کچھ حقیقت کچھ افسانہ

کبیروالا کے پاس ایک گاؤں کھتی چورمیں ایک مقبرہ ہے جوخالدولیدکےمزار کے نام سےمشہورہے۔ زیرنظر تصویراسی مقبرے کی ایک انتہائی جاذب نظرمحراب ہے۔ اس محراب پراینٹوں پرنازک کام سے تراشی گئی ایک عبارت ہمیں بتاتی ہے کہ یہ مقبرہ علی بن کرماخ کےاحکام پرتعمیرکیا گیا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ علی بن کرماخ غوری دورحکومت میں ملتان کا (اور بعد میں) لاہور کا گورنر تھا ۔
ماضی کے اوراق میں یہ لگ بھگ بارہویں صدی کے آخر اور تیرھویں صدی کے شروع کا ذکرہے

کبیروالا کے مزارسے اگرہم دریاۓچناب کارخ کرلیں تو چناب کے پار، کھتی چورسے کوئی دس میل کے فاصلے پر(انگریزی محاورے کے مطابق ایک کوے کی پرواز کے حساب سے) ہیڈ محمدوالا کی ہمسائیگی میں ایک اورمقبرہ آتا ہےاورآپ اس مقبرے کی عمارت کو دیکھتے ہی اس کے فسوں میں گرفتارہوتے ہیں کہ اس کے اوپرکیاگیا نازک اینٹوں کی خطاطی کا کا م اسقدرنفیس اور دلکش ہے کہ دیکھنے والے کی آنکھیں اس منظرکے ساتھ بندھ جاتی ہیں

اس مقبرے کے داخلی راستے پرجوبورڈ ہے وہ آپ کو بتاتا ہے کہ آپ فرشتوں والی سرکارکے پاس جا رہے ہیں۔ مقامی داستان گوہمیں بتاتے ہیں کہ یہ مزارشیخ سادن شہید کا ہے۔ آپ کے آباءمحمدبن قاسم کے لشکرمیں آٹھویں صدی کےشروع میں سندھ کے راستے یہاں آبادہوئے۔ شیخ سادن نے قریباً ۱۲۷۵ عیسوی میں جنوبی پنجاب پرمنگولوں کے حملے کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ اس حساب سے ان کی وفات تیرھویں صدی کے آخرکی بنتی ہے۔ تاریخ کے اوراق پر ان سرسری معلومات کےعلاوہ ہمیں صاحب مزارکے بارےمیں اورکچھ نہیں ملتا، لیکن تاریخ صرف کتابوں میں ہی تونہیں لکھی جاتی۔ معماروں کے ہاتھوں نے جہاں مقبرےکی عمارت کوحسین خطاطی اورنقش ونگارسے سجایا ہے وہیں ہمیں کچھ کچھ علم تاریخ کا بھی دیا ہے

ہمارا پہلا اشارہ مقبرےکی مشرقی طرف ملتا ہے ۔ یہ مزارمیں داخلے کا رخ بھی ہے۔ مشرقی دیوارکے ماتھے پردائیں سے بائیں ایک گولائی میں بسم اللہ اوراس کے بعد کچھ قرآنی آیات درج ہیں۔ بہت کچھ ٹوٹ پھوٹ کاشکارہونے کے باوجود انہیں پڑھ کرپتہ چلتا ہے کہ یہ قرآن کریم کی سورہ نمبر ۴۸، سورہ فتح کی بنیادی آیات ہیں۔ سورہ فتح کی آیات ہمیں افغانستان اورمشرقی ایران میں غزنوی اور غوری دورحکومت کی عمارتوں میں ملتی ہیں ۔ غزنی میں شاہ مسعود سوئم کا مینارہے جس پرسورہ فتح مکمل درج ہے۔ دھلی میں سلطنت دورکے کچھ مقبروں اورعمارتوں پربھی سورہ فتح کی آیات موجود ہیں، جن کا تعلق اللہ کی راہ میں نکلنے اور جہاد کرنے سے ہے۔
اس نسبت سے شیخ سادن کے مقبرے کی مشرقی دیوارہمیں بتاتی ہے کہ اول تو یہ عمارت غزنوی یا پھرغوری دورسے تعلق رکھتی ہے اوردوسراکہ اس میں موجود قبرکسی مجاھد کی ہے جوجہاد کرتے ہوئے یا سفرکی حالت میں شھید ہوا۔

اس مقبرےپردوسری دل کو موہ لینے والی چیزبند جھروکے نما طاق ہیں جودلآویزی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ کچھ کچھ مربع نما مستطیل ان طاقوں کی شہ سرخی خوبصورت خطاطی میں تراشا ہوا لفظ الّٰلہ ہے ۔ اوپرکی طرف ایک قطارمیں خط کوفی میں تراشے لفظ اللّٰہ کی ترتیب نظرآتی ہے۔ طاقوں کے چوگوشیہ حاشیے پرخط کوفی میں ہی الملک للّٰہ کی ترتیب تراشی گئی ہے۔ طاقون کے نیچے ایک پٹی میں یا اللّٰہ کی دلکش تکرارموجود ہے ۔ ان اسم گرامی کے درمیان اور اطراف میں اینٹوں سے ہی تراشے گئے دلکش بیل بوٹوں کی بہارہے
عمارتوں پرخط کوفی میں اللہ، یا اللہ اور الملک للہ اوردوسری آیات ہمیں بارہویں اورتیرھویں صدی میں غوری دورحکومت کی عمارتوں میں نظرآتی ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ یہ جواسلامی الفاظ کا ایک تکرارمیں استعمال ہے اس کا رواج اسی دورکے مندروں اوربدھ مت کی مذہبی عمارتوں سے متاثرہوا لگتا ہے۔ دسویں اورگیارہویں صدی کے مغربی ہندوستان کے مندروں میں ایک تواترسے دیوی دیوتاؤں کی مورتیوں کا استعمال عام تھا

شیخ سادن کےمقبرے کی جنوبی سمت کی دیوارکی تصویریں اگرمیرے قارئین دیکھیں تو ہمیں اس جانب کے طرزتعمیرمیں واضح فرق نظرآتاہے۔ مرکزی طاق کے ماتھے پرلفظ اللہ کی جگہ بیل بوٹوں نے لے لی ہے ۔ چوگوشیہ حاشیے اورنیچے کی پٹی، غرض کہ ہرجگہ جہاں اللہ اور الملک للہ تراشا گیا تھا وہاں ہمیں عمدہ خطاطی میں الم کے الفاظ ترشے ہوئے ملتے ہیں۔ جنوبی سمت کے اس واضح فرق کے پیچھے جوکہانی ہے اس کے سرے دریائے سندھ کی تاریخی تہذیب میں ملتے ہیں ۔ کہتے ہیں کے ہندومت میں دکھن یعنی جنوب کی دشا موت مرگ اوربرائی کی دشا تصورکی جاتی ہے ۔ مندروں میں جنوب کی سمت موت کے دیوتا یم کی مورتیاں دیکھنے کو ملتی ہیں

توکیا ایسا ہے کہ مقبرہ شیخ سادن اوراس کے ہم عصردوسری اسلامی عمارتوں کے معماراس خطے کے یکتائے روزگارہندوکاریگرتھے جنہیں اسلامی فن تعمیرکی نزاکتوں کا تحفہ ان کے غزنوی اورغوری سرپرستوں سے ملا ؟ یہ اہم نکتہ کچھ ایسا بھی بعید ازقیاس نہیں ہے کیونکہ ہم نے اس دورمیں مختلف النوع طرزتعمیرکا امتزاج دیکھا ہے ۔ ہندو اور بدھ مت کے معماروں کا رنگ غوری عہد کی عمارتوں میں نمایاں نظرآتاہے

اس تحریرکی ابتدا میں ہم نے کبیروالہ کے خالد ولید کے مقبرے میں ایک اینٹوں سے تراشی عمارتی تحریر کا ذکرکیاتھا۔ اسی طرح کی ایک تحریری پٹی شیخ سادن کے مقبرے میں بھی ملتی ہے گوکہ اس کے صرف ابتدائی حروف سلامت ہیں معماربہ بناء
جس کا مطلب ہوگا ۔۔۔۔ کے حکم سے تعمیرہوئی ۔ دونوں عمارتی عبارتیں بہت زیادہ مشابہ ہیں ۔ توکیا کبیروالہ کا مقبرہ اور ہیڈ محمد والا کا مزارہم عصرہیں ؟
اوپربیان کی گئی عمارتی خطاطی اس سوال کا مثبت جواب دیتی نظرآتی ہے کہ مقبرہ شیخ سادن شہید بارہویں صدی کے آخریا پھرتیرھویں صدی کے ابتدائی سالوں میں تعمیرہوا ۔ یعنی صاحب مزارکا ۱۲۷۵ عیسوی میں جوکہ تیرھویں صدی کا آخر تھا منگولوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوکراس مقبرے میں دفن ہونا تاریخی پس منظرمیں ثابت نہیں ہوتا۔

تومیرے عزیزقارئین، شیخ سادن اگروہ اس مقبرے میں مدفون ہیں تو ان کے آباء واجداد محمد بن قاسم کے ساتھ نہیں آئے تھے
ہمارے صاحب مزار منگولوں سے لڑتےہوئے بھی شہید نہیں ہوئے
یہ مقبرہ ایک غوری حملہ آورکی آخری آرام گاہ ہے جو اندازاً گیارھویں یا بارھویں صدی میں جنوبی پنجاب پرحملہ آورہوا
غوری حملہ آوروں نے ملتان پریورش کی جو اسوقت اسماعیلیوں کے زیرسلطنت تھا
اسماعیلی جن کو غوری حکمران بدعتی اورغیرمسلم مانتے تھے اوران حملوں کی یادگاری عمارتوں میں کثرت سے اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت کی آیتوں کو استعمال کیا

سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے غوری صاحب مزارکا نام شیخ سادن ہے؟
اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے
عمارتی اور تاریخی حوالوں کی غیرموجودگی میں شاید ہم کبھی نہ جان پائیں


اس پوسٹ کی تصاویرہمارے عزیزدوست ڈاکٹرسید مزمل حسین کی وساطت سے وسیب ایکسپلوررکلب کی عطا کردہ ہیں

share this article

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *