چوتھی اورآخری قسط

پہلی قسط | دوسری قسط | تیسری قسط | آخری قسط

دیارغیرمیں عید کے چاند اور ماں کے پکوان سے جڑا شان والوں کا جذباتی اشتہارہمارے پڑھنے والوں کو یاد ہوگاجس میں بڑا بھائی امی کی فراہم کردہ ریسیپی کا جزواعظم یعنی شان بمبئی بریانی مصالحے کا پیکٹ استعمال کرتے ہوئے چھوٹے بھائی کے لیے ہوبہو پیکٹ سے مشابہ بریانی تیارکرکے جھٹ پٹ پروس دیتا ہے۔اشتہارمیں تواس کےعلاوہ اوربھی بہت کچھ تھا جیسے کہ بیک گراؤنڈ سکورمیں دعائیں لکھ کے چاند پرٹانگنے کی شاعرانہ مگرسائنس کے اصولوں سے متصادم تمنا، بھائیوں کے آنسو اور بیٹے کی فلیٹ آمد سے سنکرونائزڈ ماں کی انٹرنیشنل زوم کال وغیرہ مگر ہم بوجۂ طوالت ان کا ذکرنہیں کریں گے۔

صاحبو! چھاؤنیوں کے سکھ سے دورجب وردی بوٹوں والے سکیم پر یا پھرمیدانِ جنگ کی قربت میں فوجی کینوس میں خیمہ زن ہوتے ہیں تو چاند نکلے یا نہ نکلے گھرکا سکھ اور اس کے پکوان بے طرح یاد آتے ہیں۔ اب چونکہ زندگی شان مصالحے کا اشتہارنہیں ہے تو مصالحے کے پیکٹ کی جگہ آفیسرزمیس کے نمک مرچ اور گرم مصالحے کے پلاسٹک  کے ڈبوں کا تصورکرلیجئے اوربڑے بھائی کی جگہ میس کک (باورچی) خالق کا۔ اب اس تصوراتی خاکے میں کراچی کا رنگ بھرتے امی کی ریسیپی کی جگہ لیتے میجرشاہنواز کو لے لیجیے کہ یونٹ کے سیکنڈ ان کمانڈ ہونے کی رعایت سے ان کا درجہ یونٹ کی ماں کا ہی توتھا۔

تو واقعہ کچھ یوں ہے کہ گجرات کے میدان کارزارمیں کبھی بھی چھِڑجانے والی جنگ کی تیاری میں پلٹن جذبۂ جہاد سے سرشارتھی۔ ایسے میں کھانے کا ہوش کس کافر کو تھا۔ آفیسرزمیس کا بھلامانس کک خالق جو من وسلویٰ پروس دیتا ہم چپ چاپ صبرشکرسے کھالیتے۔ جنگ نے نہ ہونا تھا نہ ہوئی اور دھیرے دھیرے میدانِ کارزار ٹریننگ زون بن گیا تو ہم پر بھی واضح ہوگیا کہ چھ مہینے سال تک تو ہم کہیں نہیں جاتے۔ ایسے میں  وسطی پنجاب کی ایک گردآلود شام جب حبس زوروں پرتھا اور دورافق پر ایک لال آندھی طلوع ہونے کو پر تولتی تھی  میجرشاہنوازکو گھرکے پکوانوں سے جڑاعید کا چاند نظرآگیا۔ 

میس کے تمبو سے باہرجہاں افسروں کی ٹولی شام کی چائے سے دل بہلارہی تھی خالق کی طلبی ہوگئی۔ صاحب ہم دم بھرکو پیچھے ہٹ جاتے ہیں آپ ذری کراچی کے نستعلیق لہجے اور جھنگ کی رس بھری بولی کے مکالموں کا مزہ لیجئے

اماں خالق تم چکن کری بنالیتے ہو
جی سر
اچھا تو بتائیے کیسے بنتی ہے
سر کڑاہی لواں گا، وچ گنڈے سٹاں گا، ہری مرچ مصالحہ تے فیر چکن پا دیاں گے
اچھا توچکن کڑاہی بھی بنالیتے ہو
جی سر
اماں وہ کیسے بناتے ہو
اوہوای سر، کڑاہی لواں گا، وچ ٹماٹرپاواں گا، ہری مرچ مصالحہ تے فیر چکن
!بیڑا غرق ، دونوں میں فرق کیا تھا
سر کڑاہی وچ گنڈیاں دی تھاں ٹماٹرپائے تاں ہیگے

اتنے میں آندھی آ گئی

کارگل کےپہاڑوں پرسردیوں کی آمد کی کٹیلی صبح قطاراندرقطارچارممیاتے بکروں کو دیکھ کر جب کچھ اوسان بحال ہوئے اور یہ یقین ہوگیا کہ ہم خواب نہیں دیکھ رہے تو معلوم پڑا کہ یہ پوسٹ پرمقیم نفوس کا رواں سردیوں کے حصے کا مِیٹ آن ہوُف تھا۔ مِیٹ آن ہوُف کا آسان ترجمہ کریں تو یوں سمجھ لیجیے اپنے پاؤں پرچل کرآنے والاراشن ۔ سردیوں کی راشن ڈمپنگ جاری تھی اور یہ چارزندہ بکرے اپنے پاؤں پرچڑھتے لڑھکتے سنگلاخ چٹانوں اور ان گنت دعاؤں کے سائے میں سرمقتل آئے تھے۔ یوسفیؔ نے لکھاہے کہ مسلمان کسی ایسے جانورکو پیاربھری نظروں سے دیکھ ہی نہیں سکتے جسے وہ ذبح کرکے کھانہ سکیں۔تو صاحب وہاں ہمالیہ کی بلندیوں پر ہمارے پوسٹ کے مکین بشمول ہمارے جن نظروں سے ان بکروں کودیکھ رہے تھے وہ پیار بھری تو نہیں البتہ للچائی ہوئی ضرورتھیں۔ ران ، دستی، گردن کو بتدریج ٹٹولتی اور پپولتی ہوئ۔مڈھ قدیم سے  ڈبہ اوراسکے مشمولات بمعہ اچارکھاتے  بے قناعتے شکموں پر ان برفاب چوٹیوں میں شان مصالحےکے اشتہارکاچاند طلوع ہوگیاتھااور چارسو چھٹکی چاندنی میں ہم اپنی اپنی ریسیپیوں کو یادداشت کے پردے پرحفظ کرنے میں لگ گئے تھے۔

ایک ہی رات کی چابکدستی میں جب چارقربانیوں کی رسم بطریق احسن ادا ہوگئی اور گوشت کے پارچے ہمالیہ کے برفیلے مدفن میں محفوظ کرلیے گئے تو ہم پرمنکشف ہواکہ بلتی کوُزیِن میں ذبح شدہ بکرے کا ہرعضو کسی نہ کسی ترکیب میں خوردنی اور مباح ہے سوائے سِری کے۔ ہم نے پوسٹ کک نبی کو بمشکل ان چارسرین کو تلف  کرنے سے روکے رکھا کہ ہمارے  اند رکا لاہوری مغزاوربرین مصالحے کی لعاب دارخواہش پر ریجھ سا گیا تھا۔ اب وہاں نہ شان مصالحے کے پیکٹ اور نہ ہی اماں کے باورچی خانے کی ترکییبیں  ۔ یادداشت کی زنبیل کو ٹٹولاتو  یوسفیؔ کے یارطرح دار بشارت علی فاروقی جو کھانے کے معاملے میں کافی نفاست پسند واقع ہوئے تھے، کا بھنے ہوئے مغزکی مدح میں یہ فرمان یاد آیا۔

لہسن کا چھینٹا دے دے کے بھونا جائےاور پھٹکیوں کو گھوٹ دیا جائے تو ساری بساند نکل جاتی ہے۔ بشرطیکہ گرم مصالحہ ذرا بولتا ہوا اور مرچیں بھی چہکا مارتی ہوں۔

اگلو میں ہمارے اگلےحکم کے انتظارمیں کھڑے نبی کے سامنے مندرجہ بالا ترکیب کے الفاظ کی ہم نے دل ہی دل میں چند ایک مرتبہ جگالی کی تو سچ بتائیں ہماری بات کھولنے کی ہمت ہی نہیں پڑی۔ گجرات کے کارزارمیں مکالمۂ خالق و شاہنواز ہو یا ہمالیہ کے برف زار میں موازنۂ عمران ونبی حاصل کلام چکن کڑاہی اور بھنے مغز کی  فال نکالنے کو ہمارے قارئین کی ذہانت  کافی ہے۔

صاحبو، ان آدم بیزار بلندیوں پرجہاں موسم کی شدتیں دوسرے علاقوں سے کہیں بڑھ کر اثرانداز ہوتی ہیں اورزندگی کی ساعتیں کسی غش کھائے کھچوے کی سی سست رفتاری  سے گزرتی ہیں، وہاں بھی موسم بادل سورج اورہوا دل پر محبت کسک خوشی اورغم کی آنکھ مچولی کھیلنا نہیں چھوڑتے جو نسل انسانی کو ودیعت ہوئی ہے، کہ وہاں کے رہنے والے بھی ہماری آپ کی طرح کے انسان ہیں اور ہمالیہ کے برفستان میں بھی ان کے سینے میں ایک دل ہے کہ جو دھڑکتا ہے۔ ۱۵ ہزارفٹ کی بلندی پربھی سورج کاطلوع ہونا امید کا پیامبربن کے آتا ہے اور دن ڈھلنے اورشام کے اترنے کا منظراداس کردینے والا ہوتا ہے۔ بانو قدسیہ نے راجہ گدھ میں شام کا ذکربہت تفصیل سے کیاہے ۔ شام جو آفتاب کو ایئرپورٹ پر سی آف کرکے پلٹتے قیوم کو چھاؤنی میں ملی تھی ۔ بانو آپا کاماننا ہےکہ

شام کے وقت ہمارے اندررہنے والے پتھراوردھات کے زمانے والے انسان کے ساتھ بہت کچھ بیت جاتی ہے۔تہذیب کے ہر قیدی کے اندرہرسانس کے ساتھ شام داخل ہوتی ہے۔ کندھے پرشکارکیاہوا بارہ سنگھا لٹکائے ہزاروں سال پہلے غارکارہنے والا جس طرح گھر کو بھاگتا تھا آج بھی اپنی اپنی جان کو کندھے پر مشکیزے کی طرح لٹکائےسب شہری لوگ پناہ کی طرف بھاگتے ہیں۔ سب شام سے بدکتے ہیں۔ اندھیرے سے ڈرتے ہیں۔

ہمالہ کے بلند معبدوں میں جب سائے لمبے ہوتے تھے تو ہم غاروں میں رہنے والے کل کے نور کی آس کے بارہ سنگھے  کندھوں پر ڈھو اپنے اپنے بنکروں کی طرف بدک جاتے

بے وفائی کی گھڑی، ترک مدارات کا وقت
ترک دنیا کا سماں ختم ملاقات کا وقت

ہم بھی اپنی تنہائی سمیٹتے بچھاتے اگلو کی راہ لیتے اور اندرکے شورکو دبانے کے لیے ٹرانزسٹرآن کرکے آواز اونچی کردیتے۔ باہر جیسے جیسے سیاہی  اجالے میں گھلتی چلی جاتی دل کی سپاٹ زمینوں پر یادوں کےدیے اورایک محبت کے جگنو اترنے لگتے ۔ مغرب کے فوراًبعد کا یہ وقت آپریٹرکے تھرو گھر بات کرنے کا ہوتا۔ لیکن ہم گھربات کرنے کے بہانے فون کہیں اورکرتے تھے۔

 ہم نے اپنے کسی مضمون میں کراچی کی مضافاتی بستی  سٹیل ٹاؤن میں اپنی رہائش کا ذکرکیا ہے۔ وہاں سے ہم نے کرائے کے گھر کو خداحافظ کہا تو سٹیل ٹاؤن سے متصل نوتعمیرشدہ گلشن حدید میں مالکانہ حقوق کے ساتھ اپنے گھرمیں منتقل ہوگئے۔ ایک بڑے شہرکا مضافاتی سٹیٹس کیا ہوتا ہے اس سے اندازہ لگائیے کہ گلشن حدید کو پہلی ٹیلیفون ایکسچینج عطاہوئ تو ساتھ ہی کراچی سے الگ علاقائی کوڈ بھی تحفے میں ملا۔ یعنی کراچی سے گلشن حدید فون کرنے والے نمبرسے پہلے علاقائی کوڈ ۰۲۰۱  ڈائل کرتے تھےاور گلشن حدید والے اس کا الٹ یعنی نمبرسے پہلے کراچی کا کوڈ ۰۲۱ ملاتے۔ اب چھاؤنی کراچی میں تھی تو پیسکام (فوجی ٹیلیفون) پر بات بھی کراچی کے لوکل نمبرپرہوسکتی تھی۔ اس کا حل ہم نے یہ نکالا کہ ماڈل کالونی میں ایک دورکے تایا سے رشتے داری بشرط استواری کی داغ بیل  ڈالی۔  ان کے بچے ہمارے ہم عمرتھے اوردونوں خاندانوں کا گھروں میں آنا جاناتھا۔ تو ہم انہیں تواتر کے ساتھ فون کرنے  اور ان کی وساطت سے اپنی خیریت گھروالوں تک ریلے کرنے لگے۔ اماں کا دل جب بات کرنے کو بہت بے تاب ہوتاتو سارا ٹبرویک اینڈ پر گلشن حدید سے ماڈل کالونی آ براجمان ہوتا اور اس دن کی کال پر ہماری اپنے گھروالوں سے بات ہوجاتی۔ ہماری پہاڑوں کی پوسٹنگ کے دوران گھروالوں کےاس تواترسے ماڈل کالونی آنے جانے نے چن تو پھرچڑھانا تھا ۔ ہمارے تایا کے گھر سے  ایک دخترنیک اخترسعید صاحب کے ہم سے چھوٹے بیٹے کے عقد میں آئیں۔ ہم آج بھی رضوان کو چھیڑتے ہیں کہ ہماری سیاچن پوسٹنگ کے صدقے اس گھر کو ایک بھابھی نصیب ہوئی ورنہ عالم تو یہ تھا کہ

پھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی پوچھتا نہیں

دیکھیے بات اگلو کی شام سے چلی تو کہیں کی کہیں چلی گئی۔ تو صاحبو جب  رات جوبن پر آنے لگتی تو اگلو میں پارٹی لائن آن ہوجاتی۔ یہ ایک سیکٹر کے تمام پوسٹ کمانڈروں کا فیلڈ ٹیلیفونک لنک تھا۔ دن بھر کے حالات،  سچوئیشن رپورٹس، عدو پر فائرگرانے اور خود پر فائرآنے کی تفصیل ، اپنی اپنی چھٹی جانے کے دنوں کی گنتی کی الٹی ترتیب (کاؤنٹ ڈاؤن) ، چھٹی گئے ہوؤں کے باقی ماندہ دنوں کی گنتی کی سیدھی ترتیب، لطیفے، چٹکلے، غزلیں، نظمیں، گانے، ترانے کیا نہیں تھا پارٹی لائن پر۔ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ ہمارا  سیاچن کا لہکتا چہکتا ایف ایم سٹیشن تھا جسے بارہ ہزار فٹ سے لے کر پندرہ، سولہ ہزارفٹ کی تمام بلندیاں کیچ کرتی تھیں۔ مگراس پارٹی لائن کے آن ایئرہونے سے پہلے شام کی ٹاسک لسٹ پر ایک اور سیریل کا ٹک ہونا بہت ضروری تھا۔ ریڈیو پاکستان کے اسلام آباد سٹیشن سے مواصلاتی لہروں پر نشر کیا جانے والا فوجی بھائیوں کے لیے وقف انکے عزیزوں کے پیغام اور پاکستانی فلمی گانے نشرکرتا پروگرام۔ بدلتے ناموں اور بدلتی آوازوں کے ساتھ  کبھی آپکی فرمائش کبھی جاگتا پاکستان اور کبھی کچھ اور، چاہت کے عنوان بدلتے رہے مگر بلندیوں پرفائز فوجیوں کے نام نشیب سے بھیجے گئے چاہنے والوں کے پیاموں میں محبتوں کی شدت اور گئے دنوں کے گانوں اور دوگانوں کے انتخاب کی نغمگی سدابہاررہی۔

تو صاحبو ہمالہ کی سردشاموں کی بے مہرہواؤں میں ایک گرم اگلوکی مہربان آغوش میں ایک  ٹرانزسٹربجتا تھااور اس پر ایک تواترکے ساتھ ہرنغمے سے پہلے کچھ محبو ب نام گونجتے تھے۔ ان میں کئی دفعہ ہمارے نام بھی گونجے ، عمران، رسول پناہ، ابراہیم، قاسم ، شاہ خان ، عبدالنبی  اور دوسرے۔ یہ نام ہمارے وہاں سے چلے آنے کے بعد بھی گونجے ہوں گے اور ہمالہ کے پہاڑ آج بھی ان کی بازگشت سنتے ہوں گے کہ میدانِ کارزار بھی وہیں ہے اور چوکیاں بھی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ۲۰۰۲ کی سرد شاموں میں ایک نام دوسروں سے زیادہ، بہت زیادہ پکارا اورسنا گیا۔ کیپٹن عمرجمشید۔ عمر ہماراکورس میٹ ، اسلام آباد میں مقیم اپنی والدہ کا اکلوتا بیٹا اور بہنوں کا اکلوتا  بھائی جب سیاچن کی برف پوش بلندیوں پرتھا تو اس کے نام محبت کے پیام ریڈیو کی وساطت سے روز بلاناغہ نشرہوتے تھے۔ اسلام آبادکے ایچ ۸ کےقبرستان میں جنازہ گاہ والے داخلی دروازے سے اندرآتے ہی پہلی روش پر بائیں مڑ جائیں تو تھوڑا آگے جاکر کیپٹن عمرجمشید شہید کا مدفن ہے۔ اپنے چاہنے والوں کے پیغام سمیٹتا عمرجمشید ۲۰۰۲ کی اپنی سیاچن پوسٹنگ میں وطن پرنثارہوگیا۔ سیاچن کی برفاب بلندیاں اور کٹھورموسم خراج مانگتے وقت یہ نہیں دیکھتے کہ کون کس کا کتنا محبوب اور کسی کا کوئی کتنا طلبگارہے۔

اج تڑکے مر گیا جیہڑا چاواں نال پلیا سی

ہم اپنی پوسٹنگ کی مدت پوری کرکے کارگل کے پہاڑوں سے بخیریت نیچے اترآئے تھےمگرابھی ہماری قسمت میں چند سالوں کی دوری پرہمالیہ کا ایک اور پروانہ لکھا جاناتھا۔   میجرکے رینک میں اپنی اگلی پوسٹنگ پر ہم سکردو سے کچھ دور گمبہ میں تعینات تھے۔ یہاں فوج کا کمبائنڈ ملٹری اسپتال بھی ہے۔اسی روڈ پر ایک روز بڑھئی کی دکان سے گزرہوا تولکڑی کے کچھ تابوتوں پرنظرپڑی۔ یہ سی ایم ایچ گمبہ کی کیژوالٹی سپلائی لائن تھی۔ دشمن کے فائر سے کم اور موسم کی سختیوں سے زیادہ شہید ہونے والوں کے جسد خاکی  اسی اسپتال کے سردخانے میں آتے تھے اور ان تابوتوں کو اپنا مسکن کرتے راولپنڈی کی طرف پروازکرجاتے۔ بہت سال نہیں گزرے کہ اسی سرد خانے میں عمرجمشید بھی پل بھرکوٹھہراہوگااور آنے والے دنوں میں خدامعلوم کتنے عمراور ٹھہریں گے۔ گمبہ سی ایم ایچ روڈ پر اس دوپہرہم نے ان بے نامی تابوتوں کو بہت  غورسے دیکھا مگر کہیں کوئی نام ، کوئی اشارہ نظرنہیں پڑا۔ صاحبو! شہادت کے رتبے پر سرفرازی تو بارگاہِ ایزدی  کی دین ہے۔ جب چاہے جسے چاہے دے جسے چاہے محروم رکھے۔ ان بے نامی تابوتوں کی طرح یہ زندگیاں بھی تو ایک بے نامی موت کی امانت ہیں۔ جب چاہے جہاں چاہے آن دبوچے۔

ایک بے پرواہ کی عنایت اس ناپائیدار زندگی کے کینوس پر یادیں ہی  تو ہیں جو سدابہارہیں ۔ وہ پل جو کارگل کے پہاڑوں میں گزرے ، وہ مہربان اور بے مہر ساعتیں  جو چاہنے والوں اور مرنے مارنے پر آمادہ لوگوں کے درمیان بیت گئیں ان کی یاد اب دل کو توانا کرتی اور حال کے منظرمیں ماضی کے رنگ بھرتی ہے۔ اس رنگین سفرمیں آپ ہمارے ساتھ رہے۔ آپکا بہت شکریہ۔ اللہ حافظ وناصر۔

اس تحریر کی پچھلی قسطیں یہاں پڑھی جاسکتی ہیں
پہلی قسط | دوسری قسط | تیسری قسط

share this article

Join the Conversation

2 Comments

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *