A South Punjab Terminus in Ruins

1947 – 48 Year Book of Universal Directory of Railway Officials records :

BAHAWALNAGAR-FORT ABBAS RAILWAY
63 miles open – 5 ft. 6 in.
Worked by the North Western State Railway Administration
Owners: BAHAWALPUR DURBAR

Bahawalpur Royal Railway, fondly called Darbar Line was built in 1911. At one point it also carried the name Khanpur – Chachran Railway. The track between Bahawalnagar and Fort Abbas via Haroonabad came much later, in the year 1928.
A local historian tells us once there was a railway track joining Fort Abbas with Bahawalpur via Marot and Yazman. 1939 saw this track lifted. There are other claims that this route existed well after independence. With no supporting evidence it seems to be just another local lore.
In good old times two trains served Bahawalnagar – Fort Abbas route every day. The afternoon passenger would arrive at 2 PM leaving 30 minutes after. Other than the stations, any spot on this slow moving route could literally be turned to a flag stop.
The good hearted village folk would carry the instruments of ‘barter trade’ on them. As they neared the approaching train, a signal to the driver or guard with a flash of the prized sugarcane harvest, or firewood, or just a roll of fodder, and the train would make a stop for you.
The ‘overnight service’ would arrive at 10 PM. With no lodging on or around the station people would crowd the platform and sand dunes in the surrounding by early evening. After a good night’s sleep they would board the morning service screeching past Fort Abbas platform by 4 AM.
1984 saw the withdrawal of overnight service. The last passenger train chugged past these tracks somewhere in 1993; 10th of September it was in that year. Since then there have been multiple attempts to resume train service but these proved to be mere political stunts.
It was an autumn day and the following night when Bhai Tahir, me & Zahid took along the badly eroded railway tracks and the station building. Pictures on this snippet are in a painful contrast to our story on Railway Romance. It’s with a heartache, dear reader, that I apologize for presenting a sorry picture of this fading past.

فورٹ عباس ریلوے
نوحہ ایک ریلوے سٹیشن کا

عالمی ریلوے ڈائریکٹری مطبوعہ 1947 میں یہ عبارت درج ہے
بہاولنگرفورٹ عباس ریلوے ـ تریسٹھ میل لمبائی
گیج : پانچ فٹ چھ انچ
زیرانتظام نارتھ ویسٹرن سٹیٹ ریلوے ایڈمنسٹریشن
ملکیت : بہاولپوردربار

بہاولپور کا شاہی ریلوے جسے دربارلائن بھی کہا جاتا تھا 1911 میں مکمل ہوا تھاـ ایک زمانے میں اسے خانپورـ چاچڑاں ریلوے بھی کہا جاتا تھا ـ بہاولنگراور فورٹ عباس کے درمیان کی ریلوے لائن بہت بعد 1928 میں بچھائی گئی تھی فورٹ عباس کے مقامی تاریخ نویس غریب اللہ غازی نے لکھا ہےکہ ایک الگ ریلوے لائن مروٹ اوریزمان کے راستے فورٹ عباس کو بہاولپور سے ملاتی تھی جسے 1939 میں اکھاڑ لیا گیا ـ کچھ لوگوں کے مطابق یہ لائن پاکستان بننےکے بعد تک رہی ـ بھلے وقتوں کے لوگوں کواس کا کرایہ بھی یاد ہے 14 آنے لیکن کسی تاریخی شھادت کی غیرموجودگی میں یہ دعوہ محض ایک قیاس لگتا ہے
اچھے وقتوں میں روزانہ دو ٹرینیں فورٹ عباس کے سٹیشن کو رونق بخشتی تھیں ـ دوپہرکی گاڑی دن دو بجے آتی اور آدھے گھنٹے بعد روانہ ہوجاتی ـ گنتی کے سٹیشنوں کے علاوہ اس سست خرام ٹرین کو کہیں بھی سواری روک سکتی تھی غریب اللہ غازی سے ہی روایت ہے کہ لوگ گارڈ یا انجن ڈرائیور کو گنے ، لکڑیوں کا گٹھا یا محض چارے کی جھلک دکھا کر گاڑی رکوا کر اس میں سوار ہو جاتے تھے
رات کی گاڑی قریباً دس بجے فورٹ عباس پہنچتی ـ اسے صبح چاربجے واپس جانا ہوتا تھا ـ اسٹیشن کے اوپریا اس کے آس پاس رہنے کا کوئی ٹھکانا توتھا نہیں ـ آس پاس کے دیہات سے سواریاں سرشام آجاتیں اورپلیٹ فارم اور آس پاس کے ٹیلے ٹبوں پررات گزار کرصبح سویرے ٹکٹ گھرسے ٹکٹ لے کر گاڑی پر سوار ہو جاتیں ـ صبح کی گاڑی ٹھیک چاربجے فورٹ عباس ریلوے سٹیشن کا پلیٹ فارم چھوڑ دیتی
رات کی گاڑی 1984 میں بند ہو گئی اورپھر 10 ستمبر 1993 کی ایک اداس دوپہر آخری پسنجرٹرین فورٹ عباس سے روانہ ہوگئی اس کے بعد سیاسی شعبدے بازیاں تو بہت ہوئیں مگر ٹرین سروس بحال نہ ہوسکی
بھائی طاہراور انکے ساتھ چھوٹا بھائی زاہد میرے ساتھ تھے جب ہم نے خزاں کی ایک اداس دوپہر اور اس سے اگلی رات کو فورٹ عباس ریلوے کی باقیات اور کھنڈروں کی سنگت میں کچھ وقت گزارا ایک دل اس شام بوجھل تھا اورایک دل آج بوجھل ہے کہ ریلوےکی چاہت میں اتنی خوبصورت یادوں کے بعد آپ جن کھنڈروں کی تصویریں دیکھیں گے وہ آپ کواداس کردیں گی ـ اس کے لیے آپ لوگوں سے پیشگی معذرت

share this article

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *