An Unlikely Border Agreement

Very rarely Pakistan and India sat down for deciding border disputes away from a Cease Fire meetup. Well, they did it back in 1960, the driving factor being the Headworks one each at Hussainiwala and Sulemanki.
The Radcliffe award infamous for its ignorance of ground realities played yet another trick along Sutlej corridor. Demarking the boundary along the river it awarded Headworks to one country with at least one marginal bund to the other. Hussainiwala came to India & Sulemanki to Pakistan but the western bund of the former and eastern bund of the latter falling to hostile country.
Signed in January 1960 at Delhi, the agreement re-aligned the border initially following Sutlej River to district boundaries of Lahore and Ferozepur. India ceded a chunk of land in Sulemanki and thus both the headworks with their maintenance bunds came under respective engineers. In yet another gracefully peaceful display, both Pakistan and India gave up their claims on few border villages in Lahore – Amritsar Sector but that tale is beyond the scope of this snippet which is about Sulemanki Headworks.
On River Sutlej, near the border village of Sulemanki the barrage with the same name was Inaugurated on April 12th, 1926 by H.E. William Malcolm Hailey, Governor of The Punjab in presence of H.H. Sir Sadiq Muhammad Khan Abbasi, Nawab of Bahawalpur. Salman Rashid tells us that even before the British, Royal Abbasis of Bahawalpur were master canal builders and had utilized flood waters from Sutlej to irrigate the area that comprises present day Bahawalpur and Bahawalnagar.
With Raj came Sutlej Valley Project aiming desert stretch of Bikaner & Rahim Yar Khan. On the western end of the headworks originates Upper Pakpattan Canal, whereas, the eastern wing gives rise to Fordwah and Eastern Sadiqia Canals. Eastern Sadiqia Canal further down south gives rise to Hakra Branch Canal that irrigates the lands around Fort Abbas and its neighbors.
Around 5 miles upstream of Sulemanki Headworks, at a place called Sabu Kay Mahaar, Balloki-Sulemanki Link Canal falls into Sutlej and brings with it the pooling waters from Balloki Headworks on Ravi. This water regulatory arrangement was made after Indus Water Treaty killed Sutlej.
This bloom to the flat lands of Pakpattan and Vihari even Mailsi and the irrigation oases around Bahawalnagar and further down south to Fort Abbas are due to the waters of Sulemanki Headworks. Waters not originally of Sutlej but appropriated from Ravi and Chenab in proportion …

ایک کہانی، سلیمانکی کے پانیوں کی
اورایک انوکھے سرحدی معاہدے کی

سال تھا 1960 اورجگہ دہلی ۔ پاکستان اورہندوستان ایک منفرد تاریخ رقم کرنے جارہےتھے ۔ سرحدی تنازعوں کوزمانۂ امن میں افہام وتفہیم سے حل کرنے کی تاریخ ۔ اس کےبعد دونوں ممالک جب بھی سرحد کی حدبندی کے لیے مذاکرات کی میزپرآئے ، جنگ لڑلینے کے بعد ہی آئے۔ مگروہ ایک الگ داستان ہے ۔ فی الوقت تو ہم 1960 میں ہیں اور دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میز پرلانے والے دو علاقے ہیں ۔ حسینی والا اور سلیمانکی
برّصغیرکی تقسیم میں رسوائے زمانہ ریڈکلف ایوارڈ نے جہاں اور بہت سی نا انصافیاں کیں وہاں ایک گل یہ کھلایا کہ قصور سے جنوب مغرب کی طرف بہنے والے دریائے ستلج کو بارڈرقراردے دیا ۔ اس فیصلے سے شمال مشرق میں حسینی والا ہیڈورکس تو انڈیا کی حدود میں آگئے مگران کا مغربی بند پاکستان کومل گیا ۔ کچھ اسی طرح کی صورتحال معکوس صورت میں سلیمانکی میں بھی پیش آئی، یعنی بیراج تو پاکستان میں مگراس کا مشرقی بند ہندوستان کی حدود میں۔ اب اگرایک ملک کے انجینئرز نے بند کی درستگی اور مرمت کا کام کرناہے تو دوسرے ملک کی سرحدی حدود میں جاکرکام کرنے کا اجازت نامہ لینا پڑے گا۔ یہ بنیادی وجہ تھی کہ جنوری 1960 میں سرحدی معاہدہ طے کرنے دونوں ممالک کے وفود آمنے سامنے بیٹھے۔
حسینی والا ہیڈورکس کا حل تو یہ نکلا کہ اس علاقے میں دونوں ممالک کی سرحدی حد باہمی اتفاق سے دریائے ستلج کے بجائے لاہور اور فیروزپور کی پرانی بین الاضلاعی سرحد قرار پائی ۔ اس سے حسینی والا کا بیراج اور اس کا نواحی علاقہ انڈیا میں چلا گیا ۔ جواباً سلیمانکی کے علاقے میں اتنے ہی علاقے سے ہندوستان پاکستان کے حق میں دستبردار ہوگیا ۔ اس طرح دونوں ہیڈورکس اپنے جملہ حفاظتی اورمرمتی بند کے ہمراہ درمیان میں مناسب حفاظتی فاصلے کے ساتھ اپنے اپنے وطن میں آگئے۔ ایک اور معجزہ یہ ہوا کہ پاکستان اور ہندوستان نے باہمی افہام وتفہیم سے لاہور ۔ امرتسر کے علاقے میں واقع چند متنازعہ سرحدی گاؤں کا فیصلہ بھی کرلیا مگریہ موضوع پھرکبھی چھیڑیں گے ۔ اسوقت واپس سلیمانکی چلتے ہیں ۔
بارڈر کے نزدیک سلیمانکی کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے پاس دریائے ستلج پر سلیمانکی ہیڈورکس کا افتتاح ۱۲ اپریل 1926 کو اس وقت کے گورنر پنجاب ہزایکسیلینسی ولیم میلکم ہیلے نے کیا ۔ اسوقت نواب آف بہاولپور ہزہائنس سرصادق محمد خان عباسی بھی وہاں موجود تھے ۔ پاکستان کے نامی گرامی تاریخ داں سلمان رشید ہمیں بتاتے ہیں کہ عباسیوں کا شاہی خاندان نہری نظام کی تعمیر سے واقف تھا، نہ صرف واقف تھا بلکہ وہ لوگ نہروں کے نامی گرامی معمارتھے۔ اپنے وقتوں میں عباسیوں نے موجودہ بہاولپوراوربہاولنگرکے اضلاع کو نہروں کے ذریعے ستلج کے سیلابی پانی سے سیراب کیا ہوا تھا ۔
انگلشیہ سرکار اپنے ساتھ ستلج ویلی پروجیکٹ لے کر آئی تاکہ بیکانیر اور رحیم یارخان کے علاقے ہریاول میں سانس لے سکیں ۔ سلیمانکی بیراج کی مغربی سمت اپرپاکپتن کینال نکلتی ہے جبکہ اس کا مشرقی کنارہ فورڈواہ اور مشرقی صادقیہ نہروں کو جنم دیتا ہے ۔ صادقیہ نہراور آگے جنوب میں جاکرھاکڑا کی نہرکو پروان چڑھاتی ہے اوریہ ھاکڑا کی نہر ہے جو فورٹ عباس اوراس سے ملحقہ علاقوں کو سیراب کرتی ہے۔
سندھ طاس معاہدے کے بعد سے ستلج ہمارے لیے ایک سوکھا دریا بن گیا تھا جس کا کچھ علاج اس طرح کیا گیا کہ سلیمانکی سے دریا کے بہاؤکے خلاف چلیں تو قریباً پانچ میل کے فاصلے پرایک گاؤں صابوکےمہارکے نام کا آتا ہے ۔ یہاں بلوکی سے کچھ کچھ راوی اور کچھ کچھ چناب کے پانیوں کو لاتی ہوئی بلوکی سلیمانکی رابطہ نہر ستلج میں گرتی ہے اور اس سوکھے دریا کو سیراب کرتی ہے۔
یہ جو آج پاکپتن اور وہاڑی اور میلسی کی ہریاول ہے اور بہاولنگراور فورٹ عباس کی پیا سی زمینوں کی سیرابی ہے وہ راوی اور چناب کے پانیوں کی بدولت ہے، وہ پانی جنکی تقسیم ستلج کے خشک پتن سے ہوتی ہے اوریہ سب سلیمانکی کی بدولت ہے۔ وہی سلیمانکی جسکی خاطرایک پرامن سرحدی معاہدہ ہوا تھا ۔۔۔

share this article

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *