دوسری قسط

پہلی قسط | دوسری قسط | تیسری قسط | آخری قسط


فلم پتنگا میں نگار سلطانہ پر فلمایا گیا گانا شمشادبیگم  نے کچھ ایسے جی توڑ کے گایا کہ فلم تو ماضی کی بھول بھلیوں میں کہیں کھوگئی مگر نغمہ آج بھی تروتازہ ہے

میرے پیا گئے رنگون
کیا ہے وہاں سے ٹیلیفون
تمہاری یادستاتی ہے


چتلکر رامچندر کی کمپوزیشن اور انکی شمشاد بیگم کے ساتھ لازوال سنگت اپنی جگہ مگر دل میں ایک دفعہ وسوسہ  تو آتا ہے کہ رب کائنات کی سجائی اس حسیِن دنیا میں ساری جگہوں کو چھوڑ کر پیا کو بھیجنے کے لیے آخر رنگون کا انتخاب ہی کیوں کیا گیا۔ ہمیں راجندرکرشن جنہوں نےاس گانے کےبول لکھےکی نیت پر بخداکوئی شک نہیں لیکن خدالگتی کہیں تو اس انترے میں ردیف قافیےکی چولیں بٹھانے کےعلاوہ شاعرکوآگے چل کرکچھ غیرشرعی آرزؤں اورتمناؤں کی بالترتیب عکاسی اورنکاسی  مطلوب تھی

تم بن ساجن جنوری فروری
بن گئے مئی اور جون
تمہاری یادستاتی ہے


اوّل الذّکر حصّے میں جس موسمی کیفیت کا ذکر ہے ساجن کی غیرفراہمی کی صورت میں اس کے ثانی الذّکر حالت میں ڈھل جانے پر توسیدھے سبھاؤ  تعزیرات پاکستان لگتی ہے۔ مرزا عبدالودود بیگ کا قو ل ہے (تھوڑی تحریف  کے ساتھ)  کہ  جن باتوں کوسادہ نثرمیں کہہ دینے پر سیدھا حدود آرڈیننس لگتا ہو وہی بات ایک شعری گنجائش کی اوٹ لے کر ہمارے شعراء ایک بے نیازی سے کہہ ڈال چلتے بنتے ہیں۔ ذرا اوپر بیان کی گئی سچوئیشن کوسلیس نثرمیں کہنے کی کوشش کرکے دیکھیے۔ علم الابدان کی اصطلاحوں سے بہت پہلے آپ شرم سے وہ ہوجائیں گے جو کراچی میں گھروں میں ٹینکروں سے ڈلواتےہیں۔


بات اگراب بھی واضح نہیں ہوئی تو ہم اپنی مادری زبان پنجابی کے ایک گیت کے بولوں کا گھونگھٹ نکال لیں گے۔ سریندرشندااورگلشن کومل کی نوک جھونک میں  شاعرکہتاہے ، بلکہ گلوکارہ سے کہلواتا ہے

اسّو دے مہینے وچ چھٹی آیا فوجیا وے
وگدا کھُرا سی جدوں سون وچ موجیا وے
نکی نکی پیندی سی کنڑی
میں یا میرارب جاندا
اوہدوں کنج میری جند تے بنڑی


ہم اس کاترجمہ نہیں کریں گے کہ ہمارے اورآپ کے درمیان جو رہی  سہی جھجھک ہے وہ فوت ہو جائے گی۔ اس ساری تمہید میں بتانا ہم یہ چاہتے تھے کہ کارگل کے پہاڑوں میں جون گزرچکا تھا اوراسو کے آنے میں ابھی دیر تھی مگر بات کہاں سے کہاں جا پہنچی۔ تو صاحب  جون گزرچکاتھا اور اسّو کےآنے میں ابھی دیر تھی۔ اسکا مطلب تھا کہ برزل ٹاپ ابھی کھلاتھا اور دراس۔کارگل روڈ کو دیکھتی اونچائیوں میں آمدورفت کےراستےکھلےتھے۔ بونجی اوراستورسےسامان رسد لے کر چلنے والی ایچ ایم ٹی (ہائرڈ مکینیکل ٹرانسپورٹ ) منی مرگ کی وادی میں اترتی تھی اوراس کی برکتیں ہفتے میں کم ازکم ایک دن فرنٹ لائن پوسٹوں پر بھی جلوہ گر ہوتی تھیں۔


لکھنے کو تو ہم نے سادہ سی ترکیب سامانِ رسد لکھ دی، لیکن اس ایک لفظ میں امنگوں، آرزوؤں ،چاہتوں اور  حسرتوں  کے کیا کیا دفتربند تھےکچھ وہی جانتے ہیں جو کبھی  انتظار کی نادیدہ زنجیر سے بندھے ہوں۔ اُدھر استو ر میں ایچ ایم ٹی کا ڈرائیور سلف مارتا تو اس کی گونج پہاڑ اندرپہاڑہمالیہ کےسلسلۂ کوہ کادل چیرتی ایک بلند محاذپربیٹھے ہردم چوکنااورمنتظررہنے والےکانوں پراترتی۔ یوں سمجھ لیجیے کہ استورسےایچ ایم ٹی کےسٹارٹ ہوتےہی ہم جیسےبےصبرےانتظارکی ٹکٹکی پرلٹک جاتے۔ کتنی ہی آرزوئیں اڑان بھرتیں اوربرزل ٹاپ کےپارسےکشا ں کشاں جیپ کے ساتھ ساتھ چوکڑیاں بھرتی چلی آتیں۔

کسی کی آنکھیں سفید مرمریں انڈوں کی دیدبان ہوتیں توکوئی ’مرغی پہلےآئی یاانڈہ‘ والےمحاورے میں مذکوراوّل  الذّکرجنس کےانتظارمیں امید کی بھرواں سِل پرآرزوکی چھری کوآبدارمزیدآبدارکیےجاتا، اورہردو کےدل راستےکےہرہچکولےہر دھچکے کےساتھ مطلوب ومقصودِ مومن کی سلامتی کی دعامانگتےدہل دہل جاتے۔ کسی کی نگاہیں فریش ویجیٹیبل کےسبزباغ دیکھاکرتیں اورہمالیہ کی بےآب وگیاہ سنگلاخ چٹانوں میں امید کی سبزکونپلیں کھِل کھِل جاتیں۔ کوئی پچھلےسنڈےمیگزین کی چاہت میں کرسی بنکر سے نکال دھوپ لگوارہاہوتا۔کسی کوکوئے یارسےمدت ہوئ چلے محبت نامےکا انتظارہوتا، کسی کوگھربارسےجواب خیریت کےپیام کا۔صاحبو استورسے ایچ ایم ٹی نہیں چلتی تھی ، امیدوں، آرزوؤں اورامنگوں کا ایک کارواں تھا جو اُن بل کھاتے راستوں پر رواں دواں ہوتا۔ ہم نے بھی بابا  استورشاہ کے آستانے پر آس کا ایک دھاگا باندھ رکھا تھا اور انتظارکے دیے ہماری آنکھوں میں بھی روشن  تھے۔

گلگت کے سفرپر روانہ ہونے سے پہلے ٹل سے زادِسفرباندھتےہم نےگیریژن لائبریری سےعلی پورکاایلی ایشوکروالی۔ ہماراخیال تھاکہ پوسٹ پر آپریشنل ذمہ داریوں سےجووقت بچے گااس میں مطالعےسےدل بہلائیں گے۔ لائبریری ریک میں ساتھ ہی الکھ نگری بھی قرینےسےرکھی تھی۔اسےیہ سوچ کر چھوڑدیاکہ پتہ نہیں پہلی والی کتاب پڑھ  بھی پاتےہیں یانہیں۔ اس کی ایک اوروجہ بھی تھی۔ آپ فلائٹ لگیج پیک کررہےہوں یا ایف سی این اےپوسٹنگ کارک سیک۔ہروزن بڑھانےوالی چیزسے آپ اپناپنڈچھڑاتے ہیں۔ ایک کو تو ایئرلائن والےکلیئرنہیں کریں گے رہ گئی دوسری تووہ   پاپ کی وہ گٹھڑی ہے جسے یا تو آپ نے پوسٹ کی جان توڑ چڑھائی میں خود اپنی کمر پر لاد کر ڈھوناہےیا کسی پورٹرنے جو کہ آپ جیسا ہی گوشت پوست کا انسان ہے۔ تو ہم نے الکھ نگری سے تو چشم پوشی کی  مگر سیاچن کے عازمِ سفرہونے سے پہلے کراچی گئے تو مارگریٹ مچل کی ’گون وِد دا وِنڈ‘ بھی گناہوں کے بوجھ میں شامل کرلی۔ گھر سے رخصت ہونے لگے تو ہمیشہ کی طرح ماں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
آٹھویں جماعت میں ہم گھرسےسامان ڈھوکرکیڈٹ کالج آگئے تھے۔ تب بھی خدا حافظ کہتےوقت ماں جی کارونا ہمیں یاد ہے۔ اس کےبعد سےہمارااپنے گھر سے مہمان والا رشتہ رہا، جس کے آنے پر باقی بھائیوں اوربہن کو حسدمیں مبتلاکرنےوالی آؤ بھگت اورجاتے سمےماں کی آنکھوں میں آنسوایک مستقل معمول بن گئے۔چھٹی سے واپسی ایسا منظرہے ہماری زندگی نے جس کی ان گنت دفعہ ریہرسل کی ہےلیکن صاحب اس سکرپٹ میں جان ڈالنے والے ماں کے آنسو ہر دفعہ ایک نئی دعا ، ایک نیا محبت نامہ دل کو عطا کرتے ہیں جس کے بھروسے ہم نے بڑے لمبے سفربے دھڑک طے کیے ہیں۔خوش نصیب ہے وہ اولاد جسے کے والدین دعا کرنےکو حیات ہیں اور جو وہ گھر سے نکلیں تو ماں کے آنسوؤں کا سائبان ان کے سروں پرسایہ کیے رہتا ہے۔

باپ سِراں دے تاج محمّد، ماواں ٹھنڈیاں چھاواں

تو صاحب جب ہم پوسٹ چڑھے تو ہمارے ساتھ علی پور کا ایلی اور گون ود دا ونڈ بھی تھیں۔ جغرافیائی اصطلاح میں جس بلندی سے اوپردرخت اور ہریاول ناپید ہوجائے اسےٹری لائن کہتے  ہیں۔ اس سے اوپر جائیں تو جس بلندی کے بعد زمین سارا سال برف کی سفید شال اوڑھے رکھتی ہے اسے سنو لائین کہا جاتا ہے۔ صاحبو جو نکتہ جغرافیے کی کتابوں میں نہیں لکھا وہ یہ ہے کہ سنو لائن اور ٹری لائن کے بیچ ایک ایسا غیرمرئی مقام بھی آتا ہے جہاں وقت رک جاتا ہے، باتیں ختم ہوجاتی ہیں اور ایک اداسی دل پر ڈیرا ڈالنے کو پھرتی ہے۔ اس اداس بلندی پر اردو بولنے والا عمران، کشمیری بولنے والا نبی اور شنہا بولنےوالی رسول پناہ کی ٹیم ایک دوسرے کا سہارا تھے اور ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر جیتے تھے۔ تو صاحب وقت رک گیا تھا اور پہلے تین ہفتوں تک ہم انگریزی ناول مکمل اور علی پور کا ایلی تین چوتھائی ختم  کرچکے تھے۔ اگلےہفتے تک مرحوم صدیق سالک کی ہمہ یاراں دوزخ کی طرح سگریٹ کے پیکٹ اور صابن کے ریپرپڑھنے کی نوبت آگئی۔ ہم نے پہلی ڈسڑیس کال نیچے بیس کیمپ کو دی۔ گلگت اورپنڈی میں ہرکارے دوڑائے گئے جوخبرلائے کہ ایف سی این اے اور ریئرہیڈکوارٹردونوں لائبریریوں میں گوہر مقصود دستیاب نہیں
اسوقت ہمالیہ کی بلندیوں میں ہمیں اپنی فوجی اماں شدت سے یاد آئیں۔ یونٹوں میں سیکنڈ ان کمانڈ عموماً سب سے سینیئرمیجرہوتاہے۔ اس عہدےکو ٹوآئی سی بھی لکھتےاور کہتےہیں۔ فوجی لوک روایتوں میں ٹوآئی سی کو یونٹ کی ماں کہتے ہیں۔ پوسٹ سے اگلی کال فوجی نیٹ پر ٹل کی گئی ، ٹو آئی سی سے بات ہوئی اور فوجی گنجائشوں کے حساب سے کسی قدرلاڈ میں راقم السطور نے گیریژن لائبریری کے ریک میں پڑی الکھ نگری کا ذکر کیا۔  تو صاحب جہاں کارگل کے پہاڑوں پر صاحبان خوش خصال و شیریں مقال انڈے اور مرغی ، سلاد و سنڈے میگزین یاپھر کسی محبت نامے کی آس لگائے منی مرگ اور استورکی سمت تکتے تھے وہیں کہیں ایک پوسٹ  کمانڈرہنگو اور دوآبے کی ہمسائیگی میں ٹل سے چلی الکھ نگری کی راہ تکتا تھا۔

اگلی قسط پڑھنے کے لیے کلک کریں

پہلی قسط | دوسری قسط | تیسری قسط | آخری قسط

share this article

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *