اُچے برج لاہور دے


بقیہ تفصیل تو ہمارے ذہن میں کچھ کچھ دھندلا گئی ہے، اتنا یاد ہے کہ ایکسل لیب کے بزنس وزٹ سے واپسی پرمیں اورآپریشن مینیجر عبدالوحید لاہور کے مسافرتھے۔ پتوکی سے ہوتے ہوئے چونیاں کینٹ کا بائی پاس پکڑ ہم نے منہ ول قصورشریف کیا اورتھوڑی دیرمیں کھڈیاں خاص کے پاس دیپالپور۔ قصور روڈ کوجا لیا۔

رات گہری ہوچلی تھی اور پپوٹے بھاری جب قصور سے کچھ پہلے ہم ایک وے سائیڈ ہوٹل پر چائے پینے رکے۔ گرم چائے کی سُرکیاں لیتی وہاں بیٹھی مقامی لوگوں کی ایک ٹولی نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ باتوں باتوں میں لاہورکا ذکرآیا تو قصور کی انگڑائیاں لیتی اس سرد رات میں بابا بلھے شاہ کی نگری کے ایک باسی نے بے اختیار کہا


اُچے برج لاہور دے
جتھے بلدے چار مشال
ایتھے ای میاں میرؒ دی بستی
ایتھے ای شاہ جمالؒ
اک پاسے دا داتاؒ مالک
اک دا مادھو لالؒ

اسی رات کی مسافت میں میں اورعبدالوحید صاحب اچے برج والے لاہور پہنچ گئے اوربات آئی گئی ہوگئی۔ بعد کے دنوں میں ایک اتوار کی کسلمندی میں میں چارمشال کھوجنے نکلا تو میاں میر سے ہوتا ہوا مادھو لال حسین اوروہاں سے داتا دربار تک ہو آیا۔ شاہ جمال کی حاضری کسی مہاجن کے قرض کی طرح ہم پراُدھارہی رہی

دربار حضرت میاں میر
گنج بخش فیض عالم مظہر نورِ خدا

صاحب اُسی اُچے برج لاہورکا ذکر ہے کہ ہمارے دن کچھ بے فکری سے کٹ رہے تھے۔ امیگریشن ویزا کی کاغذی کارروائی کے آخری مرحلے میں ہمارا پاسپورٹ ہائی کمیشن والوں نے منگوا لیاتھا اور ایکسل لیب کی مینیجمنٹ ان دنوں لاہورمیں ہمارا متبادل تلاش کررہی تھی۔ مگر جب ارباب اختیار ہماری سفری دستاویز کو سردمہری کی دھیمی آنچ پر دم پخت لگا کچھ بے نیازسے ہوگئے اور ہمارے انتظار کی گھڑیاں سہ ماہی سے ہوتی ششماہی خانے میں سستانے لگ گئیں تو دلِ بے پرواہ کو ایک تشویش نے آگھیرا۔ اس ساری بے یقینی میں واحد پائیدار ہماری نوکری تھی۔ کمپنی کو دیے گئے ہمارے تین ماہ کے نوٹس کا عرصہ مکمل ہونے کے باوجود ہم برسرِ روزگار تھے۔ ایکسل لیب کی انتظامیہ نے ہمیں یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ پاکستان میں ہمارے قیام تک ہماری خدمات سے مستفید ہوتے رہیں گے۔ صاحب ایسے ایمپلائر قسمت والوں کو ملتے ہیں۔

بارے روزگار تو تسلی ہوئی مگر بیوی بچوں سے دوری کو کافی وقت ہوچلا تھا۔ اپنے پیاروں کی یادوں سے بوجھل ایسی ہی ایک شامِ شہرِیاراں میں ہمارے جانی جان لاہوری دوست نے کہا ’پائین تسیں شاہ جمال دا چکر کیوں نہیں لاندے۔ اوتھوں بیڑا پار ہوجانا جے۔‘ ہم بالکل بھی خوش عقیدہ لوگوں میں سے نہیں ہیں مگر اپنے عزیزدوست کی فرمائش پر یاد آیا کہ اُچے برج لاہور کے چار مشال والا شاہ جمال کے دربار کا چکر ہم پر ابھی تک اُدھار تھا۔ اب یہ اور بات کہ شاہ جمال پر حاضری کے چند ہی ہفتوں کے اندر ہمارا پاسپورٹ مع امیگریشن ویزا بذریعہ واپسی ڈاک آگیا۔ صاحب ہم صدقِ دل سے یہ مانتے ہیں کہ اس ساری کارروائی میں صاحبِ مزار کا (نعوذ باللہ) بالکل بھی کوئی ہاتھ نہیں مگراس کا کیا کریں کہ ہمیں وہاں لے جانے والا کوئی غیرمرئی ہاتھ تھا اور وہاں دریافت ہونے والی کہانی ایک مافوق الفطرت داستان۔

صاحبو، نہرسےجو راستہ شاہ جمال کی بھول بھلیوں کو جاتا اور چبوترے کی سیڑھیوں سے اوپر چڑھتا ہے وہیں مزارکے تکیے سے پہلو بچاتے دالان میں ایک طاقچے پر آس اور یاس کے کچھ روشن ٹمٹماتے دیے امید و بیم کی ایک ہزارایک کہانیاں سناتے ہیں۔ مزار کے پچھواڑے شادمان کی گلیاں جب جیل روڈ کو پلٹتی ہیں تو وہیں ایک گول چکر پر گئے دنوں کی ایک سوگوار یاد کا بین کرتی حال کھیلتی ہیں۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ یہیں کہیں صاحب مزار کی ملاقات ماضی کےایک انقلابی بھوت سے ہوتی ہے

اسیں قصوری، ساڈی ذات قصوری


چیئرنگ کراس کے جنوب مغرب میں جہاں کوئینز روڈ اور لارنس روڈ آپس میں گلے ملتے ہیں ساتھ ہی ایک بغلی گلی میں شاہ عنایت کا مزار ہے۔ شاہ عنایت ہمارے بابا بلھے شاہ کے مرشد تھے


شاہ عنایت سائیں میرے
ماپے چھوڑ لگی لڑ تیرے
لگیاں دی لج جان
وے ویہڑے آ وڑ میرے
کوئینز روڈ پر شاہ عنایت کا مزار

شاہ عنایت قصور سے آٹھ کر لاہور آگئے تھے اور یہیں دفن ہوئے۔ بلھے شاہ نے (ان کے اپنے ہی لفظوں میں) قصوری روش برقرار رکھی اور قصور کو ہی اپنا مسکن بنائے رکھا اور انجام کار قصور میں ہی ان کا مزار ہے۔


اسیں قصوری، ساڈی ذات قصوری، اسیں وچ قصور دے رہندے

اب یہ اور بات کہ بلھے شاہ کی غیر روایتی سوچ اور نظریات کی بدولت ان کی زندگی بھی مشکلات میں گزری اور بعد از مرگ بھی قصور کے لوگوں نے جن میں خیشگی پشتون پیش پیش تھے کچھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ اٹھارویں صدی کے قصور میں بلھے شاہ کو دفن کے لیے دوگز زمین دینے پر بھی کوئی راضی نہ ہوا اور ہمارے صوفی کو شہر کی دیواروں کے باہر دفنایا گیا۔ اور یہ بھی قصور کے افغان خیشگی پشتون ہی تھے کہ انہوں نے جب جب لاہور پر ڈالی بری نظر ہی ڈالی۔ ہم واپس قصور کی اور پلٹیں گے مگر آئیے پہلے کچھ خبر لاہور کی لیتے چلتے ہیں۔

شاہ جمال کے مزار کے عقب میں چھوٹی گلیوں کی بھول بلیوں سے نکل کر روڈ پر آجائیں تو وہاں سے شادمان کی سڑک جیل روڈ سے بغلگیر ہونے کی عجلت میں شمالاً جنوباً چلتی چلی جاتی ہے۔ اس روڈ پر دو گول چکر آتے ہیں۔ ہماری توجہ کی مستحق ان میں سے پہلی چورنگی ہے جو شاہ جمال کےمزار سے لگ بھگ پانچ سو گز دور ہے۔ نقشے پر یہ منظر ہمارے قارئین نیچے دی گئی وڈیو پر دیکھ سکتے ہیں۔

ماجد شیخ ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ علاقہ لہنا سنگھ کی چھاؤنی کہلاتا تھا اور عین ہماری اس چورنگی پر ایک عظیم الشان حویلی ہوا کرتی تھی۔ سردار لہنا سنگھ سے تعارف کے لیے ہمیں تھوڑا ماضی میں جانا پڑے گا۔ اٹھارویں صدی کے ہندوستان کا ذکر ہے۔ نادرشاہی قتلِ عام کے زخم ابھی تازہ تھے۔ احمد شاہ ابدالی کے پے در پے حملوں نے پنجاب کو پنجابی محاورے کے مطابق ’مدھول‘ کر رکھ دیا تھا۔ کہنے والے کہتے تھے کہ گندم کے خوشوں اور مویشیوں کے تھنوں میں دودھ اترتا تو احمد شاہی فوج کو خبر ہوجاتی جو اپنا خراج وصول کرنے چڑھ دوڑتی۔ پنجاب کے میدان آج بھی اس کہاوت کی بازگشت سے باہر نہیں نکلے جو احمد شاہی لشکر کی دھول میں گونجا کرتی تھی۔


کھادا پیتا لاہے دا
رہندا احمد شاھے دا

یہ وہ دور تھا جب سکھ جتھوں میں بھنگی مِسل زور پکڑ رہی تھی۔ احمد شاہی حملوں کا زور کچھ کم ہوا تو لاہور کی راجدھانی پر تین سکھ سرداروں کے عروج کا سورج طلوع ہوا۔ گجرسنگھ (قلعہ گجرسنگھ والے)، سوبھا سنگھ اور لہنا سنگھ مجیٹھیا، ہمارے شادمان کی چھاؤنی والے لہنا سنگھ۔ تیس برس اور گزرے اور اقتدار اس مضبوط سکھ مثلث سے ان کی کمزور اولادوں کے ہاتھوں میں گیا تو لاہور میں بھنگی مِسل کے چراغ کی لو بھی ٹمٹمانے لگی۔ یہ وہ وقت تھا جب قصور کے خانزادوں کی آنکھیں للچائی ہوئی نظروں سے لاہور کو دیکھنے لگی تھیں۔ لیکن ابھی لاہور کے سنگھاسن پر امرتسر کی دشا سے ایک مہاراجہ نے آنا تھا۔ اسے بلانے والوں میں لاہور شہرکی آرائیں برادری بھی تھی۔ اب یہاں تاریخ کے چغل خور جو نام چپکے سے ہمارے کانوں میں ڈالتے ہیں ان میں ایک نام چوہدری محکم دین کا بھی ہے۔ حجرے شاہ مقیم کا چوہدری محکم دین ذیلدار جو نواں کوٹ لاہور میں سبزیوں کا آڑھتی تھا اور اندرون شہر بھی مال سپلائی کرتا تھا۔

محکم دین نے رنجیت سنگھ کی فوج کو رات کے اندھیرے میں موری گیٹ کے پاس وہ بدرو دکھائی جس سے شہر کی آلائش بیرونی خندق میں گرتی تھی۔ رنجیت سنگھ کے سپاہی اس شگاف سے اندر داخل ہوئے اور لوہاری گیٹ کے در کھول دیے۔ رنجیت سنگھ نے اگر خونریزی کے بغیر تخت لاہور پر قدم جمائے تو اس کا کریڈٹ محکم دین آرائیں کو جاتا ہے۔مثل مشہورہے ’آرائیں۔ مطلب تائیں‘۔ برانہ منائیے گا ہم خود آرائیں ہیں اوراس مثل کی صداقت میں اپنی مثال پیش کرنے کو تیار ہیں۔ مگریہاں معاملہ الٹ ہوا، محکم دین کی مہاراجہ کی ہر دلعزیز مائی موراں سے کسی بات پر ان بن ہوئی تو رنجیت سنگھ نے توتا چشمی کا ثبوت دیا اور محکم دین سے بہت سی مراعات و نوازشات واپس لے لیں۔ محکم دین کے بارے میں فی الوقت اتنا ہی۔

لوہاری دروازہ

یہاں سے واپس شاہ جمال کے دربار کو پلٹتے ہیں جہاں پاس ہی شادمان کے گول چکر پر واقع لہنا سنگھ کی حویلی ہے۔ رنجیت سنگھ کے راج میں قصور کے خیشگی پشتونوں نے کئی بار لاہور پر لشکر کشی کی مگر ہر دفعہ منہ کی کھائی۔۔ جب ان سے اور کچھ نہ بن پڑا تو انہوں نے انگریزوں سے ساز باز کر کے رنجیت سنگھ کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ کہتے ہیں کہ قصور سے ایک وفد یہ سازشی تجویز لے کرلاہور آیا اور رنجیت سنگھ کے ایک جرنیل سے مِلا۔ یہ سازشی ملاقات شاہ جمال کے پڑوس میں لہنا سنگھ کی اسی حویلی میں ہوئی۔ اب ہوا کچھ یوں کہ اتفاق رائے نہ بن پڑا اور سازش کی بوُ پھیل جانے کا خطرہ لاحق ہو گیا تو رنجیت سنگھ کےجرنیل نے قصوری وفد کے سربراہ کی گردن اتاردی۔ قصور کے ایوانوں میں جب کٹا ہوا سر بمعہ سربُریدہ لاش پہنچے تو کہرام مچ گیا۔ یہ تب کی بات ہے کہ قصور کے جوتشیوں نے زائچے کھینچ پیشنگوئی کی کہ یہ خون اپنا انتقام خود لے گا اور لاہور سے شروع ہونے والا خون آشام چکر شاہ جمال کے ہمسائے میں شادمان کی اسی چورنگی کو پلٹے گا۔

انقلاب ! زندہ باد


گورنمنٹ کالج سے لوئرمال کے پار اتریں تو ڈی سی آفس کے بالکل ساتھ لاہور کے چیف آف ٹریفک پولیس کا دفتر ہے۔ بغداد کے پیرانِ پیر کے نام پر رکھی دو رویہ شیخ عبدالقادرجیلانی روڈ ٹریفک پولیس آفس کو گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز سے جدا کرتی ہے۔ بہت سال نہیں گزرے کہ ٹریفک پولیس کی جگہ یہاں ڈسٹرکٹ پولیس آفس ہوا کرتا تھا، اسلامیہ کالج کلمہ پڑھ کے مسلمان نہیں ہوا تھا اور ابھی ڈی اے وی (دیانند اینگلو ویدک) کالج کہلاتا تھا۔ یہاں دسمبر کی ایک تاریخ ساز دوپہر گولیوں کی گونج میں انقلاب زندہ باد کا نعرہ پروان چڑھا تھا، مگر اس کا ذکر کچھ دیر میں کرتے ہیں، ذری ایک چکر آگے کا لگا آئیں۔

اسلامیہ کالج سے اگر آپکا منہ اور نیت داتا دربار کی طرف ہو تو تھوڑا آگے گنج بخش ٹاؤن کی بھول بھلیوں میں ایک سالخوردہ عمارت بمشکل اپنے ڈھانچے پر کھڑی ہے۔ پہلی نظر میں گمان گزرتا ہے کہ اس کی اینٹوں کو جیسے زنگ لگ گیا ہو۔ ریٹیگن روڈ پرخستہ حال، آج ہے کل نہیں کے مصداق یہ گئے دنوں کا بریڈ لا ہال ہے۔ انقلاب کے نعروں سے گونجتی اس عمارت سے ہمارا ایک بہت ہی محبوب نام جڑا ہے، بھگت سنگھ۔

وہ 1905 کی پگڑی سنبھال جٹا ہو یا 1929 میں کانگریس کی پورنا سَوراج، بریڈ لا ہال مزاحمتی تحریکوں کا گڑھ تھا۔ یہیں لالہ لاجپت رائے نے نیشنل کالج کی بنیاد ڈالی جس کے فارغ التحصیل انقلابیوں میں ایک نام بھگت سنگھ کا ہے۔ لوئر مال سے جڑے آج کے ناصر باغ میں تقسیم سے پہلے جب یہ ابھی گول باغ ہوا کرتا تھا، جوش تقریر میں ایک انگلی آسمان کی طرف اٹھائے ایک مجسمہ لالہ لاجپت رائے کی یاد تازہ کرتا تھا۔ ایک آزاد اسلامی مملکت کو لالہ جی راس نہ آئے اور ہم نے بقیہ مہاجرین کی طرح اس مجسمے کو بھی انڈیا کی راہ دکھا دی۔ لاہور کے اس گم گشتہ سپوت کو جسکا لقب شیرِ پنجاب تھا بالآخر شملہ کے سکینڈل پوائنٹ میں ایک سنگ مرمری چبوترے پر جگہ مِل گئی۔

وہ نومبر 1928 کا ایک روشن دن تھا جب سائمن کمیشن کے خلاف موچی گیٹ سے نکلی احتجاجی ریلی پر پولیس نے وحشیانہ لاٹھی چارج کیا۔ جلوس کے شرکاء ہماری تحریک آزادی کے دنوں کا وہ جانا پہچانا نعرہ لگا رہے تھے ’سائمن گو بیک‘۔ پولیس کمشنر جیمز اے سکاٹ کے حکم پر برسائی گئی لاٹھیوں کی ضربوں کی زد پر آنے والوں میں لالہ لاجپت رائے بھی تھے جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں چل بسے۔ یہ تب کی بات ہے کہ بھگت سنگھ اور اس کے انقلابی ساتھیوں نے قسم کھائی کہ لالہ لاجپت رائے کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ ہمارے پڑھنے والوں میں سے جنہوں نے راکیش اوم پرکاش مہرا کی رنگ دے بسنتی دیکھی ہے انہیں شاید وہ منظر یاد ہوگا جب چندر شیکھر آزاد نے کہا ’ہمیں کچھ ایسا کرنا ہوگا جو انہیں جڑ سے ہلا دے‘ جس پر درگا بھابھی نے بے دھڑک کہا تھا ’مار ڈالو اسے‘۔

اب ہم واپس ڈی اے وی کالج اور اس کے مقابل ڈسٹرکٹ پوليس آفس کی طرف پلٹتے ہیں، جنکا ذکر ہم نے اس قسط کے شروع میں کیا تھا۔ دسمبر 1928 کی ایک سرخ سہ پہر ڈسٹرکٹ پولیس آفس کے احاطے میں بھگت سنگھ نے راج گرو اور چندر شیکھر آزاد کے ساتھ ملکر ایک فرنگی پولیس افسر کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ جائے وقوعہ سےکورٹ سٹریٹ اور پھر اسلامیہ کالج کے ہوسٹلوں کی دیواریں اور چھتیں پھلانگتے انقلابیوں کی یہ ٹولی دیو سماج روڈ کے راستے فرار ہوگئی۔ یہ عقدہ بعد میں کھلا کہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جیمز سکاٹ کے مغالطے میں بھگت سنگھ اور ساتھیوں نے ایک نو آموز پروبیشن پر آئے جان سانڈرز کو مار ڈالا تھا۔ ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن آرمی کے پمفلٹوں پر ایک نام تبدیل ہوا مگر نفس مضمون وہی رہا۔


جے پی سانڈرز مارا گیا۔ ہم نے لالہ لاجپت رائےکا بدلہ لےلیا

لاہور کی سڑکوں پر دن دہاڑے ایک فرنگی کے قتل کی بازگشت بہت دور تک سنی گئی۔ آنے والے دنوں میں نو آبادیاتی نظام عدل نے آزادی مانگنے والے ان جانبازوں کو موت کی سزا سنانی تھی۔ آزاد منش روحوں کو سیاسی قیدیوں کا درجہ پانے کے لیے ابھی بھوک ہڑتال کرنی تھی اور بھگت سنگھ نے ابھی پھانسی کے مقابلے میں فائرنگ سکواڈ کے انتخاب کی ناکام عرضی دینی تھی۔ اور اس سب کے ساتھ ساتھ فرنگی سرکار کو ایک اور بڑے مسئلے کا سامنا کرنا تھا۔

گنج بخش ٹاؤن کا بریڈ لا ہال
ناصر باغ کا دروازہ جو ٹاؤن ھال سے گورنمنٹ کالج کی طرف جانے والی سڑک پر دائیں ہاتھ آتا ہے۔ یہ تصویر ہمارے دوست احسن اقبال کی عطا کردہ ہے
شملہ کے سکینڈل پوائنٹ پر لالہ لاجپت رائے کا مجسمہ
بھگت سنگھ
لالہ لاجپت رائے کے قتل کے بدلے کی خبر دیتا ہندوستان سوشلسٹ ری پبلکن آرمی کا پوسٹر

آج کے گوگل میپ پر قصور شہر ایک تکون کے مانند دکھائی دیتا ہے۔ غور کرنے پر اس مثلث کے عین قلب میں بابا بلھےشاہ کا مزار ہے۔ ایک عالیشان مسجد کے پہلو میں نسبتاً ایک سادہ سے چوکور کمرے میں تیرے عشق نچایا کرکے تھیا تھیا والا درویش اپنی ابدی نیند سو رہا ہے۔ مزار کے احاطے میں ایک اور کمرے میں چند ایک قبریں ہیں۔ وہاں ایک کتبہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہ شہید جمہوریت نواب سردار محمد احمد خان قصوری کا مدفن ہے۔ تاریخ شہادت 11 نومبر 1974 درج ہے۔ تاریخ کے رنگ بھی نیارے ہیں قصور کے وہی خیشگی پشتون جنہوں نے بلھے شاہ کے انتقال پر لادینیت کے فتوے لگا اس کی لاش کو قصور شہر کی دیواروں کے اندر دفن ہونے کے اجازت بھی نہ دی ان میں سے ایک اسی مزار کے احاطے میں دو گز زمین کا زمیندار ہے۔ مگر قصور کے اس خیشگی خانزادے کی کہانی اس سے آگے بھی ہے۔

لاہور سازش کیس میں قائم کیے گئے اسپیشل ٹریبونل کی سنائی گئی سزاؤں کے تحت بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو 7 اکتوبر 1930 کو پھانسی دی جانی تھی جو بوجوہ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی۔ بہت سی قانونی پیچیدگیوں اور ان پر جع کروائی گئی درخواستوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے انگریز سرکار نے 18مارچ کو بلیک وارنٹ جاری کردیے جن کے مطابق پھانسی پر عملدرآمد 24 مارچ 1931 کو ہونا تھا۔ ہند کے گلی کوچوں میں بھگت سنگھ اب ایک زندہ نام بن چکا تھا اور پورے ہندوستان میں کوئی مجسٹریٹ پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کروانے کے لیے تیار نہیں تھا۔ تب انگریز سرکار کو قصور کے خیشگی سرداروں میں سے ایک اعزازی مجسٹریٹ نے اپنی خدمات پیش کیں۔ بوکھلاہٹ اور جلد بازی میں ہمارے نو آبادیاتی آقاؤں نے انقلاب کے سرخیل جوانوں کی پھانسی کے انتظامات ایک دن پہلے ہی مکمل کر لیے اور بھگت سنگھ، سکھ دیو اور راج گرو کو اپنے رشتے داروں سے آخری ملاقات کرائے بغیر دار کی رسیوں کے گلوبند گردن میں پہنائے تو اس بین کرتی ہوئی ہنستی گاتی شام میں پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کروانے اعزازی مجسٹریٹ نواب سردار محمد احمد خان قصوری پہلے سے موجود تھے۔

گئے وقتوں کے لاہور کی سنٹرل جیل میں پھانسی کے جس تختے پر بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی انقلاب زندہ باد کے نعرے لگاتے ایک مستی میں جھول گئے وہ شادمان میں ہمارے اسی گول چکر کی جگہ پر کھڑا کیا گیا تھا جہاں ایک زمانے میں لہنا سنگھ کی حویلی ہوا کرتی تھی۔ وہی حویلی جہاں رنجیت سنگھ کے قتل کی سازش کی مخبری ہونے پر قصوری افغانوں کے وفد کا سربراہ مارا گیا تھا۔ قصور کے جوتشیوں کی پیشنگوئی کی تعبیر میں شاہ جمال کے مزار کے ہمسائے میں بھگت سنگھ نے اپنا جیون دان کردیا تھا اور اس موت کی تصدیق پر ثبت ہونے والے دستخطوں میں سے ایک دستخط قصور کے نواب محمد احمد خان کے بھی تھے۔

قصور میں بابا بلھے شاہ کا مزار
بلھے شاہ کے مزار کے احاطے میں نواب محمد احمد خان قصوری کی قبر
نواب محمد احمد خان قصوری
یہ تصویر ڈاکٹر غلام نبی قاضی کی کلیکشن سے ہے اور یہاں ان کی اجازت سے استعمال کی گئی

ہماری کہانی آگے چلتی ہے کہ قصور سے چلے شادمان کو پلٹتے اس خون آشام چکر نے ابھی کچھ اور جانیں لینی ہیں۔ بھگت سنگھ کے واقعے کو نصف صدی بھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ جہاں کبھی پھانسی گھاٹ لگا تھا وہ جگہ اب فوارہ چوک کہلاتی تھی۔ یہاں ایک شادی کی تقریب میں آئے پاکستان پیپلز پارٹی کے نواب احمد رضا قصوری کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی اور نتیجے میں ان کے والد نواب محمد احمد خان قصوری اسپتال پہنچتے پہنچتے طبی امداد ملنےسے پہلے جان کی بازی ہار گئے۔ بھگت سنگھ کی پھانسی والے اعزازی مجسٹریٹ نواب محمد احمد خان قصوری کا قتل بعینہٖ شادمان کے اسی خون آشام چوک پر ہوا جہاں کبھی لہنا سنگھ کی حویلی تھی اور جہاں داعی انقلاب بھگت سنگھ نے پھانسی کے پھندے کو گلےلگایاتھا۔ قصور کا خونی چکر گھوم کر شادمان کے گول چکر کو آن ملا تھا۔

قصور کے نواب کا قتل پاکستان پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی بھٹو کے گلے کا ہار بنا، ایک اور عدالتی سرکس لگا اور راولپنڈی میں جہاں آج جناح پارک ہے اور میکڈونلڈز کا فرنچائز ہے جس کے پاس چار مینار کھڑے ہیں وہیں قصور کے خونی چکر نے ایک اور خراج وصول کرلیا اور نسرین انجم بھٹی نے’بھٹو دی وار‘ لکھی


میرے دشمن لِکھن عدالتاں میرے سجناں خبر پڑھی
میں مرزا ساگر سندھ دا میری راول جنج چڑھی

اور احمدبشیر نے دل بھٹکے گا میں کہا ’اب تو اس ڈرامے کے تمام ایکٹر مر چکے ہیں۔ بھٹو کو پھانسی ملی۔ ضیاء الحق کا جہاز گرا اور جسٹس مولوی مشتاق آخری سال گھر میں مقید رہ کر مرا تو اس کے جنازے پر شہد کی مکھیاں ٹوٹ پڑیں‘

قصور اور شادمان کے خون آشام چکر کا اثر ابھی ہے کہ ختم ہوگیا اس کے بارے میں مختلف لوگوں کی رائے مختلف ہے۔ مگر یہیں کہیں شادمان کے گول چکر کی قربت میں شاہ جمال کے مجاوروں سے مروی ہے کہ چاندنی راتوں کی دودھ دُھلی روشنی میں دربار کی سیڑھیاں چڑھیں تو جہاں دالان کے منّت کے چراغوں کی لو ستاروں سی ٹمٹماتی ہے بھگت سنگھ کا بھوت آج بھی شاہ جمال کے مزار کا طواف کرتا ہے اور کہنے والے کہتے ہیں کہ یہیں کہیں نظر بچا کر بھگت سنگھ کی ملاقات شاہ جمال سے ہوتی ہے


واللہ اعلم
شاہ جمال کا دربار
شاہ جمال کے دربار پر منّت کے چراغ
share this article

Leave a comment

Your email address will not be published.