صوفی کبیر ۔ بھگت کبیر

لودھراں کی تحصیل دنیاپورکے دو نواحی گاؤں چک نمبر۲۸۱۔ ۸۳ المعروف چھتہ پہوڑ اورموضع جھنڈیرواہ میں ایک قدرمشترک ہے اوروہ ہے ان دونوں کے درمیان واقع مشترکہ قدیمی قبرستان
اگرآپ اس قدیمی قبرستان کا رخ کریں تودرختوں کی اوٹ سے جھانکتا سرخ اینٹوں سے تعمیرکردہ ایک بلند وبالا مزارباقی قبروں سے نمایاں ہوتا ہوا دورسےنظرآتا ہے
مقامی لوگوں میں سید احمد کبیرکے مزارکے نام سےمشہور یہ مقبرہ، عزیزقارئین، تیرھویں صدی میں غوری عہد میں تعمیرہوا

مربع شکل کے بلند چبوترے پر بنے اس مقبرے کونزدیک سے دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ اس کی چھت اورفیروزی گنبد ماضی قریب میں دوبارہ تعمیرہوئے ہیں
دوسری توجہ طلب چیز اس مقبرے پرسرخ اینٹوں کی کٹائی اورستھرائی سے ہوا خطاطی اوربیل بوٹوں کا انتہائی نفیس کام ہے اور اسمیں یہ شیخ سادن شہید کے مزار کے ہم پلہ ہے جس کا ذکرہم ایک پچھلی تحریرمیں کرچکے ہیں
اس مماثلت سے ہٹ کرکچھ اورہے جواس مزارکو غوری دورکے باقی مقبروں سے منفرد بناتا ہے اوروہ ہے مزارپرمنتخب قرآنی سورتوں کا خوبصورت خطاطی میں استعمال اوران کے ساتھ ہندودیومالا سے متاثر جانوروں کی تراشی ہوئی شبیہیں

مزار کےماتھے کا جھومر مرکزی بند طاقچے ہیں جن میں تواترکے ساتھ نقش رسم الخط میں قرآن کریم کی ایک سوآٹھویں سورہ کوثراور ایک سوبارھویں سورہ اخلاص پوری آیات کے ساتھ تراشی ہوئی ملتی ہیں ۔
سورہ کوثرحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو دین اسلام کی پائیداری کی بشارت دیتی ہے، آپ صلعم کے دشمنوں کی لڑی کے منقطع ہونے کا پیغام سناتی ہےاورآخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حوض کوثر(خیرکثیر) کی عنایت کی نوید دیتی ہے
سورہ اخلاص کا نفس مضمون دین اسلام میں خدا کا تصوراوراللہ کی وحدانیت کی دلیل میں اس بات کا بیان ہے کہ باری تعالیٰ نہ تو کسی کا باپ ہے اورنہ کسی کا بیٹا
ان دونوں سورتوں کی دین اسلام میں اہمیت اوران کا اس مقبرے پر استعمال صاحب مزارکے اسلامی شعائراوران کے مسلمان مریدوں کا ان سے شغف ظاہرکرتی ہیں

مرکزی بند طاقچوں کےعلاوہ ہمیں مزار کے چاروں اطراف لمبے رخ کچھ آیتیں ثلث رسم الخط میں ملتی ہیں، ان میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے علاوہ سورہ رحمان کی مشہورآیت کل من علیھا فان ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور سورہ شوریٰ کی کچھ آیات ملتی ہیں
مقبرے پرکی گئی یہ اسلامی خطاطی اس عمارت کا تعلق خراسان اوروسط ایشیا کے ہم عصرمقبروں سے جوڑتی ہے

اس عمارت کی دوسری انفرادیت ہندودیومالا سے لی گئ جانوروں کی شبیہیں ہیں جن کو تواتر سے تمغوں کی شکل میں عمارت کی نچلی سطح پرکمال مہارت سے تراشا گیا ہے
گھوڑا، بگلا، بیل، شیر، اونٹ
اور ان سب کی اپنی کہانیاں

نالا، دمینتی اور بگلا

رامائن میں ایک کہانی ہے
ایک راجا کی جسکا نام تھا نالا اوروہ نشد پرحکومت کرتا تھا
ایک دوشیزہ ، نام تھا جسکا دمینتی اور جس کے حسن کے چرچے زبان زد خاص و عام تھے
اور ایک تھا بگلا، جسے جب راجا نالا نے قید کرلیا تو اس نے اس شرط پر رہائی پائی کہ وہ روز دمینتی کو نشد کے راجا کی خوبروئی اوردلیری کے قصے سنائے گا
سید احمد کبیرکے مزارپر تراشا ہوا بگلا ہر آنے والے کورامائن کی یہ کہانی سناتا ہے

شیر، درگا ماتا کی سواری، اورمہیش سور کا رن

بہت دنوں کا ذکرہے، ایک راجا تھا مہیش سور، وہ برائی کا، شیطنیت کا راجا تھا
اس راجا کووردان تھا ، نہ اسے کوئی دیوتا مارسکتا تھا، نہ کوئی آدمی اور نہ ہی کوئی جانور
تو ہوا کچھ یوں کہ سرسوتی ، لکشمی اورپاروتی دیویوں نے مل کر ایک روپ دھارا، دس بازوؤں والی جنگجو درگا دیوی کا، جو نہ تودیوتا تھی، نہ آدمی اور نہ ہی جانور
درگا ماتا نے شیرکی سواری کی اور ایک گھمسان کے رن میں مہیش سورکو مارگرایا
اسی نسبت سے ہندو درگا دیوی کو ماتا شیراں والی کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں

دیکھیے ہم نے مزارپر تراشی ہوئی چند شبیہوں کا ذکرکیا تو قلم نے کیا کیا افسانے تراش ڈالے، مگرصاحب جن معماروں نے باریک اینٹ کی تراش میں یہ جانوروں کی شبیہیں اجا لیں وہ کیسے ماہرفن، اپنے ہنرمیں یکتا ہوں گے اور ان کا صاحب مزارسے عقیدت کا کیا عالم ہوگا

اس مقبرے کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ یہاں ہمیں عمارتی تحریر ثابت وسالم شکل میں مقبرے کی تکمیل کی مکمل تاریخ کے ساتھ ملتی ہے۔ میرے قارئین اس تحریرکی تصویروں میں مزارکی جنوبی سمت کے طاقچے کی خطاطی کا عکس دیکھیں گے جس کے مطابق یہ عمارت شہاب الدین غوری کے عہد میں اسلامی کیلنڈرکے چوتھے مہینے ربیع الثانی ۶۰۰ ھجری میں پایۂ تکمیل کو پہنچی ۔ شمی کیلنڈرکے حساب سے مہینہ تھا دسمبر اور سال ۱۲۰۳ عیسوی۔

مزارمیں داخل ہوتے ہی چوکور قطعے میں ساتھ ساتھ دو قبریں ہیں ۔ ہمارے عزیزدوست ڈاکٹرسید مزمل حسین نے اس مقبرے پر اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ شمالی دیوار میں ایک کتبے پر جو کہ حال میں نصب کیا ہوا دکھا ئی دیتا ہے، دونام درج ہیں ۔ سید احمد کبیر اور بابا قاسم علی شاہ ۔ یہ مزار پہلے نام سے موسوم ہے۔ ڈاکٹرمزمل ہی ہمیں بتاتے ہیں کہ مزارکےاندرصاحبان مزارکے حالات زندگی درج نہیں ہیں ۔ تاریخ کے اوراق بھی ہمیں سید احمد کبیر کے بارے میں کچھ آگاہی نہیں دیتے

کچھ لوگ آپ کو بتائیں گے کہ سید احمد کبیر، سید جلال الدین بخاری سرخ پوش (ولادت ۱۱۹۹ ۔ وفات ۱۲۹۲عیسوی) کے چھوٹے فرزند اور مخدوم جہانیاں جہاں گشت (ولادت ۱۳۰۸ ۔ وفات ۱۳۸۴ عیسوی) کے والد ہیں ۔ دونوں بزرگ سید جلال الدین سرخ پوش اور مخدوم جہانیاں جہاں گشت اوچ شریف کے جید علما میں سے ہیں اور وہیں مدفون ہیں

تو عزیزقارئین، دنیا پور پورکے نواحی گاؤں کے مشترکہ قدیمی قبرستان میں ایک مقبرے میں سید احمد کبیر آسودۂ خاک ہیں۔ مزارپرکیا گیا دلکش اینٹوں کا کام اورعمارتی نقش ونگارہمیں بتاتے ہیں کہ یہ بزرگ غوری عہد حکومت کی ایک نمایاں شخصیت تھے جو اپنے مسلمان پیروکاروں کے لیے صوفی کبیر اور ہندو معتقدین کے لیے بھگت کبیر رہے ہوں گے۔ اس سے زیادہ ہم سید احمد کبیرکے بارے میں نہیں جانتے۔
چونکہ یہ مزار ۱۲۰۳صدی عیسوی میں پایۂ تکمیل کو پہنچا، توصاحب مزارجلال الدین سرخ پوش بخاری کے فرزند نہیں ہیں جنکا اپنا انتقال لگ بھگ ایک صدی بعد ۱۲۹۲ عیسوی میں ہوا۔
ہمارے سید احمد کبیر مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے والد بھی نہیں ہوسکتے جو ان کے انتقال کے ٹھیک ایک سو پانچ سال کے بعد پیدا ہوئے

اس تحریرکی تصویروں کے لیے ہم وسیب ایکسپلورراورڈاکٹرسید مزمل حسین کے مشکورہیں
اس تحریر میں کچھ عمارتی تصویریں عبدالرحمن اور طالب حسین کے مشترکہ تحقیقی مقالے سے لی گئیں

share this article

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *