اے عمرچھوڑدے میں جاؤں گی

کوٹری سےلانڈھی کےسفرمیں ون اپ ؍ ٹوڈاؤن خیبرمیل ہویا سیون اپ ؍ایٹ ڈاؤن تیزگام ایک بےنیازی سےگزرجاتی ہیں۔ راہ میں پڑتےمسکین بےنامی سٹیشن بھولاری، میٹنگ، جھمپیر، جنگ شاہی، رن پٹھانی، دابھیجی،پپری اوردوسرےاپناسامنہ لےکررہ جاتےہیں۔

اک دورسےآتی ہےپاس آ کےپلٹتی ہے
اک راہ اکیلی سی رکتی ہےنہ چلتی ہے

اگر آپ پاکستان میں کہیں سے بھی ریلوے ٹریک پرکراچی کے مسافرہیں تو ایک توجون ایلیا کی زبانی راستے میں سُسرا روہڑی ضرورپڑے گا۔

ہررہ جو ادھرکوجاتی ہے روہڑی سے گزرکر جاتی ہے

وہی روہڑی جس کے بارے میں یوسفیؔ کے ہمزاد مرزا عبدالودوبیگ کہتے ہیں کہ قیامت کے روز جب صورپھونکا جائے گا تو اہالیان کراچی میدان حشرمیں وایا روہڑی جائیں گے۔

دوسراحیدرآبادکےہمسائےکوٹری سےآگےکچھ دو گھنٹےسےاوپرکےنان سٹاپ سفرمیں بہت سےگمنام سٹیشن آئیں گے۔ ایک برق رفتاری سےگزرتی ٹرین میں بیٹھےکراچی کی متوقع آمد کی تیاری میں مگن مسافروں میں سےکس کوفرصت ہےکہ انہیں دیکھے۔ پرکوئی ہےجو انہیں تھم کےدیکھتاہےکہ یہیں کہیں بہت سی یادیں بکھری پڑی ہیں۔

توصاحبو پہلی بات روہڑی کی ۔ یوسفی نے غالباً زرگزشت میں اپنے یاربشارت کی براستہ مناباؤ پاکستان ہجرت کا ذکرکرتے ہوئےلکھا ہےکہ نئے آزاد ملک کی سرحدعبورکرکےجوخوشگوارحیرتیں ہوئیں ان میں ایک اسلام علیکم کہتے ہوئے سندھی ساربان بھی تھے۔ تو صاحب کچھ یہی حال روہڑی کی سرحد پرہم روزگارکےماروں اپنی جنم بھومی کی طرف کبھی ششماہی کبھی سالانہ مراجعت کرنےوالوں کا بھی ہوتا ہے۔ ہم ایک خوشگوارحیرت سےسٹیشنوں کےنام سندھی رسم الخط میں دیکھتےہیں اورہمارےکان اس میٹھی بولی بولنے والوں کے لہجےسےآسودہ ہوتےہیں۔ ہماری گزشتہ سےپیوستہ ریلوے یاتراؤں کا ایک کلیدی کنٹرول پوائنٹ روہڑی ہی توہے۔

ہمارےدوست محمد حسن معراج کہتےہیں پاکستان بھرکاپھل روہڑی سٹیشن پہ دستیاب تھا۔ یہیں سےکوئٹہ جانےوالی وہ لائن نکلتی ہےجو قندھارریلوےکا حصہ تھی اورجس کاسروےمرزا ہادی رسوا نےکیاتھا۔ جی ہاں وہی امراءو جان اداوالے مرزارسوا جو میکلیگن انجینئرنگ کالج روڑکی کے گریجوایٹ تھے۔ خلقت تویہ بھی کہتی ہےاگرمرزاصاحب نہ ہوتےتو نہ شریفوں کی لڑکی کوٹھےپہنچتی اورنہ چمن کاپھل پنجاب۔ ثانی الذّکرخدمت کااعتراف وشکریہ تسلیم اب اوّل الذکرکے بارےمیں کیاکہیں۔ لوگوں کی زبان بھلاپکڑی جاتی ہے!اوروں کی کیابات کریں طوائف کاذکرآنے پرتومرشدی وآقائی یوسفی صاحب کاقلم بہک جاتا ہے۔

استادداغ کادستورتھاجیسےہی تازہ غزل ہوتی روشنائی خشک ہونےسے پہلےاسےطوائف کےسپردکردیتے۔
پھروہ غزل حیدرآباددکن سےشہرشہرکوٹھوں چڑھتی زینہ بہ زینہ، سینہ بہ سینہ اور حسینہ بہ حسینہ دلی کےگلی کوچوں میں پہنچ جاتی۔

صاحبو!ہماری مانیےتوطوائف کےکوچۂ ملامت سےنکلتےہیں اورحیدرآباد کی راہ لیتےہیں۔ مگرپہلےانٹاریوکی اس سردشام کوپلٹتےہیں جب کافی مگ کے گرد انگلیوں کی پوروں کوگرم کرتےابوسےریلوےکاذکرہوا۔ اولڈمین کی آنکھوں میں ایک چمک لہرائی اورکتنے ہی منظران پتلیوں پرروشن ہوئے۔ جیسےدورانجن کی سیٹی کےساتھ نمودارہوتی ٹمٹماتی روشنی۔ جیسے چھوٹےسٹیشن سےبصدنازگزرتی سبک خرام نائٹ ایکسپریس۔

والٹن کےسخت گیراورنظام الاوقات کےضابطوں میں بندھے سٹیشن ماسٹرزکورس سےفارغ التّحصیل ہونےکےبعد ایک لاابالی اسسٹنٹ سٹیشن ماسڑکراچی لوٹاتوسرکلرریلوےمیں شارٹ ٹرم سرکولیشن کےبعد اسکےاسی قدرلاابالی دوستوں نےکلرکوں سےملی بھگت کرکےاسےکراچی ۔ حیدرآباد سیکشن کےبےنامی اسٹیشنو ں پرکھینچ لیا۔ سعید صاحب کراچی سےنکلےتو کوٹری سےایک سٹیشن کی دوری پربھولاری کی ہمسائیگی میں میٹنگ پہنچ کردم لیا۔ ان کاقبل ازوقت ریلوے کوخیرباد کہنےتک کاتمام کیرئیراسی پسماندہ سیکشن کےویران سٹیشنوں پرگزرناتھااورانکےسب سےبڑےبیٹے نےبچپن سےلڑکپن کی منازل اسی بےنام مگر بےمثال دھرتی پرطےکرنی تھیں۔

زنگ خوردہ رنگ میں رنگی ایک تصویرگھاروکی ہےجوسٹیشن ماسٹرکی انگلی تھامےکھڑی ہے۔ ہمارےذہن میں دھندلی سی بھی شبیہہ نہیں ہے مگرمستندروایتوں میں آتاہے بہت سی مال اورمسافرگاڑیاں ان ہاتھوں کی ہری یاسرخ جھنڈیوں کےتابع رہیں اوربہت سےریلوےگارڈچھوٹےاسٹیشن ماسٹرسےپروانۂ راہداری پاکرشادکام ہوئے۔ صاحبوگزرتاوقت بہت ظالم ہےکہ کل کی تصویرآج کے منظرکی ہم رنگ ہوچلی ہے، کیمرےکے لینس کا زنگ اب نظرکی پتلیوں میں اترآیاہے۔ گھارو کےحالیہ متروک اور گئےوقتوں کےفلیگ سٹاپ سٹیشن کی عمارت کااب ڈھانچہ کھڑاہے۔ جب چھوٹےسٹیشن ماسٹر بڑےہوکر اپنےپلیٹ فارموں کو پلٹتےہیں تو ٹرین چھوٹ چکی ہوتی ہے۔

گاڑی آگےچلتی ہےتو گھارو کی قربت میں ایک سٹیشن دابھیجی کےنام کا آتاہے۔ ایک سادہ پروقاردفترمیں آج کےسٹیشن ماسڑ سےملاقات ہوئی توگئےوقتوں کےہم منصب کویادکیا۔ وہیں مختصرپلیٹ فارم کےسادہ مسافرپل پرکھڑےہوں تودورجہاں نظربچاکردونوں پٹڑیاں آپس میں گلےملتی ہیں ایک خوشبوگھرکےدرودیوارکی آتی ہے۔

پپری کےگوٹھ کی ماشاءاللہ رسم ختنہ ہوچکی ہےنیا اسلامی نام بن قاسم ہے۔ یہی صورتحال ریلوے سٹیشن کی ہے۔ ابھی کل کی بات ہےجب یہ ابھی پپری تھااوراس کےپڑوس میں رائس گودام پر مال گاڑیوں کی رونق لگا کرتی تھی اور ہم مسافرخانے کےپہلو میں ایستادہ سامان وزن کرنےوالےکانٹےپر جھولےلیاکرتےتھے۔ ابابتاتے ہیں اسی تاریخی مسافرخانےمیں قریبی گوٹھ کی خاوندسے تنگ آئی زال نےریلوےپولیس کویہ کہہ کراپنےمڑس کو پٹوایاتھا کہ یہ پرائی زنانی کویعنی مجھےچھیڑرہاتھا۔ چھترول سنجیدہ مرحلےمیں داخل ہوئی تونرم دل عورت نےسپاہیوں کےہاتھ روکتے ہوئےڈانٹ پلائی کہ وہ اس کےمعصوم شوہرکوکیوں پیٹ رہےہیں۔

پلیٹ فارم کی ہمسائیگی میں وہ درخت اب اکڑوں ہو چلاہے جو جب سیدھا کھڑا تھاتو اس کےپتوں میں سے ایک بلا جھانکا کرتی تھی۔ آج تک یاد ہےاس ایک شِکَردوپہرکی سختی میں اسی درخت سے ہم پرپتھروں کی بارش ہوئی تھی ۔

بھلاہوا موری گگری پھوٹی
میں پنیا بھرن سے چھوٹی
مورے سرسے ٹلی بلا

پلیٹ فارم نمبردو پٹڑیوں کےاس پارہونےکےسبب آؤٹ آف باؤنڈتھا۔ وہاں تب جاناہوتاجب کراچی سرکلرریلوےکی لوکل میں سفرکرنےکوملتاجس میں بیٹھنےکی سیٹیں کم اورکھڑےہونےکی جگہ زیادہ تھی۔ یہیں سےوہ دیوہیکل کرینیں نظرآتیں جن کےدم سےتخیل میں کئی کہانیاں آباد تھیں۔ ہمارےبچپن کےٹرانسفارمرزوہیں کھڑےہیں۔

یہیں سےابا نے ریلوے کو قبل ازوقت خیرباد کہہ کرپاکستان سٹیل ریلوےکو جوائن کرلیااورہمارےجڑانوالہ کےڈومیسائل پرکراچی کےمضافات کی مستقل رہائش کی مہرلگ گئی۔ روزوں کےدنوں میں جب پی ٹی وی پراعلان ہوتا کہ کراچی اور اس کے مضافات میں مغرب کی اذان کا وقت ہوا چاہتاہے تو مضافات سے مراد ہم تھے۔کراچی ایسٹ کی مضافاتی بستی یونین کونسل درسانو چھنو میں پاکستان سٹیل کی کالونی سٹیل ٹاؤن کےرہائشی۔

کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد

عبداللہ حسین کی اداس نسلیں کی طرح یہاں سڑکیں چوڑی اورسیدھی تھیں اور ایک دوسرے کو زاویہ قائمہ پر کاٹتی تھیں۔ اورکسی سبب سے اگر اس کا ڈرون شاٹ لیاجاتا تو مسطحاتی شکلوں چوکوروں تکونوں اور گول دائروں کی خبرملتی۔ اس مضافاتی بستی سے کراچی قریباً بیس پچیس کلومیٹرکی دوری پر تھااور کراچی سے مخالف سمت میں جنوبی سندھ کا چھوٹے ٹیلوں اور ان سے بھی چھوٹی پہاڑیوں کا ویرانہ۔کالونی میں رائج اوربہت سی رسموں میں رات کی چہل قدمی بھی تھی اورچونکہ رات میں چیزیں نمایاں ہوجاتی ہیں توکراچی کی مخالف سمت جنوبی سندھ کےویرانے میں دوربہت دور مسطحاتی شکلوں میں سجی روشنیاں نظر آیا کرتی تھیں۔

یہ پاک لینڈ سیمنٹ کی صنعتی بستی تھی۔ اور چونکہ دورکےڈھول سہانےہوتےہیں ہم بچےاس بستی کی منورگلیوں سےبیک وقت حسد اوررشک کرتےتھے۔ سچ پوچھیےتو یہ ہم چارلیوں کی چاکلیٹ فیکٹری تھی۔ بچپن کا فسوں توتمام ہوامگرہمارے سیاسی بڑوں نے سٹیل مل او ر پاک لینڈ سیمنٹ کا دیوالیہ کرڈالا۔ اب وہاں ماضی کا نوحہ ہے اور کچھ نہیں۔

یوسفی کے دوست بشارت کو جب وہ اپنا بچپن کھوجنے ہندیاتراپرگئے تھےگنگاکنارے جیکب آباد کا سندھی ملا جو تھرکے ریگزار کو یادکرکےروتاتھا۔

سائیں ہم تمہارےپیروں کی خاک، ہم ریت مہاساگر کی مچھلی ٹھہرے۔
آدھی رات کو بھی ریت کی تہوں میں انگلیاں گڑو کےٹھیک ٹھیک بتادیں گےکہ آج پوچھانڈو کہاں تھا۔

کہنےوالےکہتےہیں کہ ریگستان میں ٹیلےکا وہ حصہ جس پرسب سے پہلےسورج کی کرنیں پڑتی ہیں پوچھانڈو ہے۔ صاحب ہم کراچی کےمضافاتی جنوبی سندھ کےبھربھرے ٹیلوں میں زندگی بتانے والے جہاں سے مہران ساگر سندھ ایک لہر سے سو لہروں میں بٹتا اور ڈیلٹا بناتا سمندرمیں گرتا ہے
وہیں ہمار اپوچھانڈوہے۔ وہیں سے جب بادل اٹھتے ہیں تو پہلا سایہ پہلا چھینٹا ہمارے دیس پر پڑتاہے۔

حیدرآباد کے سٹیشن سے آگے گاڑی کے پائیدان پر کھڑے مسافرکاجو دھیمی دھیمی پون پکھاوج سواگت کرتی ہے اس کامنبع و مخرج اور اس کاوطن یہی بے نامی سٹیشنوں کا دیس ہے۔ ون اپ؍ٹوڈاؤن خیبرمیل ہویاسیون اپ؍ایٹ ڈاؤن تیزگام ان بے نامی سٹیشنوں پرسےایک شان استغناء سے بغیررکے فراٹے بھرتی گزرجاتی ہیں۔ وہیں کہیں ہر ی جھنڈی تھامے ایک بچپن آج بھی کھڑاہے۔


جب ماروی کو عمرسومرا اپنے محلوں میں اٹھالے گیا تو جندڑی نمانی کواپنے ماروؤں انکی جھگیوں اور تھرمیں اپنے گوٹھ ملیر سے دوری کا روگ لگ گیا۔ وطن سے دوری کے اس کرب کو شاھ لطیف نے زبان دی تو سرمارئی کی داستانوں نے جنم لیا۔

عمرماروئڙن جوٿرٿراندرٿاڪ
لاٿاؤن لطيف چئي مٿان لوئي لاڳ

اورشیخ ایاز اس کا منظوم ترجمہ کرتے ہیں تو غم واندوہ کی ایک نئی دنیا آباد کرتےہیں

اس عمرکوٹ کے حصاروں سے
لاکھ بہتروطن ہماراہے

انٹاریو کی اس سرد شام کافی مگ کے گردلپٹی انگلیوں کی پوروں کو گرم کرتی گفتگو میں اپنے وطن سے دوری کی کوک تھی۔ زمان ومکان کے گرداب میں قید عمرکوٹ کے حصاروں سے نکلتی ماروی کی ہاک۔

اے عمرچھوڑدے میں جاؤں گی
اسی دنیا کو پھر بساؤں گی

share this article

Join the Conversation

1 Comment

  1. بہت مزا آیا پڑھنے کا، آہستہ آہستہ ساری تحریریں پڑھ رہا ہوں لیکن کمنٹ نہیں کیا کبھی، کوئی ایک بھی کمنٹ نہ دیکھ کر عجیب سا لگا، پڑھنے والے کو کچھ تو لکھنا چاہئے

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *