بھی استعداد نہیں رکھتے تھے سو خاموشی سے ان کی رائے سنا کیے۔ بورڈ نے ہمیں سٹاف کالج جانے کا اجازت نامہ تھمایا تو جوش خطابت میں ہم نے یہ ضرور کہا کہ ہم جو اپنی’میڈیکل کنڈیشن‘کے باوجود پچھلے ایک سال سے ہمالیہ کے پہاڑوں پر مٹرگشت کررہے ہیں اور ابھی اس بورڈ کے لیے ہم نے براہ راست سکردو سے اجلاس فرمایا ہے تو کیا فاضل بورڈ ہماری مستقل ڈاؤن میڈیکل کیٹیگری پر نظرِ ثانی کرےگا؟

ہمیں ملنے والا جواب سیدھا اور قطعی تھا ’نہیں‘۔ اور آنے والے وقت میں بھی اس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ کچھ لمحے بڑے فیصلہ کُن ہوتے ہیں۔ بہت عرصے سے میں اور مانی جس اندرونی کشمکش کے دودھاری پُل صراط پراٹکے ہوئے تھے میڈیکل بورڈ کے اس ایک فیصلے کی جست سے یکبارگی پار اُتر گئے۔ اللہ بخشے منیر نیازی نے کہا تھا


اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا


ایک مشکل فیصلے کے دو دھاری پل صراط کے پار اترتے ایک مائل بہ ریٹائرمنٹ میجر کو اس کا آؤٹ گوئنگ باس پوچھ رہا تھا
‘ویئر ڈو یو سی یورسیلف ان فائیو ییئرز’

یہ کمپنی نہیں چلے گی


ہم نے بھی دل ہی دل میں اپنی سابقہ قابلیت کا تخمینہ لگایا کہ جو کچھ فوج میں کیا اتنا یا اس سے تھوڑاکم باہر بھی کر ہی لیں گے۔ دل سے شہ پائی تو ہم گویا ہوئے کہ سر ابھی امیجیٹ تو کچھ نہیں سوچے ہیں مگر ایک دن کسی آرگنائزیشن کے وی پی یا پریذیڈنٹ تو ہو ہی جائیں گے۔تمسخر کی ایک لہر جنرل صاحب کے چہرے پر نمودار ہوئی اور انہوں نے فوج کا وہ غیر سنجیدہ ٹریڈ مارک فقرہ جس میں کچھ گیندوں کی طرف اشارہ ہے ادا کرتے ہوے کہا۔


کسی کمپنی کا وی پی یا پریذیڈنٹ! مائی بالز


آپس کی بات بتائیں تو جنرل صاحب کی یہ بات بھی سچی تھی۔فوج چھوڑے ہوئے ایک دہائی سے اوپر ہوگیا اورملک چھوڑے ہوئے لگ بھگ نصف دہائی سے زیادہ کا عرصہ۔ ہم ابھی تک کسی کمپنی کےوائس پریذیڈنٹ تو درکنارسینیئر مینیجربھی نہیں لگے۔ لیکن صاحب الحمدللہ جس بے نیازی اورطمانیت سے فوج کی نوکری کی تھی اسی قدر بلکہ اس سے زیادہ فوج اور ملک سے باہر کے رنگ اور ڈھنگ دیکھے ان سے لطف اندوز ہوئے اور ہورہے ہیں۔ جس بیٹی کی پڑھائی کے اہتمام کے لیےہجرت کا فیصلہ کیا تھا وہ ماشاءاللہ ہائی سکول کی گریجویشن سے سرخرو ہو کر اب یونیورسٹی آف ٹورنٹو کی فضاؤں میں پنکھ پھیلائے اڑنے کو تیار ہے۔ پروردگاراس محفل کی رنگین رونقیں آباد رکھے، جگ جیوندیاں دے میلے۔


اس سارے عرصے میں وطن عزیز میں بھی بہت کچھ بدلا اور بدل رہا ہے۔ مگر آج سے دس گیارہ سال پہلے کی گلگت کی اس ڈھلتی دوپہر میں جب جنرل صاحب سے کسی کمپنی کے وی پی یا پریذیڈنٹ بننے کی بات ہوئی تھی، ہمیں نہیں پتا تھا کہ ایک مستقبل تمنائی کے التجائی لہجے میں ادا کی گئی اس خواہش اورجواباًایک حاکمانہ بےنیازی سےجھٹک دی گئی اس بات کو آنے والا وقت ایک دن سچ کر دکھائے گا۔ مگر گلگت کی اس ڈھلتی دوپہر ابھی یہ سب کچھ ہونے میں کچھ دیر تھی۔ بساطِ وقت پرکھیلی جانے والی بازی کے پانسے اور نردیں، میرؔ کی زبان میں کچی پڑی تھیں اور گھر ابھی دور تھا


تیں آہ عشق بازی چوپڑ عجب بچھائی
کچی پڑیں ہیں نردیں گھر دور ہے ہمارا


ڈان کی نیپی ابھی ٹھیک جگہ بندھی تھی اور اس کے لیک ہونے میں دیر تھی، آر ٹی ایس کے چال والے پرزے ٹھیک کام کرتے تھے، ایک متبادل تخت اور (جسٹ ان کیس تیار کیے جانے والے) تختے کی وارنش ابھی گیلی تھی، اور ایک کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز ابھی پریذیڈنٹ کی جنبش ابرو کا انتظار کر رہے تھے۔

ابھی کچھ دیر تھی۔ ابھی تو سہیل وڑائچ نے وہ کتاب ترتیب دینا شروع بھی نہیں کی تھی۔ وہ جس کا بھلا سا نام ہے۔ ہاں یاد آیا ’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘

اس داستانِ سبکدوشی کا اگلا حصہ لکھیں گے یا نہیں اس پر ہم فی الوقت کچھ نہیں کہہ سکتے۔ دنیا میں ہر طرف غیر یقینی کا دور دورہ ہے۔ تیل کی قیمتیں اور افراطِ زر نے ایک قیامت برپا کر رکھی ہے۔ ادھر وطن عزیز میں بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا ہے، ابھی بھی بہہ رہا ہے۔ اس غیر یقینی کے غیر جمہوری بادل کچھ چھٹیں تو شاید ہم بھی آخری حصہ قلمبند کرنے کی ہمت کریں۔

کیا کریں ہمیں بھی زندگی اور پنشن دونوں پیاری ہیں۔

share this article

Join the Conversation

1 Comment

  1. The choosing of words and narrating them into sentences made me feel like I was sitting inside the office, while the interview was being taken.. Loved it

Leave a comment

Your email address will not be published.