The Pink, the Red and the Rust


Haroonabad to Bahawalnagar, initial 10 miles are a perfect straight line, one can drive half asleep, until the very first turn, sharp enough to shake you wide awake. It’s then impossible to miss this structure in colours of pink.

When 112 Kms Darbar Line from Bahawalnagar to Fort Abbas was laid, this route saw the growth of new grain markets. Khichiwala, Faqirwali, Haroonabad and Dunga Bunga, a border town of lesser significance, got its own Railway Station. A red brick building with a freight shed and a siding.

After the trains were gone, time turned unkind and people indifferent. Bricks ripped off, the pavement made to bleed, outposts abandoned by gangmen left to rot, the parallel running tracks divorced each other and rust descended to eat up what once was a shed of glistening steel.

Tucked away onto a side is bonus attraction, grain silos. With grain & storage mechanism long gone it now houses an unlikely resident. A colony of house crow where they nest & hatch, and where they hatch, they don’t like visitors. Under hostile air environment, I still managed to capture a few shots.

On the eastern periphery of a lesser known town, in the characteristic wilderness of South Punjab, railway is dying a painful death at Dunga Bunga Station.

سرخ اورزنگ آلود
ڈونگہ بونگہ

ھارون آباد سے بہاولنگرکاراستہ لیں توروڈ ناک کی سیدھ میں چلتی جاتی ہے اورآپ ادھ جگے اورادھ سوئے گاڑی چلاتے رہتے ہیں ـ لگ بھگ بارہ کلومیٹرکی صراطِ مستقیم مسافت کے بعد جو پہلا موڑآتا ہے وہ اسقدرترچھا ہے کہ آپ کے اوسان ہڑبڑا کر بیدارہوتے ہیں ۔ ایسے میں ممکن ہی نہیں کہ آپ بائیں ہاتھ کی سمت صبح کی روپہلی کرنوں میں چمکتی گلابی رنگ کی عمارت کونظراندازکردیں۔ یہ ڈونگہ بونگہ کا ریلوے سٹیشن ہے اوراس کونظراندازنہ کرنے میں اس ترچھےموڑ سے زیادہ سٹیشن کی عمارت اور اس کے ڈھلتے رنگوں کا کمال ہے۔

جب بہاولنگر اور فورٹ عباس کو ملانے والی ۱۱۲ کلومیٹرلمبی دربارلائن بچھائی گئی تواس راستے پرکئی غلہ منڈیاں پروان چڑھیں۔ ھارون آباد، کھچی والا، فقیروالی اور ڈونگہ بونگہ۔ ڈونگہ بونگہ، پاکستان اورہندوستان کے بارڈرپرواقع ایک غیرمعروف قصبہ ۔ یہ ریلوے کی برکت تھی کہ یہاں قائم ہوئی نئی غلہ منڈی کو مکمل ریلوے سٹیشن ملا، مال گاڑی کے لوڈنگ شیڈ اور سائیڈنگ کےساتھ ۔

اور یہ ریلوے کے جانے کی بے برکتی تھی کہ اب سٹیشن کی عمارت بھوت بنگلہ لگتی ہے۔ پلیٹ فارم لہو لہو ہے کہ اس کی اینٹیں لوگ اکھاڑکرلے گئے ۔ باربرداری کے شیڈ کو زنگ کھا گیا ۔ پٹڑیوں کا حسنِ اتفاق کیا ختم ہوا کہ انہوں نے ساتھ چلنا چھوڑدیا ۔ کیا سٹیشن ماسٹر، کیا کانٹے والے اور کیا گینگ مین، ایسے بھاگے کہ پلٹ کرخبربھی نہ لی ۔ مرزا کا شعر ہے


ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔ
مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے


سٹیشن کی عمارت کے ساتھ تھوڑا ہٹ کے ایک اورگئے وقتوں کا شاہکارآپ کا استقبال کرتا ہے ۔ یہ اناج ذخیرہ کرنے کے گودام ہیں ۔ غلہ اور اس کا ذخیرہ تو قصۂ پارینہ ہوئے اب یہاں کوّوں کا بسیرا ہے ۔ میدانی کوّوں کی اس آبادی نے یہاں بچے دے رکھے ہیں اور میرے پڑھنے والے اس سے اتفاق کریں گے کہ جہاں کوے اور کتیا نے بچے دیے ہوں عقلمند آدمی اس جگہ کے پاس بھی نہیں پھٹکتا ۔ میں چونکہ اتنا سیانا نہیں ہوں اس لیے کوّوں کے اس غول سے بچتا بچاتا کچھ تصویریں لینے میں کامیاب ہوہی گیا ۔

یہ ذکرتھا جنوبی پنجاب کی ایک دھیمے رنگوں والی صبح اور اس سے جڑے ایک معدوم ہوتے ریلوے سٹیشن کا۔ اب ارباب اختیارکوکون بتائے کہ وہاں ڈونگہ بونگہ کی خاموش ہمسائیگی میں کیسا قیمتی سرمایہ مٹی میں مل رہا ہے ۔

share this article

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *